سبق آموز کہانیاں

سبق آموز کہانیاں Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سبق آموز کہانیاں, hangu, Hangu.

28/03/2026

🥀 _*نظر انداز کیجیے*_ 🥀

آج کل عدم برداشت کی شدید کمی ہے لوگ اپنا غصّہ اور فرسٹریشن نکالنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ایک بیروزگار شخص یا ناکام شخص سے یہاں کسی کی کامیابی ہضم کرنا مشکل ہو چکا ہے یقین کیجیے بہتری اسی میں ہےکہ آپ خود کو مصروف رکھیں اپنے کام پر توجہ دیں اور ساتھ ہی اپنی روٹین میں کچھ ایسا ضرور شامل کریں جو آپ کو پُرسکون کر سکتا ہے جو آپ کے کام کی فرسٹریشن نکال سکتا ہے اگر آپ کمانے کے ساتھ ساتھ خود کو ہلکا پھلکا کرنے پر کام نہیں کر رہے تو کمانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے
اور ہاں لوگ آپ سے جھگڑا کریں تو ان کے منہ لگنا چھوڑ دیں راستے میں کوئی اوباش آپ کو تنگ کرے اور اپنے لیول پر لے جانا چاہے تو ہمیشہ خود کو اپنے ہی لیول پر رکھیں
سوشل میڈیا ہو یا حقیقی زندگی یہ معمول بن چکا ہے یہاں بیٹھ کر بھی لوگ دوسروں پر اٹیک کر کے اپنی فرسٹریشن ہی نکالتے ہیں اور حقیقی زندگی میں یہ فرسٹریشن دوسرا رخ اختیار کر لیتی ہے خود کو اس منفیت سے دور رکھیں ارد گرد دیکھیں ہنسی مزاق سے شروع ہونے والی گفتگو کا اختتام اکثر کسی حادثے کی صورت میں ہوتا ہے خود کو ایسی محفلوں سے دور رکھیں جہاں صرف دوسروں کے مزاق اڑائے جاتے ہیں طنزیہ جملوں کی برسات کی جاتی ہے کیونکہ اس محفل میں کب کون انسان سے یکدم جانور بن جائے آپ نہیں جانتے یہاں قانون انصاف اور شعور کا کوئی وجود نہیں ہے بدتمیز اور جاہلوں کی بھرپور کوشش ہوتی ہےکہ وہ آپ کو بھی اپنے جیسا بنا دیں ان کے شر سے محفوظ رہیں کیونکہ آپ کی جان بہت قیمتی ہے آپ بہت انمول ہیں اپنے الفاظ اپنے جملوں کا احتساب کرتے رہیں کیونکہ کوئی بھی جملہ آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اپنی گفتگو اور لہجے میں مٹھاس لائیں کاٹنے والی چھری مت بنیں یہ زبان چھری سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے اس سے نکلے جملے ہی محفلوں کو حادثوں کا میدان بنا دیتے ہیں ایک اور بات ذہن نشین کر لیں کہ اپنی جان کے ساتھ ساتھ جہاں تک ممکن ہو دوسروں کی جان بھی قیمتی سمجھیں سیکنڑوں کا ہجوم ہو تو دو چار لوگوں کو روکنا مشکل نہیں ہوتا خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہنے سے بہتر ہے کہ اس ظلم کو روکیں نہیں روک سکتے اتنی جرآت نہیں ہے تو وہاں ٹھہرے تماشائیوں میں اضافہ مت کریں بلکہ اپنے راستے چل دیں وہاں ٹھہر کر صرف ویڈیو بنانے سے اچھا ہےکہ کم از کم وہاں نہ ٹھہریں

28/03/2026

کچھ چیزوں کا ختم ہونا اس لیے ضروری تھا کیونکہ وقت نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ اب ہمارے لیے ٹھیک نہیں ہے جو رشتے خوشی دینے کی بجائے تھکا دیں جو باتیں سکون دینے کی بجائے بوجھ بن جائے اور جو لوگ وقت کے ساتھ بدل جائے ان لوگوں کو چھوڑ دینا غلط نہیں ہوتا وقت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر چیز پر زبردستی نہیں چلتی کچھ کو چھوڑ دینا ہی دل کو بچانے کا واحد ذریعہ ہے اس لیے بعض انجام دراصل ہمارے حق میں سب سے بہتر ہوتے ہیں
*

28/03/2026

*لالچ اور صبر کی لڑائی*

کہتے ہیں افلاطون ایک دن کھانا کھا رہے تھے کہ
ایک مچھر بار بار آ کر انہیں تنگ کرنے لگا۔
کبھی کھانے پر بیٹھتا،
کبھی اُڑ جاتا۔

افلاطون نے نرمی سے اپنا تھوڑا سا کھانا مچھر کے سامنے رکھا۔
مچھر نے اس میں سے کچھ چوسا…
مگر زیادہ دیر نہ رکا۔

