The Legal Loft Institute

The Legal Loft Institute "Unlock the Secrets of Law! Welcome to The Legal Loft Institute"

       ویں آئینی ترامیم میں شامل کردہ آرٹیکلز سینٹ میں منظور👇  26 ویں آئینی ترامیم میں شامل کیے گئے آرٹیکلز کو سینٹ ...
21/10/2024


ویں آئینی ترامیم میں شامل کردہ آرٹیکلز سینٹ میں
منظور👇

26 ویں آئینی ترامیم میں شامل کیے گئے آرٹیکلز کو سینٹ میں پیش کردیا گیا, جسے سینٹ کی جانب سے منظور کرلیا گیا ۔

آرٹیکل38
آرٹیکل38 میں ترمیم منظوری کیلئے سینٹ میں پیش کردی گئی، ترمیم جے یو آئی ایف کے کامران مرتضیٰ نے پیش کی ، حکومت نے جے یو آئی ف کی ترمیم کی حمایت کی۔ ترمیم کے مطابق آرٹیکل 38 کے پیراگراف ایف میں ترمیم کے مطابق سودی نظام کاخاتمہ جتناجلدی ممکن ہوکیاجائے گا۔ آرٹیکل 38میں ترمیم سینیٹ سے ہوگئی۔
26 ویں ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظورہو گئی ہے

آرٹیکل 48
آرٹیکل 48میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، جس کے مطابق وزیراعظم اورکابینہ کی جانب سے صدر کو بھیجی جانیوالی کسی بھی ایڈوائس پر کوئی ادارہ کوئی ٹریبونل اورکوئی اتھارٹی کارروائی نہیں کرسکے گی. سینیٹ سے آرٹیکل 48میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل 81
آرٹیکل 81میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ آرٹیکل 81میں آ رٹیکل 81میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل شامل کردیئے گئے۔ سینیٹ سے آرٹیکل 81میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کی گئی ۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 175اے سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل 175A
آرٹیکل 175Aمیں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل 175Aمیں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ ججز تقرری کیلئے کمیشن کاقیام عمل میں لایاجائے گا، ججز تقرری سے متعلق کمیشن 13ممبران پر مشتمل ہوگی، چیف جسٹس آف پاکستان کمیشن کے سربراہ ہوں گے، چارسنیئرججز وفاقی وزیرقانون اٹارنی جنرل اور سنیئروکیل پاکستان بارکونسل کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ کمیشن میں دواراکین اسمبلی اور دواراکین سینٹ شامل ہوں گے جو حکومت اوراپوزیشن سے لئے جائیں گے، قومی اسمبلی اورسینٹ کے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈرممبران کونامزدکریں گے۔

آرٹیکل 175 اے کی شق3اے کے تحت 12ممبران پر مشتمل خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے8جبکہ سینیٹ سے چار اراکین کو لیا جائے گا، قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام ممبران سینیٹ سے ہوں گے، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی ہوگی۔ پارلیمانی لیڈر خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں ممبران اسپیکر قور چیئرمین سینیٹ کو دینے کے مجاز ہوگی ، اسپیکر قومی اسمبلی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جا ری کرینگے ۔

