18/11/2025
⚖️ 2025 CLC 1435
Muhammad Qadir and another (درخواست گزاران)
بنام
NADRA & others (جواب دہندگان)
اسلام آباد ہائی کورٹ]
جج: جناب جسٹس محمد آصف
---
🧾 مقدمے کا پس منظر (Background)
درخواست گزاروں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) نادرا نے ڈیجیٹل طور پر بلاک / ضبط کر دیے۔
نادرا کا مؤقف تھا کہ دونوں افراد کا تعلق افغان نژاد خاندانوں سے ہے اور ان کی پاکستانی شہریت (national status) کی تصدیق ممکن نہیں ہوئی۔
وزارتِ داخلہ کے نوٹیفکیشن مورخہ 19 اپریل 2017ء کے مطابق، ایسے افراد جن کی شہریت مشکوک ہو یا افغان پس منظر رکھتے ہوں، ان کی تصدیق لازمی ہے۔
درخواست گزاروں نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت آئینی درخواست دائر کی کہ نادرا نے بغیر قانونی اختیار اور بغیر وجہ ان کے شناختی کارڈ بلاک کیے۔
Posted by Legal Luminaries
---
⚖️ قانونی سوالات (Legal Issues)
1. کیا نادرا کو CNIC ضبط، منسوخ یا بلاک کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے؟
2. اگر نادرا ایسا اقدام کرے تو متاثرہ شہری کو سماعت اور اپیل کا حق حاصل ہے؟
3. کیا عدالتِ عالیہ براہِ راست نادرا کے اس عمل میں مداخلت کر سکتی ہے؟
---
🧩 عدالتی مشاہدات (Court’s Observations)
🔹 (1) نادرا کے اختیارات کی حدود
عدالت نے قرار دیا کہ نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت نادرا کو قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ:
قومی شناختی کارڈ جاری کرے؛
غلط بیانی یا جعلسازی کی صورت میں اسے منسوخ یا ضبط کر سکے؛
اور ایسے معاملات میں اپیل کا حق بھی قانون کے اندر فراہم ہے۔
🔹 (2) دفعہ 18 – نادرا آرڈیننس 2000
Section 18 میں نادرا کے اختیارات واضح کیے گئے ہیں:
> “نادرا کسی کارڈ کو منسوخ (cancel)، ضبط (impound)، یا ضبطی کے لیے حکم (confiscate) دے سکتی ہے
اگر یہ یقین ہو جائے کہ:
(a) کارڈ ایسے شخص کو جاری کیا گیا جو اہل نہیں تھا،
(b) ایک ہی شخص کو ایک سے زیادہ کارڈز ملے ہوں،
(c) کارڈ کے اندراجات میں رد و بدل یا جعلسازی ہو،
یا (d) کارڈ جعلی ہو۔”
اس کے ساتھ ہی دفعہ 18(3) کے تحت متاثرہ شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیڈرل گورنمنٹ کے سامنے اپیل کرے۔
---
🔹 (3) نادرا کی خودکار نظامی ذمہ داری
عدالت نے قرار دیا کہ:
نادرا ایک خود مختار ریاستی ادارہ ہے جو قومی ڈیٹا بیس کی ساکھ قائم رکھنے کا ذمہ دار ہے۔
اس کے ذیلی فورمز جیسے ضلعی سطح کی کمیٹی (DLC) اور زونل ویریفیکیشن بورڈ شہریوں کی شہریت اور شناخت کی تصدیق کے لیے قائم ہیں۔
ان فورمز کا مقصد:
جعلی شناختی کارڈز کی روک تھام؛
شہریت کی درست تصدیق؛
شفاف طریقے سے CNIC کے اجرا یا تجدید کو یقینی بنانا ہے۔
---
🔹 (4) متاثرہ شہریوں کا قانونی حقِ سماعت
عدالت نے کہا:
> “نادرا اگر کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرے تو اُسے نوٹس اور ذاتی سماعت (personal hearing) کا موقع دینا ضروری ہے۔”
لہٰذا عدالت نے حکم دیا کہ:
درخواست گزار زونل ویریفیکیشن بورڈ اور ضلعی سطح کی کمیٹی (DLC) کے سامنے پیش ہوں؛
یہ فورمز ایک ماہ کے اندر سماعت کر کے فیصلہ کریں؛
