Legal Services

Legal Services Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Legal Services, Lawyer & Law Firm, AK Fazal e haq Road , blue area , Islambad, Islamabad.

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) ایک تحریری دستاویز ہے جو پولیس کی طرف سے تیار کی جاتی ہے جب انہیں کسی قابل شناخت جرم ک...
14/12/2023

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) ایک تحریری دستاویز ہے جو پولیس کی طرف سے تیار کی جاتی ہے جب انہیں کسی قابل شناخت جرم کی اطلاع موصول ہوتی ہے۔ یہ کسی واقعہ کی ابتدائی اطلاع ہے جو پہلے پولیس کو موصول ہوتی ہے اور اسی لیے اسے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کہا جاتا ہے۔ عموماً متاثرہ شخص یا اس کی جانب سے کوئی بھی پولیس میں یہ شکایت درج کرواسکتاہے ۔ ایف آئی آر ہمیشہ کسی جرم کے ارتکاب پر ہی مبنی ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص قابل شناخت جرم کی اطلاع پولیس کو زبانی یا تحریری طور پر دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ٹیلی فونک پیغام پر بھی ایف آئی آر کا اندراج ہوسکتاہے۔

متعلقہ پولیس آفیسر پر لازم ہے کہ وہ ایف آئی آر کا اندراج بغیر کسی تاخیر اور عذر کے کرے ورنہ اس کے خلاف تادیبی کاروائی ہوسکتی ہے۔

قابل شناخت جرم (cognizable offence)کیا ہے؟ یہ ایسا جرم ہے کہ جس کے ارتکاب پر پولیس کسی شخص کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے۔ وہ آزادانہ طور پر کیس کی تفتیش شروع کرنے کے مجاز ہیں اور انہیں عدالت سے کسی حکم کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ناقابل شناخت جرم
(non-cognizable offence)کیا ہے ؟ ایسا جرم جس میں کسی پولیس افسر کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کرنے کا اختیار نہ ہو۔ پولیس عدالت کی اجازت کے بغیر ایسے جرم کی تفتیش نہیں کر سکتی۔

ایف آئی آر کا اندراج کیوں ضروری ہے؟

فوجداری مقدمات میں ایف آئی آر کےاندراج کے بغیر انصاف مہیا کرنا ناممکن ہے ۔ تھانے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی پولیس کیس کی تفتیش شروع کرتی ہے۔ قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 21، 22، 23، 25، 49 اور 50 کے مطابق ایف آئی آر ایک متعلقہ حقیقت ہے۔

ایف آئی آر کون درج کروا سکتا ہے؟

کوئی بھی شخص جو قابل شناخت جرم کے بارے میں جانتا ہو وہ ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے۔ یہ ضروی نہیں کہ متاثرہ شخص خود ہی ایف آئی آر درج کروائے۔ ایک پولیس افسر جسے قابلِ شناخت جرم کا علم ہو وہ بذات خود بھی ایف آئی آر درج کر سکتا ہے۔ کوئی بھی مظلوم شخص ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے اگر کسی کو کسی جرم کے ارتکاب کا علم ہو یا اسے ہوتا ہوا دیکھا ہو تو وہ بھی ایف آئی آر کا اندراج کرواسکتا ہے۔

عمومی طور پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کیس سنگین نہ ہویا ثبو ت ناکافی ہوں تو ایف آئی آرکے اندراج کے باوجود بھی پولیس تفتیش نہیں کرتی۔ تاہم، ضابطہ فوجداری، 1898 کی دفعہ 157کےتحت تفتیشی افسر اس بات کا مجاز ہے کہ وہ تفتیش نہ کرنے کی وجوہات کوقلمبند کرے اورقانون کے مطابق آپ کو مطلع کرے۔