ترمیم کے تحت چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے 14روز قبل سنیارٹی لسٹ فراہم کرنے کے پابند ہونگے، چیف جسٹس آف پاکستان خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو سنئیر ترین ججز کے نام بھجوائیں گے۔ پارلیمانی کمیٹی تین ناموں میں سے ایک کاانتخاب کرکے وزیراعظم کو ارسال کرے گی، وزیراعظم چیف جسٹس کی تقرری کیلئے نام صدرکو ارسال کریں گے۔ سنیارٹی لسٹ میں موجود نامز د ججز کے انکار پر پارلیمانی کمیٹی اگلے سنیئر ترین جج کے نام پر غور کریگی۔ پارلیمانی کمیٹی نامزدگیوں پر اس وقت تک جائزہ لیگی جب تک چیف جسٹس کا تقرر نہ ہوجائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے منظوری کے بعد چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل نام پارلیمانی کمیٹی کو بجھوانے نے پابند ہونگے ۔
ترمیم کے مطابق خصوصی پارلیمانی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا ۔قومی اسمبلی تحلیل ہوجانے کی صورت میں 2اراکین سینٹ سے لئے جائیں گے۔ آرٹیکل 68کا اطلاق چیف جسٹس تقرری سے متعلق قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی پروسیڈنگ پر نہیں ہوگا۔ سپریم جودیشل کمیشن کو ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ بنیاد وں پر کارگردگی کا جائزہ لینے کا اختیار ہوگا ۔ ہائی کورٹ جج کی تقرری غیر تسلی بخش ہونے پر کمیشن جج کو کارگردگی بہتر بنانے ٹائم فریم دیگا ۔ دی گئی ٹائم فریم میں جج کی کارگردگی دوبارہ غیر تسلی بخش ہونے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بجھوائی جائیگی ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف جسٹس ہائی کورٹس یا کمیشن میں موجود ججز کی غیر تسلی بخش کارگردگی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے گی ۔ سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کے جج کو مذکورہ ترمیم کے تحت ہٹایا جا سکے گا ۔ کونسل جسمانی یا ذہنی معذوری ،غلط برتاو، اور دفتری امور بہتر انجام نہ دینے پر کمیشن کی رپورٹ یا صدر کی درخواست پر انکوائری کریگا ۔ سپریم جوڈیشل کونسل بنا تاخیر کے6ماہ کے اندرمتعلقہ ججز سے متعلق انکوائری مکمل کرنے کا پابندی ہوگا ۔

جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں فرائض کی انجام دہی میں قاصر ، بد تمیزی یا غیر تسلی بخش کاگردگی کے مرتکب ہونے کا صدر مملکت کو کاروائی کا اختیار ہوگا۔ صدر مملکت جوڈیشل کونسل کی رپورٹ پر سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے کسی بھی جج عہدے سے ہٹانے کا اختیار ہوگا ۔ ججز تقرری سے متعلق کمیشن کا اجلاس ایک تہائی ممبران کی درخواست پر بلایاجاسکے گا۔ چیئرمین کمیشن کسی بھی درخواست پر پندرہ دن کے اندرکمیشن کا اجلاس بلانے کا پابند ہوگا

آرٹیکل 177
آرٹیکل 177میں ترمیم سینیٹ میں پیش کی گئی، جسے منظور کرلیا گیا۔ آرٹیکل177میں ترمیم کے تحت دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص سپریم کورٹ کا جج نہیں بن سکے گا ، آرٹیکل177میں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کاجج بننے کیلئے ہائی کورٹ میں بطورجج پانچ سال کام کرنے کی حدمقرر کی گئی، کسی بھی وکیل کا سپریم کورٹ جج بننے کیلئے بطور وکیل 15سال کی پریکٹس لازم ہوگی۔

آرٹیکل179
آرٹیکل179میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل179کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر تین سال کیلئے ہوگا،چیف جسٹس آف پاکستان 65سال کی عمرمیں ریٹائرڈ ہوں گے۔ آرٹیکل 179میں ترمیم بھی منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل184
آرٹیکل184 میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل 184کے تحت سپریم کورٹ کا ازخودنوٹس کا اختیار ختم کردیا گیا، آرٹیکل 184کے تحت سپریم کورٹ دائر درخواست کے مندرجات یا اختیارات سے ماورااز خود کوئی فیصلہ یا ہدایت نہیں دیگا ۔ آرٹیکل 184 میں ترمیم منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل 186
آرٹیکل 186 اے منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردیا گیا، جس کے تحت ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی فیس 50ہز ار سے بڑھا کر10لاکھ کر دی گئی ۔ آرٹیکل 186میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

آرٹیکل187
آرٹیکل187منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردی گئی، آرٹیکل187کے تحت سپریم کورٹ کے زیر اختیار اور استعمال کردہ دائرہ اختیار کی پیروری کے علاوہ کوئی حکم منظور نہیں کیا جائیگا ۔ آرٹیکل 187 اضافی ترامیم کے ساتھ منظور کرلی گئی ۔

