Law world

Law world my page is about the fresh law points, references and discussion on legal issues either civil, criminal and family

01/10/2026

THE LAW JUSTICE

صلح کے بیان کے بعد قانونی ورثاء رجوع کر سکتے ہیں؟

2026 SCMR 480

SANOOBER KHAN
VERSUS
THE STATE

سپریم کورٹ آف پاکستان

Criminal Petition No. 273 of 2017
فیصلہ: 1 دسمبر 2025
رپورٹڈ: 2026 SCMR 480

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ جب مقتول کے تمام قانونی ورثاء ٹرائل کورٹ کے سامنے باقاعدہ طور پر معافی، صلح اور دستبرداری کے بیانات قلمبند کرا دیں، حلف نامے جمع کرا دیں اور ملزم کی بریت پر عدم اعتراض ظاہر کر دیں، تو بعد میں محض اپنے سابقہ بیانات سے رجوع کرنا آسانی سے قابلِ قبول نہیں رہتا، خصوصاً جب ان بیانات کو اعلیٰ عدالت کے سامنے بروقت چیلنج بھی نہ کیا گیا ہو۔

مقدمے کے حقائق

اس مقدمے میں ملزم Sanoober Khan کو Section 302(b) PPC کے تحت دو افراد کے قتل کے جرم میں ٹرائل کورٹ نے 03.06.2014 کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔

استغاثہ کے مطابق واقعہ 02.02.2013 کو District Dir Lower کے Police Station Lal Qila کی حدود میں پیش آیا، جہاں ملزم نے فائرنگ کرکے Ashfaq اور Mst. Sharafat Bibi کو قتل کیا۔

بعد ازاں مقتولین کے تمام قانونی ورثاء ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے باقاعدہ حلف نامے جمع کرائے اور اپنے بیانات میں واضح طور پر کہا کہ انہوں نے ملزم کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بغیر کسی بدَلِ صلح یا معاوضے کے معاف کر دیا ہے اور انہیں ملزم کی بریت پر کوئی اعتراض نہیں۔

ٹرائل کورٹ نے اس صلح کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ملزم کو بری نہیں کیا، کیونکہ عدالت کے نزدیک جرم غیرت کے نام پر کیا گیا تھا اور اس بنا پر Fasad-fil-arz کا اصول لاگو ہوتا تھا۔

ہائی کورٹ نے بھی یہی مؤقف برقرار رکھا۔

بعد میں قانونی ورثاء کا مؤقف

سپریم کورٹ کے سامنے قانونی ورثاء کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے سابقہ صلح کے بیانات دباؤ کے تحت لیے گئے تھے اور ملزم نے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن بعد میں وعدہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے سابقہ بیانات سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو پہلے ریکارڈ پر موجود حلف ناموں اور بیانات کے ساتھ متصادم قرار دیا، کیونکہ سابقہ بیانات میں قانونی ورثاء نے صاف طور پر کہا تھا کہ انہوں نے بغیر کسی معاوضے کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے دیے گئے بیانات میں کسی دباؤ یا معاوضے کی شرط کا ذکر نہیں تھا اور ان بیانات کو ہائی کورٹ کے سامنے بھی بروقت چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔

اہم قانونی اصول

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب قانونی ورثاء ٹرائل کورٹ کے سامنے صلح، معافی اور عدم اعتراض کے واضح بیانات ریکارڈ کرا دیں اور بعد میں ان بیانات کو ہائی کورٹ کے سامنے چیلنج نہ کیا جائے، تو معاملہ اس حد تک concluded ہو جاتا ہے کہ بعد میں محض رجوع کرکے ان بیانات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

Section 302(b) PPC اور Ta'zir

سپریم کورٹ نے اس امر کو بھی واضح کیا کہ موجودہ مقدمے میں ملزم کو Section 302(b) PPC کے تحت Ta'zir کی سزا دی گئی تھی، نہ کہ Qisas کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ Section 311 PPC کا اطلاق اس صورت میں ہوتا ہے جہاں Qisas کا حق موجود ہو، جبکہ موجودہ مقدمے میں سزا Ta'zir کے طور پر دی گئی تھی۔