ایف آئی آر درج کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

ضابطہ فوجداری، 1898 کےتحت ایف آئی آر کے اندراج کا طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ جب کسی قابل شناخت جرم کے بارے میں معلومات زبانی طور پر فراہم کی جاتی ہیں، توپولیس افسر اس کو تحریر میں لائے ۔معلومات فراہم کرنے والے شخص/شکایت کنندہ کا یہ حق ہے کہ پولیس کی جانب سے درج کی گئی اس کی شکایت اس کو پڑھ کر سنائی جائے۔ ایک بار جب پولیس ایف آئی آر رجسٹر میں معلومات درج کر لیتی ہے، تو معلومات فراہم کرنے والے شخص / شکایت کنندہ پر لازم ہو گا کہ وہ اس پر دستخط کرے۔

شکایت کنندہ اسی صورت میں ہی دستخط کرے اگرپولیس کی جانب سے درج کی گئی معلومات شکایت کنندہ کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ہوں ۔ان پڑھ لوگ شکایت کے اندراج پر مطمئن ہونے کے بعد اپنے بائیں انگوٹھے کا نشان اس دستاویز پر لگائیں ۔ ہمیشہ ایف آئی آر کی کاپی مانگیں۔ ایف آئی آر کی کاپی مفت حاصل کرنا شکایت کنندہ کا حق ہے۔

ایف آئی آر میں شکایت کنندہ کی جانب سے کن چیزوں کا ذکر ہونا چاہیے؟

شکایت کنندہ کا نام اور پتہ؛ جس واقعے کی اطلاع دے رہے ہوں اس کی تاریخ، وقت اور مقام؛ اس واقعے کے حقائق جیسے وہ پیش آئے، بشمول ہتھیاروں کا استعمال، اگر کوئی ہے۔

واقعہ میں ملوث افراد کے نام اور تفصیل؛ گواہوں کے نام اور پتے، اگر کوئی ہیں۔

جھوٹی شکایت اور پولیس کو غلط معلومات فراہم کرنے سے اجتناب کریں۔ غلط معلومات فراہم کرنے یا پولیس کو گمراہ کرنے پر آپ کے خلاف (پاکستان پینل کوڈ، 1860 کی دفعہ 182) کے تحت مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے ،کبھی بھی حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔ کبھی مبہم یا غیر واضح بیانات نہ دیں۔ ایف آئی آر درج کروانے والا جب اپنے بیان پر دستخط کرنے سے انکار کرے تو اُس کے خلاف تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 180 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جو شخص کسی شخص کو زخمی کرنے کے ارادے سے بنائے گئے جرم کا جھوٹا الزام لگاتا ہے اس کے خلاف تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 211 کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

اگر آپ کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟

آپ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، کیپٹل سٹی پولیس آفیسر، ڈی آئی جی یا دیگر اعلیٰ افسر ان سے مل سکتے ہیں اور اپنی شکایت ان کے نوٹس میں لا سکتے ہیں۔ آپ اپنی شکایت تحریری اور ڈاک کے ذریعےبھی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، کیپٹل سٹی پولیس آفیسر، ڈی آئی جی یا دیگر اعلیٰ افسر کو بھیج سکتے ہیں۔ اگر ڈی پی او، سی سی پی او، ڈی آئی جی آپ کی شکایت سے مطمئن ہوں تو وہ ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے دیں گے۔ آپ اپنے ضلع میں ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی اور پولیس شکایت مرکز کو بھی اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ اگر پولیس یا متعلقہ افسران آپ کی شکایت درج نہ کر رہے ہوں تو جسٹس آف پیس والی عدالت میں اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