آ رٹیکل 191اے
آئین میں آ رٹیکل 191اے شامل کرنے کی ترمیم منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردی گئی، آرٹیکل191کے تحت آئینی بنچز کی تشکیل عمل میں لائی جائیگی، سپریم کورٹ میں ایک سے زیا دہ آئینی بینچز کی تشکیل کی جا سکے گی، سپریم جوڈیشل کونسل آئینی بنچز کے ججز اور انکی مدت کا تعین کرے گی، آئینی بنچز میں تمام صوبوں کے ججز کی مساوی نمائندگی ہو گی ۔ اس شق کے تحت کوئی حکم سپریم کورٹ کے زیراختیار اوراستعمال کردہ کسی دائرہ اختیار کی پیروی کے علاوہ منظور نہیں کیاجائے گا، آئینی بینچ کے علاوہ سپریم کورٹ کاکوئی بنچ درج ذیل دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کرے گا، آئینی بنچ کم سے کم پانچ ججز سے کم ججز پر مشتمل ہوگا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے تین سنیئر ججز آئینی بینچزکی تشکیل دینگے ۔ترمیم کے تحت زیرالتوا اور زیر سماعت تمام آئینی مقدمات ، نظرثانی اور اپیلیں آئینی بنچز کو منتقل کیے جائیں گے ۔ آرٹیکل 199اے میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل193
آرٹیکل193میں ترمیم منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کی گئی، جس کے تحت دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص ہائی کورٹ کاجج نہیں بن سکتا، آئینی ترمیم میں ہائی کورٹ جج کیلئے40سال عمر، 10 سال تجربے کی حد مقرر کردی گئی ہے ۔ آرٹیکل 193 میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل 199
آرٹیکل 199میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کردی گئی، جس کے تحت ہائی کورٹ دائر درخواست کے مندرجات سے باہر ازخود کوئی حکم یا ہدایت کا اختیار نہیں ہوگا ۔ آرٹیکل 199میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل209
آرٹیکل209میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کردی گئی ، آرٹیکل209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا، سپریم جوڈیشل کونسل 5ممبران پر مشتمل ہوگی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراء ہونگے، جبکہ سپریم کورٹ کے دو سنیئر جج،اور ہائی کورٹس کے دو سنیئر ججز کونسل کا حصہ ہونگے ۔ آرٹیکل 209میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

ویں آئینی ترامیم میں شامل کردہ آرٹیکلز سینٹ میں
منظور👇

26 ویں آئینی ترامیم میں شامل کیے گئے آرٹیکلز کو سینٹ میں پیش کردیا گیا, جسے سینٹ کی جانب سے منظور کرلیا گیا ۔

آرٹیکل38
آرٹیکل38 میں ترمیم منظوری کیلئے سینٹ میں پیش کردی گئی، ترمیم جے یو آئی ایف کے کامران مرتضیٰ نے پیش کی ، حکومت نے جے یو آئی ف کی ترمیم کی حمایت کی۔ ترمیم کے مطابق آرٹیکل 38 کے پیراگراف ایف میں ترمیم کے مطابق سودی نظام کاخاتمہ جتناجلدی ممکن ہوکیاجائے گا۔ آرٹیکل 38میں ترمیم سینیٹ سے ہوگئی۔
26 ویں ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظورہو گئی ہے

آرٹیکل 48
آرٹیکل 48میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، جس کے مطابق وزیراعظم اورکابینہ کی جانب سے صدر کو بھیجی جانیوالی کسی بھی ایڈوائس پر کوئی ادارہ کوئی ٹریبونل اورکوئی اتھارٹی کارروائی نہیں کرسکے گی. سینیٹ سے آرٹیکل 48میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل 81
آرٹیکل 81میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ آرٹیکل 81میں آ رٹیکل 81میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل شامل کردیئے گئے۔ سینیٹ سے آرٹیکل 81میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کی گئی ۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 175اے سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل 175A
آرٹیکل 175Aمیں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل 175Aمیں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ ججز تقرری کیلئے کمیشن کاقیام عمل میں لایاجائے گا، ججز تقرری سے متعلق کمیشن 13ممبران پر مشتمل ہوگی، چیف جسٹس آف پاکستان کمیشن کے سربراہ ہوں گے، چارسنیئرججز وفاقی وزیرقانون اٹارنی جنرل اور سنیئروکیل پاکستان بارکونسل کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ کمیشن میں دواراکین اسمبلی اور دواراکین سینٹ شامل ہوں گے جو حکومت اوراپوزیشن سے لئے جائیں گے، قومی اسمبلی اورسینٹ کے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈرممبران کونامزدکریں گے۔

