Syed Farrukh Ahmed Gilani, Adv. High Court

Syed Farrukh Ahmed Gilani, Adv. High Court Greetings !!! A very warm welcome to my business page.

02/06/2024

》》 اگر کوئی شخص آپ کو یا آپ کے کاروبار کو بدنام کر رہا ہے تو کیا کیا جائے؟

¤ ایک بات یاد رکھیں کہ کسی کو بدنام کرنا ذاتی رنجش کی بنا پر، کسی کی برائی بیان کرنا لوگوں کے سامنے جو کے اس میں نہیں تھی یا کسی کے کاروبار کو بدنام کرنا جس سے اس کے بزنس کو نقصان پہنچے ایسا فعل اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہے اور پاکستانی قانون کے مطابق قابل گرفت ہے. اس فعل کو انگریزی اور قانون کی زبان میں Defamation کہتے ہیں۔ کوئی شخص آپکو آپکے گھر خاندان یا کاروبار کی بدنامی کر رہا ہے تو کیا کیا جائے؟

اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو آپ ایسے شخص کے خلاف کریمنل کارروائی کرواسکتے ہیں ساتھ ہی سول کاروائی کرتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں۔

》 کریمنل کارروائی کیسے کی جائے؟

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 499 سے لیکر 502 تک defamation کو ڈیل کرتے ہیں۔آپ پولیس میں ایسے شخص کے خلاف FIR کروا سکتے ہیں جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس شخص کو 2 سال تک قید کی سزا اور جرمانے کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

》 دیوانی یا سول کارروائی کیسے کروائی جائے؟

جو شخص بدنامی کا باعث بن رہا ہے آپ اس کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتے ہیں ساتھ ہی ہرجانہ کی ڈیمانڈ کر سکتے ہیں. گورنمنٹ نے سائلین کو فوری انصاف پہچانے کے لیے Defamation Ordinance 2002
متعارف کروایا جس کے تحت متاثرہ شخص سیشن کورٹ میں ڈائریکٹ ہتک عزت کا کیس دائر کرسکتا ہے. اس آرڈیننس کے تحت کیس کرنے سے پہلے متاثرہ شخص اس شخص کو لیگل نوٹس بھیجے گا دو مہینے کے اندر جب اس کی بدنامی کی گئی اس وقت سے. لیگل نوٹس کے بعد 14 دن کے اندر وہ شخص معافی نہیں مانگتا یا ہرجانہ نہیں دیتا تو متاثرہ فریق Defamation Ordinance 2002
کے تحت سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتا ہے. وہ اس دعویٰ میں بتائے گا کے اس کا کتنا نقصان ہوا بالفرض ایک شخص کسی کے کاروبار کی بدنامی کرتا ہے اگر اس کے کاروبار کا نقصان ہوا ہے اور وہ کاروبار اس بدنامی سے بند ہوگیا تو وہ دعویٰ میں بتائے گا اس کا کاروبار بند ہوگیا اسے اتنے لاکھ کا نقصان ہوا جتنے لاکھ کا نقصان ہوا اس حساب سے کورٹ فیس ادا کرے گا. 2 لاکھ سے اوپر جتنا بھی نقصان ہوا اسکی کورٹ فیس 15 ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی. سیشن کورٹ میں دعویٰ دائر کرنے کے سیشن کورٹ 3 مہینے کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کی پاپند ہے۔ اگر آپ نے اپنا کیس عدالت میں ثابت کردیا تو عدالت اس شخص سے آپکے نقصان کا ازالہ کروا کر دے گی.

》 جھوٹی ایف آئی آر کروائی جس سے ساکھ کو نقصان پہنچا کیا کیا جائے؟

جھوٹی ایف آئی آر کروانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت جرم ہے.
پولیس پاپند ہے جھوٹی ایف آئی آر کروانے شخص کے خلاف دفعہ 182 کے تحت کاروائی کرے

》 مرے ہوئے شخص کو بدنام کرنا؟

مرے ہوئے شخص کو بدنام کرنا بھی جرم ہے جس مرحوم شخص کے لواحقین اس شخص کے خلاف کیس کرسکتے ہیں