جیسے ہی پولیس کو کسی جرم کے بارے میں پہلی اطلاع ملتی ہے، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر کارروائی کریں اور کیس کی تحقیقات کریں۔ تاہم، بعض صورتوں میں، پولیس سٹیشنوں کے درمیان ان کے علاقائی دائرہ اختیار کے تعین کے بارے میں تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے جہاں جرم کی اطلاع دی گئی تھی۔ ایسی صورتحال میں پولیس کو درج ذیل طریقہ کار پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اگر تھانے کے دائرہ اختیار کے بارے میں کوئی ابہام ہے اور اگر ہر ایک ایس ایچ او یہ دعویٰ کرتا ہے کہ متنازعہ علاقہ اس کے تھانے کے حدود میں نہیں آتا تو(پولیس رولز، 1934 کا 25-5) کے تحت یہ ہر ایس ایچ او کی ذمہ داری ہے کہ وہ موقع پر رہے اور کیس کی تفتیش کرتا رہے۔ . ایسی صورت میں کیس کا ریکارڈ اُس ایس ایچ او کے پاس رہے گا، جو پہلے موقع پر پہنچ جاتا ہے جب تک کہ دائرہ اختیار کے سوال کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ جب سینئر پولیس افسران دائرہ اختیارکاتعین کر لیں تو جس پولیس افسرکے حدود سے کیس باہر ہوتو اس پولیس آفیسر کو چاہیے کہ تمام کاموں کی رپورٹ ایک کیس ڈائری میں درج کرے اور اس پر دستخط کرے اور اس واقعہ کی تاریخ اور وقت بھی بتائے۔ یہ کیس ڈائری دوسرے پولیس آفیسر کے حوالے کی جائے جو اس بابت تصدیق کرے کہ کیس اس کے تھانے کی حدود میں آتا ہے اور اُسے کیس کی تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔ (پولیس رولز 25-6، 1934)

جب حدود کے تعین کے بعد مقدمہ ایک تھانے سے دوسرے تھانے منتقل کیا جاتا ہے تو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پہلے سے درج شدہ تھانے سے ایف آئی آر کو منسوخ کر کے دوسرے تھانے جس کے دائرہ اختیار میں وقوع ہوا ہے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (پولیس رولز 25-7، 1934)

ایف آئی آر کے چار پر ت ہوتے ہیں
۱۔ پہلا تھانے میں دائمی ریکارڈرہ جاتا ہے

۲۔دوسرا سٹی‘ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ‘

۳۔تیسرا علاقہ مجسٹریٹ‘ سول جج اور

۴۔چوتھا مدعی کو وصول کروایا جاتاہے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب کاربن پیپرکے بغیر گزار ممکن نہیں تھا۔ اب چونکہ فوٹو کاپی اور کمپیوٹر کی سہولت میسر ہے لہذا ایف آئی آر کی کاپیاں کروا کرایس پی انویسٹی گیشن‘ متعلقہ ڈی ایس پی وغیرہ کو بھی پرت بھجوائے جاتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک ضمیر کا پرت بھی ہونا چاہیے جو مدعی کیلئے ہوتا کہ وہ سچی رپورٹ درج کروائے ۔

اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو پولیس کے اس عمل کے خلاف آپ 𝐃𝐒𝐏 یا 𝐒𝐏 کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو جسٹس آف پیس (𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐞𝐚𝐜𝐞) کے پاس پٹیشن (𝐩𝐞𝐭𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧) دائر کی جاتی ہے۔ یہ پٹیشن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟐𝟐𝐀 اور 𝟐𝟐𝐁 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات سیشن ججز کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ مطلب کہ یہ درخواست سیشن جج (𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞) کے پاس درج کی جائے گی اور وہ پولیس کو 𝐝𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭 کرے گا کہ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس استغاثہ (𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐚𝐢𝐧𝐭) کا راستہ ہر وقت موجود رہتا ہے جو کہ پولیس کی بجائے مستغیث یعنی مدعی خود دائر کر کے مقدمہ کو عدالت کے اندر پیش کرتا ہے اور جس میں سب سے پہلے اس فوجداری شکایت کے بارے فیصلہ کرتی ہے کہ اس پر آگے مزید کاروائی کرنا ہے یا اسکو ادھر ہی ختم کرنا ہے۔ کسی بھی جرم (چاہے وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو) کے متعلق علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

FIR (عام لوگوں کی زبان میں پرچہ)ایف آئی آر سے مراد فرسٹ انفارمیشن رپورٹ یا معنوی اعتبار سے پہلی اطلاعی رپورٹ ہے۔ یہ ابتد...
06/12/2023

FIR (عام لوگوں کی زبان میں پرچہ)

