26/06/2026
مائیں عالمی خبر رساں اداروں سے بھی زیادہ سچی اور باخبر تھیں
علی ہلال
جب ہم بچے تھے تو گاؤں دیہات کی مائیں کہا کرتی تھیں کہ شہروں میں بچے اغوا ہو جاتے ہیں۔ کچھ آدم خور صفت لوگ بچوں کو اغوا کرکے نامعلوم مقامات پر لے جاتے ہیں اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیتے ہیں۔
گاؤں سے جب بھی کوئی بچہ روزگار کی تلاش میں لاہور، کراچی یا کسی دوسرے بڑے شہر کا رخ کرتا تو مائیں، دادیاں، بھابھیاں اور گاؤں کی بڑی عمر کی خواتین اسے رخصت کرتے وقت طرح طرح کی نصیحتیں کرتیں۔ وہ سختی سے تاکید کرتیں کہ کسی اجنبی کے ہاتھ سے کوئی چیز نہ کھانا اور نہ ہی کسی نامعلوم شخص پر بھروسا کرنا۔
ان گاؤں دیہات میں خبروں کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ نہ ٹی وی تھا، نہ اخبارات؛ ریڈیو ہی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ تھا، مگر اس پر بھی ایسی خبریں کبھی سننے میں نہیں آتی تھیں۔ اسی لیے جب ہم بڑے ہو کر شہروں میں آئے تو سب سے پہلے بچپن میں سنی ہوئی ان باتوں پر ہنسنے لگے۔
لیکن آج جب سرگودھا کی منتہا سے لے کر قائدآباد، چارسدہ اور سوات تک کم سن بچوں اور بچیوں کے اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعات سنتا ہوں تو مجھے اپنی اس سادگی پر ہنسی آتی ہے کہ ہم نے شہروں پر کس قدر آنکھیں بند کرکے اعتماد کر لیا تھا۔ ہم انسانوں کے بارے میں کس قدر خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ ہم نے اپنی ماؤں کی نصیحتوں کو دیہاتی عورتوں کے بے بنیاد وسوسے سمجھ کر نظر انداز کیا۔
مائیں غلط نہیں تھیں۔ شہروں میں انسانوں کے ہجوم میں درندے بھی گھومتے ہیں۔ بچے اور بچیاں محفوظ نہیں رہے۔ یہ معاشرہ آدم خور اور آدم نوچ انسانوں سے بھرا پڑا ہے۔
بقول مولانا ابوالکلام آزاد، سانپوں کے بلوں اور جانوروں کے غاروں میں امن ہے، مگر انسانوں کی بستی میں امن نہیں۔
آج مائیں اپنے بچوں کو گلی کی دکان سے کوئی چیز لانے کے لیے بھیجنے سے ڈرتی ہیں۔ اسکول یا ٹیوشن جانے والے بچوں کی بحفاظت واپسی تک دل بے چین رہتا ہے۔ پڑوسی پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ بعض واقعات نے اساتذہ اور معلموں جیسے مقدس پیشوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ رشتے داریاں بھی شکوک و شبہات کی دھند میں لپٹتی جا رہی ہیں۔
ایک مرد ہونے کے ناطے کبھی کبھی گلی محلے کی خواتین کے سامنے سے گزرتے ہوئے بھی جھجک محسوس ہوتی ہے۔ ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کے بعد کسی معصوم بچے کو محبت سے دیکھنے، کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنے یا کسی ننھی بچی کے ہاتھ سے پانی کی بوتل لے کر مدد کرنے میں بھی ایک انجانا خوف محسوس ہوتا ہے۔
بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے پے در پے واقعات نے مجھے اندر سے سمیٹ دیا ہے۔ میں نے خود کو بہت محدود کر لیا ہے۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی جذبات سے خوف زدہ ہو گئے ہوں۔ دوستوں کے بچوں سے بھی غیر ضروری قربت سے گریز کرنے لگا ہوں، اور میرا خیال ہے کہ میری طرح بہت سے لوگ اس خوف کے زیرِ اثر اپنی فطری شفقت کا اظہار کرنے سے ہچکچانے لگے ہیں۔
اے میرے خدا! یہ زمانہ کس قدر خوفناک سمت میں چل پڑا ہے۔
آج جب ماضی کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ گاؤں دیہات کی ہماری مائیں واقعی بڑی باخبر تھیں۔ ان کی خبرگیری، احتیاط اور بچوں کے بارے میں حساسیت کسی بھی عالمی خبر رساں ادارے سے کہیں زیادہ تیز تھی، اور ان کی نصیحتوں میں ایک ایسی سچائی تھی جس کی قدر ہمیں بہت دیر سے سمجھ آئی۔