افلاطون نے شاگردوں کو غور سے دیکھنے کا کہا۔
ایک شاگرد کے ہاتھ پر ہلکا سا زخم تھا، اس نے ہتھیلی آگے کی۔
مچھر فوراً کھانے کو چھوڑ کر زخم پر آبیٹھا اور خون چوسنے لگا۔

پھر افلاطون نے قریب ہی ایک بوسیدہ سیب رکھ دیا۔
مچھر نے خون بھی چھوڑ دیا اور
سیب کے کٹے حصے پر جا بیٹھا۔

اسی لمحے قریب ایک درخت پر مکڑی کا جالا تھا۔
مچھر اُڑا… اور جال میں پھنس گیا۔
جال ہلا تو مکڑی آئی اور خاموشی سے اپنے شکار کو مضبوطی سے قابو میں کر لیا۔

افلاطون نے فرمایا:

> “دیکھو! مکڑی کمزور ہے مگر صبر والی ہے۔
وہ جال بچھا کر دنوں انتظار کرتی ہے،
لالچ نہیں کرتی۔
اور جب شکار مل جائے تو آہستہ آہستہ اسے استعمال کرتی ہے۔

اور یہ مچھر…
لالچی ہے،
بے صبرہ ہے،
ایک نعمت سے دوسری نعمت کی طرف دوڑتا ہے،
اور آخرکار ہلاکت کے جال میں پھنس جاتا ہے۔”

*👈 لالچ اور صبر کی لڑائی میں*
*جیت ہمیشہ صبر کی ہوتی ہے*

28/03/2026

زندگی میں کچھ لوگ خود ہی ہمیں اپنی زندگی سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں کے پیچھے بھاگنے یا خود کو ثابت کرنے کے بجائے بہتر یہ ہےکہ اُن کی مدد کر دی جائے تاکہ وہ آسانی سے ہمیں کھو دیں کیونکہ محبت زبردستی نہیں ہوتی اور تعلقات رحم یا منت سے نہیں چلتے جو آپ کی اہمیت نہ سمجھے اُس کے لیے دل چھوٹا نہ کریں اپنا ظرف اپنی عزت اور اپنی نیکی کو قائم رکھیں کبھی کبھی خاموشی اور آسانی سے الگ ہو جانا ہی سب سے بڑا وقار ہوتا ہے
*

میری آنکھیں تو نم ہوگئیں آپ پڑھ لیں۔ بوڑھے باپ پر 9 لاکھ کا قرض!!یہ مصر کا ایک دل چھونے والا واقعہ ہے۔ حاجی حسن کے تین ب...
08/02/2026

