ZJ Legal

ZJ Legal Way towards Justice

‏چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِصدارت ایگزیکٹو کی اکثریت اور عدلیہ کی اقلیت والے "جوڈیشل" نامی کمیشن کا اس سے بڑا کارنامہ ...
28/04/2026

‏چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِصدارت ایگزیکٹو کی اکثریت اور عدلیہ کی اقلیت والے "جوڈیشل" نامی کمیشن کا اس سے بڑا کارنامہ کیا ہو گا کہ لاہور ہائیکورٹ سے 15ویں نمبر کے جونیئر جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اٹھا کر اسلام آباد ہائیکورٹ لایا اور چیف جسٹس بنا دیا گیا اور اب ایک سال بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی جنہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بننا تھا اُنہیں پہلے چیف جسٹس نہ بنا کر حق مارا گیا اور اب اُن کو لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کر کے 12ویں 13ویں نمبر کا جونیئر جج بنا دیا گیا. پاکستان کی آزاد عدلیہ زندہ باد

وفاقی آئینی عدالت کا ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں دائرہ اختیار کے بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا گیا ہے۔*Ghulam Abb...
21/04/2026

وفاقی آئینی عدالت کا ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں دائرہ اختیار کے بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا گیا ہے۔

*Ghulam Abbas v. Telephone Industries of Pakistan* کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ:
🔹 وفاقی محتسب (Wafaqi Mohtasib) کو اختیار نہیں کہ وہ کسی سرکاری ملازم کے اپنے ادارے کے خلاف سروس معاملات (جیسے پنشن) کی شکایت سنے — یہ قانوناً ممنوع ہے۔
🔹 اگر کوئی ادارہ کارروائی میں حصہ لے یا کوئی یقین دہانی کروائے، تب بھی وہ ایسے فورم کو اختیار نہیں دے سکتا جس کے پاس قانونی اختیار سرے سے موجود ہی نہ ہو۔
🔹 قانون کے خلاف Estoppel (روک) لاگو نہیں ہوتا, یعنی فریقین کی رضامندی سے بھی غیر قانونی اختیار کو جائز نہیں بنایا جا سکتا۔
🔹 ہائی کورٹ کو آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے احکامات کو کالعدم قرار دے جو اختیار سے تجاوز یا بغیر اختیار جاری کیے گئے ہوں۔
🔹 جو حکم قانون کے بغیر دیا جائے وہ ابتدا سے ہی کالعدم (Void ab initio) ہوتا ہے، چاہے اس کے خلاف دیگر قانونی راستے اختیار کیے جا چکے ہوں۔

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:
✔️ سروس معاملات کے لیے مخصوص فورمز موجود ہیں
✔️ محتسب کا دائرہ اختیار صرف بدانتظامی (maladministration) تک محدود ہے

Adv Zohaib Jamali
0335 3879854

"حقِ مطالعہ" کو بنیادی حق تسلیم — مگر مکمل نہیںفیڈرل آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ "پڑھنے کا حق"  آئین...
18/04/2026

"حقِ مطالعہ" کو بنیادی حق تسلیم — مگر مکمل نہیں

فیڈرل آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ "پڑھنے کا حق" آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت "حقِ زندگی" کا حصہ ہے۔

عدالت کے مطابق، اگرچہ آئین میں بنیادی حقوق کی فہرست موجود ہے، لیکن کچھ حقوق ایسے بھی ہوتے ہیں جو اسی فریم ورک سے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ پڑھنا علم، شعور اور ایک باوقار زندگی کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے اسے حقِ زندگی سے جوڑا گیا۔

تاہم عدالت نے واضح کیا:
یہ حق مکمل (absolute) نہیں ہے- بلکہ قانون کے تحت محدود کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جہاں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کا معاملہ ہو۔

کتابوں (خصوصاً لا بکس) کی درآمد پر پابندی کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ:
* اس سے علم تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے،
* لیکن یہ حکومتی پالیسی کا معاملہ ہے،
* اور عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

مزید برآں، عدالت نے ہائی کورٹ کی وہ ہدایات بھی کالعدم قرار دیں جو حکومت کو جاری کی گئی تھیں، یہ کہتے ہوئے کہ وہ درخواست کے دائرہ کار سے باہر تھیں۔

Adv Zohaib Jamali
0335 3879854

#

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک نہایت اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جو فوجداری مقدمات میں ٹرائل کے طریقہ کار، منصفانہ سماعت اور گو...
17/04/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک نہایت اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جو فوجداری مقدمات میں ٹرائل کے طریقہ کار، منصفانہ سماعت اور گواہوں کے وقار سے متعلق اہم اصول طے کرتا ہے۔

فوجداری درخواست نمبر 1160 آف 2025 میں عدالت نے یہ معاملہ دیکھا کہ کیا ایک ہی واقعہ سے متعلق متعدد ایف آئی آرز کو یکجا کر کے ایک ہی ٹرائل چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ:
⚖️ مشترکہ ٹرائل لازمی نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
⚖️ “Same transaction” کے تعین کے لیے صرف وقت اور جگہ کافی نہیں، بلکہ مقصد اور عمل کا تسلسل بھی ضروری ہے۔
⚖️ مختلف قوانین (جیسے PPC اور PECA) کے تحت جرائم ہونے کی صورت میں علیحدہ ٹرائل جائز ہو سکتے ہیں۔