آرٹیکل 175 اے کی شق3اے کے تحت 12ممبران پر مشتمل خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے8جبکہ سینیٹ سے چار اراکین کو لیا جائے گا، قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام ممبران سینیٹ سے ہوں گے، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی ہوگی۔ پارلیمانی لیڈر خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں ممبران اسپیکر قور چیئرمین سینیٹ کو دینے کے مجاز ہوگی ، اسپیکر قومی اسمبلی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جا ری کرینگے ۔

ترمیم کے تحت چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے 14روز قبل سنیارٹی لسٹ فراہم کرنے کے پابند ہونگے، چیف جسٹس آف پاکستان خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو سنئیر ترین ججز کے نام بھجوائیں گے۔ پارلیمانی کمیٹی تین ناموں میں سے ایک کاانتخاب کرکے وزیراعظم کو ارسال کرے گی، وزیراعظم چیف جسٹس کی تقرری کیلئے نام صدرکو ارسال کریں گے۔ سنیارٹی لسٹ میں موجود نامز د ججز کے انکار پر پارلیمانی کمیٹی اگلے سنیئر ترین جج کے نام پر غور کریگی۔ پارلیمانی کمیٹی نامزدگیوں پر اس وقت تک جائزہ لیگی جب تک چیف جسٹس کا تقرر نہ ہوجائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے منظوری کے بعد چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل نام پارلیمانی کمیٹی کو بجھوانے نے پابند ہونگے ۔
ترمیم کے مطابق خصوصی پارلیمانی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا ۔قومی اسمبلی تحلیل ہوجانے کی صورت میں 2اراکین سینٹ سے لئے جائیں گے۔ آرٹیکل 68کا اطلاق چیف جسٹس تقرری سے متعلق قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی پروسیڈنگ پر نہیں ہوگا۔ سپریم جودیشل کمیشن کو ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ بنیاد وں پر کارگردگی کا جائزہ لینے کا اختیار ہوگا ۔ ہائی کورٹ جج کی تقرری غیر تسلی بخش ہونے پر کمیشن جج کو کارگردگی بہتر بنانے ٹائم فریم دیگا ۔ دی گئی ٹائم فریم میں جج کی کارگردگی دوبارہ غیر تسلی بخش ہونے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بجھوائی جائیگی ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف جسٹس ہائی کورٹس یا کمیشن میں موجود ججز کی غیر تسلی بخش کارگردگی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے گی ۔ سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کے جج کو مذکورہ ترمیم کے تحت ہٹایا جا سکے گا ۔ کونسل جسمانی یا ذہنی معذوری ،غلط برتاو، اور دفتری امور بہتر انجام نہ دینے پر کمیشن کی رپورٹ یا صدر کی درخواست پر انکوائری کریگا ۔ سپریم جوڈیشل کونسل بنا تاخیر کے6ماہ کے اندرمتعلقہ ججز سے متعلق انکوائری مکمل کرنے کا پابندی ہوگا ۔

جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں فرائض کی انجام دہی میں قاصر ، بد تمیزی یا غیر تسلی بخش کاگردگی کے مرتکب ہونے کا صدر مملکت کو کاروائی کا اختیار ہوگا۔ صدر مملکت جوڈیشل کونسل کی رپورٹ پر سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے کسی بھی جج عہدے سے ہٹانے کا اختیار ہوگا ۔ ججز تقرری سے متعلق کمیشن کا اجلاس ایک تہائی ممبران کی درخواست پر بلایاجاسکے گا۔ چیئرمین کمیشن کسی بھی درخواست پر پندرہ دن کے اندرکمیشن کا اجلاس بلانے کا پابند ہوگا

