M Adnan Husnain

M Adnan Husnain Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M Adnan Husnain, Legal Service, Islamabad.

This page is made for legal awareness as well as legal assistance for everyon as people don’t know about their Rights and also not aware about which remedy should they choose qua their legal issues, therefore, this page is made for their help.

رینٹ کنٹرولر ایسے مقدمات کو سیکشن 16A کے تحت میڈی ایشن کونسل کو ریفر نہیں کرے گا جہاں کرائے کی عدم ادائیگی واضح ہو، یا ج...
16/03/2026

رینٹ کنٹرولر ایسے مقدمات کو سیکشن 16A کے تحت میڈی ایشن کونسل کو ریفر نہیں کرے گا جہاں کرائے کی عدم ادائیگی واضح ہو، یا جہاں IRRO, 2001 کے سیکشن 17(8) کے مطابق کرایہ جمع کرانے کے حکم کی تعمیل نہ کی گئی ہو، یا جہاں لیز کا معاہدہ پہلے ہی ختم ہو چکا ہو۔

The Rent Controllers shall not refer those cases to Mediation Council under Section 16A where the default of rent is apparent or where the order for deposit of rent in terms of Section 17(8) of IRRO, 2001 has not been complied with or where lease agreement has already been expired.

2023 CLC 207
IHC

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High Court
0300-6020210

یہ کہانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک دلچسپ قانونی معرکے کی ہے، جہاں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور ایک اسکالر ڈاکٹر نوشین...
14/03/2026

یہ کہانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک دلچسپ قانونی معرکے کی ہے، جہاں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور ایک اسکالر ڈاکٹر نوشین ارم کے درمیان تنازع چل رہا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایچ ای سی نے ڈاکٹر نوشین کو 2007 میں پی ایچ ڈی کے لیے اسکالرشپ دی، جس کی شرط یہ تھی کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پانچ سال تک پاکستان میں خدمات سرانجام دیں گی۔ جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ایچ ای سی نے ان کے اور ان کے ضامن (گارنٹر) کے خلاف وصولی کا مقدمہ کر دیا۔
مقدمے کے دوران پتا چلا کہ ضامن، جو کہ ڈاکٹر نوشین کے والد تھے، وہ تو مقدمہ درج ہونے سے بھی بہت پہلے یعنی 2011 میں انتقال کر چکے تھے۔ ٹرائل کورٹ نے اس بنیاد پر ضامن کے خلاف کارروائی ختم کرنے کا حکم دیا، جس کے خلاف ایچ ای سی نے ہائی کورٹ میں اپیل کر دی۔ ایچ ای سی کے وکیل کا کہنا تھا کہ "شورٹی بانڈ" میں واضح لکھا ہے کہ یہ ذمہ داری ضامن کے بعد اس کے وارثوں پر بھی ہوگی، اس لیے مقدمہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے جب اس معاملے کو دیکھا تو انہوں نے ایک باریک قانونی نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک "گارنٹی" اور "شورٹی بانڈ" میں فرق ہوتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بانڈ ایک ذاتی ذمہ داری ہوتی ہے جو انسان کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے اور اسے وارثوں پر زبردستی نہیں تھوپا جا سکتا۔ جج صاحب نے یہ بھی کہا کہ کسی معاہدے میں صرف یہ لکھ دینے سے کہ "یہ وارثوں پر لازم ہوگا" کوئی شخص اس وقت تک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک وہ خود اس معاہدے کا حصہ نہ ہو۔
عدالت نے ایچ ای سی کی یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ یہ ایک "جاری رہنے والی گارنٹی" (Continuing Guarantee) تھی، کیونکہ اسکالرشپ تو ایک ہی بار دی گئی تھی، چاہے اس کی رقم قسطوں میں ہی کیوں نہ ملی ہو۔ آخر میں عدالت نے یہ نتیجہ نکالا کہ چونکہ ضامن نے اپنی کسی جائیداد پر کوئی قانونی بوجھ یا "چارج" ظاہر نہیں کیا تھا، اس لیے ان کی وفات کے بعد ان کے وارثوں کو اس رقم کی ادائیگی کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے عدالت نے ایچ ای سی کی درخواست خارج کر دی اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا۔