》 کن صورتوں میں بدنامی کرنے پر بھی کاروائی نہیں ہوگی؟

اگر کوئی اچھی نیت رکھ کر کسی کی برائی بیان کرے تاکہ دوسرے شخص اس کے شر سے محفوظ رہیں تو یہ جرم نہیں ہوگا مثال کے طور پر ایک شخص لوگوں سے فراڈ کرتا ہے یا چوری کرتا ہے ایسے شخص کے بارے میں دوسروں کو آگاہ کرنا جرم نہیں۔ کسی میڈیکل سٹور کی میڈیسن جعلی ہیں یا کسی ہوٹل کا کھانا اچھا نہیں اور آپ لوگوں کو نیک نیتی کے تحت بتاتے ہیں تو یہ جرم نہیں ہوگا۔

سوال : پاکستان قوانین اور شریعت کی رو سے عدت کی مدت کتنی ہے ؟ جواب : شریعت کی رو سے عدت کی مدت مندرجہ ذیل ہے : الف ) اگر...
05/02/2024

سوال : پاکستان قوانین اور شریعت کی رو سے عدت کی مدت کتنی ہے ؟

جواب : شریعت کی رو سے عدت کی مدت مندرجہ ذیل ہے :

الف ) اگر کسی عورت کو حیض آتے ہوں تو ایسی عورت کی عدت تین حیض ہوگی۔
ب ) اگر کوئ عورت طلاق کے وقت حاملہ ہو تو ایسی صورت میں وضع حمل ہی عدت شمار ہوگی۔

ج ) اگر کسی عورت کو عمر کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض نہیں آتے تو ایسی صورت میں عدت کا دورانیہ تین ماہ ہوگا۔
مندرجہ بالا حکم قرآن کریم کی آیات مبارکہ سورہ بقرہ اور سورہ طلاق میں آسان اور واضع الفاظ میں موجود ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں ، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اُسے چھپائیں ، اگر انہیں اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو ، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ تعالٰی غالب ہے حکمت والا ہے ۔
Surat No. 2 Ayat NO. 228

دوسری جگہ سورہ احزاب میں ارشاد فرمایا:
اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے ( ہی ) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دواور بھلے طریق پر انہیں رخصت کر دو ۔
Surat No. 33 Ayat NO. 49

پھر سورہ طلاق میں ارشاد فرمایا:
اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو ( کہ اُن کی عدّت کیا ہوگی ) تو اُن کی عدّت تین مہینے ہے اور وہ عورتیں جنہیں ( ابھی ) حیض نہیں آیا ( ان کی بھی یہی عدّت ہے ) ، اور حاملہ عورتیں ( تو ) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے ، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ( تو ) وہ اس کے کام میں آسانی فرما دیتا ہے
Surat No. 65 Ayat NO. 4

نوٹ : یاد رہے کہ مندرجہ بالا تینوں صورتیں مطلقہ یعنی ایسی عورتوں کی تھیں جن کو طلاق کی وجہ سے عدت درپیش ہوئ ہو کیونکہ عدت وفات مندرجہ بالا تمام قسم کی عورتوں کے لئے چار مہینے دس دن ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ، وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں پھر جب مدت ختم کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وہ اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ تعالٰی تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے ۔
Surat No. 2 Ayat NO. 234

دوسری جانب چونکہ احادیث کی بھی وہی وقعت اور اہمیت ہے جو قرآن کریم کی ہے اور اسلام میں اسے پرائمری سورس آف لاء میں شمار کیا جاتا ہے لہذا ادھر ایک حدیث کا ذکر کرونگا۔ جو احادیث کی کتب میں بار بار دوہرائی گئی ہے۔

وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابوبکر بن ابوجہم بن صخیر عدوی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں رہائش دی نہ خرچ ۔ کہا : *رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ جب ( عدت سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا* ‘‘ سو میں نے آپ کو اطلاع دی ۔ معاویہ ، ابوجہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے ان کی طرف پیغام نکاح بھیجا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ معاویہ تو فقیر ہے اس کے پاس مال نہیں ہے ، اور رہا ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارنے والا ہے ، البتہ اسامہ بن زید ہے ۔‘‘ انہوں نے ( ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ) ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا : اسامہ ! اسامہ ! رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ کہا : تو میں نے ان سے شادی کر لی ، اس کے بعد مجھ پر رشک کیا جانے لگا ۔

