Zeron House Of Creators

تمام عالم اسلام کو عید زہرہ سلام اللہ علیہا، تاج پوشی امام زمانہ عجل اللہ فرجہم شریف ، بہت بہت مبارک ہو ،
22/08/2026

تمام عالم اسلام کو عید زہرہ سلام اللہ علیہا، تاج پوشی امام زمانہ عجل اللہ فرجہم شریف ، بہت بہت مبارک ہو ،

21/08/2026

https://youtu.be/PMfY4HarXhc?si=eEL0Euh9UM9CKCuS
لنک پر کلک کریں لازمی سنیں ،

پروردگار محترم ، سکندر عباسی کو شاد و آباد فرمائے ، آمین ، سکندر عباسی صاحب نے ایک عقلی اور دلائل پر مبنی گفتگو کی ہے ، بہت ہی پرخلوص انداز میں حقائق کو بیان کیا ہے ، ان کو سلام ہے ،ان کی گفتگو کے پیش نظر، میں اپنے خیالات کا اظہار کر لوں کہ ، یہ قبضہ والی سوچ ، ایک قدیم روایتی سوچ ہے ، اور آج کل یہود و نصارٰی بھی اسی سوچ پر عمل پیرا ہیں ، اپ نے بھٹو کو صرف اس لئے مروا دیا کہ وہ سندھی تھا ، لیکن امریکہ اور اسرائیل کے خدشات کے مطابق ، ذوالفقار علی بھٹو مسقبل میں ، ان اسلام دشمنوں کے تابوت میں آخری کیل کی مانند تھا ، یہود و نصارٰی کے نمک خوار پالے ہوئے ( کتے ) پلے ، پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ، پاکستان میں بھی ، وافر انداز میں موجود ہیں ، قائد اعظم سے لے کر بینظیر بھٹو کو صرف سندھی ہونے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ، جس سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے ، کہ سندھی ایک غیرت مند قوم ہے ، یہ دھرتی موہن جو دڑو سے لے کر آج تک ، امن اور بھائی چارہ کے پیغام دیتی ہے ، سندھ میں پٹھان ، بلوچ ، پنجابی اور مہاجروں کا ایک ساتھ رہنا سندھ کی امن پسند ہونے کی قوی دلیل ہے ، آج کل چلنے والی سندھ کی تقسیم کی تحریک ، دراصل ، سندھ پر قبضہ کرنے کی تحریک ہے ، کیونکہ کہ ان نفسیاتی مریض مہاجروں کو یہ یقین ہے کہ ، جب تک سندھ میں ایک بھی سندھ کا وارث زندہ ہے ، تو مہاجر کبھی بھی سندھ کے مالک ہر گز نہیں بن سکتے ، حقیقت اس بات کی بھی نشانی دہی کرتی ہے کہ ، سندھ کی زمین سے نکلنے والے منرلز بھی سندھیوں کے ہیں ، اور ان خزانوں کی تقسیم کرنے کا اختیار بھی سندھ کا ہوگا ، تو اب یہ لالچی لوگ صرف پیسے اور عیاشیاں کرنے کی خاطر یہ ڈرامہ رچا رہے ہیں ، ماضی میں ان لوگوں کی بنیاد فوج نے رکھی اور فوج کے کچھ زمہ داران نے ان کی سپورٹ بھی کی ، اور اسی عسکری فوج کی سپورٹ کی بناء پر پاکستانی پٹھانوں ، بلوچوں اور پنجابیوں کے ساتھ بھی فسادات کئے ، یہ آج بھی سمجھتے ہیں کہ ، حالیہ دور کی فوج بھی ہمیں فری ہینڈ دے گی ، لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے ، وہ دور گیا ، جب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے ، یہ ایک اٹل سچائی ہے کہ ، کوئی بھی غیرت مند سندھی اپنی زمین کسی قبضہ خور اور دہشتگرد کے حوالے نہیں کرے گا ، ، پاکستان کی تاریخ کھنگال لیں ، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ پاکستان کے غداروں کا تعلق ، جن پاکستانی قوموں سے رہا ہے ، اسوقت جو بھی خاندانی اردو بولنے والے حلالی سندھی لوگ ، سندھ کی تقسیم کے خلاف پرجوش انداز میں آواز اٹھا رہے ہیں ، یہ غداروں کی بین الاقوامی فیکٹریز کے بنائے ہوئے ، بے غیرت ، وطن فروش ، غدار اور ہوس کے پجاری دہشتگرد ہیں ، ان کا پاکستان میں موجود رہنا پوری پاکستانی قوم کیلئے زہر قاتل ثابت ہوسکتا ہے ، یہ وہ دہشتگرد ہیں جن کو نہ اپنی قوم ، نہ وطن ، نہ دھرتی اور نہ ہی سرحدوں کی پرواہ ہے، ہم اپنے آرمی چیف ، جنرل محترم عاصم منیر صاحب سے ، ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں کہ ، ایسے دہشتگردوں کیلیے بھی ، جیفری ایپسٹین فائلز جیسا تحقیقی اِدارہ قائم کر کے ، ان کو ملک سے نکالا جائے ، تا کہ ملک میں امن و سکون اور خوشحالی کی فضاء قائم ہوسکے ، پاکستان زندہ باد ،
فقیر زوار گل محمد جعفری حیدرآباد سندہ پاکستان

