Raheel Aslam Dar Advocate

Raheel Aslam Dar Advocate 2-First Floor, Rehmat Ali Block, Session Courts, Gujranwala Punjab Pakistan

اجے منوت سے ملیے، اورنگ آباد کے چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوا بچپن اور جوانی شدید مشکلات اور محنت سے گزارا. مہاراشٹر آیا، ک...
26/04/2023

اجے منوت سے ملیے، اورنگ آباد کے چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوا بچپن اور جوانی شدید مشکلات اور محنت سے گزارا. مہاراشٹر آیا، کپڑے اور گندم کا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے لکھ پتی بن گیا. اجے نے اپنی بیٹی شریا منوت کی شادی کے لیے کروڑ روپے جمع کیے لیکن اس نے اپنی بیٹی کا جہیز نہیں بنایا، کپڑے جوتے اور زیورات نہیں بنائے، داماد کو نئی گاڑی لے کر نہیں دی..
اس نے اپنی بیوی، بیٹی اور داماد سے مشورہ کیا، دو ایکڑ زمین خریدی اور اس پر چھوٹے چھوٹے 90 گھر بنوا دئیے. پھر یہ گھر جھونپڑیوں میں رہنے والوں میں تقسیم کر دئیے. ہر گھر 12x20 فٹ کا ہے، اس میں کچن بھی ہے، بجلی بھی ہے اور پینے کا صاف پانی بھی. گھر بانٹتے ہوئے اجے منوت کی فیملی نے خود کچی آبادیوں کا رخ کیا اور مستحق خاندانوں میں ہی گھر بانٹے گئے، یہ بھی خیال رکھا گیا کہ کوئی چرسی شرابی یا جرائم پیشہ یہ گھر نہ لے سکے.

شادی کے دن شریا نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر خود گھروں کی چابیاں مستحق خاندانوں میں تقسیم کیں. نوے خاندانوں کے سینکڑوں افراد نے دولہا دلہن کی زندگی میں خوشیوں کے لیے دعائیں کیں اور یہ آج تک روزانہ صبح شام ان کے لیے دعائیں کر رہے ہیں. اجے منوت اور اس کی بیٹی جین مت کے ماننے والے ہیں، ان کا اللہ رسول سے، روز قیامت سے جزا و سزا سے جنت دوزخ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے..

اب آئیے پاکستان کی طرف، ملتان کے ایک امیر کبیر تاجر شبیر قریشی نے اپنے بیٹے نعمان کی شادی کی، بارات کے لیے دس لیموزین گاڑیاں منگوائی گئیں، دولہے کو سونے تاج پہنا کر شیر کے پنجرے پر بٹھایا گیا، اس کے علاوہ مہمانوں کی سینکڑوں گاڑیاں الگ تھیں. شادی کارڈز ہیلی کاپٹر سے پورے ملتان شہر پر پھینکے گئے۔ دلہن کے ماں باپ نے بھی اپنی بیٹی کو پانچ کروڑ روپے کا جہیز دیا جس میں ایک فل فرنشڈ گھر اور گاڑی شامل ہے. اس شادی پر ایف بی آر نے دونوں خاندانوں کو اثاثہ جات، آمدنی اور ٹیکس گوشواروں کی تفصیل جمع کروانے کے لیے نوٹس جاری کر دیئے۔

قارئین، شبیر قریشی مسلمان ہے، اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے، یہ عاشق رسول بھی ہے اور اسے امت مسلمہ کی زبوں حالی پر پریشانی بھی ہے لیکن شبیر قریشی اجے منوت کی طرح قربانی اور ایثار کے لیے تیار نہیں.. شبیر قریشی جیسے پاکستان میں ڈھیروں امراء اشرافیہ موجود ہیں، یہ لوگ خود گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور ملازموں کو ڈگی میں بٹھا دیتے ہیں، ملازموں کے ساتھ ہوٹل جاتے ہیں خود پیزا کھاتے ہیں اور ملازم کو ماش کی دال ملتی ہے. آپ شہر کی کسی بھی بڑی شادی کا حال دیکھ لیں، کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، شرابیں چلتیں ہیں، کنجریوں پر لاکھوں پھینکے جاتے ہیں، لاکھوں کی فائرنگ ہوتی ہے، لیکن غریبوں کو ولیمے سے بچ جانے والا کھانا بھی نہیں ملتا..

