Professor ali waqas

Professor ali waqas A & F Law Firm

01/12/2024

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی
حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اسنے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا..ایک طرف موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود الله کے بندوں،اولیاں اور علما کے خوں سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔

اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سبکو محفوظ رکھے..!! آمین"
حوالہ جات
البدایہ والنہایہ از امام ابن کثیر
تاریخ طبری از امام طبری
الکامل فی التاریخ از ابن اثیر

آج صبح گیس کی بندش کیوجہ سے بیگم نے کہا کہ تنور سے ناشتے کیلئے نان لے آئیں 101 بخار میں  جب بیگم باہر جانے کا آرڈر کرے ت...
03/01/2023

آج صبح گیس کی بندش کیوجہ سے بیگم نے کہا کہ تنور سے ناشتے کیلئے نان لے آئیں 101 بخار میں جب بیگم باہر جانے کا آرڈر کرے تو اس وقت بیگم کا چہرہ کسی سنگدل تاتاری فوج کے درندے جرنیل جیسا لگتا ہے بہرحال جانا تو تھا ہی ورنہ گھر کے اندر چوتھی عالمی جنگ جو قیامت کی آخری نشانی ہے لگ جاتی لہذا اپنی صحت کی قربانی دیتے ہوئے بیگم کے آگے ایک بھکاری کی طرح ہاتھ بڑھا کر کہا کہ پانچ نانوں کی قیمت مبلغ ایک سو روپیہ عنایت کردیں ہتھیلی گرم ہوتے ہی عازم تنور ہوا ۔ جیسے ہی تنور پر پہنچا اور پانچ نانوں کا آرڈر کیا ۔۔۔نان بائی پیڑے کرنے لگا اور میں نے ہاتھ میں پکڑا وہ سو روپے کا نوٹ نکال کر اس کی نان لگانے والی گدی کے پاس رکھ دیا جیسے ہی وہ پیڑے بنا کر گدی کے پاس آیا تو کہنے لگا ۔۔اے تسی رکھیا وے سو روپیہ۔۔میں نے بڑی ناگوار سی شکل بناتے ہوئے اور احسان جتلانے کے انداز سے جواب دیا ۔۔۔۔آہو ۔۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر مسکراتے ہوئے ایسے جواب دیا ( جیسے وہ سمجھ گیا ہو کہ کسی جرنیل نے اس کو پٹھو لگا کر بھیجا ہے اور یہ اس کا غصہ یہاں نکال رہا ہے) پائی جان اک نان تری یعنی تیس روپے دا ہوگیا اے تے روٹی وی یعنی بیس روپے دی ہوگئی اے۔۔یہ سننا تھا کہ میرے بدن کے اندر موجود 101 درجہ حرارت ایسے محسوس ہوا کہ منفی 101 ہوگیا جسم ایک دم ٹھنڈا ہوگیا آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور ایسا محسوس ہوا کہ اس شخص کو علم ہوگیا ہے کہ جورو کا غلام کیسا ہوتا ہے سن رکھا تھا آج دیکھ بھی لیا۔۔۔۔
او کملیو میرا جسم نان کی قیمت بڑھنے پر ٹھنڈا نہیں ہوا تھا بلکہ میرا جسم یہ سوچ کر ٹھنڈا ہوا تھا کہ نان بائی نے یہ قیمت بڑھنے کی خوش خبری مسکراتے ہوئے اس لئے دی کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ گھر سے جرنل صاحب نے گن کر صرف سو روپے دئیے ہیں اور موصوف اب باقی پچاس روپے دینے کی بجائے مجھ سے لڑینگے قیمت بڑھانے کی زیادتی کا رونا روئیں گے لہزا مسکرا کر بتا دیتا ہوں کہ آج آپ کی عزت رکھ لیتا ہوں کل سے پیسے پورے لیکر آنا ۔۔۔
لہذا میرے بھائیو یہ کبھی مت سمجھنا مہنگائی ہو رہی ہے بلکہ یہ ہی سوچنا کہ بیگم نے پیسے پورے نہیں دیئے اس طرح آپ کی لڑائی نہ گھر میں ہوگی اور نہ باہر ۔۔بلکہ باہر والے لوگ آپ کو ہر دو طرح کے وزراء اعظم کا مظلوم تسلیم کرلیں گے ۔۔ایک گھر کی وزیر اعظم اور دوسرا ریاست کے وزیر اعظم۔۔۔
شیخ علی وقاص ایڈووکیٹ

30/12/2022
28/12/2022

آجکل کے بچے اپنی مرضی کی فیملی جوائن کرتے ہیں ۔۔ولید کی میٹھی باتیں ۔۔

19/01/2022

I strongly Support Democratic Presidential System in Pakistan.
Do u?
Comment plz

بے شک سمندر کی گہرائی کی پیمائش کی جاسکتی ہے لیکن انسان کی ہوس کی گہرائی کو جانچنا ناممکن ہے۔۔اسی لئے اللہ نے قرآن میں ب...
30/03/2021

بے شک سمندر کی گہرائی کی پیمائش کی جاسکتی ہے لیکن انسان کی ہوس کی گہرائی کو جانچنا ناممکن ہے۔۔اسی لئے اللہ نے قرآن میں بچے کی پیدائش سے پہلے ہی بتا دیا تھا
کہ تم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ میں کیا۔۔۔
پروفیسر علی وقاص

30/03/2021

My Love My Quaid..

18/12/2020

Father...

Address

Gujrat

Telephone

+923006235200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor ali waqas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share