Malik Shahid Iqbal Awan Advocate

Malik Shahid Iqbal Awan Advocate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Malik Shahid Iqbal Awan Advocate, Lawyer & Law Firm, Islamabad.

26/12/2025

📌 2025 LHC 8016

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر ایف آئی آر میں تاخیر ہو، میڈیکل و ڈی این اے رپورٹ الزامات کی تائید نہ کریں اور معاملہ ازدواجی تنازع کا ہو تو بدنیتی قرینِ قیاس سمجھی جائے گی۔
عدالت نے پری اریسٹ بیل کنفرم کر دی

26/12/2025

Good Morning Pakistan, Punjab, Mianwali, Klari, Lawyers of Pakistan 🌞🌈🎉😊

25/12/2025

📌 اہم فیصلہ — لاہور ہائیکورٹ لاہور
M.R. No.109 of 2022 | Crl. Appeal No.30048-J/2022
📅 فیصلہ: 17-11-2025
👩‍⚖️ چیف جسٹس: محترمہ جسٹس عالیہ نیلم

لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمہ میں سزائے موت پانے والے ملزم نعمان اعجاز کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ:
▪️ استغاثہ ملزم کے خلاف بلا شک و شبہ مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا
▪️ طبی شواہد (میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ) اور عینی شہادتوں میں سنگین تضادات پائے گئے
▪️ مبینہ ڈائنگ ڈیکلریشن قابلِ اعتماد ثابت نہ ہو سکی
▪️ موقع واردات، گواہوں کی موجودگی، موٹیو اور ریکوری میں شکوک موجود رہے
▪️ فارنزک شواہد کی محفوظ ترسیل (Chain of Custody) ثابت نہ ہو سکی
▪️ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول: ایک بھی معقول شک، ملزم کو فائدہ دینے کے لیے کافی ہے

نتیجتاً:
✔️ سزائے موت کنفرم نہ کی گئی
✔️ ملزم کو فوراً رہا کرنے کا حکم
✔️ ریاست اور مدعی کی اپیلیں خارج

یہ فیصلہ اس اصول کی مضبوط توثیق ہے کہ فوجداری مقدمات میں شک کا فائدہ ملزم کا بنیادی حق ہے، اور دستاویزی شواہد زبانی بیانات پر فوقیت رکھتے ہیں۔

25/12/2025

� اہم عدالتی فیصلہ — لاہور ہائی کورٹ
C.R. No. 51659/2022
Zahid Mahmood & another vs. Sabir Hussain
فیصلہ: 06-09-2022

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ معاہدۂ فروخت جیسے دستاویزات، جن میں مالی ذمہ داری یا آئندہ کی پابندی شامل ہو، اُنہیں قانون کے مطابق دو گواہانِ تصدیق کے ذریعے ثابت کرنا لازمی ہے۔ اگر زندہ اور دستیاب گواہ موجود ہوں اور انہیں پیش نہ کیا جائے تو ایسی دستاویز قابلِ قبول شہادت نہیں رہتی۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ:
▪️ صرف کاتب (Scribe) کی گواہی کافی نہیں
▪️ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی رپورٹ بذاتِ خود فیصلہ کن ثبوت نہیں
▪️ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 79 کی پابندی لازمی ہے
▪️ لازمی گواہ پیش نہ کرنے پر دعویٰ ناکام ہو سکتا ہے

ان اصولوں کی روشنی میں عدالت نے زیریں عدالتوں کے متفقہ فیصلوں کو درست قرار دیتے ہوئے سول ریویژن خارج کر دی۔

👨‍⚖️ جج: جناب جسٹس چوہدری محمد مسعود جہانگیر
⚖️ اصولِ قانون: لازمی قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل پر دستاویز ناقابلِ شہادت

25/12/2025

📌 C.R. No.1082 of 2016
📍 لاہور ہائی کورٹ، لاہور
⚖️ جسٹس چوہدری محمد مسعود جہانگیر
📅 فیصلہ: 21-09-2021

🔹 اہم قانونی اصول (قانونِ حقِ شفعہ):

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ دعویٰ حقِ شفعہ میں صرف نوٹس بھیج دینا کافی نہیں بلکہ اس کا ثابت شدہ طور پر وصول ہونا یا انکار (refusal) ثابت کرنا لازم ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ:

▪️ طلبِ اشہاد (Talb-e-Ishhad) کا نوٹس Registered AD کے ذریعے بھیجنے کے ساتھ ساتھ
▪️ Acknowledgment Due Card (AD Card) کا ریکارڈ پر لانا ضروری ہے
▪️ اگر مدعا علیہ نوٹس وصول ہونے سے انکار کرے تو ڈاکیے (Postman) کی معتبر شہادت ناگزیر ہے
▪️ متضاد اور غیر معتبر گواہی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا
▪️ AD کارڈ پیش نہ کرنے پر منفی مفروضہ (Adverse Inference) لیا جائے گا

📌 عدالت نے نچلی عدالتوں کے فیصلے غلط شہادت اور قانون کی خلاف ورزی پر مبنی قرار دیتے ہوئے
❌ دعویٰ حقِ شفعہ خارج کر دیا۔

