Sakhi Akbar

Sakhi Akbar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sakhi Akbar, Lawyer & Law Firm, Golf it City, Gilgit.

04/04/2026

مستقبل میں وائف کے بغیر گھر تو ہو سکتا ہے، لیکن وائی فائی کے بغیر نہیں۔😋

عید کی نماز کے بعد تایا جان کے ساتھ لی گئی یادگار تصویر۔اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ سلامت رکھے،ان کا خوبصورت کردار اور محبت ...
28/03/2026

عید کی نماز کے بعد تایا جان کے ساتھ لی گئی یادگار تصویر۔
اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ سلامت رکھے،
ان کا خوبصورت کردار اور محبت بھرا انداز ہر دل کو اپنا بنا لیتا ہے۔
ایسے شفیق اور بااخلاق بزرگ خاندان کے لیے ایک نعمت ہوتے ہیں۔

I've just reached 100 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏...
08/03/2026

I've just reached 100 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏🤗🎉

کتاب اٹھانی پڑے تو بندوق رکھنی پڑتی ہے، کیونکہ علم کی اہمیت ہتھیار سے زیادہ ہے۔
10/02/2026

کتاب اٹھانی پڑے تو بندوق رکھنی پڑتی ہے، کیونکہ علم کی اہمیت ہتھیار سے زیادہ ہے۔

06/02/2026

وہ لڑکا جسے 'سست' کہا گیا
"وہ لڑکا جسے لوگ 'سست رفتار' کہتے تھے، آگے چل کر وہ شخص بنا جس نے پوری دنیا کی سانسیں روک دیں۔"
​1946 کی بات ہے، جنوبی ویلز کے کاؤبرج گرامر اسکول میں آٹھ سالہ انتھونی ہاپکنز اپنی لکڑی کی ڈیسک پر اکیلا بیٹھا تھا—اپنے ہم جماعتوں کے قہقہوں کی دنیا سے بالکل الگ تھلگ۔ جب دوسرے بچے حساب کے سوالات آسانی سے حل کر رہے ہوتے، اس کی پنسل تذبذب میں ڈیسک پر ہی ٹکی رہتی۔ جب وہ کھیل کے میدانوں میں دوڑتے، وہ پیچھے رہ جاتا۔ اساتذہ سرگوشیوں میں ایک لفظ کہتے: "سست" (Slow)۔
​لیکن انتھونی سست نہیں تھا۔ اس کا ذہن بس ایک مختلف رفتار سے چلتا تھا—ایک ایسی تال جسے دنیا نے ابھی تک سمجھنا نہیں سیکھا تھا۔
​تفریح (رخصت) کے دوران، جب اسکول کے صحن سے ہنسی کی آوازیں گونجتیں، وہ کاغذ اور پنسل لے کر اندر ہی بیٹھا رہتا۔ وہ بلند و بالا قلعوں کے نقشے بناتا جن کے مینار ناممکن حد تک اونچے ہوتے—ایسی دور دراز دنیاؤں کے نقشے جہاں اسے لگتا تھا کہ وہ تعلق رکھتا ہے۔ ایک دوپہر، ایک ٹیچر اس کی ڈیسک پر رکیں۔ انہوں نے خاموشی سے اس کی ڈرائنگ کا معائنہ کیا اور پھر صرف پانچ الفاظ کہے: "انتھونی، تمہارے پاس ایک خداداد صلاحیت ہے۔"
​یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اسے دیکھا تھا—واقعی میں اسے سمجھا تھا۔
​اسی سال، اسے اسکول کے میوزک روم میں ایک پرانا، دھول سے اٹا ہوا پیانو ملا، جس کی چابیاں وقت کے ساتھ پیلی پڑ چکی تھیں۔ شروع میں اس نے ڈرتے ڈرتے ایک ایک کر کے سر چھیڑے۔ پھر جیسے کچھ بدل گیا۔ وہ اگلے دن پھر آیا، اور اس سے اگلے دن بھی۔ وہ خود ہی کانوں سے سن کر دھنیں ترتیب دینا سیکھ رہا تھا۔ پیانو اس کا ترجمان بن گیا—وہ ان جذبات کو آوازوں میں بدل رہا تھا جنہیں وہ الفاظ کا نام نہیں دے سکتا تھا۔
​اس کے والدین محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور بڑی مشکل سے گزارہ کرتے تھے، مگر انہوں نے جیسے تیسے ایک پرانے پیانو کے لیے پیسے جوڑ لیے۔ ایک بارش والی منگل کو وہ پیانو ان کے چھوٹے سے کمرے میں پہنچ گیا۔ اس کے بعد ہر شام انتھونی موسیقی میں کھو جاتا، اس کی انگلیاں وہ کہانیاں بنتی تھیں جو اس کے الفاظ نہیں بنا پاتے تھے۔ اس کی ماں موریل کبھی کبھی دروازے پر کھڑی اسے سنتی رہتیں۔ وہ نرمی سے کہتیں، "بیٹا، تمہیں ہر کسی کی طرح ہونے کی ضرورت نہیں، مختلف ہونا ہی تمہاری طاقت ہے۔"
