Advocate Shahzaib Shaikh

Advocate Shahzaib Shaikh Advocate | Jurisprudence | Case Laws | Message for Legal Advice.
قانونی مشورے یا رہنمائی کے لیے میسج کریں۔قانوني صلاح يا رهنمائي لاءِ ميسيج ڪريو

26/06/2026

شڪارپور ضلعي جي بدو وليس آباد ڳوٺ ۾ محرم الحرام جي سوڳ واري تقريب دوران هڪ انتهائي دل ڏاريندڙ حادثو پيش آيو. حضرت امام حسينؑ ۽ ڪربلا جي شهيدن جي ياد ۾ علم بلند ڪرڻ دوران اهو 11 هزار وولٽ جي هاءِ ٽينشن بجليءَ جي تار سان ٽڪرائجي ويو، جنهن جي نتيجي ۾ 8 ڄڻا شهيد ۽ 15 کان وڌيڪ ماڻهو زخمي ٿي پيا. ڪيترائي زخمي اڃا تائين اسپتالن ۾ زندگي ۽ موت جي جنگ وڙهي رهيا آهن.

علم بلند ڪرڻ کان اڳ هنڌ جو مڪمل جائزو وٺڻ، بجليءَ جي خطرناڪ تارن کان محفوظ فاصلو يقيني بڻائڻ ۽ حفاظتي انتظام ڪرڻ سندن بنيادي ذميواري هئي. اهڙي احتياط نه ڪرڻ واضح غفلت آهي.

بجلي فراهم ڪندڙ اداري (SEPCO) جي ذميواري
هاءِ وولٽيج لائينن کي محفوظ معيار مطابق رکڻ، باقاعده سار سنڀال ڪرڻ ۽ عوامي هنڌن تي خبرداري جا مناسب انتظام ڪرڻ قانوني فرض آهي. جيڪڏهن انهن ذميوارين ۾ ڪوتاهي ٿي آهي ته جاچ جو رخ ان ڏانهن به وڃڻ گهرجي.

ضلعي انتظاميه ۽ لاڳاپيل ادارا محرم جي جلوسن ۽ مذهبي رسمن کان اڳ جڳهه جو معائنو ڪن ھا حفاظتي SOPs تي عمل ۽ خطري وارن هنڌن جي سڃاڻپ ڪرڻ انتظاميه جو فرض آهي. جيڪڏهن اهي قدم نه کنيا ويا ته اها به سنگين غفلت شمار ٿي سگهي ٿي.

غفلت سبب انساني جان ضايع ٿيڻ هڪ قابل سزا جرم آهي. جيڪڏهن جاچ مان غفلت ثابت ٿئي ته ذميوارن خلاف قانون موجب ڪارروائي ٿيڻ گهرجي. شهيدن جي وارثن کي مناسب معاوضو، جڏهن ته زخمين کي بهترين علاج ۽ مڪمل سهڪار فراهم ڪيو وڃي.

الله پاڪ شهيدن کي جنت الفردوس ۾ اعليٰ مقام عطا فرمائي، زخمين کي جلد صحتيابي نصيب ڪري ۽ سوڳوار خاندانن کي صبرِ جميل عطا فرمائي. آمين.

توهان جي نظر ۾ هن سانحي جا ذميوار ڪير آهن؟

ایک ننھی سی بچی منتہا زہرا جو دکان سے چیز لینے گئی تھی، اس کے جسم پر زیادتی کے نشانات اور گلے کاٹنے سے ہونے والی موت کی ...
25/06/2026

ایک ننھی سی بچی منتہا زہرا جو دکان سے چیز لینے گئی تھی، اس کے جسم پر زیادتی کے نشانات اور گلے کاٹنے سے ہونے والی موت کی تصدیق پوسٹ مارٹم نے کر دی ہے۔ یہ ہم سب کے اجتماعی اخلاقی زوال اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔

یہ وہ بدنصیب معاشرہ ہے جہاں ہم حسینؑ کا نام عقیدت اور آنسوؤں کے ساتھ لیتے ہیں، مگر طرزِ عمل اور کردار میں یزیدیت کی پیروی کرتے ہیں۔ جہاں اخلاقیات کی بڑی بڑی باتیں صرف واٹس ایپ سٹیٹس، فیس بک پوسٹس اور ٹویٹر تھریڈز تک محدود رہتی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی باطنی غلاظت، اپنی منافقت اور اخلاقی پستی سے خود بخوبی واقف ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ زبانی طور پر ہم مقتول کے ہمدرد اور ظالم کے دشمن بن جاتے ہیں، مگر اپنے عمل، رویوں اور خاموشی کے ذریعے اسی ظلم اور ظالم کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ جب تک ہم صرف غصہ ظاہر کریں گے اور اصل تبدیلی کے لیے کچھ نہیں کریں گے، یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

آج نویں محرم الحرام کا یہ مقدس دن — جو قربانی، ایثار اور مظلوم کی حمایت کا دن ہے — اگر ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے، اپنی اس بھیانک منافقت کا احساس دلانے اور کربلا کے حقیقی پیغام پر عمل کرنے پر مجبور نہ کر سکے
کیا ہم واقعی مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟

مظلوم منتہا زہرا کے لیے انصاف ہو، اور ہم سب کے لیے ہدایت۔ آمین۔



23/06/2026

ایک 12 سالہ معصوم بچہ سکول میں علم حاصل کرنے جاتا ہے… اور وہی استاد جس پر وہ بھروسہ کرتا تھا، اس کی زندگی کا سب سے بڑا زخم دے دیتا ہے۔
شان علی عرف ذیشان نامی ٹیچر نے رحیم یار خان میں اپنے ہی 12 سالہ طالبعلم کے ساتھ زیادتی کی۔ شریک ملزم نے اس وحشیانہ فعل کی ویڈیو بنا لی۔ ٹیچر کے موبائل فون سے بڑی تعداد میں قابلِ اعتراض ویڈیوز برآمد ہوئیں۔
آج لاہور ہائی کورٹ نے اس درندے کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے صاف کہا کہ شواہد اور ویڈیو ثبوت ملزم کو اس گھناؤنے جرم سے جوڑتے ہیں۔ اسے رہا کرنا دوسرے معصوم بچوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
کتنا درد ہوتا ہے سوچ کر…
ایک بچہ جو استاد کو اپنا محافظ اور رہنما سمجھتا ہے، اسی کے ہاتھوں اپنی معصومیت کھو بیٹھے؟ اس کی رونے کی آواز کو ویڈیو بنا کر محفوظ رکھا گیا؟ یہ کتنی بے حیائی اور شیطانیت ہے؟
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں لازمی سی سی ٹی وی کیمرے، اساتذہ اور عملے کی مکمل ویریفیکیشن، بچوں کے تحفظ کی ٹریننگ، اور خفیہ شکایات کا نظام بنانے کا حکم دیا ہے۔
اب حکومتِ پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کرے۔
ایسے درندوں کے لیے کوئی رحم نہیں!
سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ کوئی دوسرا اس کی جسارت نہ کر سکے۔
ہمارے بچے ہماری سب سے بڑی امانت ہیں۔
ان کی حفاظت پہلے، باقی سب بعد میں! والدین بیدار رہیں، اسکولوں پر نظر رکھیں۔

جسٹس صلاح الدین پنهور صاحب کا بچیوں کے تحفظ پر ایک اور تاریخی فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس صلاح الدین پنهور صاحب ...
23/06/2026

جسٹس صلاح الدین پنهور صاحب کا بچیوں کے تحفظ پر ایک اور تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس صلاح الدین پنهور صاحب کے فیصلے اور سندھ ہائی کورٹ میں کچھ موجودہ ججوں کے فیصلے واقعی تاریخ ساز ہیں۔ ان کے فیصلے خود بولتے ہیں۔