پاکستانی قانون میں اس طرح کے معاملات کو بنیادی طور پر Contract Act 1872 کے تحت دیکھا جاتا ہے، جس میں ضمانت (Guarantee) اور ضامن (Surety) کی ذمہ داری سے متعلق اصول بیان کیے گئے ہیں۔
قانون کے اصول کے مطابق اگر ضمانت خالصتاً ذاتی نوعیت کی ہو تو ضامن کی وفات کے ساتھ ہی اس کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
یعنی اگر کسی شخص نے صرف بطور فرد ضمانت دی ہو اور اپنی کسی جائیداد کو اس کے ساتھ قانونی طور پر منسلک نہ کیا ہو تو اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں پر وہ ذمہ داری خود بخود منتقل نہیں ہوتی۔
وارث صرف اسی صورت میں ذمہ دار ہو سکتے ہیں جب انہوں نے خود معاہدہ قبول کیا ہو یا ضامن نے اپنی کسی جائیداد پر قانونی چارج، رہن یا سکیورٹی قائم کی ہو جس سے قرض کی وصولی ممکن ہو۔

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High Court
0300-6020210

Call Data Record (CDR)—Evidentiary value—In absence of any concrete material the Call Data Record is not a conclusive pi...
12/03/2026

Call Data Record (CDR)—Evidentiary value—In absence of any concrete material the Call Data Record is not a conclusive piece of evidence to ascertain the guilt or otherwise of an accused.

کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) — شہادتی حیثیت — اگر کوئی ٹھوس اور مضبوط مواد موجود نہ ہو تو کال ڈیٹا ریکارڈ کسی ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

2023 SCMR 383

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High Court
0300-6020210

What kind of questions could lawfully be asked in cross-examination? What is the extent and scope of cross-examination i...
11/03/2026

What kind of questions could lawfully be asked in cross-examination? What is the extent and scope of cross-examination in view of the parameters set by QSO, 1984?

1. Questions regarding matters in writing, Article 139.

2. Questions about previous statements in writing or reduced to writing - "without showing the writing", Article 140.

3. About previous statements for contradicting a witness, "after showing the writing", Articles 140 and 151(3).

4. To test his veracity, Article 141.

5. To discover his position in life, Article 141(2).

6. To shake his credit by injuring his character, Articles 141(3), 135, 69, and 151(2)(3);
a. to prove bribe, Article 151(2);
b. to prove contradiction, Article 151(3).

7. Any other question "relevant" to the suit or proceeding having "reasonable grounds", Article 144.

8. Indecent or scandalous questions - "if" they are "related" to facts in issue or matters necessary to determine the existence of facts in issue, Article 146. (Generally, indecent or scandalous questions are not allowed.)

9. Questions from a witness regarding defamation, etc. or imputation - "after proving or recording findings" about publishing or making such a statement, Article 147.

10. To prove previous conviction, Article 149 - Exception 1.

11. To impeach impartiality (bias, prejudice, interest, corruption), Article 149 - Exception 2.

12. Question tending to "corroborate" a relevant fact, Article 152.

13. Questions to contradict or corroborate statements or impeach credit which are relevant to Articles 46 and 47, Article 154.