لہٰذا Section 311 PPC کی بنیاد پر اس مقدمے کو ناقابلِ صلح قرار دینا درست نہیں تھا۔

Fasad-fil-arz کا نکتہ

عدالت نے Section 299(ee) PPC کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ Fasad-fil-arz میں مجرم کا سابقہ کردار، سابقہ سزا، جرم کا انتہائی سفاک یا چونکا دینے والا انداز، معاشرے کے لیے ممکنہ خطرہ اور غیرت کے نام یا بہانے پر جرم کا ارتکاب بھی شامل ہو سکتا ہے۔

تاہم عدالت نے Section 338-E PPC کی روشنی میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر Fasad-fil-arz کا اصول متوجہ ہو تو قانون کے تحت عدالت کو جرم کی نوعیت کے مطابق قید یا جرمانے کی سزا دینا ہوتی ہے؛ اس شق کے تحت ایسی صورت میں سزائے موت برقرار رکھنے کی بنیاد موجود نہیں تھی۔

2016 کی ترمیم کا اثر

سپریم کورٹ نے 21.10.2016 کی Schedule-II، Code of Criminal Procedure میں کی گئی ترمیم کا بھی جائزہ لیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ترمیم شدہ قانونی اسکیم میں غیرت کے نام یا بہانے پر کیے گئے جرم کے لیے عمر قید کی سزا کا ذکر ہے، جبکہ اس مخصوص قانونی صورتِ حال میں سزائے موت کی گنجائش موجود نہیں۔

تقریباً ساڑھے دس سال Death Cell میں

ایک اہم عملی پہلو یہ بھی تھا کہ ملزم کو 03.06.2014 کو سزائے موت سنائی گئی تھی اور وہ تقریباً 10½ سال Death Cell میں گزار چکا تھا۔

مزید یہ کہ مقتولین کے تمام قانونی ورثاء نے ٹرائل کورٹ میں حلف نامے جمع کرا کے ملزم کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کرنے اور اس کی بریت پر عدم اعتراض کا اظہار کیا تھا۔

سپریم کورٹ کا حتمی حکم

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے:

• Section 302(b) PPC کے تحت conviction برقرار رکھی؛

• دو مرتبہ دی گئی سزائے موت کو دو مرتبہ عمر قید میں تبدیل کر دیا؛

• مقتولین کے قانونی ورثاء کو ادا کی جانے والی compensation اور عدم ادائیگی کی صورت میں مقررہ سزا سے متعلق ٹرائل کورٹ کے احکامات برقرار رکھے؛

• دونوں substantive sentences کو concurrently چلانے کا حکم دیا؛

• ملزم کو Section 382-B Cr.P.C. کا فائدہ بھی دیا؛

• اور قانونی ورثاء کی جانب سے بعد میں دائر کی گئی C.M.A. No. 1801 of 2020 خارج کر دی۔

خلاصۂ اصول

ٹرائل کورٹ کے سامنے قانونی ورثاء کی جانب سے آزادانہ، واضح اور غیر مشروط صلح و معافی کے بیانات، حلف ناموں اور عدم اعتراض کے بعد محض بعد میں رجوع کرنا سابقہ عدالتی ریکارڈ کو ختم نہیں کرتا۔

مزید برآں، Section 302(b) PPC کے تحت Ta'zir کی سزا پانے والے ملزم کے معاملے میں Section 311 PPC کے اطلاق اور Fasad-fil-arz کے اصول کو درست قانونی تناظر میں دیکھا جائے گا؛ اور Section 338-E PPC کے تحت ایسی صورتِ حال میں سزائے موت برقرار رکھنے کے بجائے قانون کے مطابق سزا کا تعین کیا جائے گا۔

2026 SCMR 480
Sanoober Khan v. The State

Relevant authorities referred to by the Supreme Court:

Zahid Rehman v. The State
PLD 2015 SC 77

Suo Motu Case
PLD 2018 SC 703

Kareem Nawaz Khan v. The State
2016 SCMR 291 — distinguished

THE LAW JUSTICE

Roohi Iram Ch. Adv.
21/40 Fatima Jinnah Chambers,
Session Court, Gujranwala

27/09/2026

THE LAW JUSTICE

عدالت سے باعزت بریت کے بعد بھی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ پر ایف آئی آر کا اندراج؟

