01/10/2026
THE LAW JUSTICE
صلح کے بیان کے بعد قانونی ورثاء رجوع کر سکتے ہیں؟
2026 SCMR 480
SANOOBER KHAN
VERSUS
THE STATE
سپریم کورٹ آف پاکستان
Criminal Petition No. 273 of 2017
فیصلہ: 1 دسمبر 2025
رپورٹڈ: 2026 SCMR 480
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ جب مقتول کے تمام قانونی ورثاء ٹرائل کورٹ کے سامنے باقاعدہ طور پر معافی، صلح اور دستبرداری کے بیانات قلمبند کرا دیں، حلف نامے جمع کرا دیں اور ملزم کی بریت پر عدم اعتراض ظاہر کر دیں، تو بعد میں محض اپنے سابقہ بیانات سے رجوع کرنا آسانی سے قابلِ قبول نہیں رہتا، خصوصاً جب ان بیانات کو اعلیٰ عدالت کے سامنے بروقت چیلنج بھی نہ کیا گیا ہو۔
مقدمے کے حقائق
اس مقدمے میں ملزم Sanoober Khan کو Section 302(b) PPC کے تحت دو افراد کے قتل کے جرم میں ٹرائل کورٹ نے 03.06.2014 کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔
استغاثہ کے مطابق واقعہ 02.02.2013 کو District Dir Lower کے Police Station Lal Qila کی حدود میں پیش آیا، جہاں ملزم نے فائرنگ کرکے Ashfaq اور Mst. Sharafat Bibi کو قتل کیا۔
بعد ازاں مقتولین کے تمام قانونی ورثاء ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے باقاعدہ حلف نامے جمع کرائے اور اپنے بیانات میں واضح طور پر کہا کہ انہوں نے ملزم کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بغیر کسی بدَلِ صلح یا معاوضے کے معاف کر دیا ہے اور انہیں ملزم کی بریت پر کوئی اعتراض نہیں۔
ٹرائل کورٹ نے اس صلح کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ملزم کو بری نہیں کیا، کیونکہ عدالت کے نزدیک جرم غیرت کے نام پر کیا گیا تھا اور اس بنا پر Fasad-fil-arz کا اصول لاگو ہوتا تھا۔
ہائی کورٹ نے بھی یہی مؤقف برقرار رکھا۔
بعد میں قانونی ورثاء کا مؤقف
سپریم کورٹ کے سامنے قانونی ورثاء کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے سابقہ صلح کے بیانات دباؤ کے تحت لیے گئے تھے اور ملزم نے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن بعد میں وعدہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے سابقہ بیانات سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو پہلے ریکارڈ پر موجود حلف ناموں اور بیانات کے ساتھ متصادم قرار دیا، کیونکہ سابقہ بیانات میں قانونی ورثاء نے صاف طور پر کہا تھا کہ انہوں نے بغیر کسی معاوضے کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے دیے گئے بیانات میں کسی دباؤ یا معاوضے کی شرط کا ذکر نہیں تھا اور ان بیانات کو ہائی کورٹ کے سامنے بھی بروقت چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔
اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب قانونی ورثاء ٹرائل کورٹ کے سامنے صلح، معافی اور عدم اعتراض کے واضح بیانات ریکارڈ کرا دیں اور بعد میں ان بیانات کو ہائی کورٹ کے سامنے چیلنج نہ کیا جائے، تو معاملہ اس حد تک concluded ہو جاتا ہے کہ بعد میں محض رجوع کرکے ان بیانات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
Section 302(b) PPC اور Ta'zir
سپریم کورٹ نے اس امر کو بھی واضح کیا کہ موجودہ مقدمے میں ملزم کو Section 302(b) PPC کے تحت Ta'zir کی سزا دی گئی تھی، نہ کہ Qisas کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ Section 311 PPC کا اطلاق اس صورت میں ہوتا ہے جہاں Qisas کا حق موجود ہو، جبکہ موجودہ مقدمے میں سزا Ta'zir کے طور پر دی گئی تھی۔