قانونِ شہادت آرڈر Qanun-e-Shahadat Order 1984 کے تحت جرح (Cross-Examination) کے دوران درج ذیل قسم کے سوالات قانونی طور پر کیے جا سکتے ہیں اور ان کی حد و حدود یہ ہیں:
تحریری معاملات کے بارے میں سوالات –
آرٹیکل 139 کے تحت کسی گواہ سے ایسے معاملات پر سوال کیا جا سکتا ہے جو تحریری شکل میں موجود ہوں۔
پچھلے تحریری بیانات کے بارے میں سوالات –
آرٹیکل 140 کے مطابق گواہ سے اس کے سابقہ تحریری بیان کے بارے میں سوال کیا جا سکتا ہے بغیر یہ تحریر اسے دکھائے۔
گواہ کے سابقہ بیان سے تضاد ثابت کرنے کے لیے سوالات –
آرٹیکل 140 اور آرٹیکل 151(3) کے مطابق تحریر گواہ کو دکھانے کے بعد اس کے سابقہ بیان کے ذریعے تضاد ثابت کرنے کے لیے سوال کیا جا سکتا ہے۔
گواہ کی سچائی کو جانچنے کے لیے سوالات –
آرٹیکل 141 کے تحت ایسے سوالات کیے جا سکتے ہیں جو گواہ کی صداقت (veracity) کو پرکھنے کے لیے ہوں۔
گواہ کی سماجی حیثیت معلوم کرنے کے لیے سوالات –
آرٹیکل 141(2) کے تحت گواہ کی زندگی کے حالات اور سماجی مقام (position in life) معلوم کرنے کے لیے سوال کیے جا سکتے ہیں۔
گواہ کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے سوالات –
آرٹیکلز 141(3)، 135، 69 اور 151(2)(3) کے تحت ایسے سوالات کیے جا سکتے ہیں جو گواہ کے کردار کو چیلنج کر کے اس کی ساکھ کو کمزور کریں۔
(الف) رشوت ثابت کرنے کے لیے سوالات – آرٹیکل 151(2)۔
(ب) تضاد ثابت کرنے کے لیے سوالات – آرٹیکل 151(3)۔
کوئی بھی دوسرا سوال جو مقدمہ سے متعلق ہو –
آرٹیکل 144 کے تحت ایسا کوئی بھی سوال کیا جا سکتا ہے جو مقدمہ یا کارروائی سے متعلق (relevant) ہو اور جس کے لیے معقول بنیاد (reasonable grounds) موجود ہو۔
غیراخلاقی یا اسکینڈل انگیز سوالات –
آرٹیکل 146 کے مطابق ایسے سوالات عموماً اجازت نہیں ہوتے، مگر اگر وہ براہِ راست fact in issue یا اس کے تعین کے لیے ضروری معاملات سے متعلق ہوں تو کیے جا سکتے ہیں۔
ہتکِ عزت یا الزام سے متعلق سوالات –
آرٹیکل 147 کے تحت ایسے سوالات اس وقت کیے جا سکتے ہیں جب پہلے عدالت اس بیان کے شائع یا ادا کیے جانے کے بارے میں ثبوت یا ریکارڈ پر نتیجہ درج کر لے۔
پچھلی سزا ثابت کرنے کے لیے سوالات –
آرٹیکل 149 (استثنا نمبر 1) کے تحت گواہ کی سابقہ سزا ثابت کرنے کے لیے سوال کیا جا سکتا ہے۔
غیر جانبداری (Bias) کو چیلنج کرنے کے لیے سوالات –
آرٹیکل 149 (استثنا نمبر 2) کے مطابق گواہ کے تعصب، مفاد، بد نیتی یا کرپشن کو ظاہر کرنے کے لیے سوال کیا جا سکتا ہے۔
متعلقہ حقیقت کی تائید (Corroboration) کے لیے سوالات –
آرٹیکل 152 کے تحت ایسے سوالات کیے جا سکتے ہیں جو کسی متعلقہ حقیقت کی تائید کریں۔
بیانات کی تردید، تائید یا گواہ کی ساکھ پر حملہ کرنے کے لیے سوالات –
آرٹیکل 154 کے مطابق ایسے سوالات کیے جا سکتے ہیں جو آرٹیکلز 46 اور 47 کے تحت متعلقہ بیانات کو متضاد، مؤید یا گواہ کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ہوں۔

Muhammad Adnan Husnain, Advocate High Court

Possession of property cannot be granted without prior cancellation of agreement.معاہدے کی پیشگی منسوخی کے بغیر جائیداد ...
07/03/2026

Possession of property cannot be granted without prior cancellation of agreement.

معاہدے کی پیشگی منسوخی کے بغیر جائیداد کا قبضہ نہیں دیا جا سکتا.

2026 MLD 36
Karachi High Court

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High Court
0300-6020210

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے خاتون عائشہ ناصر کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ خ...
06/03/2026

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے خاتون عائشہ ناصر کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کی رہائش گاہ کے قریب مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دینا اس کے لیے قانونی کارروائی میں آسانیاں پیدا کرنے کے مترادف ہے،سماعت کے دوران درخواست گزار عائشہ ناصر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا فیملی کیس جڑانوالہ کی فیملی کورٹ سے منتقل کرکے لاہور منتقل کیا جائے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے شوہر عون عباس نے فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ کی فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے،درخواست گزار کے مطابق بچے کے خرچ کا ایک الگ کیس پہلے ہی لاہور کی فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی وجہ سے انہیں دو مختلف شہروں میں پیش ہونا پڑتا ہے جو ان کے لیے انتہائی مشکل ہے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس لاہور منتقل کرنے کی اجازت دے دی، درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں صاحبزادہ مظفر ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔۔۔
Muhammad Adnan Husnain
Advocate High Court
0300-6020210

اگر کوئی Fact ریکارڈ پر ثبوت سے ثابت نہ ہو تو عدالت اس کا Judicial Notice بھی نہیں لے سکتی۔2005 SCMR 1217Muhammad Adnan ...
05/03/2026

اگر کوئی Fact ریکارڈ پر ثبوت سے ثابت نہ ہو تو عدالت اس کا Judicial Notice بھی نہیں لے سکتی۔

2005 SCMR 1217

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High Court
0300-6020210

Pre-arrest bail—Merits of the case—Merits of the case can be touched upon while adjudicating extraordinary relief of pre...
03/03/2026

Pre-arrest bail—Merits of the case—Merits of the case can be touched upon while adjudicating extraordinary relief of pre-arrest bail.