آرٹیکل 177
آرٹیکل 177میں ترمیم سینیٹ میں پیش کی گئی، جسے منظور کرلیا گیا۔ آرٹیکل177میں ترمیم کے تحت دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص سپریم کورٹ کا جج نہیں بن سکے گا ، آرٹیکل177میں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کاجج بننے کیلئے ہائی کورٹ میں بطورجج پانچ سال کام کرنے کی حدمقرر کی گئی، کسی بھی وکیل کا سپریم کورٹ جج بننے کیلئے بطور وکیل 15سال کی پریکٹس لازم ہوگی۔

آرٹیکل179
آرٹیکل179میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل179کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر تین سال کیلئے ہوگا،چیف جسٹس آف پاکستان 65سال کی عمرمیں ریٹائرڈ ہوں گے۔ آرٹیکل 179میں ترمیم بھی منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل184
آرٹیکل184 میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل 184کے تحت سپریم کورٹ کا ازخودنوٹس کا اختیار ختم کردیا گیا، آرٹیکل 184کے تحت سپریم کورٹ دائر درخواست کے مندرجات یا اختیارات سے ماورااز خود کوئی فیصلہ یا ہدایت نہیں دیگا ۔ آرٹیکل 184 میں ترمیم منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل 186
آرٹیکل 186 اے منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردیا گیا، جس کے تحت ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی فیس 50ہز ار سے بڑھا کر10لاکھ کر دی گئی ۔ آرٹیکل 186میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

آرٹیکل187
آرٹیکل187منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردی گئی، آرٹیکل187کے تحت سپریم کورٹ کے زیر اختیار اور استعمال کردہ دائرہ اختیار کی پیروری کے علاوہ کوئی حکم منظور نہیں کیا جائیگا ۔ آرٹیکل 187 اضافی ترامیم کے ساتھ منظور کرلی گئی ۔

آ رٹیکل 191اے
آئین میں آ رٹیکل 191اے شامل کرنے کی ترمیم منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردی گئی، آرٹیکل191کے تحت آئینی بنچز کی تشکیل عمل میں لائی جائیگی، سپریم کورٹ میں ایک سے زیا دہ آئینی بینچز کی تشکیل کی جا سکے گی، سپریم جوڈیشل کونسل آئینی بنچز کے ججز اور انکی مدت کا تعین کرے گی، آئینی بنچز میں تمام صوبوں کے ججز کی مساوی نمائندگی ہو گی ۔ اس شق کے تحت کوئی حکم سپریم کورٹ کے زیراختیار اوراستعمال کردہ کسی دائرہ اختیار کی پیروی کے علاوہ منظور نہیں کیاجائے گا، آئینی بینچ کے علاوہ سپریم کورٹ کاکوئی بنچ درج ذیل دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کرے گا، آئینی بنچ کم سے کم پانچ ججز سے کم ججز پر مشتمل ہوگا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے تین سنیئر ججز آئینی بینچزکی تشکیل دینگے ۔ترمیم کے تحت زیرالتوا اور زیر سماعت تمام آئینی مقدمات ، نظرثانی اور اپیلیں آئینی بنچز کو منتقل کیے جائیں گے ۔ آرٹیکل 199اے میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل193
آرٹیکل193میں ترمیم منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کی گئی، جس کے تحت دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص ہائی کورٹ کاجج نہیں بن سکتا، آئینی ترمیم میں ہائی کورٹ جج کیلئے40سال عمر، 10 سال تجربے کی حد مقرر کردی گئی ہے ۔ آرٹیکل 193 میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل 199
آرٹیکل 199میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کردی گئی، جس کے تحت ہائی کورٹ دائر درخواست کے مندرجات سے باہر ازخود کوئی حکم یا ہدایت کا اختیار نہیں ہوگا ۔ آرٹیکل 199میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل209
آرٹیکل209میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کردی گئی ، آرٹیکل209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا، سپریم جوڈیشل کونسل 5ممبران پر مشتمل ہوگی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراء ہونگے، جبکہ سپریم کورٹ کے دو سنیئر جج،اور ہائی کورٹس کے دو سنیئر ججز کونسل کا حصہ ہونگے ۔ آرٹیکل 209میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

Registration for the Law Admission Test (LAT) is now open!All aspiring law students are encouraged to register for the L...
18/10/2024

Registration for the Law Admission Test (LAT) is now open!

