A & J Law Chamber

A & J Law Chamber A & J Law Chamber

28/03/2024
27/03/2024

Hafizabad bar unanimously condemns the fake FIR against the Secretary Bar, Rai Waqar Hussain Kharal and other honourable lawyers, and demands the immediate quashing of the FIR. Otherwise, the Deputy Commissioner Hafizabad will be held responsible for any misadventure.

27/03/2024

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کا آئی ایس آئی کی طرف سے عدلیہ میں کھلی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو آنکھیں کھول دینے والا خط:

خط کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے ذاتی گھروں کے کمروں میں خفیہ کمرے پاۓ گیے ہیں۔ جو کہ بلب کے پیچھے فٹ کیے گیے تھے اور ان میں آواز کی ریکارڈنگ تک کا بندوست کیا گیا تھا۔

ججز کے قریبی عزیزوں کو مذکورہ ادارے نے متعدد بار اٹھایا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو سیاسی کیسز میں اس کے زریعے دھمکانے کی کوشش کی۔

اسلام آباد ہائی تین ججز نے ایک سیاسی کیس سنا۔ بنچ میں عامر فاروق موجودہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بھی تھے۔ جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ لکھا اور دیگر دو ججز کو دستخط کے لیے بھیجا۔ دونوں ججز نے عامر فاروق سے اختلاف کیا اور اپنا نوٹ لکھا۔ جس پہ آئی ایس آئی نے دونوں ججز پہ حد درجے پریشر ڈالا اور ان کے قریبی رشتی داروں کو دھمکانے کی کوشش کی۔ ( یہ مشہور ٹیریان کیس کی بات ہورہی ہے)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے انسپکشن جج نے اسلام آباد ہائی کے چیف جسٹس کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پہ آئی ایس ائی کی طرف سے بہت پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ یہ بات ٹی روم میں سبھی ججز کے سامنے ڈسکس ہوا۔ ایک ڈسٹرک جج کے گھر میں باقاعدہ کریکر پھیکنے گیے تاکہ اس سے مخصوص کیسز میں فایدہ لیا جاسکے۔ اس جج نے جب مذکورہ ادارے کی شکایت اسلام آباد ہائی کورٹ کو کی دو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اسے ہٹا کر اسلام آباد میں بطور سزا تعینات کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کے دیگر ججز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا اور مذکورہ ادارے کی مداخلت کو اس کے علم میں لانا چاہا مگر اس خط پہ آج تک کچھ نہیں ہوا۔

چند دن قبل اسلام آباد ہائی کے چھ ججز نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک اور خط لکھا اور پھر سے مذکورہ ادارے کی مداخلت کی شکایت کی مگر اب تک اس پہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔

لہذا چھ ججز سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کرتی ہے کہ اس حوالے سے پورے ملک کی عدلیہ کی ایک اجلاس بلایا جائے اور اس میں بیٹھ کر سب سے پوچھا جائے کہ کیا ان کے ساتھ بھی مذکورہ ادارے نے یہی رویہ اپنایا ہے اور وہاں بھی مداخلت ہورہی ہے۔ اگر ہاں تو اس حوالے سے ایک جامع پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے ورنہ عدلیہ کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔

ان چھ ججز کے نام ذیل میں ہیں:

جسٹس محسن اختر کیانی
جسٹس طارق محمود جھانگیری
جسٹس بابر ستار
جسٹس سردار اعجاز اسحاق
جسٹس ارباب طاہر
جسٹس ثمن رفعت

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سالکس درجہ گراں سَیر ہیں محکوم کے اوقاتآزاد کا اندیشہ حقیقت سے منوّرمحکوم کا اندیشہ گرفتارِ...
02/02/2024

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سَیر ہیں محکوم کے اوقات

آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منوّر
محکوم کا اندیشہ گرفتارِ خُرافات

محکوم کو پِیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندۂ آزاد خود اک زندہ کرامات

اقبال! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا
موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات

Congratulations to newly elected cabinet DBA Hafizabad
13/01/2024

Congratulations to newly elected cabinet DBA Hafizabad

19/12/2023
16/12/2023
16/12/2023
12/12/2023

Assalamualaikum, This page had been inactive for a while for some reasons. Now updates regarding Hafizabad bar will be resumed on this page.

If you people are interested in updates about upcoming elections, I can share the current situation of candidates as well.

Regards,

Address

Hafizabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A & J Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share