Malik Muhammad Arslan Rasheed Awan

Malik Muhammad Arslan Rasheed Awan Writer, Columnist, Lecturer of Law (Uni of london), Educational Consultant, Member of Queen Counsel.

14/06/2025

عوامی عدالت

02/04/2025

کسی معاشرے میں نئی نسل کو وہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے، جو ریاستی مقتدرہ کی مرضی و منشا ہوتی ہے ، کیونکہ ہمارے اساتذہ نہ سقراط ہیں اور نہ کنفیوشس کہ اپنے شاگردوں کو سوال کرنے کی اجازت دے کر ان کے ذہنوں میں کلبلاتے سوالوں کی تشفی کریں۔
اس لئے اگر نصاب میں درج کر دیا جائے کہ برف کالی ہوتی ہے، تو اساتذہ برف کو کالا ہی پڑھائیں گے۔ کوئی بچہ یہ سوال کر دے کہ برف کالی نہیں بے رنگ ہوتی ہے تو اس کی سرزنش کی جاتی ہے۔ گویا ہم اپنے معاشروں میں سوال کرنے والے ذہن تیار کرنے کے بجائے ایسے روبوٹس تیار کر رہے ہیں ، جو اشرافیہ کے متعین کردہ ریاست کے منطقی جواز اور قواعد و ضوابط ہی کو حقیقی سمجھیں ہماری تعليم علم نہیں۔

With Governor Punjab Sardar Saleem Haider Khan at the Wedding Ceremony of the beloved Daughter of Syed Sada Hussain Shah...
19/01/2025

With Governor Punjab Sardar Saleem Haider Khan at the Wedding Ceremony of the beloved Daughter of Syed Sada Hussain Shah kamzi.

‏ہمیشہ تحقیق کریں، آنکھیں بند کرکے کسی کی بات پے یقین نا کریں، چیزیں ہمیشہ ویسی نہیں ہوتیں جیسی وہ نظر آتی ہیں...منفی لو...
22/11/2024

‏ہمیشہ تحقیق کریں، آنکھیں بند کرکے کسی کی بات پے یقین نا کریں، چیزیں ہمیشہ ویسی نہیں ہوتیں جیسی وہ نظر آتی ہیں...
منفی لوگ اپ کو اکثر ایسی چیزیں دیکھا دیتے ہیں جس کا اصل مخفی ہو۔۔۔
لھذا ہر معاملہ میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کرے۔۔۔۔

22 کروڑ آبادی کے اس ملک پاکستان کے مضافات سڑکوں اور آبادی میں درخت نا ہونے کے برابر ہیں.  گل مہر پاکستان کا ایک خوبصورت ...
26/06/2024

22 کروڑ آبادی کے اس ملک پاکستان کے مضافات سڑکوں اور آبادی میں درخت نا ہونے کے برابر ہیں.
گل مہر پاکستان کا ایک خوبصورت درخت ہے، کونو کارپس درخت نہیں ہے بلکہ باڑ (Hedge) بنانے کے کا پودا / جھاڑی ہے.
نیم لگائیں، گل مہر لگائیں، بچوں کی پیدائش پر لگائیں، توبہ کریں تو پودا لگائیں، مرحومین کی برسی پر لگائیں، دل میں کسی کے لئے محبت کی کونپل پھوٹے تو لگائیں، نوکری ملے تو لگائیں، ترقی پر لگائیں.
اور پھر ان کی نگہداشت بھی ایسے کریں جیسے اوپر لکھے گئے معاملات کی کرتے ہیں.
گھر کے باہر لگائیں، اسکول کالج یونیورسٹی مدرسے میں لگائیں، دفتر میں لگائیں، دکان کارخانے کے باہر لگائیں.
ایک گھنے درخت کا سایہ درجہ حرارت کو 7 سے 15 درجہ کم کرتا ہے، جبکہ فائبر پلاسٹک یا ٹین کی چادر کے چھجہ کا سایہ 1 سے 3 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کم کرتا ہے. نیم کا ایک درخت 1000 BTU یا 6 kw سے زیادہ ٹھنڈ مہیا کرتا ہے (یعنی ایک سے ڈیڑھ ٹن کے اے سی کے برابر).
اپنے آنے والی نسل کے لئے کچھ کر کے جائیں.