ایک چیال
17/08/2026

ایک چیال

14/08/2026

14 اگست ، جشن یوم آزادی تمام پاکستانی بھائیوں کو بہت بہت مبارک ، ہماری غریب ابادی ، جہاں لوگ بجلی ، گیس ، پانی اور روٹی سے محروم ہیں ، جشن آزادی تو واپڈا والوں کی وجہ سے ہم منا نہیں سکتے ، کیونکہ 20 واٹ کے سیور اور 100 واٹ کے بلب کی روشنی میں ، زمین و آسمان کا فرق ہے ، خیر رات 12 بجے کے بعد وہاں کی گلیوں میں جو ہوائی فائرنگ ہوئی ، وہ یوم آزادی کی بجائے ، ایک جنگ کا طبل جنگ محسوس ہونے لگی ، اسلحے کی کھلے عام نمائش ، لوگ ایسی فائرنگ سے سہمے لگ رہے تھے ، آزاد پاکستان میں ، ہر جگہ گولیوں کی آوازیں ، ایسے حالات میں اسلحہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے ، جب کہ حفاظت کیلئے پولیس اور باقی فورسز بھی موجود ہیں ، ان میں 90 فیصد مہاجر قوم کے لوگ تھے ، یہ وہ مہاجر ہیں ، جن کو سندھیوں نے ، بلکہ یوں کہوں کہ ، میرے باپ نے اپنی زمین دی ، عزت کی حفاظت دی ، کھانا دیا ، مسلمان سمجھ کر اپنا بھائی بنایا ، اس کے بعد ، ان لوگوں نے زبان اور حقوق کے نام پر کئی بار ملک میں نفرت کی آگ بھڑکانے کی بارہا کوشش کی ، لیکن ہر بار ناکام ہوئے ، لیکن سندھ کا مالک بننے کا خواب وہ کبھی نہیں بھول نہیں سکتے تھے ، لیکن ایک بھی وارث کے ہوتے ہوئے ، ان کا مالک بننا ناممکن ہے ، پھر اس دور کے بعد ایک سندھی بین الاقوامی رہنما ، ذوالفقار علی بھٹو ، نے پاکستان اور اسلام کو متحد کرنے کی آواز اٹھائی تو ، پاکستان کے قدیم غداروں کی نسل میں ایک ، شیطان صفت شخص ، ضیاء الحق نے زوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا ، اور اس کے ہمنواؤں نے اس گا مزار مقدس مسجد میں بنا دیا ، اس جہنمی شخص نے ، بھٹو کے قتل کے بعد ، بھٹو کے خاندان اور بھٹو کے حامیوں پر جو ظلم و ستم کئے ، پھر محترمہ شہید بینظیر بھٹو ، کی شہادت ، اور اس عظیم شخصیت کے بارے میں جو ، آج کے حکمرانوں نے ، جو نازیبا زبان استعمال کی ، وہ بھی ایک تاریخ موجود ہے ، محترمہ کو گالیاں دے کر ان اشرافیہ نے اپنی نسلوں کا پتہ دے دیا ، 1970 کے بعد ، ایک سنیما میں ، پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، پٹھان ، مہاجر ایک ساتھ بیٹھے ہوئے فلم دیکھتے تھے ، جب نیچ خاندان کے افراد تخلیق کاروں کی کرسیوں پر آگئے تو تخریب کاریاں شروع ہوگئیں ، ان بے غیرتوں کا ایمان پیسہ تھا اور رہے گا ، اصل نکتہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سندھ ، بالخصوص کراچی میں بسنے والے باصلاحیت سندھی اردو بولنے والے افراد نے اپنے ملک پاکستان کیلئے