📖 یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے متعدد نظائر (SCMR) کے عین مطابق ہے، جن میں قرار دیا گیا کہ نوٹس کی سروس ثابت کیے بغیر حقِ شفعہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

⚖️ اہم نظیر برائے وکلا اور طلبۂ قانون

25/12/2025

📌 C.R. No. 46700/2021
📍 لاہور ہائی کورٹ، لاہور
📅 فیصلہ: 17-10-2022
👨‍⚖️ جسٹس چوہدری محمد مسعود جہانگیر

⚖️ اہم قانونی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالتی اختیار (Jurisdiction) کا سوال انتہائی بنیادی نوعیت کا ہوتا ہے، جسے ٹرائل کے آغاز ہی میں لازماً طے کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی عدالت کو کسی معاملے کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہ ہو تو اس کی پوری کارروائی اور فیصلے بے اختیار (Without Jurisdiction) تصور ہوں گے۔

عدالت نے واضح کیا کہ:

▪️ عدالت فریقین کی رضامندی سے بھی اختیار حاصل نہیں کر سکتی
▪️ دائرہ اختیار پر اعتراض کسی بھی مرحلے پر اٹھایا جا سکتا ہے
▪️ اگر قانون کے تحت سول کورٹ کا اختیار نہ ہو تو Order VII Rule 11 CPC کے تحت دعویٰ خارج کیا جا سکتا ہے
▪️ زرعی زمین اور کاشتکار/مزارع سے متعلق معاملات میں، جہاں پنجاب ٹیننسی ایکٹ لاگو ہو، سول کورٹ کے بجائے متعلقہ ریونیو فورم مجاز ہوگا
▪️ ماتحت عدالتیں اختیار کے بنیادی نکتے کو نظرانداز نہیں کر سکتیں

اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے دونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا تاکہ سب سے پہلے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیا جائے۔

📚 حوالہ جاتی نظیر:
2008 SCMR 240
PLD 1972 SC 271

یہ فیصلہ سول و ریونیو دائرہ اختیار، زرعی تنازعات اور Order VII Rule 11 CPC کے اطلاق کے حوالے سے ایک اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے

25/12/2025

📌 2022 LHC 7960
Civil Revision No. 58436/2022

لاہور ہائیکورٹ، لاہور
مسٹر جسٹس چوہدری محمد مسعود جہانگیر

🔴 اہم قانونی اصول
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر کوئی مقدمہ قانونِ تحدید (Limitation) کے تحت وقت گزرنے کے بعد دائر کیا جائے تو عدالت اس کا نوٹس ازخود لے گی، چاہے فریقِ مخالف نے اعتراض نہ بھی اٹھایا ہو۔

▪️ پہلا مقدمہ واپس لے کر نیا مقدمہ دائر کرنے سے Limitation دوبارہ شروع نہیں ہوتی
▪️ Order XXIII Rule 2 CPC کے تحت نیا دعویٰ ایسے سمجھا جائے گا جیسے پہلا کبھی دائر ہی نہ ہوا
▪️ Agreement to Sell ملکیت یا ٹائٹل منتقل نہیں کرتا
▪️ وقت بارڈ مقدمہ Order VII Rule 11 CPC کے تحت کسی بھی مرحلے پر خارج کیا جا سکتا ہے

⚖️ عدالت نے سول ریویژن کے ساتھ ساتھ plaint بھی مسترد کر دی اور ریاستی زمین کا قبضہ بحال کرنے کی ہدایت جاری کی۔

25/12/2025

📢 محکمہ جنگلات کو فورس ڈکلیئر کر دیا گیا

ذرائع کے مطابق حکومت نے محکمہ جنگلات کو باقاعدہ فورس قرار دے دیا ہے۔ فیصلے کے تحت:

▪️ محکمہ جنگلات کے اپنے تھانے قائم ہوں گے
▪️ فاریسٹ افسران خود ایف آئی آر درج کر سکیں گے
▪️ گرفتاری کا اختیار بھی محکمہ جنگلات کو حاصل ہوگا
▪️ فاریسٹ گارڈز کو فاریسٹ رینجرز کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے

اس اقدام کا مقصد جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی اور تجاوزات کے خلاف موثر اور فوری کارروائی کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے
کے تحت پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے محکمہ جنگلات کو قانون نافذ کرنے والی فورس کا درجہ دیا گیا ہے۔ 
✔️ اس Act کے مطابق محکمہ جنگلات کے افسران:
• FIR درج کر سکتے ہیں
• گرفتاریاں کر سکتے ہیں
• تحقیقات اور تلاشی کر سکتے ہیں
• عدالت میں مقدمات جمع کرا سکتے ہیں
یہ تمام اختیارات اب انہیں قانونی طور پر حاصل ہیں۔ 

01/04/2024

‏ہر دور کے یزید کی محفل میں بیٹھ کر

دیتے ہیں لوگ گالیاں گزرے یزید کو

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Shahid Iqbal Awan Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share