​ان میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ انتھونی ڈسلیکسیا (Dyslexia) کا شکار تھا—ایسی حالت جس کی تب تک تشخیص نہیں ہوئی تھی، لیکن اس نے اس کے اسکول کے دنوں کو مشکل بنا دیا تھا۔ پڑھنا ایسا لگتا تھا جیسے کسی ایسی خفیہ زبان کو سمجھنے کی کوشش ہو جو باقی سب کو پیدائشی طور پر آتی ہو۔ اس کے لیے اسباق تھکا دینے والی جنگیں تھیں۔ دہائیوں بعد اس نے یاد کرتے ہوئے کہا، "مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہوں، جیسے میں ایک موٹے شیشے کے پیچھے سے زندگی کو دیکھ رہا ہوں۔"
​لیکن ٹوٹنے کے بجائے، اس نے خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیا۔ اس نے تصویریں بنائیں، موسیقی ترتیب دی۔ اس نے لوگوں کا اتنی گہرائی سے مشاہدہ کیا جسے دوسرے لوگ شرمندگی یا جھجھک سمجھتے رہے۔ اس نے پڑھ کر نہیں، بلکہ مشاہدے اور احساس کے ذریعے چیزیں یاد کیں۔ اس کی تنہائی ہی اس کی تعلیم بن گئی۔
​بارہ سال کی عمر تک، اس کی ڈرائنگ پختہ ہو چکی تھی۔ اس کی موسیقی میں ایسے جذبات تھے جو بنا الفاظ کے سننے والوں کے دلوں کو چھو لیتے۔ وہ اب بھی تنہا تھا، اب بھی سب سے الگ تھلگ تھا۔ لیکن کچھ بن رہا تھا—دنیا کو دیکھنے کا ایک ایسا انداز جو مکمل طور پر اس کا اپنا اور انتہائی طاقتور تھا۔
​وہ خاموش لڑکا جو کلاس میں سب کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا، وہ سر انتھونی ہاپکنز بن گیا—سنیما کی تاریخ کے سب سے بااثر اداکاروں میں سے ایک۔ پیچیدہ اور یادگار کرداروں میں ڈھل جانے کی اس کی صلاحیت صرف روایتی تربیت سے نہیں آئی تھی۔ یہ اس بچپن سے پیدا ہوئی تھی جو باریک بینی سے مشاہدہ کرنے، آرٹ کے ذریعے جذبات کا ترجمہ کرنے اور اس گہری خاموشی میں گزرا تھا جس نے اسے وہ کچھ سننا سکھا دیا تھا جو باقی سب سے چھوٹ جاتا تھا۔
​'ہینی بال لیکٹر' کے طور پر ان کی آسکر ایوارڈ یافتہ پرفارمنس کو ناقابل فراموش بننے کے لیے اسکرین پر صرف 16 منٹ لگے۔ وہ شدت—ایک جھلک میں پوری دنیا بیان کر دینے کی وہ صلاحیت—خاموشی اور جدوجہد کے انہی ابتدائی سالوں میں پروان چڑھی تھی۔
​انتھونی ہاپکنز کا راستہ آسان نہیں تھا۔ مختلف ہونے کے احساس کی دھند سے نکلنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں تھا۔ لیکن اسی فرق میں، ان خاموش جگہوں میں جہاں وہ پناہ لیتا تھا، اس کا غیر معمولی تحفہ شکل اختیار کر رہا تھا۔
​ان کی کہانی ایک ایسی حقیقت بیان کرتی ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہے: کبھی کبھی وہ بچہ جو دوسروں کے سانچے میں فٹ ہونے کے لیے جدوجہد کر رہا ہوتا ہے، وہ پیچھے نہیں رہ رہا ہوتا، بلکہ وہ کچھ ایسا تخلیق کر رہا ہوتا ہے جس کے لیے دنیا ابھی تیار نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی جو مختلف طریقے سے سیکھتا ہے، وہ زیادہ گہرائی سے دیکھتا ہے۔ کبھی کبھی وہ آواز جسے ابھرنے میں سب سے زیادہ وقت لگتا ہے، وہ سب سے بلند سنائی دیتی ہے۔
​اور کبھی کبھی—صرف کبھی کبھی—وہ لڑکا جسے لوگ 'سست' کہتے تھے، پوری دنیا کو توجہ دینا سکھا دیتا ہے۔
​اگر آپ کسی ایسے بچے کو جانتے ہیں جو مختلف طریقے سے سیکھتا ہے، جو تنہا محسوس کرتا ہے، جو معاشرے کے بنے بنائے سانچوں میں فٹ نہیں بیٹھتا—تو اسے یہ کہانی ضرور دکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ ان کا راستہ مختلف ہو سکتا ہے، لیکن غلط نہیں۔ انہیں بتائیں کہ انتھونی ہاپکنز بھی کبھی وہیں بیٹھا تھا جہاں آج وہ بیٹھے ہیں۔
​اور دیکھو کہ وہ کیا بن گیا
خلاصہ:
یہ کہانی محض ایک فرضی قصہ نہیں بلکہ ایک سچی تحریک ہے جو ان بچوں کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں معاشرہ ان کی انفرادیت کی وجہ سے 'کمزور' سمجھتا ہے۔