تاہم اس فیصلے کی سب سے اہم بات صرف قانونی نکات نہیں بلکہ عدالتی رویہ اور انسانی وقار ہے:

🛑 جرح (Cross-Examination) کا غلط استعمال ناقابل قبول
عدالت نے کہا کہ غیر ضروری، طویل اور تضحیک آمیز سوالات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جج کا فرض ہے کہ وہ اس عمل کو کنٹرول کرے۔

🪑 گواہوں کے وقار کا تحفظ
سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ:
✔️ گواہوں کو بیان دیتے وقت بیٹھنے کی سہولت فراہم کی جائے۔
✔️ کھڑے ہو کر گواہی دینا کوئی قانونی تقاضا نہیں ہے۔

یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 9، 10-A اور 14 کے مطابق ہے، جو جان، منصفانہ ٹرائل اور انسانی وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

Adv Zohaib Jamali
0335 3879854


13/04/2026

خراب چیز واپس نہ ہو تو کیا کیس کر سکتے ہیں؟

11/04/2026

دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رضامندی 'ریپ' ہے: عدالت کی بڑی رولنگ
کیا شادی کے وعدے پر جنسی تعلق 'رضامندی' ہے؟ عدالت کی اہم وضاحت
**e

⚖️لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے رٹ پٹیشن نمبر 8895 آف 2025 میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شناختی کارڈ ...
11/04/2026

⚖️
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے رٹ پٹیشن نمبر 8895 آف 2025 میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شناختی کارڈ (CNIC) کسی شہری کی "منقولہ جائیداد" (Movable Property) نہیں ہے، اور اسے سول مقدمات میں کسی کو مجبور کرنے کے لیے بلاک نہیں کیا جا سکتا
۔
کیس کے اہم نکات:
📍 معاملہ کیا تھا؟ ایک شہری (محمد علی انصاری) کا شناختی کارڈ پشاور کی ایک سول کورٹ کے حکم پر بلاک کر دیا گیا تھا تاکہ اسے عدالتی کارروائی میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا سکے
۔
📍 عدالت کا فیصلہ: جسٹس تنویر احمد شیخ نے قرار دیا کہ:
1️⃣ شناختی کارڈ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے، کارڈ ہولڈر کی نہیں (نادرا آرڈیننس سیکشن 18)
2️⃣ یہ صرف ایک شناختی دستاویز ہے، جسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہی وراثت میں منتقل کیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ "منقولہ جائیداد" کے زمرے میں نہیں آتا
3️⃣ سول عدالتوں کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیں

📍 نادرا کے اختیارات: عدالت نے واضح کیا کہ نادرا صرف نادرا آرڈیننس کے سیکشن 18 کے تحت مخصوص حالات (جیسے دھوکہ دہی، جعل سازی یا نااہلی) میں کارڈ منسوخ یا ضبط کر سکتا ہے
۔
عدالت نے شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کے عمل کو "غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز" قرار دیتے ہوئے نادرا کو اسے فوری طور پر بحال (Unblock) کرنے کا حکم دے دیا ہے

Adv Zohaib Jamali
0335 3879854
۔

LahoreHighCourt # 🇵🇰

05/04/2026

Federal Constitutional Court K faisle Supreme Court k upr binding hen

⚖️ اہم قانونی فیصلہ | سیکشن 265-K Cr.P.C کی وضاحتلاہور ہائی کورٹ نے Khalid Mehmood v. The State (فیصلہ مورخہ 31.03.2026)...
05/04/2026

⚖️ اہم قانونی فیصلہ | سیکشن 265-K Cr.P.C کی وضاحت

لاہور ہائی کورٹ نے Khalid Mehmood v. The State (فیصلہ مورخہ 31.03.2026) میں ایک اہم اصول واضح کیا ہے جو فوجداری مقدمات میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔

📌 اہم نکات:
▪️ عدالت نے سیکشن 249-A اور سیکشن 265-K Cr.P.C کے درمیان واضح فرق بیان کیا۔
▪️ سیکشن 249-A کے تحت مجسٹریٹ ملزم کو بری کر سکتا ہے اگر:
الزام بے بنیاد ہو، یا
سزا کا کوئی امکان نہ ہو
▪️ جبکہ سیکشن 265-K Cr.P.C کے تحت سیشن کورٹ صرف اسی صورت میں بریت دے سکتی ہے جب:
سزا کا کوئی امکان ہی نہ ہو، اور
دستیاب مواد سے واضح ہو کہ مزید ثبوت بھی پیش ہوں تو بھی سزا ممکن نہیں

📂 کیس کا پس منظر:
2400 کلو پوست (Poppy Straw) کی برآمدگی
مقدمہ ٹرائل کے مرحلے میں تھا
ملزم کی طرف سے سیکشن 265-K کے تحت بریت کی درخواست

🚫 عدالت نے قرار دیا کہ:
➡️ ابتدائی مرحلے پر 265-K کا استعمال نہیں کیا جا سکتا
➡️ پراسیکیوشن کو مکمل موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنا کیس ثابت کرے

Adv Zohaib Jamali
0335 3879854

Address

Hyderabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZJ Legal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share