میری آنکھیں تو نم ہوگئیں آپ پڑھ لیں۔

بوڑھے باپ پر 9 لاکھ کا قرض!!
یہ مصر کا ایک دل چھونے والا واقعہ ہے۔ حاجی حسن کے تین بیٹے تھے۔ تینوں کو انہوں نے اچھی تعلیم دلائی اور بہترین پرورش کی۔ جب باپ خود بوڑھا ہوا تو تینوں بیٹے الگ الگ اپنے اپنے گھروں میں سیٹل ہو چکے تھے۔ ایک مرتبہ حاجی حسن بیمار پڑ گئے۔ جب اسپتال سے گھر واپس آئے تو ان کے چہرے پر عجیب سی شکستگی تھی۔ وہ خاموشی سے اندر داخل ہوئے، کچھ دیر رکے اور سوچا، پھر جیب سے ایک تہہ شدہ کاغذ نکال کر میز پر رکھ دیا۔ انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
تینوں بیٹے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کاغذ کھولا گیا تو سب کی سانس رک سی گئی۔ وہ امانت نامہ تھا، نو لاکھ جنیہ (مصری کرنسی) کا بھاری قرض، والد کے نام پر، جس کی فوری ادائیگی لازم۔ (پاکستانی کرنسی میں تقریباً 53 لاکھ روپے) کمرے میں خاموشی چھا گئی، ایسی خاموشی جس میں خوف بولتا ہے۔ سب سے پہلے بڑے بیٹے خالد نے گلا صاف کیا اور نظریں جھکاتے ہوئے کہا:
“آپ جانتے ہیں… بچوں کی اسکول فیس اور مہنگی یونیورسٹیاں… میری کمر ٹوٹ چکی ہے، میرے پاس ایک روپیہ بھی اضافی نہیں۔”
درمیانے بیٹے سعید جس نے حال ہی میں الیکٹرونکس کی دکان کھولی تھی، ذرا تیزی سے بولا:
“میں خود تاجروں کے قرض میں ڈوبا ہوں، سارا مال ادھار کا ہے، کوئی نقدی نہیں۔”
سب سے چھوٹا بیٹا تھا یوسف۔ اس کا کہنا ہے کہ میری شادی کو چند ہی مہینے گزرے تھے، فلیٹ کی قسطیں، مرمت کا خرچ… سب کچھ باقی تھا۔ لیکن جب میں نے والد کی طرف دیکھا، ان کے سفید ہوتے بال، جھکا ہوا کندھا اور آنکھوں میں دبی ہوئی تھکن،
تو میرے گلے میں کچھ اٹک سا گیا۔ میں کیسے انکار کرتا؟ میرے دل نے “ناں” کہنے سے انکار کر دیا۔ میں نے کاغذ اٹھایا، قلم پکڑا اور والد کی جگہ خود ضمانت پر دستخط کر دیئے اور والد صاحب سے کہا کہ بے فکر رہیں، یہ رقم میں ادا کردوں گا۔
پھر والد کو اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں لے آیا، تاکہ خود ان کی خدمت کر سکوں۔ ایک سال گزر گیا، اللہ گواہ ہے، وہ میری زندگی کا سب سے کڑا سال تھا۔ دن کو نوکری، رات کو آن لائن ٹیکسی چلانا۔ کبھی کبھی رات کا کھانا صرف روٹی اور پنیر یا دال کا ایک پیالہ ہوتا۔
میری بیوی (اللہ اسے سلامت رکھے) میرا دست و بازو بن گئی، وہ نئے کپڑوں سے دستبردار ہوگئی، حتیٰ کہ اپنی سونے کی چوڑیاں بھی بیچ دیں، تاکہ گھر کا خرچ چل سکے۔
لیکن ان سب کے بدلے، میرے لیے سب سے بڑی راحت والد کے چہرے پر اطمینان اور ان کی مسکراہٹ تھی، رب تعالیٰ نے اس دوران مجھے ایک خوبصورت بیٹے سے بھی نواز دیا، یہ بچہ والد صاحب کے لیے بھی سامان راحت بن گیا۔
پھر… اسی تاریخ کو، ٹھیک ایک سال بعد، والد نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔ میں ان کے پاس بیٹھا۔ انہوں نے دراز کھولی، ایک تہہ شدہ کاغذ نکالا اور نرمی سے میرے سامنے رکھ دیا۔
بولے: “یوسف… پڑھو۔”
میں نے کاغذ کھولا تو جیسے میں وہیں کا وہیں جم گیا۔ میرا حلق خشک ہو گیا اور آنکھوں کو اپنی ہی نظر پر یقین نہ آیا۔ وہ کاغذ نہ تو کوئی امانت نامہ تھا، نہ ہی محض شکریے کا خط۔ وہ ایک وصیت تھی۔ اس وصیت میں صاف صاف لکھا تھا کہ شہر کے وسط میں واقع تین منزلہ مکان اور سب سے بہترین کمرشل اور مہنگے علاقے میں واقع 300 گز کی زمین، ان دونوں کی مکمل ملکیت، صرف اور صرف میرے نام منتقل کی جاتی ہے۔
میں حیرت سے والد کی طرف دیکھنے ہی والا تھا کہ انہوں نے مسکرا کر آہستہ سے کہا: “یوسف… میں نے ساری زندگی صرف یہ جاننا چاہا کہ مشکل وقت میں واقعی کون میرا ساتھ دے گا۔”
ان کی آنکھوں میں نمی تھی، آواز میں لرزش۔ اسی لمحے دروازے پر قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ میرے دونوں بڑے بھائی خالد اور سعید کمرے میں داخل ہوئے۔ پتہ چلا کہ والد صاحب نے ان کو کال کرکے بلایا تھا، ان کی نظریں میرے ہاتھ میں موجود وصیت پر جا ٹھہریں۔ چہروں کا رنگ بدل گیا۔ وہی لوگ، جو ایک سال پہلے بے نیازی کا مظاہرہ کر رہے تھے، اب ان کے چہروں پر پچھتاوے، حسرت اور صدمے کا ملا جلا نقش تھا۔
بڑے بھائی نے بھاری آواز میں بولا: “ابا… آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ہم بھی تو آپ کے بیٹے ہیں۔”
والد نے آہستہ سے سر اٹھایا اور اس بار ان کی آواز دھیمی ضرور تھی، مگر فیصلہ کن:
“میں جانتا ہوں کہ ہر انسان اپنی مشکلات میں گھرا ہوتا ہے۔ لیکن جب مجھے واقعی سہارا چاہیے تھا تو تم میں سے کسی نے ہمت نہیں کی۔ صرف تمہارے چھوٹے بھائی نے یہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ گھر اور یہ زمین اسی قربانی کا صلہ ہیں۔”
درمیانے بھائی نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ اس کے گلے میں اٹک گئے۔ دونوں بھائی خاموشی سے مڑے اور آہستہ آہستہ باہر چلے گئے، یوں لگتا تھا جیسے ان کے قدم شرمندگی کے بوجھ تلے دبے ہوں۔ میں وہیں بیٹھا رہا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، جب میں وصیت تھامے ہوئے تھا۔ والد نے شفقت سے میرا کندھا تھپتھپایا اور کہا:
“بیٹا، اب تمہیں وہ قرض ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ رقم تو میں بہت پہلے ادا کر چکا تھا۔ یہ سب… صرف ایک امتحان تھا۔”
اب مجھے سمجھ آیا کہ وہ ایک سال محض قرض اتارنے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ ایک آزمائش تھی، یہ جاننے کی آزمائش
کہ کون واقعی خون اور رشتے کی قدر کرتا ہے۔
اگلے دن وصیت کی خبر پورے خاندان میں پھیل گئی۔ کچھ نے والد کو دانا کہا، کچھ نے سخت اور ناانصاف۔ لیکن میں نے ہمیشہ کی طرح والد کی خدمت جاری رکھی، کیونکہ میں جانتا تھا کہ مجھے جو سب سے قیمتی وراثت ملی، وہ نہ مکان تھا نہ زمین، بلکہ میرے والد کا مکمل اعتماد تھا۔ (ضیاء چترالی)