Sahih Muslim #3712
Sunan Nasai #3246
Sunan Ibn Maja #1869
Musnad Ahmad #6870
Mishkaat #3324
Mouta Imam Malik #1205

مندرجہ بالا حدیث کو قرآن کریم کی سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 228 سے ملا کر پڑھیں تو ایک بات واضح ہوگی کی عدت کا دورانیہ تین طہر ہیں۔ دوسری اہم بات جو واضح ہوگی وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے یہ الفاظ
*رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ جب ( عدت سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا* مطلب فیصلے کا اختیار عورت کو دیا گیا۔ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھر پرائیویسی لاءز کا تصور دیا اور اسے نجی معاملہ قرار دیتے ہوئے اختیار بھی عورت کو دیا۔

شریعت میں عدت کی مدت کا معاملہ واضح ہونے کے بعد پاکستانی قانون میں عدت کی مدت مندرجہ ذیل ہے :

الف ) مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے دفعہ سات کے تحت عدت کی مدت نوے دن ہے۔

ب ) شریعت اپیلیٹ بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے مشہور زمانہ اور تاریخ ساز فیصلے کی رو سے عدت کی مدت نوے دن نہیں بلکہ تین حیض ہیں اور تین حیض کی وضاحت اس فیصلے میں کچھ یوں ہوئ ہے کہ حیض یعنی پیریڈز کی اقل مدت تین دن ہے اور طہر یعنی پاکی کی حالت کی اقل مدت پندرہ دن ہے تو ایسی صورت میں عدت کا کم سے کم دورانیہ انتالیس دن " بھی " ہوسکتا ہے۔

نوٹ : یاد رہے کہ مندرجہ بالا تاریخ ساز فیصلے کے مصنف جسٹس تقی عثمانی صاحب اور پیر کرم شاہ صاحب ہیں جن کے فیصلے کو 1992 SCMR 1273 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

24/11/2023

اگر ملزم نے مستغیث کو رقم کی مرحلہ وار ادائیگی کیلئے ایک ہی وقت میں مختلف تواریخ کےچیک جاری کیے ھوں تو ان چیکس کے ڈس آنر ھونے پر ان تمام چیکس کی بابت صرف ایک ھی ایف آئی آر درج ھو سکتی ہے اگر ان میں سے ایک چیک کے ڈس آنر ھونے پر ایک ایف آئی آر درج ھو جاتی ھے تو اندراج ایف آئی آر کے بعد مزید ڈس آنر ھونے والے چیکس کی بابت بھی کاروائی پہلے سے درج شدہ مقدمہ میں ہی ھو گی الگ سے ایف آئی آر درج نہ ھو گی.

12/09/2023

》》 تنسیخ نکاح کی وہ صورتیں جس میں عورت کو مکمل حق مہر ملے گا

》 پاکستانی قانون میں عورت کو یہ حق حاصل ہے اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور اس کا شوہر اس کو طلاق دے کر آزاد نہیں کررہا تو اس صورت میں پاکستانی قانون کے مطابق عورت عدالت میں خلع کا کیس کرسکتی ہے اور عدالت کے ذریعے سے تنسیخ نکاح کروا سکتی ہے.
لیکن اگر عورت عدالت سے خلع لیتی ہے تو The family court Act 1964 کے سیکشن 10 کے تحت عورت کو وہ مہر جو اس کو نہیں ملا یعنی Deferred dower جس کو اردو میں مہر موجل یا غیر معجل بھی کہتے ہیں اس کا 50 فیصد شوہر کو معاف کرے گی اس کو 50 فیصد حق مہر ملے گا اور اگر حق مہر معجل یعنی prompt dower ہے تو 25 فیصد واپس کرے گی اگر وصول کرلیا ہے. اگر حق مہر میں گھر سونا زیور لکھا تھا اس پر بھی یہی اصول لاگو ہوگا خلع کی صورت میں.