ایف آئی آر سے مراد فرسٹ انفارمیشن رپورٹ یا معنوی اعتبار سے پہلی اطلاعی رپورٹ ہے۔ یہ ابتدائی اطلاعی رپورٹ پاکستانی ضابطہ فوجداری (criminal procedure code 1898) کی دفعہ 154 کے تحت درج کی جاتی ہے۔ ہر جرم کے لیے ایف آئی آر ضروری نہیں اور نہ ہی ہوتی ۔ صرف قابل دست اندازی (cognizable offences)
[ جیسے غداری ۔مہلک اسلحہ سے لیس ہوکر جرم کرنا ۔ عوامی خدمت گزار کی رشوت کا معاملہ ۔ آبروریزی ۔ قتل ۔ عوامی خدمت گزار نہیں ہونے پر بھی غلط طریقے سے خود کو عوامی خدمت گزار دکھا کر وردی دار باور کرانا۔]

جرم پر ایف آئی آر کا اندارج ضروری ہے۔
ناقابل دست اندازی جرائم (non cognizable offences)
[جیسے کہ ایک دوسرے کو گالی گلوچ دینا، معمولی جھگڑا جس میں چوٹ نہ ہو اور ڈرانے دھمکانے کے معاملے۔ ]
پر رپورٹ تحریر کرکے سائل کو عدالت کا دورازہ کھٹکھٹانے کے لیے رہنمائی کی جاتی ہے ۔موجودہ قانون میں کسی بھی فوجداری مقدمہ میں اہم ترین دستاویز ہوتی ہے۔قانون دانوں کے مطابق اس میں میں جرم ، وقوعہ اور شہادت کا کم سے کم الفاظ میں تذکرہ ہونا چاہیے۔مثال کے طور پر " فلاں وقت اور فلاں مقام پر ایک نامعلوم شخص( ملزم یا ملزمان کو نامزد بھی کیا جا سکتا ہے ) نے یہ جرم کیا۔

| ایف آئی آر کی اہمیت |

ایف آئی آر اور رپورٹ تحریر کرنا محرر کا منصبی فریضہ ہے۔ ایف آئی آر کٹوانا ہر شہری کا قانونی حق ہے۔ شرط یہ ہے کہ جرم قابل دست اندازی سر زد ہوا ہو۔

04/12/2023

وٹس ایپ چینل کو جوائن کر کے قانون کے علم کو عام کرنے میں میرا ساتھ دیں

**پاکستان میں ضمانت؛ **ضمانت ایک مجرمانہ ٹرائل کے عمل کے دوران حراست سے رہائی، یا حراست سے بچنے کا عمل ہے۔ یہ مضمون ملزم...
03/12/2023

**پاکستان میں ضمانت؛ **

ضمانت ایک مجرمانہ ٹرائل کے عمل کے دوران حراست سے رہائی، یا حراست سے بچنے کا عمل ہے۔ یہ مضمون ملزم کو ضمانت حاصل کرنے اور روکنے کے عمل کو متاثر کرنے والے عمل اور عوامل کے لیے رہنما کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

قید ہونا یا گرفتار ہونا ایک انتہائی مایوس کن اور جذباتی طور پر استعمال کرنے والا عمل ہے۔ ایسے معاملات میں صرف ملزم ہی شکار نہیں ہوتا، کسی فرد کو حراست میں لینے سے اس کے دوست احباب اور گھر والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ پاکستان میں کس کو ضمانت کی ضرورت ہوگی؟ کسی ایسے شخص کے لیے ضمانت طلب کی جاتی ہے جس پر کسی وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو پیش کی گئی فوجداری شکایت میں الزام لگایا گیا ہو (یا کبھی کبھی ذکر کیا گیا ہو)۔ جرم کی نوعیت پر منحصر ہے، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی، یعنی پولیس، اس کے بعد یا تو پوچھ گچھ کے لیے فرد سے رابطہ کرنے یا مشتبہ شخص کو فوری طور پر گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی (ان کی تحقیقات جاری ہیں)۔ جب رپورٹ میں ذکر کردہ کوئی شخص (یا تو بطور ساتھی یا ملزم) مجرمانہ شکایت سے آگاہ ہو جاتا ہے، تو وہ ضمانت (قبل گرفتاری) لینے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ ہم عوامل پر تبادلہ خیال کریں گے، اور ان لوگوں کے پاس موجود اختیارات کو تلاش کریں گے۔