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

عبدالرحمٰن فریاد بنام حکومتِ پنجاب وغیرہ
W.P. No. 40844/2025
فیصلہ: 18 جولائی 2025
2025 LHC 5162

ایک نوجوان کے خلاف پتنگ بازی کے الزام میں مقدمہ درج ہوا۔ دورانِ ٹرائل اسے دفعہ 249-A ضابطہ فوجداری کے تحت بری کر دیا گیا اور بریت کے خلاف کوئی اپیل بھی دائر نہ ہوئی۔

بعد ازاں بیرونِ ملک جانے کے لیے کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کیا تو اس میں مذکورہ ایف آئی آر کا ذکر موجود تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

عدالت سے بریت کے بعد کسی شخص کو اس مقدمہ کی بنیاد پر بدنام یا نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

پولیس داخلی و انتظامی مقاصد کے لیے ایف آئی آر کا ریکارڈ محفوظ رکھ سکتی ہے، لیکن حتمی بریت کے بعد اسے ایسے انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جس سے بری شدہ شخص کی عزت، شہرت یا مستقبل متاثر ہو۔

عدالت نے آرٹیکل 14 آئینِ پاکستان کے تحت انسانی عزت و وقار کے تحفظ کو بھی اہمیت دی۔

لہٰذا لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ درخواست گزار کو نیا کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں مذکورہ ایف آئی آر کا کوئی ذکر نہ ہو۔

اہم قانونی اصول:

حتمی بریت کے بعد محض ایف آئی آر کا سابقہ اندراج کسی شخص کے خلاف اس کی کردار کشی یا عملی نقصان کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

2025 LHC 5162

Roohi Iram Ch Adv
THE LAW JUSTICE
21/40 Fatima Jinnah Chambers, Session Court, Gujranwala

09/09/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کا اہم فیصلہ
20.08.2026 | 2026

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی ڈرائیور کے پاس مطلوبہ PSV Driving Licence موجود نہ ہو اور وہ پبلک بس چلاتے ہوئے لاپرواہی سے حادثہ کرے، جس کے نتیجے میں انسانی جان ضائع ہو جائے، تو معاملہ Section 322 PPC (Qatl-bis-Sabab) کے تحت آ سکتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ صرف یہ امر کہ Section 322 PPC کی سزا Diyat ہے اور یہ Section 497 Cr.P.C. کی prohibitory clause میں نہیں آتی، ملزم کو ازخود ضمانت کا حق نہیں دیتا۔ عدالت مقدمے کے مجموعی حالات اور وقوعہ کی نوعیت کو مدنظر رکھے گی۔

مقدمہ Riaz Hussain v. The State and another، Criminal Misc. No. 5377-B of 2026 میں ملزم کے پاس PSV Licence موجود نہیں تھا اور مبینہ لاپرواہی کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوئے۔ عدالت نے Further Inquiry کا پہلو بھی تسلیم نہیں کیا۔

⚖️ عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے Majid Nadeem v. The State and another (2011 SCMR 1227) پر بھی انحصار کرتے ہوئے Post-Arrest Bail کی درخواست مسترد کر دی۔

📌 اصول: بغیر مطلوبہ لائسنس پبلک ٹرانسپورٹ چلانا اور اس دوران انسانی جانوں کا ضیاع سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

06/09/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 متنازع دستخطوں کا موازنہ — عدالت کا اختیار اور قانونی احتیاط

قانونِ شہادت آرڈر، 1984 کے Article 84 کے تحت عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ متنازع دستخط، تحریر یا مہر کا موازنہ ایسے دستخط یا تحریر سے کر سکتی ہے جو Admitted or Proved ہو۔

عدالت کسی موجود شخص کو الفاظ یا ہندسے لکھنے کا حکم دے کر بھی ان کا موازنہ متنازع تحریر سے کر سکتی ہے۔

⚠️ تاہم سپریم کورٹ کے مطابق جج کا محض اپنی بصری رائے کی بنیاد پر دستخطوں کا موازنہ کرنا ایک Hazardous and Inconclusive عمل ہو سکتا ہے۔ اس لیے خصوصاً جہاں جعل سازی کا سوال پیچیدہ یا متنازع ہو، وہاں Handwriting Expert / Forensic Examination سے رہنمائی لینا اصولِ احتیاط (Rule of Prudence) کے مطابق زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