اگر فیصلہ درخواست گزار کے خلاف ہو تو وہ فیڈرل گورنمنٹ کے پاس اپیل کر سکیں گے (دفعہ 18(3) کے مطابق)۔
---
⚖️ قانون کی دفعات کی وضاحت (Legal Provisions Explained)
🔸 NADRA Ordinance, 2000 – Section 14
(Power to Issue Identity Cards):
یہ دفعہ نادرا کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں، غیر ملکی مقیم پاکستانیوں، اور مخصوص غیر ملکیوں کے لیے مختلف شناختی کارڈز (CNIC, POC, NICOP, Alien Registration Card) جاری کرے۔
🔸 NADRA Ordinance, 2000 – Section 18
(Power to Cancel, Impound or Confiscate):
یہ دفعہ نادرا کو اختیار دیتی ہے کہ اگر:
کارڈ دھوکہ دہی سے حاصل کیا گیا ہو؛
جعلی یا غلط معلومات پر مبنی ہو؛
یا اہل نہ ہونے والے شخص کو جاری کیا گیا ہو؛
تو نادرا کارڈ منسوخ یا ضبط کر سکتی ہے۔
مزید یہ کہ:
ایسا حکم تحریری طور پر (in writing) اور نادرا کے مہر شدہ حکم سے جاری کیا جائے؛
متاثرہ شخص کو اپیل (Appeal) اور سماعت کا حق (Right of Hearing) دیا جائے۔
---
🔸 آئینِ پاکستان 1973 – آرٹیکل 199
عدالت عالیہ کو آئینی اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی سرکاری ادارے کے غیر قانونی یا من مانی اقدامات کے خلاف شہریوں کو ریلیف دے۔
تاہم، اگر کسی معاملے میں خود قانون کے اندر اپیل یا سماعت کا طریقہ کار موجود ہو تو عدالت عام طور پر براہِ راست مداخلت نہیں کرتی بلکہ شہری کو پہلے وہ فورم استعمال کرنے کا کہتی ہے۔
🟣 اسی اصول کے تحت عدالت نے نادرا کے خلاف براہِ راست ریلیف دینے سے گریز کیا اور درخواست گزاروں کو متعلقہ فورم پر جانے کی ہدایت دی۔
---
📜 عدالتی فیصلہ (Final Judgment)
1. نادرا کو CNIC ضبط یا منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے، مگر
اس کے لیے تحریری حکم اور سماعت دینا لازمی ہے۔
2. نادرا آرڈیننس کے تحت اپیل کا حق موجود ہے جسے استعمال کیا جانا چاہیے۔
3. عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار:
زونل ویریفیکیشن بورڈ یا ضلعی کمیٹی (DLC) کے سامنے جائیں؛
ان فورمز کو ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی؛
اگر فیصلہ ان کے خلاف ہو تو وہ فیڈرل گورنمنٹ کے سامنے اپیل دائر کریں۔
4. آئینی درخواستیں (Constitutional Petitions) نمٹا دی گئیں (Disposed of in circumstances)۔
---
⚖️ قانونی اصول کا خلاصہ (Legal Principles Summarized)
نکتہ اصول
نادرا کے اختیارات نادرا کو CNIC منسوخ یا ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہے بشرطیکہ قانون کے مطابق تحریری حکم جاری کیا جائے۔
حقِ سماعت ہر متاثرہ شخص کو فیصلہ سے پہلے ذاتی سماعت کا حق حاصل ہے۔
اپیل کا حق دفعہ 18(3) NADRA Ordinance کے تحت فیڈرل گورنمنٹ کے سامنے اپیل کا حق۔
عدالت کا دائرہ کار اگر قانون میں اپیل کا نظام موجود ہو تو عدالتِ عالیہ براہِ راست مداخلت نہیں کرتی۔
Afghan Nationals افغان پس منظر والے افراد کی شہریت کی تصدیق کے لیے Ministry of Interior کا نوٹیفکیشن (19-04-2017) مؤثر قانون ہے۔
---
📚 عدالتی اصول (Doctrine Applied)
> “Where law provides a self-contained mechanism for redressal, the constitutional jurisdiction should not be invoked directly.”