آپ پاکستان کی تباہی و بربادی کی وجوہات تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں انگلیوں پر گن لیں اجے منوت جیسے کتنے ہیں اور شبیر قریشی جیسے کتنے؟؟؟
چار سال قبل لکھی گئی میری تحریر جو آج کل پھر سے وائرل ہے۔
قمر نقیب خان

اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔۔!!!  لمحہ فکریہ 🤔   سعودی حج و عمرہ منسٹری نے یہ تصویر جاری کی ہے کہ جو ہاتھ پہلے گڑگڑاتے ہوئے...
04/04/2023

اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔۔!!! لمحہ فکریہ 🤔
سعودی حج و عمرہ منسٹری نے یہ تصویر جاری کی ہے کہ جو ہاتھ پہلے گڑگڑاتے ہوئے دعا کے لئے اُٹھتے تھے۔۔!! وہ ہاتھ اب فقط تصاویر ، سیلفی اور ویڈیو کالز کے لیے اٹھ رہے ہیں۔

سحر بخیر.. ♥️
23/03/2023

سحر بخیر.. ♥️

پاکستان کا ایک خوبصورت جزیرہ۔۔۔۔۔!!!!! پاکستان میں کل بارہ 12 جزیرے ہیں۔ جن میں استولا نامی جزیرہ سب سے بڑا ہے، جسے "جزی...
21/03/2023

پاکستان کا ایک خوبصورت جزیرہ۔۔۔۔۔!!!!!

پاکستان میں کل بارہ 12 جزیرے ہیں۔ جن میں استولا نامی جزیرہ سب سے بڑا ہے، جسے "جزیرہ ہفت تلار" بھی کہا جاتا ہے۔بحیرہ عرب میں ایک غیر آباد پاکستانی جزیرہ جو ساحل کے قریبی حصے سے تقریبا باٸیس تیس کلومیٹر جنوب میں اور پسنی کی ماہی گیری کی بندرگاہ سے 39 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ استولا پاکستان کا سب سے بڑا آف شور جزیرہ ہے، جو تقریباً 6.7 کلومیٹر (4.2 میل) لمبا ہے اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 2.3 کلو میٹر اور کل رقبہ 6.7 مربع کلو میٹر ہے۔

اس جزیرے کا بلند ترین مقام سطح سمندر سے تقریبا 246 فٹ بلندی پر ہے۔ انتظامی طور پر یہ جزیرہ صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر کے "پسنی ذیلی" ضلع کا حصہ ہے۔ جزیرے تک پسنی ذیلی سے موٹر والی کشتیوں کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔۔۔ پسنی ذیلی ضلع میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے، کہ اس جزیرے تک پہنچنے کے لیے تقریباً 1.5 گھنٹے کا سفر ہے۔

تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے، کہ اٹلی میں بھی اس طرح کا "ڈولفن" نامی ایک جزیرہ ہے۔ جس کو اٹلی گورنمنٹ نے بڑی خوبصورتی سے ڈیزائن کیا ہے۔۔ اس میں ہوٹل بھی بناٸے گۓ ہیں۔۔۔۔ جن میں ایک کمرے کے ایک دن کا رینٹ 95 امریکین ڈالرز ہے۔ یعنی پاکستانی 26000 روپے، ہوٹل کے ساتھ ساتھ حکومت نے وہاں خوبصورت گھر بھی بناۓ ہیں اور ایک گھر کے ایک دن کا رینٹ "578$" ڈالرز یعنی ایک لاکھ اور ساٹھ ہزار پاکستانی روپے۔

کہنا کا مطلب یہ ہے کہ "اٹلی حکومت" اس ایک جزیرے سے سالانہ کروڑوں ڈالرز کماتی ہے۔۔۔۔۔ جبکہ اٹلی میں صرف یہی ایک "ڈولفن" جزیرہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ اس طرح کے 450 کے قریب جزیرے موجود ہیں۔ جن سے سالانہ بہت زیادہ سرمایہ کمایا جاتا ہے۔ جبکہ ہم انہی ڈالروں کیلۓ "آٸی ایم ایف" اور ورلڈ بینک کے پیچھے پاگلوں کی طرح بھاگے جا رہے ہی۔۔اگر حکومت نے یہ بارہ جزیرے سیاحوں travellers کیلے تیار کراۓ تو یہ یقینا کمائ کے لیے اتنہاٸی آسان اور سستا طریقہ ہے۔ آپ یقین کریں کہ بعض ممالک ایسی "سیاحتی مقامات" کے انکم پر ہی چلتے آرہے ہیں۔۔۔۔۔

آج سے کئی صدیوں پہلے یونان کے ویدوں نے عام لوگوں کو دار چینی کیلئے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ دار چینی ، ایک cinnamologus ن...
13/03/2023