ذرا ایک لمحہ ٹھہر کر سوچیے تو سہی!امریکہ کے صدور (بش سینئر سے لے کر بش جونیئر، کلنٹن، اوباما اور ٹرمپ تک) ایسے افراد رہے...
07/02/2026

ذرا ایک لمحہ ٹھہر کر سوچیے تو سہی!

امریکہ کے صدور (بش سینئر سے لے کر بش جونیئر، کلنٹن، اوباما اور ٹرمپ تک) ایسے افراد رہے ہیں جن پر کم سن بچوں اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔
جس ریاست کی قیادت ہی اخلاقی گراوٹ کی اس حد تک پہنچ چکی ہو، وہ دنیا کو خیر، عدل اور انسانیت کا درس کیسے دے سکتی ہے؟
یہ بھی یاد رہے کہ ان میں سے اکثر کا تعلق ری پبلکن جماعت سے رہا ہے، جو خود کو مذہبی، قدامت پسند اور اپنی سیاسی سوچ کو انجیل اور تورات کی مخصوص تعبیرات سے جوڑتے ہیں۔ جب نام نہاد مذہبی اور اخلاقی اقدار کے علمبرداروں کا حال یہ ہو، تو پھر کھلے طور پر سیکولر اور لادین وملحد سیاسی طبقے سے کسی اعلیٰ اخلاقی معیار کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
آج پوری دنیا مغربی قیادت کے زیرِ اثر ایک ایسی بند شیشی بن چکی ہے جس کے اندر زہریلی گیسیں بھری ہوئی ہیں۔ اس شیشی میں رہنے والا ہر انسان لاشعوری طور پر وہی زہر سانس کے ذریعے اپنے اندر اتار رہا ہے۔
اس نظام کی ہر پرت میں سڑاند ہے، ہر بنیاد کمزور اور فاسد ہو چکی ہے۔

تعلیم تجارت بن چکی ہے، صحت کا نظام منافع خوری کا اڈہ ہے،
غذا زہر آلود ہو چکی ہے، ثقافت بے راہ روی اور فکری کھوکھلاپن کا شکار ہے، اقدار اپنی معنویت کھو بیٹھی ہیں، معیشت چند سرمایہ دار گروہوں کے ہاتھ میں قید ہے، جو خود بدعنوانی کی علامت ہیں۔
اور سیاست…؟ سیاست تو تمام خباثتوں کی جڑ بن چکی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شر کے بطن سے خیر جنم لے سکتی ہے؟
کیا گندگی کے ڈھیر سے پاکیزگی برآمد ہو سکتی ہے؟
یہ ناممکن ہے۔
اس زہریلے بند نظام کے اندر رہ کر اصلاح کی ہر کوشش ناکام ہے۔
اصل علاج یہی ہے کہ اس شیشی کو توڑا جائے اور انسان کو تازہ، صاف اور فطری ہوا میں سانس لینے کا موقع دیا جائے۔
ان حقائق کو سامنے رکھ کر اب یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ اتنی اخلاقی اور سیاسی رسوائیوں کے باوجود اسلام ہی مغرب کی خاص نفرت کا نشانہ کیوں بنتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اور صرف اسلام ہی ایک ایسا ہمہ گیر، مربوط اور مکمل نظامِ حیات ہے، جو ان کے فاسد ڈھانچوں سے ٹکرا جاتا ہے، جسے ان کے مفاد پرستانہ اور غلیظ مقاصد کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام طہارت کا نظام ہے۔ فرد سے لے کر معاشرے تک۔ یہ عدل اور میزان کا ضابطہ ہے۔ فیصلے سے لے کر ریاست تک۔ یہ واحد فکری و عملی منصوبہ ہے، جو اس عالمی اخلاقی گراوٹ، فکری انتشار اور تہذیبی گندگی کا حقیقی متبادل بن سکتا ہے۔
اسی سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ دھرتی کی بدحالی اور انسان کی بے قراری اسلام کو زندگی کی قیادت سے ہٹا دینے کا منطقی نتیجہ ہے۔
اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے زوال نے صرف مسلمانوں ہی کو نہیں، بلکہ پوری انسانیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
اس بات کو بہترین انداز میں ناقابل تردید دلائل و براہین کے ساتھ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "ما ذا خسر العالم بانحطاط المسلمین" کا موضوع بنایا ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ برصغیر کے کسی بھی عالم کی کسی بھی کتاب کو اتنی مقبولیت پوری دنیا میں نہیں ملی جتنی اس کتاب کو۔ اس کی مقبولیت کا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس عربی کتاب کے اردو، انگریزی، ترکی، فارسی اور فرآبدیدہ زبانوں میں تراجم ہوئے اور عرب دنیا میں ان کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
ضیاء چترالی