31/01/2023

Challenges faced by private schools and their solutions

03/12/2022

Addressing the students and teachers in a ceremony at Govt High School, Housing Colony, Hassan Abdal.

"سکول مافیا"        از قلم ملک محمد ارسلان رشید اعوانیہ کیس سپریم کورٹ میں تین رکنی بینچ کی صدارت میں اسکول مالکان کے خل...
03/12/2022

"سکول مافیا" از قلم ملک محمد ارسلان رشید اعوان

یہ کیس سپریم کورٹ میں تین رکنی بینچ کی صدارت میں اسکول مالکان کے خلاف دائر کیا گیا تھا جیسا کہ آپ جانتے ہیں اسکول مالکان کو مافیا, لٹیرے اور ظالم سمجھا جاتا ہے اوراسی کےساتھ پرائیویٹ اسکولوں کو ناجائز کمائی کے اڈے اور ان کو بند کریں جیسے فکر بھی سننے کو ملتے ہیں آپ ایک بار اس بات کو ذہن میں لائیں کہ ہمارے اس وطنِ پاکستان میں پولیس کے 5 ویں یا 7 ویں سکیل کے ASI کو بادشاہ, محلے کی کونسلر کو مائی باپ اور واپڈا کے میٹر ریڈر کو تو Sir کہاجاتا ہے لیکن ایک عزت دار سفیدپوش سکول ٹیچر کو Sir کی بجائے ماسٹرجی کہا جاتا ہے کیا وجہ ہے کہ کسی بھی سکول مالک کو جو آپ کے بچوں کو تعلیم دیتا ہے ایک استاد جو آپ کے بچوں کو "الف" سے لے کر"ی" تک ہر فن کا ماہر بناتا ہے لیکن والدین اور ہماری سول سوسائٹی کے مہربان ایک لفظ تواتر سے استعمال کرتے ہیں "سکول مافیا" جسے پڑھ کر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جیسے سکول مالکان ایک ناجائز دھندہ کرتے ہیں یا خدانخواستہ ہیروئن کے پاؤڈر بیچنے میں ملوث ہیں.
سپریم کورٹ میں چلنے والی اس سول اپیل میں جسٹس فیصل عرب نے فیصلہ لکھتے ہوئے ایک بات واضح کی کہ پرائیویٹ سیکٹر کے سب سے آخری نمبر پر آنے والا سکول بھی گورنمنٹ کے سکولوں سے کافی بہتر اور پڑھائی میں آگے ہوتا ہے جسٹس فیصل عرب کا یہ کہنا تھا کہ پرائیویٹ سکولوں سے پڑھے ہوئے سٹوڈنٹ کی تعلیم کا معیار آج بھی گورنمنٹ سکولوں کے بچوں کی پڑھائی کے معیار سے بہتر ہے. یونیورسٹیوں تک پہنچنے والے اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے زیادہ تر بچوں کا تعلق پرائیویٹ سکولوں سے ہی ہوتا ہے اور یہی وہ بچے ہیں جو کہ ملک کے اعلیٰ انتظامی عہدوں تک پہنچ پاتے ہیں
محترم والدین یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ جسٹس سپریم کورٹ فیصل عرب کے ہیں انہوں نے مزید واضح کیا کہ گورنمنٹ کی ناکامی ہے کہ وہ تعلیم کے سیکرٹری کو چلانے میں بری طرح ناکام ہے جسکی وجہ سے ملک کا لٹریسی ریٹ60 سے کم ہوکر 58 پرسنٹ تک آچکا ہے.