آج سے کئی صدیوں پہلے یونان کے ویدوں نے عام لوگوں کو دار چینی کیلئے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ دار چینی ، ایک cinnamologus نامی پرندہ کے گھونسلے سے حاصل ہوتی ، جو اسے کسی انجان دور دراز علاقوں سے لاکر اپنا گھونسلا بناتا ہے اور تاجر اس کو اکٹھا کر کے لاتے ہیں اور یہ پرندہ جزائر عرب میں رہتا ہے۔ ارسطو نے اس پرندہ کا نام اپنی کتاب میں kinnamômon orneon لکھا ہے ، یہ دار چینی کو قیمتی اور نایاب بنانے کیلئے کیا جاتا تھا۔

دراصل دار چینی ایک درخت اور اس کا چھلکا ہے ۔
اگرچہ اس کے نام کو چین سے مناسبت ہے لیکن دارصل یہ چین میں نہیں ہوتا بلکہ جزائر شرق الہند میں یہ درخت پایا جاتا ہے اس درخت کہ چھال گرم مصالحہ کا جزو ہے ، پتے بھی بطور مصالحہ استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیسی اور انگریزی ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم میں عربوں کے ذریعے یہ مصالحہ تمام دنیا میں پہنچتا تھا۔

جب سے دار چینی کو مصالحہ جات کے طور جانا جاتا ہے ، اسی دور سے اس کو دوائی کا درجہ بھی حاصل ہوا اور اکثر قرابادین میں بیش قیمت نسخہ جات مثلآ جوارش زرعونی ، جوارش جالینوس ، لبوب کبیر میں شامل ہے۔ اب بھی پوری دنیا اس کے ادویاتی فوائد کو مانتی ہے۔ ذیابیطس ، خون میں بڑھی ہوئی کولسٹرول کی مقدار کم کرتی ہے اور اس پر مسلسل مطبی تجربات ہو رہے ہیں ، اسہال میں اس کی دوائی تاثیر بے مثال ہے۔
دار چینی سب سے زیادہ پاکستان ، سری لنکا ، بھارت ، چین اور افریقہ کے مختلف حصوں میں پائی جاتی ہے ، اسے مختلف کھانوں میں مصالحے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
صحت کے لیے نہایت مفید دار چینی کے 100 گرام میں 274 کیلوریز پائی جاتی ہیں جبکہ اس میں 10 ملی گرام سوڈیم ، 431 گرام پوٹاشیم ، 81 گرام کاربوہائیڈرایٹس ، 2.2 گرام شکر اور 4 گرام پروٹین پائی جاتی ہے ، اسی طرح دار چینی کے 100 گرام میں 5 فیصد وٹامن اے ، 6 فیصد وٹامن سی ، 100 فیصد کیلشیم ، 46 فیصد آئرن ، 15 فیصد میگنیشیم اور 10 فیصد وٹامن بی 6 پایا جاتا ہے۔

دار چینی کو وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کے لیے بہتر مانا جاتا ہے ، اس کے استعمال سے پیٹ کی چربی گھُلنے لگتی ہے اور اضافی وزن میں بھی کمی آتی ہے ، جس کا طریقہ یہ ہے کہ صبح نہار منہ دار چینی کے ایک ٹکڑے کو گرم پانی میں ڈال کر 15 منٹ کے لیے رکھ دیں اور نیم گرم ہونے پر پی لیں۔

دار چینی پر کی گئی ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دار چینی کینسر کا بہترین علاج ہے ، سال دو ہزار دس میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق دار چینی جسم میں تیزی سے کینسر کے خلیات بننے کے عمل کو روکتی ہے۔

دار چینی خون میں موجود شوگر کے لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے ، انسولین کی مثبت افزائش کے سبب دار چینی ذیابیطس کا ایک مؤثر علاج ہے ، شوگر کے مریضوں کے استعمال کے لیے دار چینی کوکھانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دار چینی میں آئرن اور کیلشیم کی بھر پور مقدار پائے جانے کے سبب ہڈیوں کی صحت بہتر ہوتی ہے ، اس کے باقاعدہ استعمال سے بڑھاپے میں بھی ہڈیاں کمزور نہیں ہوتیں اور نا ہی ہڈیوں میں درد ہوتا ہے۔

نوٹ ۔ کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان کا سبب ہوتی ہے ۔

Copied

_*🌏 زمین🌏*_اگر ہم زمین پر لاہور شہر کے بلکل نیچے زمین کی دوسری طرف جانا چاہیں تو ہمیں 20 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پ...
12/02/2023