اس کیس میں بھی بچیوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے بارے میں جسٹس پنهور صاحب کا فیصلہ تاریخی ہے۔

مقدمے کا مختصر پس منظر:
یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کریمنل پٹیشن فار لیو ٹو اپیل نمبر 1042 آف 2025 (یونس مسیح بمقابلہ ریاست) میں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے شیخوپورہ کے ایک مقدمے میں بچی کے ساتھ جنسی تشدد کے الزام میں سزا کی تصدیق کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس اپیل کی سماعت کی۔

جسٹس صلاح الدین پنهور صاحب نے اس فیصلے میں صرف انفرادی کیس کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ بچیوں کے تحفظ کے وسیع تر مسائل کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ تفصیلی فیصلہ 18 صفحات پر مشتمل ہے اور سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

فیصلے کے اہم مشاہدات:

عدالت نے لکھا کہ وہ اس فیصلے کو صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رکھ سکتی۔ موجودہ کیس کی حقیقتوں سے کئی اہم مسائل سامنے آتے ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے۔

صرف دس سال کی ایک بچی اسکول جیسے ماحول میں بھی محفوظ نہیں رہ سکی، جہاں اسے تحفظ، تعلیم اور دیکھ بھال ملنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس وہ جنسی تشدد کا شکار بن گئی۔

یہ واقعہ عدالت کو مجبور کرتا ہے کہ وہ صرف مجرم کو سزا دینے تک محدود نہ رہے، بلکہ تعلیمی اداروں کے اندر اور ان تک آنے جانے کے راستے میں بچیوں کے تحفظ کے بڑے سوال کا جائزہ لے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ہراسانی، پیچھا کرنا (اسٹاکنگ)، دھمکیاں اور جنسی بدسلوکی اکثر ایسے رویوں سے شروع ہوتی ہیں جنہیں قانون خود جرم قرار دیتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 509 ایسے رویے کو جرم قرار دیتی ہے جس کا مقصد عورت کی حیا مجروح کرنا، اس کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا یا اسے ہراساں کرنا ہو۔

یہ دفعہ صرف سزا دینے تک محدود نہیں ہے۔ یہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ ایسی شکایت آتے ہی فوری اور موثر کارروائی کریں۔ ہراسانی کے ابتدائی مرحلے پر بروقت مداخلت بڑے جرائم کو روک سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر ایک بچی تعلیمی ادارے کے اندر یا راستے میں محفوظ نہیں ہے تو تعلیم، وقار، برابری اور ذاتی تحفظ کے آئینی وعدے محض الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔

ریاست کی ذمہ داری صرف اسکول اور کالج کھولنے تک محدود نہیں ہے۔ ریاست یہ بھی یقینی بنانے کی پابند ہے کہ بچیاں خوف، دھمکی، ہراسانی اور تشدد سے پاک ماحول میں ان اداروں تک پہنچ سکیں اور تعلیم حاصل کر سکیں۔

یہ فیصلہ صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ ہماری بچیوں کے تحفظ، ان کی عزت اور ان کے مستقبل کا پیغام ہے۔

جسٹس صلاح الدین پنهور صاحب جیسے ججوں کی وجہ سے ہماری عدالتیں آئین کے وعدوں کو حقیقت بنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کو عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر ایک...
23/06/2026