》 کن صورتوں میں بیوی حق مہر واپس نہیں کرے گی؟

تو The dissolution of marriage Act 1939 میں وہ Grounds بیان ہوئے ہیں کہ اگر عورت ان گراونڈز کی بنیاد پر عدالت سے اپنے نکاح کی تنسیخ کرواتی ہے تو اسے حق مہر گھر زیور واپس نہیں کرنا ہوگا۔

1) اگر کسی عورت کا شوہر 4 سال سے لاپتہ ہو تو اس صورت میں عورت عدالت سے نکاح ختم کرواسکتی ہے۔ عدالت 6 ماہ تک انتظار کرے گی اگر شوہر آگیا تو تنسیخ نہ ہوگی اگر شوہر نہ آیا تو تنسیخ نکاح کی ڈگری effective ہو جائے گی۔

2) اگر شوہر 2 سال سے خرچہ نہیں دے رہا

3) اگر شوہر 3 سال سے ازواجی حقوق بغیر کسی وجہ کے ادا نہیں کر رہا.

4) اگر شوہر پاگل ہوگیا ہے یا کوئی وبائی مرض کا شکار ہوگیا عرصہ 2 سال سے

5) اگر شوہر کو 7 سال یا اس سے زائد قید کی سزا ہوگئی ہو

6) اگر شوہر شادی کے وقت سے ہی نامرد تھا اور آگے بھی نامرد ہے تو اس صورت میں بھی عدالت تنسیخ نکاح کا حکم دے دے گی لیکن تنسیخ نکاح سے پہلے عدالت مرد کو علاج کروانے کا ٹائم دے گی 1 سال کا اگر 1 سال میں علاج نہیں ہوتا تو عدالت تنسیخ نکاح کر دے گی

7) اگر عورت کی شادی 16 سال کم عمر میں اسے کے والدین یا سرپرست نے کر دی اب وہ لڑکی 16 سال کی ہوگئی ہے اب اس پر ہے اگر وہ اپنی شادی ختم کرنا چاہے تو کرسکتی ہے اس کو حق اخیارغ البلوغ کہتے ہیں

8) اگر شوہر مارپیٹ کرتا ہے نشہ کرتا ہے، غیر عورتوں سے تعلقات رکھتا ہے، عورت کا سامان بلا اجازت بیچتا ہے یا عورت کو استعمال نہیں کرنے دیتا، اگر شوہر عورت کو غیر اخلاقی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے یا اس کو اسے مذہبی معاملات کے مطابق زندگی گزارنے نہیں دیتا یا اس کی زیادہ بیویاں ہیں وہ ان بیویوں کی موجودگی میں اس عورت سے انصاف نہیں کرتا تو ان اوپر بیان کی گئی وجوہات کی بنا پر اگر بیوی شوہر سے عدالت کے ذریعے علیحدگی، تنسیخ نکاح کرتی ہے تو اس صورت میں بیوی کو حق مہر گھر زیور واپس نہ کرنا ہوگا. خلع میں اگر بیوی صرف اتنا کہہ دے کے مجھے نفرت ہوگئی ہے اپنے شوہر سے میں نہیں رہنا چاہتی تو عدالت خلع دے دیتی ہے لیکن ان اوپر بیان کی گئی وجوہات کو عدالت میں عورت کو ثابت کرنا ہوگا جیسا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مار پیٹ کرتا ہے. اگر عورت ثابت کر دیتی ہے عدالت میں تو اسے حق مہر واپس نہ کرنا ہوگا.

01/09/2023
20/08/2023

Alhamdolillah. I've been appointed as Legal Advisor to Islamabad Electric Supply company (IESCO) and Sui Northern Gas Pipelines Limited (SNGPL). Thank you all for remembering me in your prayers. Cheers !

الحمد للہ۔ مجھے IESCO اور SNGPL کا لیگل ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے۔ آپ کی نیک تمناؤں کا شکریہ، آئندہ بھی مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔ شادآباد رہیں۔ شکریہ

13/08/2023

》》 نگران حکومت کیا ہوتی ہے، یہ کیسے بنتی ہے اور اس کا کام کیا ہوتا ہے؟

》 قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت کی تکمیل سے چند دن قبل تحلیل کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق ملک میں تین ماہ یعنی نو نومبر 2023 سے قبل انتخابات کا انعقاد ہونا لازم ہے۔

آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو انتخابات 60 روز میں کرائے جائیں گے لیکن اس کے قبل از وقت تحلیل ہونے کی صورت میں یہ مدت بڑھ کر 90 روز تک ہو جاتی ہے

