Advocate Shahzaib Shaikh

Advocate Shahzaib Shaikh Advocate | Jurisprudence | Case Laws | Message for Legal Advice.
قانونی مشورے یا رہنمائی کے لیے میسج کریں۔قانوني صلاح يا رهنمائي لاءِ ميسيج ڪريو

حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِثانی کے لیے رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ عمران خان سمیت ہر قیدی کو بہترین ممکنہ علاج ا...
19/08/2026

حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِثانی کے لیے رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ عمران خان سمیت ہر قیدی کو بہترین ممکنہ علاج اور طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے، حکومت کو اس پر من و عن عمل کرنا چاہیے

جو لوگ جیل میں رہ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جیل کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے۔ میں خود بھی عمران خان کی حکومت میں 31 دن اڈیالہ جیل میں رہا ہوں، اس لیے جیل کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے۔

جب 70 سال سے زائد عمر کا کوئی شخص جیل میں ہو اور اسے صحت کے مسائل بھی لاحق ہوں تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی حکومت کو اسے علاج اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔ یہ کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کا نہیں، بلکہ انسانی حقوق اور بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری ،ہادی چھٹہ کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مش...
19/08/2026

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری ،ہادی چھٹہ کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نےدرخواستگزاروں کے وکیل سے ابتک کی پیشرفت بارے تفصیلات طلب کرلیں۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کاسب سےپہلا حکمنامہ پڑھوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے مقدمہ پر کوئی پیشرفت نہیں کی۔جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکمناموں کے بعد کیا ہوا ،ہائیکورٹ پیشرفت نہ کرے تو ہمارا کیا اختیار ہے بتائیے؟، کیا سپریم کورٹ صرف انتظار کرتی رہے ،اگر آپکی تیاری نہیں تو کل تک مہلت لے لیں، صورتحال پر ہمارے ہاتھ پاؤں کھولیں تو آگے چلیں۔سرکاری وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں اب کیس چھٹیوں کے بعد مقرر ہوگا۔مزید سماعت کل ہو گی ۔

19/08/2026

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس آگے بڑھنے لگا
سپریم کورٹ میں جسٹس نعیم اختر افغان کے اہم ریمارکس نے کہی سوالات کھڑے کر دئیے
" کنڈکٹ دیکھنا ہو گا (اسلام آباد ہائیکورٹ) ادھر کیا چل رہا behaviour کیسا ہے پھر ہم یہاں کیوں یہ سننے کے لئے بیٹھے ہیں ؟ کیا سپریم کورٹ تماشائی کے طور پر بیٹھ سکتی ہے ؟ سپریم کورٹ نے فیصل صدیقی سے اب تک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کی مکمل کاروائی کا ریکارڈ کل تک طلب کر لیا

کوئی مانے یا نہ مانے جسٹس شاہد وحید نے 2 سال بعد کسی حد تک عدلیہ کا کھویا ہوا مقام بحال کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی جسٹس شاہد...
19/08/2026

کوئی مانے یا نہ مانے جسٹس شاہد وحید نے 2 سال بعد کسی حد تک عدلیہ کا کھویا ہوا مقام بحال کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی جسٹس شاہد وحید نے دو تین دیگر کیسز میں بہت بولڈ اور جرات مندانہ فیصلے کیے۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کافی حد تک ربڑ اسٹیمپ بن چکی تھی۔ ایسے وقت میں جسٹس شاہد وحید کی جانب سے اسی سال تین بڑے فیصلے سامنے آئے جو عدلیہ کے حوالے سے یقینا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
جس ملک کی عدلیہ کمپرومائزڈ ہو، طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کا پیمانہ الگ ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ جب تک عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال نہیں ہوگا نظام درست نہیں ہو سکتا۔ عدلیہ کو اپنے فیصلوں کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیراعظم سر ونسٹن چرچل نے اپنے افسران سے پوچھا
Are the courts functioning Are they delivering justice?
کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں کیا وہ انصاف فراہم کر رہی ہیں؟
جب انہیں بتایا گیا کہ عدالتیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں اور عوام کو انصاف مل رہا ہے تو چرچل نے کہا کہ اگر عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو ہمیں جنگ جیتنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف اس کی فوج معیشت یا سفارت کاری نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی اور آزاد و غیر جانب دار عدلیہ بھی ہے۔
ریاست میں اگر عوام کو یقین ہو کہ عدالتیں طاقتور اور کمزور، حکمران اور عام شہری، سب کے لیے یکساں انصاف فراہم کریں گی تو یہی اعتماد کسی بھی معاشرے کو مضبوط اور مستحکم بناتا ہے

19/08/2026

سپریم کورٹ کی طرف سے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ صرف اور صرف میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے اس فیصلے کا سیاست یا کسی سازش سے کوئی تعلق نہیں عمران خان کے دور حکومت میں ایسے ہی عدالتی فیصلوں سے نواز شریف اور شہباز شریف کو بھی ریلیف ملا تھا

14/08/2026

"Pakistan was dreamed by a poet and argued into being by a lawyer — Iqbal’s conviction, Jinnah’s case. Somewhere we kept the lawyer and forgot the poet, and were left with arguments but no convictions. This Independence Day, let us call the poet back — into our schools, our courts, and our idea of what an educated citizen owes his country." Justice (R) Syed Mansoor Ali Shah

https://www.dawn.com/news/2022714?fbclid=IwVERDUATsA7ZwZG9mAWV4dG4DYWVtAjEwAHNydGMGYXBwX2lkDDM1MDY4NTUzMTcyOAABHiWOrf-C-2Aj1tYfIav_TRxkG2L27SG76x3USCP2HoesMLnR5VHIzMXBMeKD_aem_9zyDDviC8D5BICxSN2x0Fw

مولانا فضل الرحمان کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست واپس ہو گئی!گوجرانولہ سے شہری منظور قادر جنہوں نے مولانا فضل الرحمان ...
29/07/2026

مولانا فضل الرحمان کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست واپس ہو گئی!