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کو عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر ایک ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
یہ سزا اس مقدمے میں دی گئی ہے جو 4 اکتوبر 2024 کو پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے احتجاج کے سلسلے میں تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے چالان جمع کرانے کے لیے کئی بار نوٹس جاری کیے، مگر پولیس نے نہ تو تفتیشی رپورٹ پیش کی اور نہ ہی ڈی آئی جی صاحب خود عدالت میں حاضر ہوئے۔
جج طاہر عباس سپرا نے پولیس کے اس رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے زبانی طور پر سزا کا حکم سنایا۔ تفصیلی تحریری حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
ڈی آئی جی جواد طارق کل اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی اور دیگر کی تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے کیس میں ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کو 6 ماہ قید اور سابق ایس ایس پی ملک جمیل ظفر کو 4 ماہ قید کے ساتھ ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جسے بعد میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم کر دیا تھا۔
عدالتی احکامات کی پابندی ہر ادارے اور ہر افسر کے لیے لازمی ہے۔ قانون کی حکمرانی ہی انصاف اور آئین کی بالادستی کی بنیاد ہے۔

آسٹریلوی پاسپورٹ کی طاقت بمقابلہ پاکستانی جان کی بے قیمتی 💔9 سالہ معصوم ہانیہ احمد — آسٹریلیا کی شہری،  ایک چھوٹی سی بچی...
19/06/2026

آسٹریلوی پاسپورٹ کی طاقت بمقابلہ پاکستانی جان کی بے قیمتی 💔

9 سالہ معصوم ہانیہ احمد — آسٹریلیا کی شہری، ایک چھوٹی سی بچی چھٹیوں پر چکوال آئی ہوئی تھی۔ ڈکیتی کے ایک المناک واقعے کے دوران پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (CCD) کے اہلکاروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ نتیجہ؟ ہانیہ شہید، اس کے والد عدیل احمد اور بھائی زخمی۔

اب دیکھیں کہ جب آسٹریلوی پاسپورٹ والے خاندان پر یہ سانحہ پیش آیا تو کیا ہوا:

سی سی ڈی کے چیف سہیل ظفر چٹھہ صاحب خود متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے، تعزیت کی، ہانیہ کی قبر پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور میڈیا سے بات کی۔

سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کی۔
آئی جی پنجاب اور CCD کی متعدد پریس کانفرنسز ہوئیں۔
افسر کو فوری گرفتار کیا گیا، کیس کو سیکشن 302 (قتل) میں تبدیل کیا گیا، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی۔
آسٹریلین وزیر اعظم نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور پاکستانی حکام نے فوری یقین دہانی کرائی۔

اب دوسری طرف دیکھیں اسی CCD نے صرف 8 ماہ (اپریل سے دسمبر 2025) میں 670 انکاؤنٹرز میں 924 پاکستانی شہریوں کو ہلاک کر دیا (HRCP رپورٹ کے مطابق)۔
ان میں سے بہت سے کیسز میں خاندانوں کو نہ کوئی مناسب تحقیقات ملی، نہ انصاف، نہ پریس کانفرنس، نہ کوئی بڑی جوابدہی۔ اکثر "جعلی انکاؤنٹر" کے سنگین الزامات لگتے رہے، مگر کوئی بڑا ایکشن نہیں ہوا۔

حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی کی جان کی قیمت تب تک نہیں جب تک اس کے پیچھے کوئی طاقتور پاسپورٹ یا سفارتی دباؤ نہ کھڑا ہو۔


19/06/2026

مشہور ولاگر اور یوٹیوب ر امتیاز چانڈیو اور عوامی تحریک کے کارکن آیاز جمال چانڈیو کی بہن، بے بس افشان چانڈیو کے گھر پر خہارہ قبیلے کے افراد نے زبردستی گھس کر حملہ کر دیا۔
اس بے رحمانہ اور بزدلانہ حملے میں افشان چانڈیو خود، ان کی بیٹی اور بیٹا زخمی ہو گئے۔ ایک ماں اور اس کے معصوم بچوں پر گھر کے اندر اس طرح حملہ کرنا کتنی درندگی ہے
یہ صرف ایک گھر پر حملہ نہیں، بلکہ قانون اور انسانیت پر حملہ ہے۔
ایس ایس پی حیدرآباد سے گزارش ہے کہ اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیں اور حملہ آوروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں۔ مجرمان کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے!
اگر ہم خاموش رہے تو ایسے واقعات بڑھتے رہیں گے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے ہے۔بچی کے جسم پر 11 گولیوں کے زخم ہیں۔ زخم سینے، پیٹ، دائیں اور بائیں رانوں، کہنی، کمر اور پچھلے ...
19/06/2026

پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے ہے۔
بچی کے جسم پر 11 گولیوں کے زخم ہیں۔ زخم سینے، پیٹ، دائیں اور بائیں رانوں، کہنی، کمر اور پچھلے حصے پر ہیں۔ زخموں کے کنارے الٹے ہوئے ہیں جو فائر آرم کے داخلے کے زخموں کی واضح علامت ہیں۔ کئی زخم ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

اس کا قانونی مطلب یہ ہے کہ فائرنگ ایک سمت یا ایک شخص سے نہیں بلکہ متعدد سمتوں سے کی گئی۔ یعنی یا تو متعدد پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی، یا کنٹرول اور تربیت کے بغیر بے تحاشا فائرنگ ہوئی۔

قانون کے تحت پولیس کو قوت کا استعمال صرف ضرورت اور تناسب کے اصول پر کرنا جائز ہے۔ یہاں دونوں اصول واضح طور پر نظر انداز کیے گئے۔

جب اسی آپریشن میں ایک معصوم 9 سالہ بچی ہانیہ کی جان چلی گئی تو سوال یہ ہے کہ CCD کی تربیت اور SOPs کہاں ہیں؟

صرف ایک افسر کی گرفتاری اور معطلی کافی نہیں۔

مکمل آزادانہ عدالتی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سوچئے ذرا...جاپانی نہ ہر جمعہ وعظ سنتے ہیں، نہ محلے میں لاؤڈ اسپیکر پر تقاریر ہوتی ہیں، نہ حج اور عمرے کرتے ہیں، نہ۔پھر ...
17/06/2026

سوچئے ذرا...

جاپانی نہ ہر جمعہ وعظ سنتے ہیں، نہ محلے میں لاؤڈ اسپیکر پر تقاریر ہوتی ہیں، نہ حج اور عمرے کرتے ہیں، نہ۔

پھر بھی دنیا ان کی ایمانداری، دیانت، وقت کی پابندی اور قانون کی پاسداری کی مثال دیتی ہے۔

ہم کیا کرتے ہیں؟ ہر جمعہ خطبہ سنتے ہیں، رمضان میں عبادت کرتے ہیں، حج اور عمرے کرتے ہیں، جنازوں میں نصیحتیں سنتے ہیں، دین کی باتیں بہت کرتے ہیں۔
مگر بازار میں ناپ تول کم کرتے ہیں، رشوت لیتے اور دیتے ہیں، جھوٹ بولنے کو کاروباری ذہانت سمجھتے ہیں، امانت میں خیانت کرتے ہیں، اور قانون کو صرف دوسروں کے لیے سمجھتے ہیں۔

اصل مسئلہ دین میں نہیں، عمل میں ہے۔

اگر نماز انسان کو جھوٹ بولنے سے نہ روکے،
اگر حج انسان کو ظلم کرنے سے نہ روکے،
اگر عمرہ انسان کو حرام کمائی سے نہ روکے،
اگر وعظ انسان کے کردار میں تبدیلی نہ لائے...

تو پھر ہمیں دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

دنیا الفاظ نہیں دیکھتی، کردار دیکھتی ہے۔
قومیں نعروں سے نہیں، ایمانداری اور انصاف سے ترقی کرتی ہیں۔

جب تک ہم عبادت کو صرف رسم اور ایمانداری کو صرف نصیحت سمجھتے رہیں گے، تب تک ہم پیچھے ہی رہیں گے — چاہے وعظ کتنے ہی سن لیں اور تقریریں کتنی ہی کر لیں۔

Address

Hyderabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Shahzaib Shaikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share