یہ جزیرہ غالباً اسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں صرف یہی کام کیا جائے گا۔ اتنا ڈیٹا ذخیرہ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ ایپ...
06/02/2026

یہ جزیرہ غالباً اسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں صرف یہی کام کیا جائے گا۔ اتنا ڈیٹا ذخیرہ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ ایپسٹین فائل میں 3.5 ملین صفحات، 180,000 تصاویر اور 2,000 سے زیادہ ویڈیوز شامل ہیں۔ اگر کوئی روزانہ صرف ایک فائل، ایک ویڈیو اور دس تصویریں دیکھے تو ساڈھے پینتیس لاکھ صفحات مکمل ہونے میں ساڑھے نو ہزار سال لگیں گے، دو ہزار ویڈیوز دیکھنے میں پانچ سال لگیں گے اور ایک لاکھ اسی ہزار تصویریں دیکھنے میں پچاس ہزار سال لگیں گے۔ یہ چیزیں ثبوت کے طور پر مکمل محفوظ ہیں ایک منٹ کے لیے سوچیں کہ یہ لوگ کیمرے کے بغیر کتنے کام کرچکے ہوں گے ؟

یہ درندے ہمیں اخلاقیات سکھاتے ہیں۔ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم عورتوں کو حقوق نہیں دیتے، ان پر ظلم کرتے ہیں۔ یہ گھٹیا لوگ سوچ بھی نہیں سکتے جو مقام ہم اپنی ماؤں، بہنوں اور بیویوں کو دیتے ہیں۔ اپنی بچیوں کا خاص خیال رکھیں اللّٰہ تعالیٰ ہماری بیٹیوں، بہنوں، نسلوں کو ہر فتنہ، ہر شیطان، ہر آزمائش سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین۔۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر Tehsin Ullah

ایبسٹین فائلز: چونکا دینے والے انکشافاتایبسٹین سے متعلق نئی دستاویزات میں ایک اور نہایت حساس اور بااثر شخصیت کا نام سامن...
05/02/2026

ایبسٹین فائلز: چونکا دینے والے انکشافات
ایبسٹین سے متعلق نئی دستاویزات میں ایک اور نہایت حساس اور بااثر شخصیت کا نام سامنے آیا ہے، جس کے بعد انکشافات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو کئی سطحوں پر چونکا دینے والا ہے۔ یہ نام ہے سلطان بن سلیم، متحدہ عرب امارات کا معروف تاجر اور ڈی پی ورلڈ (DP World) کا چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، جو دنیا کے درجنوں اسٹرٹیجک بندرگاہوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
صومالی لینڈ، اسرائیل اور بحیرۂ احمر
دستاویزات کے مطابق 2018ء کی ای میل میں سلطان بن سلیم اور جیفری ایبسٹین کے درمیان ایسے اماراتی تجاویز زیربحث آئیں جن میں صومالی لینڈ کے علیحدگی پسند خطے کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی۔ یہ وہی خطہ ہے، جسے بعد ازاں اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر کنٹرول بتایا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈی پی ورلڈ اس خطے میں بربرہ، بوصاصو سمیت کئی اہم بندرگاہوں کا انتظام سنبھالتی ہے اور بعض رپورٹس میں انہی بندرگاہوں کو سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز تک سامان کی ترسیل سے جوڑا گیا ہے، اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم باوثوق افریقی ذرائع اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔
ڈی این اے ٹیسٹ اور پراسرار روابط
ایک اور ای میل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سلطان بن سلیم نے نیویارک میں ایبسٹین کے گھر کا پتہ استعمال کرتے ہوئے 30 ڈی این اے ٹیسٹ کٹس منگوائیں۔ اس کی وجہ واضح نہیں، تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر دستاویزات میں اس معاملے کو 2017ء کی ایک ای میل سے جوڑا جا رہا ہے، جو مبینہ طور پر ماشا دروکوفا نامی عورت نے ایبسٹین کو بھیجی تھی، جس میں یہ تجویز دی گئی کہ صرف انہی افراد کے ساتھ کام کیا جائے جو یہودی نسب ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروا چکے ہوں، کیونکہ وہ دیگر انسانوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف بیانیہ:
مزید دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سلطان بن سلیم کا نام ایسی ای میلز میں بھی آیا جس میں سعودی عرب میں مسلمانوں کے اجتماعات کو سیکورٹی خدشات سے جوڑا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ان میں دہشت گرد چھپے ہو سکتے ہیں۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ سعودی کے نمازی نوجوانوں پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ سلطان بن سلیم ایبسٹین کے نجی جزیرے کی جانب جانے والی بعض شپمنٹس کی سہولت کاری میں ملوث تھا، ان شپمنٹس میں کیا تھا، اس کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
ایبسٹین، موساد اور نارملائزیشن کا پس منظر
سب سے سنگین دعویٰ یہ سامنے آیا ہے کہ انہی میلز میں جیفری ایبسٹین کے ذریعے سلطان بن سلیم اور اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک کے درمیان ملاقاتوں کا بندوبست کیے جانے کا ذکر موجود ہے۔ ان ملاقاتوں کو بعض مبصرین امارات اور اسرائیل کے درمیان تطبیع (سفارتی تعلقات کے قیام) کے ابتدائی مراحل سے جوڑ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جیفری ایبسٹین کے بارے میں خود کئی ذرائع یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ تھا۔ (جاری ہے)
ضیاء چترالی

