Lawyers Lounge

Lawyers Lounge Welcome to Lawyers Lounge! Connect with legal experts, get the latest law news, insightful discussions, and resources.

Join Q&A sessions, network, and share experiences. Follow us for updates and be part of our legal community!

Proud to stand for justice, dignity, and humanity. Because law is more than a profession, it’s a commitment to a better ...
04/05/2025

Proud to stand for justice, dignity, and humanity. Because law is more than a profession, it’s a commitment to a better world.

Follow us: facebook.com/lawyer.lounges

02/05/2025

26ویں آئینی ترمیم، جسے 2024 میں پاکستان کی پارلیمان نے منظور کیا، درحقیقت عدلیہ کی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور نظامِ انصاف کے آزادانہ کردار پر ایک شدید حملہ ہے۔ حکومت نے اسے “جمہوری نگرانی” کے خوبصورت عنوان کے تحت پیش کیا، مگر اس ترمیم کے تحت جو قانونی تبدیلیاں کی گئیں، وہ پاکستان میں آئین کے بنیادی ڈھانچے، یعنی اداروں کے درمیان اختیارات کی علیحدگی (Separation of Powers) کو کمزور کرتی ہیں۔ یہ ترمیم بظاہر ادارہ جاتی توازن قائم کرنے کے لیے ہے، مگر درحقیقت اس کا مقصد عدالتی ادارے کو مقننہ اور انتظامیہ کے تابع بنانا ہے، جو آئینی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اس ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر اب سینیارٹی کے اصول کے بجائے ایک بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کرے گی، جس میں آٹھ ارکان قومی اسمبلی اور چار سینیٹ سے ہوں گے۔ یہ نظام نہ صرف عدالتی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ اس سے سیاسی وابستگی اور دباؤ کے دروازے کھلتے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کا ایک اہم ستون یہ رہا ہے کہ اس کا سربراہ بیرونی دباؤ سے پاک، سینیارٹی کی بنیاد پر تعینات ہو، تاکہ وہ آزاد فیصلے کر سکے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، جیسے بھارت، جرمنی، جنوبی افریقہ، اور برطانیہ میں ججز کی تقرری کے لیے شفاف، غیرسیاسی، اور خودمختار ادارے قائم کیے گئے ہیں، جن میں پارلیمانی یا انتظامی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں اس ترمیم کے ذریعے ججوں کے تقرری کے عمل کو سیاسی بنا کر انصاف کو سیاسی خواہشات کا تابع بنایا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، جو ججوں کی تقرری، ترقی، اور تبادلوں کے لیے بنایا گیا تھا، اس کی تشکیلِ نو کر کے اس میں سیاسی افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ اب کمیشن میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل، ارکان پارلیمنٹ، اور اسپیکر کی نامزد کردہ خواتین یا اقلیتی رکن کو شامل کر کے عدالتی ادارے کے اندرونِ خانہ فیصلوں کو براہِ راست سیاسی اثرورسوخ کے تابع کر دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں عدلیہ، جو عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہونی چاہیے، خود اپنے فیصلوں میں غیرجانبدار نہیں رہ سکے گی۔

ترمیم کا ایک اور تشویشناک پہلو ازخود نوٹس کے اختیار (سوموٹو پاور) کی محدودیت ہے۔ ماضی میں سپریم کورٹ نے کئی اہم انسانی حقوق اور بدعنوانی کے مقدمات ازخود نوٹس کے ذریعے اٹھائے، جو انتظامیہ کو جوابدہ بنانے کا ذریعہ بنے۔ اب ان اختیارات کو “پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ” کے ذریعے ضابطے کی قید میں لا کر عدالت کی فوری اور خودمختار کارروائی کی صلاحیت کو محدود کر دیا گیا ہے، جوکہ آئینی عدالت کی فعالیت کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔

اسی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں آئینی مقدمات کے لیے مخصوص آئینی بنچز کی تشکیل کا اختیار بھی جوڈیشل کمیشن کو دے دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ مخصوص مقدمات کے لیے مخصوص ججوں کو منتخب کیا جا سکے گا، اور اس طرح اہم مقدمات کو من پسند بنچز کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ یہ چیز عدالتی غیرجانبداری کو سنگین حد تک متاثر کرے گی، اور عدلیہ عوامی اعتماد کھو دے گی۔