چترال کے نامور شاعر، ادیب اور کھوار ادب کے عظیم ستون اقبال الدین سحر آج ہم سے جدا ہو گئے۔یہ صرف چترال ہی نہیں بلکہ پورے ...
07/01/2026

چترال کے نامور شاعر، ادیب اور کھوار ادب کے عظیم ستون اقبال الدین سحر آج ہم سے جدا ہو گئے۔
یہ صرف چترال ہی نہیں بلکہ پورے چترال، گلگت بلتستان اور پاکستان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
کھوار ادب کی ترویج و ترقی میں ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔
اقبال الدین سحر جیسے لوگ جسمانی طور پر رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنے لفظوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
ان کے کہے ہوئے اشعار کی صورت میں۔

چھو چو پرغار مختصار وکو پا
شیر سحر

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
آمین۔

07/01/2026

سب سے اہم بات یہ ہے۔
کہ ۔
اپنے آپ سے جھوٹ نہ بولیں۔
جو آدمی اپنے آپ سے جھوٹ بولتا ہے۔
اور اپنے ہی جھوٹ کو سنتا ہے۔
وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جس کے بعد وہ اپنے اندر یا اپنے اردگرد کی سچائی کو نہیں پہچان سکے گا اس طرح،
وہ اپنے لئے اور دوسروں کے لئے تمام احترام کھو دے گا۔
اور اس کی عزت کی کمی کے ساتھ،
وہ محبت کرنا چھوڑ دے گا۔

فیوڈور دوستوفسکی

"مغربی لوگ ذہین نہیں ہیں، اور ہم (مشرقی لوگ) بیوقوف نہیں ہیں۔ وہ صرف ہارنے والے کا ساتھ دیتے ہیں جب تک کہ وہ کامیاب نہ ہ...
27/12/2025

"مغربی لوگ ذہین نہیں ہیں، اور ہم (مشرقی لوگ) بیوقوف نہیں ہیں۔ وہ صرف ہارنے والے کا ساتھ دیتے ہیں جب تک کہ وہ کامیاب نہ ہو جائے
جبکہ ہم ایک کامیاب شخص سے اس وقت تک لڑتے رہتے ہیں جب تک وہ بری طرح سے ناکام نہ ہو جائے