اسی کیس میں سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے دلائل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے کی گئی اپنی ہی مردم شماری کے تحت پورے پنجاب میں60502 سکول ہیں جو کہ 4000 سے کم فیس پر اپنا نظام چلارہے ہیں اور صرف دو فیصد ایسےسکول ہیں جو چار ہزار سے زائد فیس چارج کرتے ہیں.اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بیکن ہاؤس سکول سسٹم جو کہ ایشیاء کا سب سے بڑا اور دنیا کا تیسرا بڑا تعلیمی نیٹ ورک ہے جس کے 25 پرسنٹ شیئر کی ملکیت ایک امریکن کمپنی کے پاس ہے اور جس کا سالانہ آڈٹ ملک کی ایک ٹاپ آڈٹ فارم Ernst & Young کرتی ہے اس فرم کی رپورٹ پر سوالیہ نشان بالکل ناممکن ہےاس فرم کی بیکن ہاؤس سکول کی آڈٹ رپورٹ کا یہ ڈیٹا ہائیکورٹ کے فل بینچ سماعت کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا اس رپورٹ کے تحت پچھلے چند سالوں میں بچوں کی ماہانہ فیس میں حکومتی پابندیوں کے زیراثر اخراجات کے مطابق اضافہ نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے آڈٹ رپورٹ کے تحت سکول کے ریونیو میں متواتر کمی آئی ہے.رپورٹ کے مطابق اس وقت بیکن ہاؤس سکول سسٹم ایک سٹوڈنٹ سے تقریبا دس ہزار روپے فیس لینے کے بعد بھی صرف 1240 کما سکتا ہےتو محترم والدین آپ خود ہی یہ اندازہ لگائیں کہ پنجاب میں جن سکولوں کی ٹوٹل فیس ہی 1240 ہے وہ آپ کے بچوں کی فیس سے کیا کماتے ہوں گے

ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ہمارے لئے تعلیم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور وہ لوگ جو ہمارے معاشرہ میں محلوں اور گلیوں میں بنے کاٹیج سکولوں میں مہنگے کرایوں کے ساتھ تنخواہوں کے بوجھ تلے دب کر ہزار دو ہزار فیس کے ساتھ گورنمنٹ سکولوں سے بہتر تعلیم دیں انہیں مافیا کہنا کہاں کا انصاف ہے
محترم والدین اگر سکول مالک پڑھا لکھا ہے اور اس کے اپنے بچے اسی سکول میں آپ کے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ آپ کے بچوں کے ساتھ تعلیم کے تسلسل میں کوئی کمی آنے دے گا افسوس کا مقام ہے کہ شوگر ملوں کے مالکان غریب عوام کو لوٹ کر کھا جائیں حکومت کو بچانے کے لئے شوگر ملز کے مالکان کو اربوں روپے کی سبسڈیاں دی جائیں اور دوسری طرف سکول مالکان جنہیں حکومت وقت نے کبھی ایک روپیہ کی سبسڈی تو دور کبھی قرض دینے کی پالیسی تک واضح نہیں کی ان کو مافیا کہنا کہاں کا انصاف ہے پاکستان کے آئین کے تحت حکومت کی مفت تعلیم دینے کی ذمہ داری ممکن نہ ہونے کی وجہ سے یہ پرائیویٹ سیکٹر حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا پاکستان کی عوام کو سستی تعلیم دے رہا ہے محترم والدین بس اتنی گزارش ہے کہ ان سکولوں کو اپنا مسیحا سمجھیں عزت دیں اگرچہ یہ لوگ بادشاہ نہیں ہیں پر بادشاہ گر ضرور ہیں
شکریہ

از قلم ملک محمد ارسلان رشید اعوان

03/12/2022

Welcome to my page

Address

Hassan Abdal
43730

Telephone

+3225282370

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Muhammad Arslan Rasheed Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Malik Muhammad Arslan Rasheed Awan:

Share