السلام علیکم دوستو،   سبق آموز کہانیاں میں خوش آمدید۔ کیا آپ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتے ہیں؟ کیا لوگوں کے ال...
23/01/2026

السلام علیکم دوستو، سبق آموز کہانیاں میں خوش آمدید۔ کیا آپ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتے ہیں؟ کیا لوگوں کے الفاظ، رویے یا حالات آپ کے موڈ اور سکون کو برباد کر دیتے ہیں؟ اگر ہاں، تو آج کی یہ کتاب آپ کے لیے ہے۔ "Stop Letting Everything Affect You" (ہر چیز کو اپنے آپ پر اثر انداز ہونے دینا بند کریں)۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر بات پر ردِ عمل ظاہر کرنا ضروری نہیں، اور ہر چیز کو دل پر لینا ہماری ذمہ داری نہیں۔ آئیے اس کتاب کے آسان خلاصے کو سمجھتے ہیں۔

آج کی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس مسائل ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر مسئلے کو دل پر لے لیتے ہیں۔ ہم صبح اٹھتے ہیں، فون کھولتے ہیں۔ ایک میسج، ایک کمنٹ، ایک خبر اور دل بے چین ہو جاتا ہے۔ کوئی بات کہہ دے، کوئی نظرانداز کر دے، کوئی ہماری توقعات کے مطابق برتاؤ نہ کرے اور ہمارا دن، ہمارا موڈ، ہمارا سکون سب خراب۔ ہم سوچتے ہیں: میں ایسا کیوں محسوس کر رہا ہوں؟ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ڈینیئل چڈویّا کی یہ کتاب ہمیں یہی سکھانے آئی ہے کہ زندگی کو اتنا مشکل بنانا ضروری نہیں۔ ہر بات پر ردِ عمل دینا ضروری نہیں۔ اور سب سے اہم بات: ہر چیز کو دل پر لینا ہماری مجبوری نہیں۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم کمزور نہیں ہیں۔ بس ہم نے اپنی طاقت غلط جگہ دے رکھی ہے۔ ہم اپنی جذباتی حالت کے خود ذمہ دار ہیں۔

کتاب کے اہم نکات:

1. ہم اپنے جذبات کے خود ذمہ دار ہیں۔
کتاب کی سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے جذبات کے خود جوابدہ ہیں۔ لوگ نہیں، حالات نہیں، اور نہ ہی ہمارا ماضی۔ یہ بات سننے میں آسان ہے مگر ماننے میں مشکل۔ ہم اکثر کہتے ہیں: "اس نے مجھے غصہ دلا دیا"، "اس بات نے میرا موڈ خراب کر دیا"، "اگر وہ ایسا نہ کرتا تو میں ٹھیک ہوتا"۔ لیکن مصنف کہتا ہے: کوئی آپ کو کچھ دے نہیں سکتا جب تک آپ خود اسے قبول نہ کریں۔ غصہ، دکھ، حسد، بے چینی یہ سب اندر سے پیدا ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ہمارے جذبات ہماری اپنی ذمہ داری ہیں، تب ہم کنٹرول واپس لینا شروع کرتے ہیں۔

2. ہر بات کو ذاتی نہ بنائیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ ایک عادت کے ساتھ جیتے ہیں: ہر بات کو ذاتی بنا لینا۔ کوئی ہمیں میسج کا جواب نہ دے تو فوراً دل میں خیال آتا ہے: "اس نے مجھے نظرانداز کیا ہے"۔ کسی کا لہجہ ذرا سا سخت ہو جائے تو ہم خود سے کہتے ہیں: "یہ میرے خلاف تھا"۔ ڈینیئل چڈویّا کہتا ہے کہ جب ہم ہر بات کو ذاتی بنا لیتے ہیں تو ہم اپنی طاقت دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ ہم اپنے جذبات کی کنجی دوسروں کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ ہمیں جان بوجھ کر دکھ نہیں دیتے۔ وہ خود اپنی زندگی کی الجھنوں میں الجھے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم فوراً خود کو کہانی کا مرکز بنا لیتے ہیں۔ ہر خاموشی نفرت نہیں ہوتی اور ہر بدلا ہوا لہجہ ہمارے خلاف نہیں ہوتا۔ جس دن آپ یہ فرق سمجھ لیتے ہیں، اس دن دل ہلکا ہو جاتا ہے۔