مصری نژاد امریکی کیمیا دان
احمد زیوائل
مترجم: Musa Pasha

18/12/2025

جب جذبہ پیشہ بن جائے

تحریر: سخی اکبر

غزر کی سرزمین پر ایک ایسا نوجوان پیدا ہوا جس کے دل میں بچپن ہی سے ایک جذبہ، ایک خواب اور ایک جنون تھا لوگوں کی خدمت کا۔
یہ وہ جذبہ تھا جس نے اسے عام راستوں سے ہٹا کر ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں مقصد ذاتی فائدہ نہیں بلکہ عوام کی بھلائی، ان کی آواز بننا، اور ان کے مسائل کو طاقت کے ایوانوں تک پہنچانا تھا۔
اسی جذبے کا نام ہے آصف مراد غزری۔
بچپن سے ہی اسے صحافت اور خدمتِ خلق کا شوق تھا۔ یہی شوق اسے آگے چل کر "مونٹین ڈیجیٹل نیٹ ورک" تک لے آیا، جہاں اس نے اپنی صلاحیتوں سے نہ صرف خود کو منوایا بلکہ اس نیٹ ورک کو بھی ایک نئی پہچان دی۔
کئی سالوں کی محنت اور لگن کے بعد، آصف مراد نے اپنی ایک نئی پہچان بنائی "گلوبل نیوز" کے نام سے۔
یہ وہ پلیٹ فارم تھا جو جلد ہی گلگت بلتستان اور خاص طور پر غزر میں عوام کی آواز بن گیا۔
گلوبل نیوز، جو اب جی نیوز کے نام سے مشہور ہے، عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے، ان کی بات حکومتی اداروں تک پہنچانے اور سچائی کو سامنے لانے کے لیے ایک مضبوط ذریعہ بن گیا۔
غزر میں آنے والے حالیہ سیلابوں کے دوران، آصف مراد نے جس بہادری، خلوص اور ہمدردی سے متاثرہ علاقوں کی کوریج کی، وہ ہر تعریف سے بالاتر ہے۔
اس نے نہ صرف رپورٹنگ کی بلکہ متاثرین کے لیے فنڈز اکٹھے کیے، مدد پہنچائی، اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس پر اعتماد کیا، اور وہ اعتماد اس کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔
عوامی خدمت کے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے، آصف مراد نے "سفر آسان" کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم شروع کیا، جس کا مقصد لوگوں کے سفر کو آسان بنانا ہے۔
بائیکیا، کار رینٹ اور دیگر سہولتوں کے ذریعے، اس نے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی۔
یہ کام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آصف مراد کے نزدیک خدمت صرف ایک لفظ نہیں بلکہ زندگی کا مقصد ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ اس نے "علاقے کی آواز" کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے، جس میں وہ غزر کے عام لوگوں کے مسائل، مشکلات اور خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ پروگرام اب عوامی مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور غزر کے باسیوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن چکا ہے۔

آصف مراد غزری کا مشن واضح ہے
عوام کی خدمت، سچ کی تلاش، اور اپنے علاقے کی ترقی۔
وہ صرف ایک صحافی نہیں بلکہ ایک سماجی کارکن، ایک نوجوان رہنما، اور ایک باکردار انسان ہے۔
اس کی سوچ، نیت اور عمل نے اسے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل بنا دیا ہے۔

غزر کے لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں، گلگت کے لوگ اسے سراہتے ہیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام گلگت بلتستان کے ایک روشن چہرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔
واقعی، آصف مراد غزری ایک ایسا نام ہے جو خدمت، صداقت اور عوامی اعتماد کی پہچان بن چکا ہے۔

*دس منٹ میں زندگی کا راز*شرابی کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ زندگی بہت آسان ہے۔ فقیروں، سادھوؤں یا سنیاسی...
17/12/2025

*دس منٹ میں زندگی کا راز*

شرابی کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ زندگی بہت آسان ہے۔

فقیروں، سادھوؤں یا سنیاسیوں کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ کو خیرات میں اپنا سب کچھ تحفے میں دینے کی خواہش محسوس ہوگی۔

لیڈر کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی تمام پڑھائی بیکار ہے۔

لائف انشورنس ایجنٹ کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ مرنا ہی بہتر ہے۔

تاجروں کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی کمائی بہت کم ہے۔

سائنسدانوں کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ کو اپنی لاعلمی کا احساس ہوگا۔

اچھے اساتذہ کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ دوبارہ طالب علم بننا چاہتے ہیں۔

کسان یا مزدور کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کافی محنت نہیں کر رہے ہیں۔

ایک سپاہی کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی اپنی خدمات اور قربانیاں معمولی ہیں۔

آخری لیکن بہترین 👍

ایک اچھے دوست کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی زندگی جنت ہے!

یہ تمام چیزے میں نے جب ایک شادی شدہ بندے کے ساتھ شیئر کیا جو میرا ایک اچھا دوست بھی ہے اُس کا جواب کُچھ یو تھا

*اپنی بیوی کے سامنے 10 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ دنیا کے بیکار ترین انسان ہیں

Address

Golf It City
Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sakhi Akbar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share