ہمارے وکلاء ان معاملات میں آپ کی مدد کے لیے ہمیشہ موجود ہیں۔ ضمانت کی 2 بنیادی اقسام ہیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ فوری ضمانت کی دو قسمیں ہیں جن کے لیے ایک فرد قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

1-یہ ایک ضمانت ہے جس کا اطلاق اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی ملزم وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں (جیسے پولیس، ایف آئی اے، کسٹمز اور ایکسائز وغیرہ) کی کارروائیوں میں ملوث ہوتا ہے اور اپنی تحقیقات کے دوران جسمانی ریمانڈ پر نہ لینا چاہتا ہے۔

2-بعد از گرفتاری ضمانت؛ یہ ضمانت کی درخواست ہے جو ملزم کے تفتیش کے دوران وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہونے کے بعد کی جاتی ہے۔

پاکستان میں قبل از گرفتاری ضمانت (جسے عبوری ضمانت اور قبلہ گرفتاری کہا جاتا ہے) ایک طریقہ کار ہے جب ایک نامزد، ذکر شدہ، ساتھی، یا ملزم فریق عدالت سے درخواست کرتا ہے کہ انہیں جسمانی ریمانڈ پر نہ دیا جائے (فزیکل ریمانڈ)

تفتیشی عمل کے دوران یہ سیکشن 498 (مختصر طور پر CrPC 498 کے طور پر کہا جاتا ہے) کے تحت ضابطہ فوجداری کا احاطہ کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ عدالت اور متعلقہ تفتیشی ایجنسیوں کی طرف سے تمام سماعتوں اور ٹرائلز میں شرکت کو یقینی بنائے جب تک کہ تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں۔


*پاکستان میں بعد از گرفتاری ضمانت*

پولیس، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس عام طور پر زیر حراست شخص کو دائرہ اختیار کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت ہوتا ہے، پاکستان میں بعد از گرفتاری ضمانت میں، طریقہ کار اس وقت ہوتا ہے جب ایک نامزد، ذکر کردہ، ساتھی یا ملزم پارٹی کو پہلے ہی وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے گرفتار اور حراست میں لیا جا چکا ہے۔ یہاں، قانونی وکیل عدالت سے درخواست کرے گا کہ مقدمے کے اختتام تک تفتیشی عمل کے دوران انہیں سوسائٹی میں واپس چھوڑ دیا جائے۔ یہ سیکشن 497 کے تحت ضابطہ فوجداری کا احاطہ کرتا ہے (جسے مختصراً CrPC 497 کہا جاتا ہے) اور اس معاملے میں ضمانت کی سماعت کا ایک بڑا حصہ عام طور پر وہی ہوتا ہے جو پولیس نے حاصل کیا ہوتا ہے (ثبوت کے ذریعے) جب کہ انہوں نے فریق کو گرفتار کیا تھا۔

ضمانت حاصل کرنے کے لیے جن عوامل پر غور کیا جاتا ہے، ملزم اور مجرمانہ شکایت کے متذکرہ فریقوں کو بنیادی طور پر عدالت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ضرورت ہوگی (بعض محدود واقعات میں ذاتی طور پر یا پراکسی کے ذریعے) اور عوامل کے ساتھ عدالت کے سامنے اپنا کیس پیش کرنا ہوگا۔

1-کہ مذکور شخص/لوگ بے قصور ہیں کہ فوجداری شکایت بے بنیاد اور جھوٹی ہے کہ درج کی گئی فوجداری کی شکایت غلط مقاصد کے ساتھ کی گئی تھی کہ فرد/لوگ جن پر الزام لگایا گیا ہے اور ان کا شکایت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2-کہ ملزم/لوگوں کا پس منظر اچھے اخلاقی اور معاشرتی کردار کا ہے کہ ضمانت کی درخواست کرنے والا شخص/لوگ فرار نہیں ہوں گے (فرار) اور شہر/ملک چھوڑ کر جائیں گے کہ ضمانت کی درخواست کرنے والے فریقین مداخلت کرکے تفتیش میں خلل نہیں ڈالیں گے