قبل از گرفتاری ضمانت جیسی غیر معمولی رعایت پر فیصلہ کرتے وقت مقدمہ کے میرٹس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

2023 SCMR 330

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High court
0300-6020210

ضابطہ فوجداری میں تین ترامیم ہوئی جو کہ خوش آئند ہیں۔1. 59-اے۔کسی بھی ملزم کو جب گرفتار کیا جائے گا تو اسک بھائی، دوست، ...
28/02/2026

ضابطہ فوجداری میں تین ترامیم ہوئی جو کہ خوش آئند ہیں۔
1. 59-اے۔
کسی بھی ملزم کو جب گرفتار کیا جائے گا تو اسک بھائی، دوست، یا رشتے دار کو اسکی گرفتاری کے بارے آگاہ کیا جائے گا، اس سے ملزم کی گرفتاری جو غیر قانونی ہوتی ہے محفوظ ہوگی،
2۔ 154 میں ہوئی ہے اب متعلقہ مجسٹریٹ کو بھی ایف آئی آر درج کرنے/حکم صادر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، پہلے صرف جسٹس آف پیس کے پاس تھا یعنی اب ایک اور فورم مہیا کردیا گیا ہے،
3.
431 اے۔
اگر کوئی ملزم جسکو سزا ہوئی ہے اور وہ فوت ہوگیا ہے تو اسکی سزا کے خلاف اسکے وارثان اپیل کر سکتے ہیں اور وہ اسی ملزم کی طرف سے سمجھیں جائے گی۔۔

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High court

If you are living in the USA and wish to file Khula (Divorce) in Pakistan, you can legally initiate the case in the rele...
27/02/2026

If you are living in the USA and wish to file Khula (Divorce) in Pakistan, you can legally initiate the case in the relevant Family Court without traveling to Pakistan, provided the marriage was registered in Pakistan or the husband resides there; you will need to execute and attest a Power of Attorney from the Pakistani Consulate/Embassy in the USA and send it to Pakistan along with a copy of the Nikah Nama, CNIC, husband’s complete address, and children’s details (if any), after which the Khula suit is filed in the competent Family Court, notice is issued to the husband and ex-parte proceedings may occur if he fails to appear, upon fulfillment of legal requirements the court grants a Decree of Khula, and subsequently the divorce is registered with the Union Council for issuance of an effective Divorce Certificate; online legal consultation and complete case handling services are available for overseas clients.

گر آپ USA میں رہتے ہوئے پاکستان میں خلع فائل کرنا چاہتی ہیں تو آپ بغیر پاکستان آئے متعلقہ فیملی کورٹ میں قانونی طور پر دعویٰ دائر کر سکتی ہیں، بشرطیکہ نکاح پاکستان میں رجسٹرڈ ہو یا شوہر پاکستان میں مقیم ہو؛ اس مقصد کے لیے آپ کو امریکہ میں موجود پاکستانی قونصلیٹ/سفارتخانے سے پاور آف اٹارنی اٹیسٹ کروا کر پاکستان بھجوانا ہوگا، نکاح نامہ، شناختی کارڈ کی کاپی، شوہر کا مکمل ایڈریس اور اگر بچے ہوں تو ان کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد متعلقہ فیملی کورٹ میں کیس فائل کیا جاتا ہے، عدالت شوہر کو نوٹس جاری کرتی ہے اور عدم پیشی کی صورت میں یکطرفہ کارروائی بھی ممکن ہوتی ہے، قانونی تقاضے مکمل ہونے پر خلع کی ڈگری جاری کی جاتی ہے اور بعد ازاں متعلقہ یونین کونسل میں رجسٹریشن کے بعد طلاق مؤثر سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے؛ بیرونِ ملک مقیم خواتین کے لیے آن لائن کنسلٹیشن اور مکمل کیس ہینڈلنگ سروس دستیاب ہے۔

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High court
0300602010

The amount advanced as a loan does not constitute “entrustment” within the meaning of Section 406 of the Pakistan Penal ...
26/02/2026

The amount advanced as a loan does not constitute “entrustment” within the meaning of Section 406 of the Pakistan Penal Code; hence, the offence of criminal breach of trust is not attracted.
The Supreme Court of Pakistan maintained and upheld the judgment of the High Court whereby the FIR was quashed.

بطور قرض دی گئی رقم دفعہ 406 تعزیراتِ پاکستان کے مفہوم میں "امانت" یا "سپردگی" کے زمرے میں نہیں آتی، لہٰذا جرمِ خیانتِ مجرمانہ کا اطلاق نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے ذریعے ایف آئی آر کو خارج/کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

2025 SCMR 1117

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High court

Being declared a proclaimed offender does not mean that the accused is guilty.اشتہاری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم گنہگا...
26/02/2026

Being declared a proclaimed offender does not mean that the accused is guilty.

اشتہاری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم گنہگار ہے۔

2022 SCMR 419

Muhammad Adnan Husnain
Advocate High court

゚viralシfypシ゚viralシ

Address

Islamabad

Telephone

+923006020210

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Adnan Husnain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to M Adnan Husnain:

Share

Category