_*🌏 زمین🌏*_

اگر ہم زمین پر لاہور شہر کے بلکل نیچے زمین کی دوسری طرف جانا چاہیں تو ہمیں 20 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا لیکن اگر ہم زمین کی سطح پر سفر کرنے کی بجائے لاہور شہر کے نیچے زمین کی دوسرے طرف ایک سیدھا سوراخ کریں اور اُس میں چھلانگ لگا دیں تو کیا ہوگا۔

اگر ہم ایسا سوراخ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم زمین کی دوسری طرف ساؤتھ امریکہ کے سمندر میں نکلیں گے جہاں سے قریب ترین ملک چلی ہے اور وہ بھی 608 کلومیٹر کے فاصلے پر لیکن اگر ہم ارجنٹینا سے زمین میں ایک سیدھا سوراخ کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو سوراخ دوسری طرف چین میں نکلے گا۔
سائنس دان زمین کو زمین کی سطح کے بعد تین بُنیادی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں
Mentle.
Outer core.
Inner core

انسان آج تک ان تین حصوں کے پار نہیں جاسکا اور اگر ہم زمین کی سطح پر سوراخ کرنا شروع کریں تو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر سے ساڑھے تین کلومیٹر نیچے ہمیں Devil Worm ملیں گے ڈیول وارم زیر زمین گہرائی میں رہنے والے واحد جانور ہیں جو انسان نے 2011 میں دریافت کیے تھے اور پھر 3600 میٹر کی گہرائی سے آگے درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

زمین کی سطح کے 4000 میٹر نیچے زمین کا درجہ حرارت 60C تک پہنچ جائے گا جہاں سے نیچے مزید سوراخ کرنے کے لیے ہمیں ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے برف درکار ہوگی، سوراخ مزید گہرا کرتے ہُوئے جب 8800 میٹر نیچے پہنچے گا تو یہ زمین کے سب سے اُونچے پہاڑماونٹ ایورسٹ کی بُلندی جتنا گہرا ہوجائے گا اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ انسان زمین کے اندر اس سے بھی آگے جا چُکا ہے اور Kola Superdeep Borehole کے نام سے سائندانوں نے اب تک زمین میں 12260 میٹر کی گہرائی تک سُوراخ کیا ہے۔

اس گہرائی پر زمین کا درجہ حرارت 180 ڈگری سے تجاوز کرجاتا ہے اور پریشر سطح سمندر کے پریشر سے 4 ہزار گُنا زیادہ ہو جاتا ہے اور اگر آپ سوراخ کرتے کرتے اس مُقام پر پہنچ جائیں تو آپ کو اس مُقام پر زندہ رہنے کے لیے سوراخ کے ارد گرد ایسی انسولیشن کرنی پڑے گی جو اس شدید درجہ حرارت کو سوراخ میں داخل ہونے سے روک دے وگرنہ آپ اپنے سوراخ کرنے کے سامان سمیت پگھل جائیں گے۔

اگر آپ سوراخ کرتے کرتے 40 ہزار میٹر نیچے پہنچ جائیں تو یہاں سے زمین کی دوسری تہہ Mantle شروع ہوگی اور اس مقام پر زمین کا درجہ حرارت 1 ہزار ڈگری کے قریب پہنچ جائے گا جہاں لوہا اور سلور پگھل جاتے ہیں مگر خوشخبری یہ ہے کے سٹیل نہیں پگھلے گا کیونکہ سٹیل کو پگھلانے کے لیے درجہ حرارت کا 1370 ڈگری سے زیادہ ہونا ضروری ہے چنانچہ آپ سٹیل کی ڈرل سے زمین کی تہہ مینٹل جس کی اوپر والی سطح چٹانوں سے بنی ہے ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جب آپ 1 لاکھ میٹر نیچے پہنچے گے تو آپ کی سٹیل ڈرل کام کرنا چھوڑ دے گی اور پگھل جائے گی اور آپ کو مزید نیچے جانے کے لیے کسی اور دھات کی ڈرل کی ضرورت ہوگی جو اُس درجہ حرارت پر نا پگھلے.

