05/08/2026
کچھ دن پہلے میرے پاس ایک کلائنٹ آئے، جو ایک اسکول ٹیچر تھے۔ ان کے پاس ایف بی آر کا ایک نوٹس آیا ہوا تھا اور وہ اس کا جواب تیار کروانا چاہتے تھے۔
جب میں نے اپنی فیس بتائی تو وہ کہنے لگے:
"سر! آپ کی فیس تو بہت زیادہ ہے، ہمارے اسکول کا کلرک صرف 500 روپے میں سارا کام کر دیتا ہے۔"
میں نے ان سے پوچھا:
"اچھا، یہ بتائیں آپ کا ٹیکس ریٹرن کس نے فائل کیا تھا؟"
وہ کہنے لگے:
"ہمارے اسکول کے کلرک نے۔"
میں نے عرض کیا:
"پہلے یہ نوٹس غور سے پڑھ لیجیے، پھر مجھے بتائیے اس میں کیا لکھا ہے۔"
انہوں نے چند لمحے نوٹس دیکھا، پھر کہنے لگے:
"سر! مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہی، یہ تو میری سمجھ سے باہر ہے۔"
میں نے ان سے کہا:
"آپ ماشاء اللہ ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں، کئی سالوں سے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، لیکن آپ کو یہ نوٹس سمجھ نہیں آ رہا۔ پھر وہ شخص، جس نے صرف میٹرک کیا ہوا ہے، وہ اس نوٹس کا قانونی جواب کیسے تیار کرے گا؟
وہ کہنے لگے:
"سر! ہمارے اسکول کا کلرک کئی سالوں سے یہی کام کر رہا ہے۔ ہمارے اسکول کے تقریباً سب لوگوں کے ٹیکس ریٹرن بھی وہی فائل کرتا ہے۔"
میں نے عرض کیا:
"دیکھیں، ریٹرن فائل کرنا اور ٹیکس قانون کو سمجھنا دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔"
آج کل اکثر کلائنٹس کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے:
"آپ کی فیس اتنی زیادہ کیوں ہے؟ فلاں شخص تو 500 روپے میں کر دیتا ہے، اور فلاں ایک ہزار روپے میں۔"
میں ان سے ہمیشہ ایک ہی بات عرض کرتا ہوں کہ صرف فارم بھر دینا ٹیکس کنسلٹنسی نہیں ہوتی۔
ایک پروفیشنل صرف ریٹرن فائل نہیں کرتا بلکہ:
• آپ کو درست قانونی مشورہ دیتا ہے۔
• آپ کے کیس کے مطابق رہنمائی کرتا ہے۔
• نوٹسز کا مؤثر جواب تیار کرتا ہے۔
ٹیکس ریٹرن ہو یا کوئی اور فارم، اس کے ہر خانے کے پیچھے قانون، قواعد اور عدالتی تشریحات موجود ہوتی ہیں۔ فارم تو صرف چند صفحات کا ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے پورا قانون کھڑا ہوتا ہے۔
کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ قانون کچھ اور کہہ رہا ہوتا ہے، جبکہ سسٹم غلط کیلکولیشن کر دیتا ہے ۔ ایسی غلطی صرف وہی شخص پکڑ سکتا ہے جس نے انکم ٹیکس کا قانون پڑھا ہو، اس کی عملی سمجھ رکھتا ہو