ترمیم کی منظوری کے عمل میں بھی نہایت عجلت اور بددیانتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ نہ پاکستان بار کونسل، نہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، اور نہ ہی کسی جمہوری مشاورتی عمل کو اس میں شامل کیا گیا۔ اس طرح کی آئینی تبدیلیاں جو عدالتی ڈھانچے کو جڑ سے بدل دیتی ہیں، ان میں مکمل عوامی مشاورت، شفاف پارلیمانی مباحثہ، اور ماہرین قانون کی شمولیت ناگزیر ہوتی ہے۔ اس ترمیم کو محض چند دنوں میں بلڈوز کر کے منظور کیا گیا، جو بذاتِ خود اس کے غیر آئینی ہونے کا ثبوت ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس ترمیم کی شدید مخالفت کی گئی۔ انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) نے اسے عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب قرار دیا، جب کہ یورپی یونین اور دیگر جمہوری اداروں نے بھی پاکستان کی عدالتی آزادی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ دنیا بھر میں جہاں قانون کی حکمرانی کو اہمیت حاصل ہے، وہاں عدلیہ کو خودمختار حیثیت میں کام کرنے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو سیاستدانوں کے زیر اثر لا کر عوام کے بنیادی حقوق کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔

یہ محض عدلیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر اُس شہری کا مسئلہ ہے جو چاہتا ہے کہ اس کے مسائل کا حل ایک آزاد، منصف، اور طاقتور عدالت کے ذریعے کیا جائے۔ جب عدالتیں آزاد نہ رہیں، تو کسی بھی شہری کے حقوق، آزادی اور سلامتی کی ضمانت باقی نہیں رہتی۔ 26ویں آئینی ترمیم کو فوری طور پر واپس لینا، اس پر نظرثانی کرنا، اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے متوازن عدالتی اصلاحات کا آغاز ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ پاکستان میں نہ صرف آئینی ڈھانچہ متاثر ہوگا بلکہ ریاست کا انصاف پر کھڑا پورا نظام زمیں بوس ہو جائے گا۔

یہ ہے شہباز خاصخیلی — قانون کا طالبعلم، جسے پولیس نے 24 گھنٹے تک مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ شدید زخمی حالت میں جناح ا...
02/05/2025

یہ ہے شہباز خاصخیلی — قانون کا طالبعلم، جسے پولیس نے 24 گھنٹے تک مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ شدید زخمی حالت میں جناح اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں زیرِ علاج ہے، جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ وکیل دوست عدالت کا ایف آئی آر درج کرنے کا حکم لے کر ڈیفنس تھانے پہنچے، لیکن پولیس نے عدالتی حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کھلی عدالتی حکم عدولی کے خلاف وکلاء نے کراچی کے ڈیفنس موڑ پر دھرنا دیا اور سڑک بند کر دی۔

طاقت سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسَو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہماراWhen a court orders an FIR and the police refuse, it...
02/05/2025

طاقت سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سَو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا

When a court orders an FIR and the police refuse, it’s not negligence, it’s rebellion against the Constitution. Justice delayed is injustice; but justice denied by the protectors of law is tyranny.

02/05/2025

When a court orders an FIR and the police refuse, it’s not negligence, it’s rebellion against the Constitution. Justice delayed is injustice; but justice denied by the protectors of law is tyranny.

02/05/2025

انصاف اندھا ہوتا ہے، لیکن وکیلوں کی فیسیں اسے دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ جان گریشیم

02/05/2025

وکیلوں کا پیشہ یہ ہے کہ ہر چیز پر سوال کریں، کسی بات کو نہ مانیں، اور گھنٹوں بولتے رہیں۔
تھامس جیفرسن

آپ کے خیال میں کیا ہوگا؟کیا پاکستان اور بھارت ایک بار پھر جنگ کی راہ پر چل پڑیں گے؟کیا حالیہ دہشتگرد حملہ، سفارتی تعلقات...
02/05/2025

آپ کے خیال میں کیا ہوگا؟
کیا پاکستان اور بھارت ایک بار پھر جنگ کی راہ پر چل پڑیں گے؟
کیا حالیہ دہشتگرد حملہ، سفارتی تعلقات کی معطلی، اور سرحدی کشیدگی ہمیں ایک اور تباہ کن تصادم کی طرف لے جا رہی ہے؟
کیا دونوں ایٹمی طاقتیں اپنے عوام اور خطے کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے جا رہی ہیں؟
یا کیا بین الاقوامی دباؤ اور عوامی شعور اس خطرناک صورتحال کو امن میں بدل سکتا ہے؟
آپ کی رائے کیا ہے — جنگ یا مذاکرات؟

13/02/2024

Welcome to the Lawyers Lounge!

This week, let's discuss: How is technology reshaping our legal practice? Share your experiences, challenges, and thoughts on tech advancements like AI in legal research or virtual courtrooms.

Your insights are valuable to our community of legal professionals. Let's learn and grow together!

Address

Hyderabad
71000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers Lounge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers Lounge:

Share

Category