09/02/2026
میڈیکل سائنس بمقابلہ جھوٹی گواہی:
لاہور ہائی کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ!
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے (2026 LHC 975) میں فوجداری قانون اور میڈیکل جیورس پروڈنس کے وہ پہلو اجاگر کیے ہیں جو ہر وکیل اور عام شہری کے لیے جاننا ضروری ہیں:
رائگر مورٹس (Rigor Mortis): گرمیوں میں لاش کا اکڑنا کتنی دیر میں شروع ہوتا ہے؟ اگر میڈیکل رپورٹ اور FIR کے وقت میں تضاد ہو تو فائدہ کس کو ملے گا؟
سیمینل ڈسچارج کی حقیقت: کیا موت کے وقت جسم سے مادہ کا اخراج ہمیشہ جنسی فعل کی علامت ہوتا ہے؟ عدالت نے اسے محض ایک "غیر ارادی جسمانی ردعمل" (Involuntary Reflex) قرار دے کر اہم غلط فہمی دور کر دی۔
برآمدگی کا شک: اگر پولیس کی سیل کی ہوئی پارسل میں گولیاں غائب ہوں، تو کیا آلہ قتل کی شہادت قابلِ قبول ہوگی؟
عدالت کا فیصلہ: شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) ملزم کا حق ہے، رعایت نہیں!
لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ (Crl. Appeal No. 82474-J/2022) فوجداری مقدمات میں شہادتوں کی پرکھ کے لیے ایک مکمل گائیڈ لائن ہے۔
1. میڈیکل شہادت اور ٹائم لائن کا تضاد
رائگر مورٹس (Rigor Mortis): عدالت نے قرار دیا کہ مئی کے مہینے میں، موت کے محض 5 گھنٹے کے اندر مکمل رائگر مورٹس (جسم کا اکڑ جانا) ہونا ناممکن ہے۔ استغاثہ نے وقوعہ کا وقت شام 6 بجے بتایا جبکہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق موت بہت پہلے ہو چکی تھی۔
پوسٹ مارٹم کے مراحل: صفحہ 5 پر ایک تفصیلی ٹیبل کے ذریعے موت کے بعد جسمانی تبدیلیوں کے سائنسی اوقات بیان کیے گئے ہیں۔
2. سیمینل ڈسچارج (Seminal Emission) کی قانونی تشریح
عدالت نے واضح کیا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران لاش پر مادہ کا پایا جانا اس بات کی حتمی دلیل نہیں کہ مرنے والا کسی جنسی سرگرمی میں ملوث تھا
اس کی طبی وجوہات میں شدید صدمہ (Neurogenic shock)، ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ، یا عضلات کا سکڑنا شامل ہو سکتے ہیں۔
3. چشم دید گواہان (Ocular Account) کی ساکھ
تضادات: استغاثہ کے گواہان کے بیانات اور پرائیویٹ شکایت (Private Complaint) میں فائرنگ اور زخموں کی تعداد میں واضح فرق پایا گیا۔
گواہان کی موجودگی: تفتیشی افسر کے مطابق، جائے وقوعہ کے قریبی رہائشیوں نے گواہان کی موقع پر موجودگی کی تردید کی تھی۔
فلسس ان اونو (Falsus in uno): اگرچہ یہ اصول پاکستان میں سختی سے نافذ نہیں، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ اگر گواہ ایک حد تک جھوٹا ثابت ہو جائے تو اس کی بقیہ گواہی کے لیے آزادانہ تائید (Corroboration) ضروری ہے۔
4. برآمدگی اور چین آف کسٹڈی (Chain of Custody)
عدالت نے آلہ قتل (پسٹل .30 بور) کی برآمدگی کو مشکوک قرار دیا کیونکہ ریکوری میمو میں درج پانچ گولیاں فارنزک لیب بھیجے گئے پارسل میں موجود نہیں تھیں۔ اس سے پارسل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ (Tampering) کا شبہ پیدا ہوا
5. مقصدِ قتل (Motive)
استغاثہ قتل کا مقصد ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ تفتیشی افسر نے بھی تسلیم کیا کہ دورانِ تفتیش مبینہ مقصد درست ثابت نہیں ہوا تھا۔
حتمی نتیجہ
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کو بری کرنے کے لیے کئی شکوک و شبہات کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ایک معقول شک ہی کافی ہے، جو کہ ملزم کا حق ہے۔ عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزائے موت کو کالعدم قرار دیا اور ملزم کو بری کر دیا۔