ڈرل کرتے کرتے جب آپ ڈیڑھ لاکھ میٹر نیچے پہنچیں گے تو آپ کو مزے ہی آجائیں گے کیونکہ یہاں آپ کو بیشمار ہیرے ملیں گے کیونکہ اس مُقام پر زمین کا پریشر اور گرمی کاربن کے ایٹم کی ساخت کو بدلتی ہے اور ہیرا وجود میں آتا ہے اور زمین کی اس گہرائی پر آپکو لوہے اور چٹانوں سمیت ہر چیز پگھلی ہُوئی ملے گی جیسے آتش فشاں کا لاوا ہوتا ہے۔

اگر آپ اس مقام پر سے زمین کی مزید تہہ میں جانے میں کامیاب ہوجائیں تو 4 لاکھ 10 ہزار میٹر کی گہرائی پر لاوا ختم ہوجائے گا اور دوبارہ چٹانوں کا سلسلہ شروع ہوگا زمین کی اس گہرائی پر درجہ حرات بے حد زیادہ ہوجاتا ہے مگر چٹانیں اس لیے نہیں پگھلتی کیونکہ زمین کا پریشربڑھتے بڑھتے اُس مقام پر چلا جاتا ہے جہاں مالیکول پگھل نہیں پاتے چنانچہ چٹانیں دوبارہ وجود میں آ جاتی ہیں۔

ڈرل کرتے کرتے جب آپ 3 ملین میٹر کی گہرائی پر پہنچیں گے تو آپ کو زمین کی تیسری تہہ Outer Core ملے گی اور یہ تہہ چٹانوں کی بجائے لوہے اور نکل سے بنی ہُوئی ہے اور اس مقام کا درجہ حرارت سُورج کی سطح کے برابر ہے اور تقریباً 5 سے 6 ہزار ڈگری گرم ہے یہ تہہ زمین کی انتہائی اہم تہہ ہے کیونکہ یہاں پر میگنیٹک فلیڈز بنتی ہیں جو زمین کی سطح سے باہر نکل کر خلا تک جا کر ایک بیرئر بناتی ہیں اور زمین کی سطح کو سولر ونڈز سے محفوظ رکھتی ہیں، زمین کی اس تہہ پر آپ کو لوہا اور نکل پگھلا ہُوا ملے گا اور ڈرل کرنے کے لیے کوئی سُپر مٹریل درکار ہوگا اور انسان کی عقل نے اب تک کوئی ایسی چیز دریافت نہیں کی جو 6 ہزار ڈگری سے اوپر کا درجہ حرارت برداشت کر سکے۔

اس مُقام پر آپ کو ڈرل کرنے میں دوسرا بڑا مسلہ یہ درپیش آئے گا کہ یہاں کشش ثقل بہت کم ہوئے گی اور آپ کو کوئی سُپر سب مرین درکار ہوگی جو اتنے پریشر اور حدت کو برداشت کرتے ہُوئے مزید گہرائی میں جا سکے اورجب آپ Outer Core کو ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے پہنچیں گے تو تقریباً 5 لاکھ میٹر نیچے آپ کو زمین کی Inner Core ملے گی جو کے جمے ہُوئے لوہے کی بنی ہُوئی ہے یہاں پر کشش ثقل صفر ہوجائے گی اور زمین کی اس تہہ میں سوراخ کرنا آپ کے لیے مزید مشکل ہوجائے گا لیکن اگر یہاں بھی آپ کامیاب ہوگئے تو تقریبا 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے آپ زمین کے بلکل وسط میں پہنچ جائیں گے اور یہاں سے آگے ڈرل کرنے کے لیے آپکو نیچے جانے کی بجائے اوپر کی طرف Climb کرنا پڑے گا۔

مُجھے اُمید ہے کہ اگر آپ 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے پہنچ گئے تو پھر یقیناً وہاں سے زمین کی دوسری طرف Climb کرتے ہُوئے نکلنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو زمین کے آر پار ایک سوراخ ہوجائے گا اور ارجنٹینا سے چین کا سفر کرنے لیے آپکو صرف ایک گھنٹہ درکار ہوگا اور یہ سفر آپ سوراخ کی ایک سائیڈ سے چھلانگ لگا کر کریں گے اور یہ چھلانگ آپ کو سوراخ کے دوسری طرف نکال دے گی۔

زمین کے اس سوراخ میں چھلانگ لگانے کے لیے آپ کو اور بھی کئی طرح کی چیزیں درکا ہو گی جیسے خلائی سُوٹ جو پریشر کو برداشت سکے وغیرہ وغیرہ لیکن آج تک کوئی انسان ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہُوا اور مستقبل قریب میں بھی ایسا ناممکن ہی دیکھائی دیتا ہے مگر ایک چیز سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ نے انسان کو عقل سلیم عطا کی ہے اور عقل سلیم میں کوئی چیز نا ممکن نہیں ہے۔

بشکریہ۔
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سیکشن۔

05/12/2022
Waaaow😍
12/11/2022

Waaaow😍

Unique house. 💝
12/11/2022

Unique house. 💝

New Court timings in punjabValid from November 1,2022
23/10/2022

New Court timings in punjab
Valid from November 1,2022

Address

Gujranwala

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00

Telephone

+923018810088

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raheel Aslam Dar Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category