(Self-contained remedy rule)
---
🧾 خلاصہ فیصلہ (Summary in Plain Urdu)
عدالت نے قرار دیا کہ نادرا کا اختیار قانونی ہے مگر اسے قانونی طریقہ کار اپنانا ہو گا۔
شہریوں کو سماعت اور اپیل کا حق دیا جانا ضروری ہے۔
نادرا کے بلاک کیے گئے شناختی کارڈز کے متعلق فیصلہ ضلعی کمیٹی یا زونل بورڈ ایک ماہ میں کرے گا۔
کسی بھی فریق کو خلاف فیصلہ کی صورت میں فیڈرل گورنمنٹ میں اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
اس طرح آئینی درخواستیں نمٹا دی گئیں۔
---
📘 اہم بات:
عدالت نے واضح کیا کہ شناختی کارڈ ریاست کی ملکیت (Property of the Federal Government) ہے —
شہری اس کے حامل (holder) ہوتے ہیں، مالک (owner) نہیں۔
لہٰذا اگر کسی نے یہ کارڈ دھوکے سے حاصل کیا ہو تو نادرا کو اسے واپس لینے اور منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
Posted by Legal Luminaries
2025 CLC 1435
[Islamabad]
Before Muhammad Asif, J
MUHAMMAD QADIR and another ---Petitioners
versus
NATIONAL DATABASE AND REGISTRATION AUTHORITY (NADRA) and 2 others ---Respondents
National Database and Registration Authority Ordinance (VIII of 2000)---
----Ss. 14 & 18---NADRA's jurisdiction to impound, cancel or confiscate Computerized National Identity Cards (CNICs)---Scope---Digital impounding of CNICs owing to Afghan national status---Failure to verify the national status---Afghan refugees in Pakistan and their claim to Pakistani citizenship based on unverifiable documentation---The petitioners (having Afghan national status) filed constitutional petitions under Art. 199 of the Constitution against the National Database and Registration Authority (NADRA), challenging the unlawful digital impounding and blocking of their CNICs---Petitioners claimed that NADRA acted without lawful authority and failed to provide any just cause for the blockage---NADRA defended its actions by stating that petitioners failed to verify their nationality status as per the Ministry of Interior's notification dated 19.04.2017, leading to doubt about their citizenship, particularly due to Afghan heritage---Held: NADRA Ordinance, 2000 grants power to NADRA regarding issuance of Pakistan Origin Cards, Overseas Identity Cards and Alien Registration Cards, subject to conditions prescribed in the relevant provisions thereof---Importantly, Section 18 of the NADRA Ordinance, 2000 deals with the power to cancel, impound or confiscate cards issued thereunder---It provides that a card issued under the NADRA Ordinance, 2000 shall be the property of the Federal Government and may, by an order in writing under the seal of NADRA or an officer authorized by it in this behalf, be required to be returned and shall also be liable to be cancelled, impounded or confiscated by like order if there is reason to believe that the card has been obtained by a person not eligible to hold the same by posing himself as eligible: or more than one card has been obtained by the same person on the same eligibility criteria; or the particulars shown on the card have been obliterated or tampered with; or the card is forged---Said provision of NADRA Ordinance, 2000 also provides for a right of appeal to the Federal Government, with the provision of the right of hearing to the aggrieved person---Rights qua entitlement to CNIC is the subject matter of the NADRA Ordinance, 2000---The Federal Government, representing the State itself or through its instrumentalities created under the law is vested with the powers to regulate such rights and in the event of an adverse order, the aggrieved person is conferred the right to challenge the same by way of an appeal, revision or review, as the case may be---The NADRA Ordinance, 2000 provides self-contained mechanisms regarding all issues of CNICs and for this purpose, NADRA Zonal Verification Boards and the DLC (District Level Committee) are created to facilitate and streamline the verification process for various NADRA services, particularly those related to identity verification and CNIC issuance or renewal---These bodies play a crucial role in verifying the accuracy of information, reducing forgery, and ensuring the integrity of the national database---High Court directed that the petitioners to appear before the aforesaid forums which were directed to decide the cases of the petitioners within a month, after affording them opportunity of personal hearing---In case of any adverse order, the aggrieved person(s) could file an appeal before the Federal Government within the purview of S. 18(3) of the NADRA Ordinance, 2000---Constitutional petitions were disposed of, in circumstances. [Islamabad]1435
----S. 18---See National Database and Registration Authority Ordinance (VIII of 2000), S. 14. [Islamabad]1435