لہٰذا Section 311 PPC کی بنیاد پر اس مقدمے کو ناقابلِ صلح قرار دینا درست نہیں تھا۔
Fasad-fil-arz کا نکتہ
عدالت نے Section 299(ee) PPC کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ Fasad-fil-arz میں مجرم کا سابقہ کردار، سابقہ سزا، جرم کا انتہائی سفاک یا چونکا دینے والا انداز، معاشرے کے لیے ممکنہ خطرہ اور غیرت کے نام یا بہانے پر جرم کا ارتکاب بھی شامل ہو سکتا ہے۔
تاہم عدالت نے Section 338-E PPC کی روشنی میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر Fasad-fil-arz کا اصول متوجہ ہو تو قانون کے تحت عدالت کو جرم کی نوعیت کے مطابق قید یا جرمانے کی سزا دینا ہوتی ہے؛ اس شق کے تحت ایسی صورت میں سزائے موت برقرار رکھنے کی بنیاد موجود نہیں تھی۔
2016 کی ترمیم کا اثر
سپریم کورٹ نے 21.10.2016 کی Schedule-II، Code of Criminal Procedure میں کی گئی ترمیم کا بھی جائزہ لیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ترمیم شدہ قانونی اسکیم میں غیرت کے نام یا بہانے پر کیے گئے جرم کے لیے عمر قید کی سزا کا ذکر ہے، جبکہ اس مخصوص قانونی صورتِ حال میں سزائے موت کی گنجائش موجود نہیں۔
تقریباً ساڑھے دس سال Death Cell میں
ایک اہم عملی پہلو یہ بھی تھا کہ ملزم کو 03.06.2014 کو سزائے موت سنائی گئی تھی اور وہ تقریباً 10½ سال Death Cell میں گزار چکا تھا۔
مزید یہ کہ مقتولین کے تمام قانونی ورثاء نے ٹرائل کورٹ میں حلف نامے جمع کرا کے ملزم کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کرنے اور اس کی بریت پر عدم اعتراض کا اظہار کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا حتمی حکم
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے:
• Section 302(b) PPC کے تحت conviction برقرار رکھی؛
• دو مرتبہ دی گئی سزائے موت کو دو مرتبہ عمر قید میں تبدیل کر دیا؛
• مقتولین کے قانونی ورثاء کو ادا کی جانے والی compensation اور عدم ادائیگی کی صورت میں مقررہ سزا سے متعلق ٹرائل کورٹ کے احکامات برقرار رکھے؛
• دونوں substantive sentences کو concurrently چلانے کا حکم دیا؛
• ملزم کو Section 382-B Cr.P.C. کا فائدہ بھی دیا؛
• اور قانونی ورثاء کی جانب سے بعد میں دائر کی گئی C.M.A. No. 1801 of 2020 خارج کر دی۔
خلاصۂ اصول
ٹرائل کورٹ کے سامنے قانونی ورثاء کی جانب سے آزادانہ، واضح اور غیر مشروط صلح و معافی کے بیانات، حلف ناموں اور عدم اعتراض کے بعد محض بعد میں رجوع کرنا سابقہ عدالتی ریکارڈ کو ختم نہیں کرتا۔
مزید برآں، Section 302(b) PPC کے تحت Ta'zir کی سزا پانے والے ملزم کے معاملے میں Section 311 PPC کے اطلاق اور Fasad-fil-arz کے اصول کو درست قانونی تناظر میں دیکھا جائے گا؛ اور Section 338-E PPC کے تحت ایسی صورتِ حال میں سزائے موت برقرار رکھنے کے بجائے قانون کے مطابق سزا کا تعین کیا جائے گا۔
2026 SCMR 480
Sanoober Khan v. The State
Relevant authorities referred to by the Supreme Court:
Zahid Rehman v. The State
PLD 2015 SC 77
Suo Motu Case
PLD 2018 SC 703
Kareem Nawaz Khan v. The State
2016 SCMR 291 — distinguished
THE LAW JUSTICE
Roohi Iram Ch. Adv.
21/40 Fatima Jinnah Chambers,
Session Court, Gujranwala