گوجرانولہ سے شہری منظور قادر جنہوں نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف 14 جولائی کو مقدمہ اندراج کی درخواست مقامی عدالت میں دائر کی تھی اس درخواست کو انہوں نے گزشتہ روز 28 جولائی کو " نامعلوم وجوہات" کی بنا پر واپس لے لیا

وفاقی حکومت نے دیت (خون بہا) کی رقم میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے تقریباً دوگنا کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری...
29/07/2026

وفاقی حکومت نے دیت (خون بہا) کی رقم میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے تقریباً دوگنا کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اضافہ چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کیا گیا ہے، کیونکہ پاکستان کے قانون کے تحت دیت کی رقم 30,630 گرام چاندی کی موجودہ مارکیٹ قیمت کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہے۔

نئے نوٹیفکیشن کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے دیت کی رقم بڑھا کر 19,343,542 روپے (تقریباً 1 کروڑ 93 لاکھ روپے) مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 9,828,670 روپے تھی۔ یوں ایک سال کے دوران دیت کی مقررہ رقم میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

قانون کے مطابق، یہ رقم قتل کے مقدمات میں مقتول کے قانونی ورثا کو بطور دیت ادا کی جاتی ہے، بشرطیکہ معاملہ قانون کے مطابق دیت پر طے پائے۔ حکومت ہر سال چاندی کی موجودہ قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رقم کا ازسرِنو تعین کرتی ہے۔

17/07/2026

Federal Constitutional Court (FCC) has laid down comprehensive guidelines for all civil and revenue courts dealing with proceedings affecting the person, property or inheritance rights of minors, directing judges to exercise heightened judicial scrutiny and ensure strict compliance with legal safeguards before passing any order that may affect a minor's interests.
tribune.com.pk/story/2618669/…

26/06/2026

شڪارپور ضلعي جي بدو وليس آباد ڳوٺ ۾ محرم الحرام جي سوڳ واري تقريب دوران هڪ انتهائي دل ڏاريندڙ حادثو پيش آيو. حضرت امام حسينؑ ۽ ڪربلا جي شهيدن جي ياد ۾ علم بلند ڪرڻ دوران اهو 11 هزار وولٽ جي هاءِ ٽينشن بجليءَ جي تار سان ٽڪرائجي ويو، جنهن جي نتيجي ۾ 8 ڄڻا شهيد ۽ 15 کان وڌيڪ ماڻهو زخمي ٿي پيا. ڪيترائي زخمي اڃا تائين اسپتالن ۾ زندگي ۽ موت جي جنگ وڙهي رهيا آهن.

علم بلند ڪرڻ کان اڳ هنڌ جو مڪمل جائزو وٺڻ، بجليءَ جي خطرناڪ تارن کان محفوظ فاصلو يقيني بڻائڻ ۽ حفاظتي انتظام ڪرڻ سندن بنيادي ذميواري هئي. اهڙي احتياط نه ڪرڻ واضح غفلت آهي.

بجلي فراهم ڪندڙ اداري (SEPCO) جي ذميواري
هاءِ وولٽيج لائينن کي محفوظ معيار مطابق رکڻ، باقاعده سار سنڀال ڪرڻ ۽ عوامي هنڌن تي خبرداري جا مناسب انتظام ڪرڻ قانوني فرض آهي. جيڪڏهن انهن ذميوارين ۾ ڪوتاهي ٿي آهي ته جاچ جو رخ ان ڏانهن به وڃڻ گهرجي.

ضلعي انتظاميه ۽ لاڳاپيل ادارا محرم جي جلوسن ۽ مذهبي رسمن کان اڳ جڳهه جو معائنو ڪن ھا حفاظتي SOPs تي عمل ۽ خطري وارن هنڌن جي سڃاڻپ ڪرڻ انتظاميه جو فرض آهي. جيڪڏهن اهي قدم نه کنيا ويا ته اها به سنگين غفلت شمار ٿي سگهي ٿي.

غفلت سبب انساني جان ضايع ٿيڻ هڪ قابل سزا جرم آهي. جيڪڏهن جاچ مان غفلت ثابت ٿئي ته ذميوارن خلاف قانون موجب ڪارروائي ٿيڻ گهرجي. شهيدن جي وارثن کي مناسب معاوضو، جڏهن ته زخمين کي بهترين علاج ۽ مڪمل سهڪار فراهم ڪيو وڃي.

الله پاڪ شهيدن کي جنت الفردوس ۾ اعليٰ مقام عطا فرمائي، زخمين کي جلد صحتيابي نصيب ڪري ۽ سوڳوار خاندانن کي صبرِ جميل عطا فرمائي. آمين.

توهان جي نظر ۾ هن سانحي جا ذميوار ڪير آهن؟

Address

Hyderabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Shahzaib Shaikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share