25/06/2020
:
اسلام آباد میں ہندؤں کے لئے مندر بنایا جا رہا ہے اگرچے میں اس بات سے متفق ہوں کہ اقلیتوں کے مذھب کا احترام کرنا چاہیے مگر ان کو مندر بنانے کی اجازت دینا مجھے گراں گزرا میں یہ جانتا ہوں کہ بہت سارے لوگ اس بات کو اتنا سنجیدہ نہیں لیتے اور یہ کہتے ہیں کہ ہر اک شہری کا حق ہے کہ وہ اپنے مذھب کے تحت عبادت کرے بے شک ان کی یہ بات جزباتی لحاظ سے میں مان بھی لوں تو کیا وہ اس بات کی وضاحت عرض کر سکتے ہیں کہ پھر پاکستان کو الگ ریاست بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا ہماری مملکتِ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنی؟ کیا ہمارے آباؤ اجداد نے یہ وطن اسلام کے نام پر نہیں آزاد کروایا؟ کیا اس فیصلے کے پیشِ نظر ہمارے نظریے کی دجیاں نہیں اڑائی گئی؟ اگر اس پاک سرزمین کے اوپر مندر اور چرچ ہی بنانے تھے تو 1947 میں جو تقسیم ہوئی جو قربانیاں دی گئیں جن ماؤں کے بچے شہید ہوئے جن بہنوں کے سہاگ اجڑے کیا وہ سب یوں ہی اک مذاق تھا؟ ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں اور کتابوں میں پڑھتے آ رہے ہیں کہ نظریہ پاکستان کا مقصد اس بات کی وضاحت ہے کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں اور ان کی عبادت اور مذہب الگ الگ ہیں اور پاکستان بنانے کا مقصد ان دو قوموں کو دو الگ ریاستیں دینا تھا تاکہ دونوں قومیں اپنے اپنے مذھب کی عبادت اپنے اپنے ممالک میں آزادی کے ساتھ کریں۔ آج ہندو مسلمانوں کی مساجد کو شہید کر رہے ہیں نمازیوں کو مساجد میں نماز تک سکون سے نہیں ادا کرنے دی جا رہی ایسے میں مملکتِ پاکستان میں مندر کا قیام ان مسلمان بھائیوں کی دل آزاری کے سوا کچھ بھی نہیں افسوس کہ آج ہم کس قدر پستگی کا شکار ہیں ہم نے اپنے مقصد کو پس پشت ڈال دیا آج ہم نے اپنے نظریات تک کو بدل دیا ہم نے اس پاک وطن کے لیے دی گئی قربانیوں تک کو نظر انداز کر دیا اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور اس مملکت کے اعلیٰ حکام کو عقل و شعور عطا کرے آمین۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات 😒
تحریر پسند آئے تو ضرور شیئر کریں شکریہ۔
By : Adv Sajjad Nazir
BS Political Science
Bachelor in Law (LLB )