📌 اہم نظائر:
2026 SCMR 171
PLJ 2004 SC 703 / 2004 SCMR 361
2006 SCMR 193
2025 LHC 4314
2025 CLC 785

⚖️ اصولی بات:
عدالت کو دستخطوں کا موازنہ کرنے کا قانونی اختیار ضرور حاصل ہے، مگر ہر مقدمے میں اس اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط، معتبر شواہد اور حالاتِ مقدمہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔

👩‍⚖️ ROOHI IRAM CH ADVOCATE
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

06/09/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 اہم عدالتی فیصلہ

2025 PCrLJ 1391

Crl. Appeal No. 22010/22

⚖️ Muhammad Aslam
Vs.
The State etc.

🔴 قریب سے چلائی گئی گولی کے Medico-Legal Effects

عدالت نے اس مقدمے میں Close-Range Gunshot کے نتیجے میں جسم پر ظاہر ہونے والے مختلف Medico-Legal Signs کی اہمیت کو تفصیل سے بیان کیا۔

فائر آرم انجری میں گولی کے Entry Wound کے گرد بعض مخصوص علامات اس بات کا اہم اشارہ ہوتی ہیں کہ فائر نسبتاً قریب سے کیا گیا تھا۔

اہم علامات میں شامل ہیں:

🔥 1۔ Burning & Flame Effects — جلنے اور شعلے کے اثرات

بندوق کے فائر ہونے کے وقت Muzzle سے انتہائی گرم شعلہ اور حرارت خارج ہوتی ہے۔ اگر گولی بہت قریب سے چلائی جائے تو یہ حرارت جلد یا کپڑوں کو جلا، جھلسا یا بد رنگ کر سکتی ہے۔

یہ اثر عموماً Contact یا Near-Contact Fire کی طرف اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔

🔥 2۔ Scorching / Charring — جھلسنا یا سطحی جلن

Scorching دراصل گرم گیسوں کے اثر سے جلد کی سطح پر سرخی، جھلسنے یا سیاہ پڑنے کی کیفیت ہے۔

یہ Burning سے مختلف ہے کیونکہ اس میں عموماً جلد کا مکمل گہرا جلنا ضروری نہیں ہوتا۔

یہ علامت فائر کی ممکنہ دوری کا اندازہ لگانے میں Forensic Evidence کے طور پر اہم ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار Firearm، Am******on اور دیگر حالات پر بھی ہوتا ہے۔

🔥 3۔ Singeing — بالوں کا جھلسنا

Singeing سے مراد فائر کی حرارت اور شعلے کے باعث بالوں کا جزوی طور پر جلنا، سکڑنا یا مڑ جانا ہے۔

یہ سر کے بالوں، داڑھی یا جسم کے کھلے حصوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی اس بات کی تائید کرنے والی علامت ہے کہ فائر کے وقت Muzzle جسم کے نسبتاً قریب تھا۔

⚫ 4۔ Blackening / Smoke Soiling — سیاہی یا دھوئیں کا جمنا

Entry Wound کے اردگرد سیاہ نشان، جسے Blackening، Soot Deposition یا Smoke Soiling کہا جاتا ہے، قریب سے فائر کیے جانے کی ایک اہم علامت ہے۔

یہ فائر کے دوران پیدا ہونے والے Soot اور Combustion Residue کے جلد پر جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ Blackening عموماً صاف کرنے یا پونچھنے سے کم یا ختم ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے یہ Tattooing سے مختلف ہے۔

🟤 5۔ Tattooing / Stippling / Peppering — بارود کے ذرات کے نشان

Tattooing یا Stippling اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فائر کے دوران نکلنے والے جزوی طور پر جلے یا غیر جلے ہوئے Gunpowder Particles جلد میں پیوست ہو جائیں۔

یہ جلد پر چھوٹے چھوٹے نقطہ نما نشانات پیدا کرتے ہیں۔

⚠️ Blackening کے برعکس Tattooing عام طور پر پونچھنے سے ختم نہیں ہوتی کیونکہ بارود کے ذرات جلد میں داخل ہو جاتے ہیں۔