3. ردِ عمل نہیں، جواب دیں۔
زندگی میں سب سے بڑی غلطی یہ نہیں ہوتی کہ کوئی ہمیں کچھ کہہ دے۔ اصل غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم فوراً ردِ عمل دے دیتے ہیں۔ ردِ عمل وہ لمحہ ہوتا ہے جب غصہ بولتا ہے، جذبات کنٹرول سنبھال لیتے ہیں اور انا ہمیں آگے دھکیل دیتی ہے۔ ڈینیئل کہتا ہے: "ری ایکشن کمزوری ہے، ریسپانس طاقت ہے۔" ردِ عمل میں کہے گئے الفاظ بعد میں دل پر بوجھ بن جاتے ہیں، اور جواب میں کہی گئی خاموشی دل کو ہلکا کر دیتی ہے۔ جواب دینے والا شخص جلدی نہیں کرتا۔ وہ سانس لیتا ہے، سوچتا ہے، اور پھر فیصلہ کرتا ہے کہ بولنا ہے یا نہیں۔ اکثر خاموشی سب سے اونچی آواز ہوتی ہے۔ ہر بات کا جواب دینا آپ کی ذہنی صحت پر قرض چڑھاتا ہے۔ خاموشی کمزوری نہیں، یہ خود پر قابو پانے کی علامت ہے۔

4. اوور تھنکنگ کا جال۔
اوور تھنکنگ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ سکون مار دیتا ہے۔ ہم ایک بات کو سو بار سوچتے ہیں، سو مختلف معنی نکالتے ہیں اور خود کو ہی تکلیف دیتے ہیں۔ کتاب کہتی ہے: جو بات کنٹرول میں نہیں، اس پر سوچنا وقت اور توانائی کا زیاں ہے۔ اوور تھنکنگ ہمیں حال سے چرا کر مستقبل کے خوف میں پھینک دیتی ہے۔ سکون اس وقت آتا ہے جب آپ چھوڑنا سیکھتے ہیں۔

5. لوگوں کو خوش کرنے کی عادت۔
کتاب ہمیں ایک تلخ مگر ضروری حقیقت بتاتی ہے: آپ سب کو خوش نہیں کر سکتے، اور یہ آپ کی ذمہ داری بھی نہیں۔ جب آپ ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آخر میں خود کو ناراض کر بیٹھتے ہیں۔ آپ کی "ہاں" کہنے کی عادت لوگوں کو مضبوط نہیں بناتی، بلکہ آپ کو تھکا دیتی ہے۔ "نہ" کہنا خود غرضی نہیں، خود حفاظت ہے۔

6. حدود (باؤنڈریز): سکون کی دیواریں۔
حدود کا مطلب بدتمیزی نہیں، بلکہ خودداری ہے۔ جب آپ حدود بناتے ہیں تو لوگ سیکھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے۔ جو آپ کی حدود کا احترام نہیں کرتا، وہ آپ کے سکون کے قابل نہیں۔ حدود بنانا اپنی زندگی میں نظم پیدا کرنا ہے۔

7. سکون ایک انتخاب ہے۔
کتاب کا سب سے خوبصورت پیغام یہ ہے کہ سکون ایک انتخاب ہے۔ ہر لڑائی لڑنا ضروری نہیں، ہر بات ثابت کرنا ضروری نہیں، ہر چیز کو دل پر لینا ضروری نہیں۔ آپ کو پورا حق ہے کہ آپ اپنی ذہنی صحت کو ہر چیز پر ترجیح دیں۔ سکون باہر نہیں ملتا، یہ اندر پیدا ہوتا ہے۔

آخر میں:
یہ کتاب ہمیں ایک بہت اہم سبق دے کر رخصت ہوتی ہے: زندگی دل کے بوجھ کے ساتھ نہیں، بلکہ شعور اور سمجھ کے ساتھ جینے کے لیے ہے۔ یہ کتاب ہمیں مضبوط اس لیے نہیں بناتی کہ ہم ہر تکلیف سے لڑیں، بلکہ اس لیے کہ ہم سیکھیں کہ ہر چیز ہماری جنگ نہیں ہوتی۔

· خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ خود پر قابو پانے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
· چھوڑ دینا ہار نہیں، بلکہ اپنی ذہنی صحت کو بچانے کا فیصلہ ہے۔
· اپنے آپ کو ترجیح دینا خودغرضی نہیں، بلکہ خود سے محبت کی پہلی نشانی ہے۔