وہ عظیم کارنامے انجام دیے ، کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا ، اور جدت کا یہ عالم تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے لوگ بھی کراچی کو دیکھنے کیلئے آتے تھے ، پاکستان ہاکی ، کرکٹ ، ایئرپورٹ، سائنس ، انڈسٹرییز اور فلم انڈسٹری کا مقام بلند ہونے لگا ، سندھی اور مہاجروں کی خوشحالی پر حاسدوں کی نظر پڑنے لگی اور سندھ میں تعصب کو فروغ دیا جانے لگا ، آج وہ ہی روشن کراچی ، حیدرآباد اور پورا سندھ ، تاریک اور ویران ہوچکا ہے ، یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جو ہم سب کے سامنے ہے ، اسی دور میں ضیاء الحق نے سندھ کے مہاجروں کو بھٹو کے نظریات کے خاتمے پر مامور کردیا ، مہاجر قوم کے چور ، ڈکیت ، احسان فراموش افراد نے دہشتگردی کی مہم کا آغاز کردیا ، منشیات اور اسلحہ وافر مقدار میں ان کو فراہم کردیا جاتا رہا ، پر خلوص اور خاندانی اردو بولنے والوں سے ہٹ کر یہ دہشتگرد پاکستان میں انتشار و فساد پھیلاتے رہے ، پنجابیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کے ساتھ انہوں لڑائی جھگڑے کئے ، پھر انہوں نے سندھی قوم کی زندگی برباد کرنے کی مہم شروع کی جو آج تک جاری ہے ، 1986 سے پہلے ، پاکستان کے سب سے بڑے ، ترقی یافتہ روشنیوں کے شہر کراچی کی روشنیاں مدھم ہونا شروع ہوئیں ، سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں بھی سندھیوں کا ساتھ ظلم زور پکڑتا گیا ، ان کی بدمعاشی اور دہشتگردی کی وجہ سے حیدرآباد ، کراچی وغیرہ کی رونقیں ختم ہونے لگیں ، پارک ، سنیما ، بازار ، ہنستی کھیلتی گلیاں ویران ہوتی گئیں ، حیدرآباد میں تو سندھی مہاجر آبادیوں میں ناکہ بندیاں ہونے لگیں ، ان لوگوں نے حیدرآباد ، اپنے سندھی پڑوسیوں کی عورتوں کی عزتیں لوٹیں ، غریب سندھیوں کے بھیجے پھاڑ دئے سندھی مزدوروں کا قتل عام کیا ، اسی دور میں ، سادات گھرانوں کو لوٹا ، علم پاک اور امام بار گاہوں کی بے حرمتی کی ، ماتمی جلوسوں پر گولیاں برسائیں ، کیا یہ کسی کو یاد نہیں ہے ؟ ، سندھی بار بار ان کو اپنا بھائی اور مہمان سمجھ کر اگنور کرتے رہے ، یہ لوگ تیسری طاقت کے ایماء پر ، اپنی کاروائیاں کرکے بدلے میں ، بھوکے ننگے کی بجائے کروڑ پتی اور ارب پتی بننے لگے ، اور آج ان کی اتنی ہمت ہے کہ یہ سندھ کو تقسیم کرنے کا برملا اعلان کرنے لگے ہیں ، اور سندھی قوم ، مطلب اپنے محسنوں کو گالیاں دے رہے ہیں ، اور باقی تمام پاکستانی عوام خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، یہ بے غیرتی کی انتہا ہے ، ہم سندھی ، کئی صدیوں سے سندھ کی وحدت کہ قربانیاں دیتے آئے ہیں ، ان کو شرم نہیں آتی کہ 1943 میں پاکستان کا پہلا خیر مقدم سندھیوں نے کیا تھا ، پاکستان ہم سب کا ہے ، پاکستان کے وارث سندھی ہیں ، پاکستان کی جانب کسی نے بھی میلی آنکھ سے دیکھا ، ہم سندھی ان کی آنکھیں نکال دیں گے، اس لئے ، سندھ کی تقسیم کا راگ الاپنے والے ، کان کھول کے سن لیں ، کہ اب سمجھنے کا آخری موقع ہے ، سندھ دھرتی کے حلالی بیٹے ، جناب شبر زیدی ، شاہزیب خانزادہ، آفتاب خانزادہ ، پاکستان کے وفادار سہیل وڑائچ ، حامد میر صاحب ، مظہر عباس اور زبیر احمد وغیرہ بھی ملک و سندھ کی حفاظت کیلئے میدان میں ا بچ چکے ہیں ، اور سندھ کہ بچہ بچہ ، بوڑھے جوان ، خواتین ، سندھ دھرتی کی حفاظت کیلئے خون کا نذرانہ دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ، یہ قبضہ خور ، دہشتگرد ، را کے ایجنٹ، بہت جلد ذلیل و خوار ہونے والے ہیں ، ہم رہیں نا رہیں ، سندھ جیسا تھا ، پاکستان میں ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا ، اس وقت دنیا کے انسانیت اور اسلام کے نام پر قائم ملک یہود و نصاری کی آنکھ میں کھٹک رہے ہیں ، اپنی قوم ، اپنی تہذیب اور اپنے دین کیلئے ، ہمیں دشمن کی سازش پر چلنے کی بجائے ، متحد ہونا پڑے گا ، سندھی ، مہاجر ، پنجابی ، پٹھان ، بلوچ کو بھول کر ہمیں پاکستانی بن کر اپنی حفاظت کرنا ہوگی ، پروردگار میرے تمام پاکستانی بھائیوں کو ہدایت فرمائے ، آمین
فقیر زوار گل محمد جعفری حیدرآباد سندہ پاکستان

29/07/2026

ہمارا ملک اس وقت مشکلات کا شکار ہے ، آزمائے ہوئے لوگ کبھی بھی ہمیں جینے نہیں دیں گے ، اب وقت آگیا ہے کہ کی بحیثیت ہم 25 کروڑ انسانوں کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا

18 صفر ، بمطابق 2 اگست ، 2026  ،  میں ، رات ، 10:بجے  ، بروز اتوار ، بمقام درگاہ سائیں امام علی شاہ الہداد چنڈ گوٹھ حیدر...
27/07/2026

18 صفر ، بمطابق 2 اگست ، 2026 ،
میں ، رات ، 10:بجے ، بروز اتوار ، بمقام درگاہ سائیں امام علی شاہ الہداد چنڈ گوٹھ حیدرآباد میں ، سندھ کے صوفیانہ لوک قدیم فقیروں، کا نغاروں پر نوبت کربلا کا اہتمام کیا گیا ہے , سم مومنوں سے شرکت کی استدعا ہے ، متولی و بانی ، فقیر زوار گل محمد

Address

Imam Ali Shah Mohalla UC 20 Ward G
Hyderabad

Telephone

+923058162189

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zeron House Of Creators posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Zeron House Of Creators:

Shortcuts

Share

Category