3-یہ کہ ضمانت کی درخواست کرنے والے فریق گواہوں اور شکایت کنندگان کو ہراساں کرنے، اور/یا شواہد میں ہیرا پھیری (چھپا کر، تباہ کر کے یا نئے بنا کر)، وغیرہ کے ذریعے تفتیش کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش نہیں کریں گے۔

عدالت میں پیش کرنے کے لیے کوئی اثاثہ، جائیداد، یا کوئی بانڈ (قیمت کا) نہیں ہے۔ ضمانتی بانڈز اور ضمانت کے ذریعے زیر بحث شخص کے خلاف درج ایف آئی آر/شکایت کی نوعیت، نیز اس کا پس منظر، مجرمانہ ریکارڈ، اور مالیاتی (ساتھ ہی سماجی) حیثیت، ضمانت/زمانت کی رقم کا تعین کرے گی۔ ملزم کے خلاف ادارہ۔ ضمانتی بانڈ ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا ہے، بعض اوقات ضامن ملزم کی ضرورت کے وقت عدالت میں پیش ہونے کی ذمہ داری بھی لے سکتا ہے۔ اگر ملزم کے پاس اچھی ملازمت ہے، یا کافی اثاثے یا زمین، یا یہاں تک کہ ایک خاندان، یہ عوامل (یا اس کی کمی) ضمانت دینے یا مسترد ہونے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

*  میں موجود  #رجسٹرز اور ان میں تحریر کی جانے والی کاروائی*__پاکستان میں ہر پولیس اسٹیشن میں 25 رجسٹرز ہوتے ہیں اور ان ...
30/11/2023

* میں موجود #رجسٹرز اور ان میں تحریر کی جانے والی کاروائی*_

_پاکستان میں ہر پولیس اسٹیشن میں 25 رجسٹرز ہوتے ہیں اور ان مختلف نوعیت کی کاروائی تحریر کی جاتی ہے۔_

_*رجسٹر نمبر 1*: رپورٹ ابتدائی اطلاعی_

_*رجسٹر نمبر 2*: روزنامچہ_

_*رجسٹر نمبر 3*: فائل (سٹینڈنگ آرڈرز، سرکلر آرڈرز و دیگر احکام)_

_*رجسٹر نمبر 4*: روپوشان و مفروران_

_*رجسٹر نمبر 5*: خط و کتابت_

_*رجسٹر نمبر 6*: متفرق_

_*رجسٹر نمبر 7*: پھاٹک مویشیاں (حذف ہوا)_

_*رجسٹر نمبر 8*: سرچ سلپ و پیروی مقدمات_

_*رجسٹر نمبر 9*: کرائم رجسٹر_

_*رجسٹر نمبر 10*: رجسٹر نگرانی_

_*رجسٹر نمبر 11*: انڈیکس ہسٹری شیٹ و پرسنل فائل_

_*رجسٹر نمبر 12*: پرچہ جات مجاریہ و موصولہ_

_*رجسٹر نمبر 13*: کتب برائے افسران گزٹ شدہ_

_*رجسٹر نمبر 14*: فائل بک رپورٹ ہائے ملاحظہ جات_

_*رجسٹر نمبر 15*: رجسٹر پیدائش و اموات (یونین کونسل منتقل ہوا)_

_*رجسٹر نمبر 16*: رجسٹر ملازمان و مال سرکار_

_*رجسٹر نمبر 17*: رجسٹر لائسنس ہائے_

_*رجسٹر نمبر 18*: رسید کتب برائے اسلحہ گولی بارود_

_*رجسٹر نمبر 19*: رجسٹر مالخانہ_

_*رجسٹر نمبر 20*: رجسٹر حسابات_

_*رجسٹر نمبر 21*: فائل بک روڈ سرٹیفکیٹ_

_*رجسٹر نمبر 22*: چھاپہ شدہ کتب رسیدات_

_*رجسٹر نمبر 23*: فائل (پولیس گزٹ، گزٹ انکشاف جرائم)_

_*رجسٹر نمبر 24*: مجموعہ قوائد پولیس_

_*رجسٹر نمبر 25*: یاداشت ہائے افسران مہتمم تھانہ جات_

Address

AK Fazal E Haq Road , Blue Area , Islambad
Islamabad
44010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share