All aspiring law students are encouraged to register for the LAT to secure their place in one of Pakistan's top law schools.

Key Information:

Registration Deadline: O5 November 2024
Test Date: Announced Soon (Tentative 17 Nov)
Registration Link: https://etc.hec.gov.pk/
Don't miss this opportunity to kickstart your legal career.

15/10/2024

In Pakistan, Pauper counsel refers to legal representation provided to indigent or poor individuals who cannot afford to hire an attorney. Here's a brief overview and relevant laws:

*Overview:*

Pauper counsel ensures that financially constrained individuals receive fair representation in court, upholding their fundamental right to justice.

*Relevant Laws (Pakistan):*

1. Article 10(A) (Constitution of Pakistan, 1973): Right to Fair Trial - guarantees every person the right to a fair trial and legal representation.
2. Section 340 (Code of Criminal Procedure, 1898): Appointment of Counsel - empowers courts to appoint counsel for indigent accused.
3. Legal Aid and Justice Authority Act, 2020 (LAJA): Establishes a legal aid system for poor and vulnerable individuals.

*Key Aspects:*

1. Eligibility: Defendants must demonstrate financial inability to retain counsel.
2. Appointment: Courts appoint attorneys from public or private practice.
3. Scope: Pauper counsel represents clients in criminal proceedings, including trials and appeals.

*Relevant Case Law:*

1. Hussain Ali v. State (PLD 1979 SC 315): Supreme Court held that the right to counsel is fundamental and essential for a fair trial.
2. Muhammad Iqbal v. State (PLD 1992 SC 129): Court emphasized the importance of providing legal aid to indigent prisoners.

*Institutions Providing Pauper Counsel:*

1. Legal Aid and Justice Authority (LAJA)
2. Pakistan Bar Council's Legal Aid Committee
3. Provincial Bar Associations' Legal Aid Committees

*Sources:*

1. Constitution of Pakistan, 1973
2. Code of Criminal Procedure, 1898
3. Legal Aid and Justice Authority Act, 2020
4. Pakistan Legal Decisions (PLD)
5. Supreme Court of Pakistan judgments













Kinds of Qatl (Murder) تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کی اقسامQatl & its kindsتعزایرات پاکستان کے تحت قتل کی چار اقسام ہیںTh...
28/09/2024

Kinds of Qatl (Murder) تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کی اقسام

Qatl & its kinds

تعزایرات پاکستان کے تحت قتل کی چار اقسام ہیں
There are four kinds of qatal

1-Qatl-i-Amd –

Section 302b Of Pakistan Penal Code

Intention of causing death
Intention of causing bodily injury
An act which in ordinary course likely to cause death
قتل کی نیت سے کیا گیا جرم جس میں انسانی جسم کو ضربات اور زخم یا تکلیف دے کر قتل کیا جاے

Punishment u/s 302;
Death as qisas
Death, IOL as tazir
25 year as tazir

2-Qatl Shibh-i-amd

Section 315 of PPC

انسان کو زخم دینے کی نیت سے کریمنل عمل کیا جاے اور اس سے موت واقع ہوجاے

Intention of causing harm
By weapon or an act

Ordinary course not likely to cause death

Punishment u/s 316; liable to diyat, 25 year as tazir

3-Qatl-i-Khata

Section 318 of PPC

ایسا قتل جہاں نہ قتل کرنے کی نیت ہو اور نہ زخم دینے کی نیت ہو جو قتل غلطی سے ہوجاے

No intention of causing death or harm

Mistake of fact
Mistake of act
Punishment u/s 319; diyat, where rash and negligent act up to 5 year addition to diyat.