Tattooing کی شدت، پھیلاؤ اور فاصلے کا انحصار Firearm، Am******on، Propellant اور فائر کے حالات پر ہوتا ہے۔

📌 Entry Wound اور Exit Wound میں اہم فرق

قریب سے فائر کیے جانے کی مذکورہ علامات بنیادی طور پر Entry Wound کے اردگرد تلاش کی جاتی ہیں۔

Exit Wound میں عموماً Burning، Scorching، Singeing، Blackening اور Tattooing جیسی muzzle-related علامات موجود نہیں ہوتیں۔

⚖️ Forensic Importance

یہ تمام علامات صرف ظاہری نشان نہیں بلکہ Medico-Legal Evidence کا اہم حصہ ہیں۔

ان کی مدد سے Medical Officer اور Forensic Expert فائر کے ممکنہ فاصلے، فائرنگ کے طریقۂ کار اور وقوعہ کے بیان کردہ حالات کا جائزہ لینے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

📚 عدالتی نکتہ

قریب سے چلائی گئی گولی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے Forensic Medicine میں Modi’s Textbook of Medical Jurisprudence and Toxicology، Taylor’s Principles and Practice of Medical Jurisprudence اور Textbook of Forensic Medicine and Toxicology جیسے بنیادی مراجع میں ان علامات کی تفصیلی وضاحت موجود ہے۔

⚖️ خلاصۂ قانون

Burning + Scorching + Singeing + Blackening + Tattooing

یہ علامات Close-Range Fire کے تعین میں اہم Medico-Legal Indicators ہو سکتی ہیں۔

تاہم کسی مقدمے میں صرف ایک علامت کی بنیاد پر فائر کی حتمی دوری طے نہیں کی جاتی؛ Medical Evidence، Firearm، Am******on، کپڑوں، زخم کی نوعیت اور مقدمے کے دیگر حالات کو مجموعی طور پر دیکھا جاتا ہے۔

⚖️ THE LAW JUSTICE

📖 2025 PCrLJ 1391
Crl. Appeal No. 22010/22
Muhammad Aslam Vs. The State etc.

06/09/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم ترین فیصلہ

Zahir Zakir Jaffar v. The State
PLD 2025 SC 220

⚖️ نور مقدم قتل کیس — ڈیجیٹل شہادت کے بارے میں اہم قانونی اصول

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جدید دور میں CCTV اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈنگ محض معاون شہادت نہیں بلکہ، اگر ان کی اصالت، سالمیت، قابلِ اعتماد ہونا اور Chain of Custody قانونی طور پر ثابت ہو جائے، تو یہ خود ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد شہادتی ذریعہ بن سکتی ہیں۔

📌 Silent Witness Theory:
ایسی ویڈیو یا CCTV ریکارڈنگ، جس کی تیاری اور حفاظت کا نظام قابلِ اعتماد ثابت ہو، کسی انسانی چشم دید گواہ کی ضرورت کے بغیر وقوعہ کے حالات کو خود ظاہر کرنے والی خاموش گواہ بن سکتی ہے۔

📌 Pictorial Testimony Theory:
اگر کوئی گواہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے واقعہ کی درست عکاسی کی تصدیق کرے تو ویڈیو کو اس گواہ کی شہادت کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوں دونوں نظریات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ Silent Witness میں خود ریکارڈنگ کا اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ Pictorial Testimony میں انسانی گواہ ریکارڈنگ کی صحت کی تصدیق کرتا ہے۔

📌 ڈیجیٹل شہادت کی قانونی حیثیت:
CCTV، ویڈیو، موبائل ڈیٹا اور دیگر الیکٹرانک ریکارڈ، قانونِ شہادت کے تحت مناسب شرائط پوری ہونے پر Documentary Evidence کے طور پر قابلِ قبول ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں Ahmed Omer Saeed Sheikh v. The State, 2021 SCMR 873 اور Ishtiaq Ahmed Mirza v. The State, PLD 2019 SC 675 کے اصول بھی اہم ہیں۔