ڈینیئل چڈویّا ہمیں یہ ہمت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے دروازے پر ہر کسی کو داخل نہ ہونے دیں۔ ہر شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ ہماری سوچ، ہمارے جذبات اور ہمارے سکون تک رسائی حاصل کرے۔ جب آپ یہ سیکھ لیتے ہیں کہ کب رکنا ہے، کہاں خاموش رہنا ہے، اور کس چیز کو چھوڑ دینا ہے، تو زندگی آہستہ آہستہ ہلکی ہونے لگتی ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگوں کے الفاظ آپ کے دل پر کم اثر کریں، لوگوں کا رویہ آپ کے سکون کو نہ چھینے، اور حالات آپ کو اندر سے کمزور نہ کریں، تو اس کتاب کے پیغام کو آج سے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یاد رکھیں: سکون کوئی انعام نہیں جو کوئی آپ کو دے، یہ آپ کا حق ہے۔ اور اب وقت ہے کہ آپ اپنی طاقت واپس لیں، اپنی حدود قائم کریں، اور وہ سکون واپس لے لیں جو کبھی آپ نے دوسروں کے حوالے کر دیا تھا۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگوں کی باتیں آپ کو کم متاثر کریں، آپ ذہنی طور پر مضبوط بنیں اور اپنی زندگی میں سکون واپس لائیں، تو یہ کتاب واقعی پڑھنے کے قابل ہے۔ یاد رکھیں: ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں، اور ہر بات کا جواب دینا بھی نہیں۔ اسلام علیکم

آنسو قیمتی اور نایاب موتیوں جیسے ہوتے ہیں زندگی آنسوؤں اور خوشیوں پر مشتمل ہے احساسات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان میں بدل...
11/10/2025

آنسو قیمتی اور نایاب موتیوں جیسے ہوتے ہیں

زندگی آنسوؤں اور خوشیوں پر مشتمل ہے احساسات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان میں بدلاؤ اس لیے ضروری ہے کہ ایک ہی موسم میں تمام پھلوں کی کاشت ممکن نہیں ہے میں کہتا ہوں کہ وہ آنسو آپ کے فائدے میں رہتے ہیں جو آنکھوں کے راستے بہہ جائیں کیونکہ وہ آپ کو پرسکون کرتے ہیں ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے جیسے اندر کا غبار اور درد نچوڑ کر ان آنسوؤں نے کسی بہترین طبیب کا کردار ادا کیا ہے
مجھے لوگوں کے ان آنسوؤں پر زیادہ دکھ ہوتا ہے

https://urdustiry.wordpress.com/

جو ضبط کر لیے جائیں کیونکہ ایسا ہر ایک آنسو انسان کے اندر نئے طوفان کی بنیاد رکھتا ہے جب کبھی آپ بہت زیادہ افسردہ ہوں تو کسی کونے میں بیٹھ کر رو لیا کریں جی بھر کر روئیں کوئی حرج نہیں ہے بس اتنا خیال رکھیے گا اس وقت آپ کو یا تو اللّٰہ تعالیٰ دیکھ سکتا ہو یا پھر آپ خود کسی بے حس شخص کے سامنے آنسو بہا کر خود کو نظر انداز کیے جانے کی تکلیف میں مبتلا مت کریں یاد رکھیں کہ آپ کے آنسو بھی قیمتی موتیوں جیسے ہوتے ہیں ان کی قیمت صرف آپ جانتے ہیں اس لیے دوسروں سے امیدیں وابستہ مت کریں بلکہ خود کو یہ بات سمجھا دیں کہ آپ خدا کی بنائی ہوئی ایک خوب صورت تخلیق ہیں جسے کسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے لہٰذا کسی کے کہنے پر خود کو بے کار سمجھنے کی غلطی کبھی مت کریں
لیکن! ہر وقت کا رونا دھونا ایسے ہی ہے جیسے کوئی زمین ہر موسم میں ہر فصل کی کاشت پر ماتم شروع کر دے اور ایک دن کسان اس زمین کو بنجر سمجھ کر صرف کاغذوں تک محدود کر دیتا ہے یا وہ دو ٹکے میں فروخت کر دی جاتی ہے جس میں ہر خریدار اپنی مرضی کے مطابق تبدیلیاں کر کے آگے بڑھ جاتا ہے ہر ایک بات پر ہر دوسرے شخص کے سامنے آنسو بہاتے رہنا ایسا ہی ہے جیسے آپ خود کو کم تر سمجھتے ہیں ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ پر ترس کھائیں آپ کی قابلیت اور صلاحیت کو ایسے ہی زنگ لگ جاتا ہے جب آپ ہمدردیاں حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں أنسو قیمتی اور نایاب موتیوں جیسے ہوتے ہیں اور انمول چیزوں کا استعمال بوقتِ ضرورت دیکھ بھال کر سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے
_*

1. ”کہانیوں کی دنیا، اردو کی زبانی“ (A world of stories, told in Urdu) 2. ”لفظوں میں چھپی کہانیاں“ (Stories hidden in words) 3. ”دل کو چھو لینے والی اردو کہانیاں“ (Urdu stories that touch the h…

11/10/2025

زندگی آنسوؤں اور خوشیوں پر مشتمل ہے احساسات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان میں بدلاؤ اس لیے ضروری ہے کہ ایک ہی موسم میں تمام پھلوں کی کاشت ممکن نہیں ہے میں کہتا ہوں کہ وہ آ....

Address

Hangu
Hangu
26190

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سبق آموز کہانیاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share