Punishment for Qatl i- Khata by reash or negligent driving; diyat, 10 year

4-Qatl bis Sabab

Section 321Pakistan Penal Code

No intention to cause death or harm
Some unlawful act which become cause of death

ایسا کریمنل اقدام جو قتل کرنے کی نیت سے نہ کیا گیا ہو مگر ایسے عمل سے قتل ہوجاے

Punishment; Diyat
#وکالت #بار

🇵🇰🎉 Happy 76th Independence Day, Pakistan! 🎉🇵🇰As we celebrate another year of freedom, The Legal Loft extends heartfelt ...
14/08/2023

🇵🇰🎉 Happy 76th Independence Day, Pakistan! 🎉🇵🇰

As we celebrate another year of freedom, The Legal Loft extends heartfelt wishes to all our friends, colleagues, and clients. May the spirit of unity and progress continue to lead us towards a brighter future. Happy Independence Day! 🇵🇰🥳 🌟❤️

R**e is a heinous offence on the eyes of law whether by consent or Forceful it is looked down upon by Islam and as such ...
03/08/2023

R**e is a heinous offence on the eyes of law whether by consent or Forceful it is looked down upon by Islam and as such in conformity with the injunctions of Islam, it is punished vigorously. Select an option that best entails the punishment as per provisions of Pakistan Penal Code

قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند خواتین و حضرات کے لیے بڑی خوشخبری ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے LAT کے امتحان کا اعلان...
31/07/2023

قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند خواتین و حضرات کے لیے بڑی خوشخبری ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے LAT کے امتحان کا اعلان کر دیا ہے۔

جس کی آخری تاریخ 15 اگست ہے جبکہ ٹیسٹ کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

نیچے فارم بھرنے کا لنک ہے۔

Lat registration link:
https://etc.hec.gov.pk

🎓📚 Get Ready to Excel in Your Admission Test! Join Our Expert Coaching Classes Today! 🚀🔥 Are you aspiring to secure your...
31/07/2023

🎓📚 Get Ready to Excel in Your Admission Test! Join Our Expert Coaching Classes Today! 🚀

🔥 Are you aspiring to secure your spot in university or law college? Don't leave it to chance! Let our experienced instructors guide you towards success in your admission test!

🔖 Don't miss out on this opportunity! Tag a friend who is preparing for an admission test and help them succeed too! 👫💪..

Article 199 of the Constitution of Pakistan deals with writs. A writ is a legal order issued by a court instructing a go...
31/07/2023

Article 199 of the Constitution of Pakistan deals with writs. A writ is a legal order issued by a court instructing a government official or a lower court to perform a specific duty or to refrain from doing a certain act. The following are the types of writs that can be issued under Article 199 of the Constitution of Pakistan:

Writ of Habeas Corpus: This writ is issued to secure the release of a person who has been unlawfully detained. The court may order the detaining authority to produce the detained person before the court and show cause for the detention.

Writ of Mandamus: This writ is issued to a public official or a public body to perform a duty that they are legally required to perform. The court may order the public official or the public body to perform the duty within a specified time.

Writ of Prohibition: This writ is issued to prohibit a lower court or a tribunal from exceeding its jurisdiction or acting beyond its authority.

Writ of Certiorari: This writ is issued to quash the decision of a lower court or a tribunal. The court may review the decision and may set it aside if it is found to be illegal, irregular, or against the principles of natural justice.

Writ of Quo Warranto: This writ is issued to inquire into the legality of the claim of a person holding a public office. The court may inquire into the qualifications and eligibility of the person holding the office and may order their removal if they are found to be ineligible or disqualified.

These writs are designed to protect the fundamental rights of citizens and to ensure that the government and its officials act in accordance with the law.

"Test your legal knowledge! 📚🔍 Take on these Law MCQs and see if you can ace them! Comment your answers below and challe...
28/07/2023

"Test your legal knowledge! 📚🔍 Take on these Law MCQs and see if you can ace them! Comment your answers below and challenge your friends to join in! 🤓💼

Bill The Control of Narcotics Substances (Amendment) Act, 2023 پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظورجسکے تحت اب منشیات کے ک...
27/07/2023

Bill The Control of Narcotics Substances (Amendment) Act, 2023 پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس
میں منظور
جسکے تحت اب منشیات کے کیسزز میں سزائے موت نہیں دی جائے گی ، بلکہ زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہوگی

Address

Hyderabad, Sindh
Hyderabad
71000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Legal Loft Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category