📌 Article 164 Qanun-e-Shahadat:
جدید ذرائع سے حاصل ہونے والی شہادت کو قانونِ شہادت کے دائرے میں قبول کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ بعد کی قانونی ترامیم نے الیکٹرانک اور جدید ذرائع سے حاصل شدہ شہادت کے استعمال کو مزید تقویت دی ہے۔

📌 Article 84 Qanun-e-Shahadat:
عدالت مناسب حالات میں تصویر، ویڈیو یا دیگر بصری مواد کا موازنہ اور جائزہ لے سکتی ہے، تاہم اس کی شناخت اور اعتماد کا تعین قانونی اصولوں کے مطابق کیا جائے گا۔

📌 Chain of Custody:
ڈیجیٹل شہادت کی اہمیت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب یہ ثابت ہو کہ ریکارڈنگ کہاں سے حاصل ہوئی، کس نے قبضے میں لی، کس طرح محفوظ کی گئی اور اس دوران اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا جعل سازی نہیں ہوئی۔

📌 فرانزک تصدیق:
ڈیجیٹل ریکارڈ کی Authenticity اور Integrity کا تعین انتہائی اہم ہے۔ ریکارڈنگ کے اصل ماخذ، محفوظ شدہ ڈیٹا اور فرانزک معائنہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

📌 CCTV بطور بنیادی شہادت:
اگر CCTV ریکارڈنگ مستند، غیر تبدیل شدہ، قابلِ اعتماد ہو اور اس میں ملزم کی شناخت اور وقوعہ واضح طور پر ثابت ہو، تو مناسب مقدمے میں یہ اکیلی بھی سزا کی بنیاد بن سکتی ہے؛ تاہم محض ویڈیو کی موجودگی کافی نہیں بلکہ اس کی قانونی بنیاد اور Authenticity بھی ثابت ہونا ضروری ہے۔

📌 Circumstantial Evidence:
فوجداری مقدمے میں حالات و قرائن کی شہادت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ڈیجیٹل، فرانزک، طبی اور دیگر حالات ایک دوسرے سے مربوط ہو کر مکمل اور ناقابلِ شکست زنجیر تشکیل دیں اور ملزم کے جرم کے علاوہ کوئی معقول مفروضہ باقی نہ رہے، تو ایسی شہادت conviction کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

⚖️ خلاصۂ اصول:
ڈیجیٹل دور میں انصاف صرف انسانی آنکھوں سے دیکھی ہوئی شہادت تک محدود نہیں؛ ایک مستند اور محفوظ کی گئی CCTV ریکارڈنگ بھی قانون کی نظر میں ایک مؤثر "خاموش گواہ" بن سکتی ہے، بشرطیکہ اس کی اصالت، سالمیت، فرانزک اعتبار اور Chain of Custody بلا شبہ ثابت ہو۔

📚 PLD 2025 SC 220
Zahir Zakir Jaffar v. The State

⚖️ THE LAW JUSTICE

31/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 PLD 2026 Lahore 601

🏛️ Lahore High Court

🔴 Photo Account — چیک کی قانونی حیثیت

📌 Photo Account کیا ہے؟

Photo Account ایسا بینک اکاؤنٹ ہے جو بالخصوص ایسے شخص کے لیے کھولا جاتا ہے جو باقاعدہ دستخط کرنے سے قاصر ہو۔ ایسے اکاؤنٹ میں Account Holder کی شناخت کے لیے اس کی تصویر اور نشانِ انگوٹھا (Thumb Impression) ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

⚖️ State Bank of Pakistan Circular No. 10 dated 29.03.2003

کے تحت Photo Account کے لیے Account Holder کی تصویر اور دونوں ہاتھوں کے Thumb Impressions لینا ضروری قرار دیا گیا۔

🔹 Clause 1.5 کے مطابق Photo Account کا چیک اس وقت تک قابلِ عمل نہیں ہوتا جب تک Account Holder خود بینک میں حاضر ہو کر Bank Officer کی موجودگی میں چیک پر اپنا Thumb Impression نہ لگائے۔

📌 اہم قانونی اصول

اگر Photo Account کا چیک Account Holder کی ذاتی موجودگی اور مقررہ طریقۂ کار کے بغیر بینک میں پیش کیا جائے اور اسی بنیاد پر چیک واپس ہو جائے، تو ایسی واپسی کو محض عام چیک کے Dishonour کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

⚖️ Lahore High Court کا اہم اصول

Photo Account کے چیک کی مقررہ طریقۂ کار کے بغیر یک طرفہ Presentation، چیک کے قانونی Dishonour اور Cause of Action کے سوال پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

📚 Relevant Law

State Bank of Pakistan Circular No. 10 dated 29.03.2003

Clause 1.5 — Terms & Conditions Governing Photo Account

Order ###VII CPC

🔴 Legal Takeaway

Photo Account کے چیک کی Presentation کے وقت Account Holder کی ذاتی موجودگی اور مقررہ Banking Procedure کی پابندی بنیادی قانونی اہمیت رکھتی ہے۔

📖 Reference: PLD 2026 Lahore 601

⚖️ THE LAW JUSTICE

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

28/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2026 MLD 318

🏛️ سوشل میڈیا پر دھمکی اور سائبر دہشت گردی

🔴 اہم قانونی اصول

سوشل میڈیا پر کسی کو آن لائن دھمکیاں دینا یا خوف و ہراس پھیلانا ازخود سائبر دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

⚖️ عدالت نے قرار دیا کہ محض کسی سوشل میڈیا پوسٹ یا بیان کی بنیاد پر اسے دہشت گردی کے زمرے میں لانے کے لیے ٹھوس اور آزادانہ شواہد ضروری ہیں۔

🔹 ایسی پوسٹ یا آن لائن عمل اسی صورت میں دہشت گردی کے قانون کے تحت آ سکتا ہے جب وہ حقیقتاً عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بنے۔

📌 محض سوشل میڈیا پوسٹ کافی نہیں؛ دہشت گردی کے الزام کے لیے اس کے حقیقی اثرات اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

27/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2025 SCMR 1357

🏛️ رَب نواز بنام شہزاد حسن
⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان

🔴 ضمانت منسوخی کے اہم اصول

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ضمانت منظور کرنے کے حکم میں اپیلیٹ عدالت صرف اسی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب:

🔹 حکم بادی النظر میں Perverse ہو، یعنی ریکارڈ پر موجود اہم مواد کو نظر انداز کیا گیا ہو، وجوہات بیان نہ کی گئی ہوں یا من مانی سے کام لیا گیا ہو۔

🔹 ضمانت دینے کے طے شدہ قانونی اصولوں کو واضح طور پر نظر انداز کیا گیا ہو۔

⚖️ ضمانت کے مرحلے پر شہادت کا گہرا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ عدالت صرف ابتدائی طور پر یہ دیکھتی ہے کہ ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کے معقول اور قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

📌 اصول:
صرف اختلافِ رائے کی بنیاد پر ضمانت منسوخ نہیں کی جا سکتی؛ مداخلت کے لیے واضح قانونی خرابی یا ضمانت کے مسلمہ اصولوں سے انحراف ضروری ہے۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS, SESSION COURT GUJRANWALA

27/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2020 SCMR 1115

🏛️ سپریم کورٹ آف پاکستان

🔴 ضمانت منسوخی کی وجوہات

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ کسی ملزم کی منظور شدہ ضمانت درج ذیل حالات میں منسوخ کی جا سکتی ہے:

🔹 ضمانت کا حکم صریحاً غیر قانونی، غلط یا حقائق کے منافی ہو اور اس سے انصاف متاثر ہوا ہو۔

🔹 ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو۔

🔹 ملزم نے استغاثہ کے گواہوں کو راضی کرنے، دھمکانے یا دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہو۔

🔹 ملزم کے مفرور ہونے کا قوی امکان ہو۔

🔹 ملزم نے تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہو۔

🔹 ملزم نے ضمانت پر رہائی کے دوران کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کیا ہو۔

🔹 تفتیش کے دوران نئے حقائق یا ایسا نیا مواد سامنے آیا ہو جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہو۔

⚖️ اہم اصول:
ضمانت منسوخی کے لیے محض اختلافِ رائے کافی نہیں؛ قانون میں تسلیم شدہ وجوہات اور حالات کا موجود ہونا ضروری ہے۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS, SESSION COURT GUJRANWALA

Address

Session Court Civil Road
Gujranwala
131975

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law world:

Shortcuts

Share