》 نگراں حکومت کیسے قائم ہوتی ہے اور کیوں؟
پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے نگراں سیٹ اپ کی تشکیل اسے دنیا کے دیگر ممالک سے الگ کرتی ہے کیونکہ عموماً آج کل جمہوری ممالک میں اس قسم کے کسی بندوبست کی مثال نہیں ملتی۔

خود پاکستان میں سنہ 1990 کے الیکشن سے قبل پہلی مرتبہ نگران حکومت تشکیل دی گئی تھی۔ اس کے بعد سے سنہ 2018 تک ہونے والے تمام تر انتخابات نگران حکومتوں کی زیرِ نگرانی ہی ہوئے ماسوائے سنہ 2002 کے الیکشن کے جو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی نگرانی میں ہوئے اور اس کے لیے الگ سے سیٹ اَپ تشکیل نہیں پایا تھا۔

پاکستان میں نگران حکومت کا قیام آئین کی شق 224 کے تحت عمل میں آتا ہے جس کی ذیلی شقوں کے مطابق اگر شق 58 کے تحت اسمبلی تحلیل ہو جائے، تو صدرِ مملکت وزیرِ اعظم اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے نگران وزیرِ اعظم تعینات کریں گے۔

تاہم یہ تعیناتی صدرِ مملکت کا اختیار نہیں بلکہ یہ قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم کے اتفاق رائے کے بعد عمل میں آتی ہے۔

آئین کی شق 224 کے تحت اگر اسمبلی تحلیل ہو جائے تو ختم ہونے والی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف یعنی اور وزیرِاعظم نے باہمی مشاورت سے کسی ایک نام پر متفق ہونا ہوتا ہے اور اس کام کے لیے اُن کے پاس اسمبلی کے تحلیل سےلے کر صرف تین دن کا وقت ہو تاہے۔

آئین کی شق 53 کے تحت جب تک نئی اسمبلی میں نئے سپیکر کا انتخاب عمل میں نہ آ جائے، تب تک موجودہ سپیکر اپنے عہدے پررہیں گے۔

》 نگران حکومت کا کام کیا ہوتا ہے؟
پاکستان میں نگران حکومت کی اصل ذمہ داری عام انتخابات میں منتخب ہونے والی حکومت کے انتظام سنبھالنے تک ملک کے روزمرہ کے معاملات چلانا ہوتا ہے اور اسے فیصلوں اور پالیسی سازی کے حوالے سے منتخب حکومت جیسے اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔

تاہم 26 جولائی 2023 کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 230 میں جو ترمیم کی گئی اس کے تحت نگران حکومت اب روزمرہ کے حکومتی امور نمٹانے کے ساتھ ساتھ پہلے سے جاری منصوبوں اور پروگرامز سے متعلق اختیارات استعمال کر سکے گی اور اہم پالیسی فیصلے بھی لے سکے گی۔

04/08/2023

From Campus to Career: Celebrating Our Alumni Success Stories!

Admissions Fall 2023 are now open.

Apply online at: http://admission.iiu.edu.pk




04/08/2023

》》 آرمی ایکٹ کیا ہے اور اس کے تحت عام شہریوں کے خلاف کارروائی کیسے کی جاتی ہے؟

》 پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔
فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے اور یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل (جیگ) برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔
اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس (عموماً لفٹیننٹ کرنل رینک) فوجی افسر ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔
اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں ’فرینڈ آف دی ایکیوزڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔
سنہ 2015 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ نے21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی متفقہ منظوری دی تھی۔
ان ترامیم کے تحت مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی:
پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والےفوج اور قانون نافذ کرنے والے
اداروں پر حملہ کرنے والےاغوا برائے تاوان کے مجرم
غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے
مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے
کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین
سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والےدھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد

دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے والے

بیرونِ ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے
آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی میں دو ایسی شقیں موجود ہیں جن کے تحت سویلینز کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے جن میں پہلی، سیکرٹ انفارمیشن اور دوسری کسی کو فوج کا آرڈر نہ ماننا اور فوج کے خلاف اکسانا شامل ہے۔ ’خاص کر جب فوج کو سویلین حکومت کی مدد کے لیے بلایا جائے، ان حالات میں فوج کو یہ اختیارات حاصل ہیں۔‘
ماضی میں فوج کی جیگ برانچ سے منسلک رہنے والے کرنل انعام کا کہنا تھا کہ پہلی شق کے مطابق اگر کوئی سویلین دشمن کو کوئی سیکرٹ انفارمیشن پاس آن کرتا ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں تو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے گرفتار اور فوج میں اس کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری شق کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کو فوجی کمانڈ کے خلاف بغاوت، فساد برپا کرنے کے لیے اشتعال دلانے، اُکسانے یا ترغیب یا تحریک دینے کا سبب بنے تو اس صورت میں بھی فوج اس کا ٹرائل ٹو وی ڈی کے تحت کر سکتی ہے ’چاہے ایسا کسی تقریر کے ذریعے ہی کیا گیا ہو، اگر اس سے فوج کے خلاف اکسانے کا تاثر بھی ملے تو اس صورت میں بھی اس شخص کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔‘
کرنل انعام رحیم کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی شخص تقریر میں کہتا ہے کہ فوج یا اپنی کمانڈ کا حکم نہ مانیں تو اس پر بھی یہ چارج لگے گا۔‘
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت اگر کسی شخص پر مسلح افواج کے کسی اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کا جرم ثابت ہو جائے تو اس کی سزا موت ہے اور اس صورت میں بھی کورٹ مارشل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس قانون کے تحت مجرم کو عمر قید یا دس سال قید اور جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس سویلین کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندارج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیا ہے اور اس کے تحت کیا سزائیں دی جاسکتی ہیں؟
انعام الرحیم کے مطابق آرمی ایکٹ میں شامل آفیشل سیکرٹ ایکٹ برطانوی دورِ حکومت (سنہ 1923 ) میں بنایا گیا تھا اور تب سے چلتا آ رہا ہے۔
اس کے مطابق اگر کوئی دشمن یا کسی بھی شخص کو فوج سے متعلق کوئی خفیہ معلومات فراہم کرے تو اس ایکٹ کے تحت اس ملزم کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔

چند برس قبل انھیں خود بھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے (احمد فراز والے فیصلے کی نظیر دیتے ہوئے) ان کے ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
کرنل انعام کا کہنا ہے چونکہ اس معاملے میں فوج کو سویلین حکومت کی مدد کے لیے بلایا گیا تھا اور جب فوج سویلین حکومت کی مدد کو آئے اس صورت میں فوج کو لا اینڈ آرڈر کے لیے کچھ اضافی اختیارات بھی مل جاتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ سیکرٹ ایکٹ میں سیکشن 2 ون ڈی میں کسی سویلین کے ٹرائل کا پورا طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت: سب سے پہلے اس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے پھر اسے سیشن جج کے پاس پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد مقدمے کو ملٹری کورٹ میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔
کرنل انعام کے مطابق اس میں سزاؤں کا انحصار جرم کی نوعیت پر ہے اور اس میں تین سال سے لے کر عمر قید اور سزائے موت تک کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔
عسکری تنصیبات پر حملوں کے تناظر میں کرنل انعام نے بتایا کہ ان افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے جنھوں نے مبینہ طور پر ان مقامات پر حملے کا منصوبہ بنایا یا اس کی ہدایت جاری کی۔ ’اس صورت میں فوج کو ان سویلینز کے خلاف ٹو ون ڈی کے تحت ٹرائل کا اختیار حاصل ہے۔‘

کرنل انعام الرحیم مزید کہتے ہیں کہ یہاں سیکشن 59 اور 60 لگائے گئے ہیں اور سیکشن 60 کا مطلب ہے سہولت کاری یعنی اگر کوئی شخص جائے وقوعہ، اس شہر میں یا پاکستان میں موجود بھی نہیں ہے اور ملک سے باہر ہے لیکن وہ فوج کے خلاف اکسانے میں مدد کا باعث بنا ہے تو اس پر بھی ٹو ون ڈی کا اطلاق ہو گا۔

اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار کی بھٹو کو بھی اسی سہولت کاری کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔

کیا سیکشن ٹو ون ڈی کے تحت دی گئی سزاؤں کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

کرنل انعام کا کہنا ہے سیکشن ٹو ون ڈی میں پروسیجر فالو کرنا لازم ہو گا، یعنی ایف آر درج کرنے سے لے کر ثبوتوں کی موجودگی اور آرٹیکل 10 (اے) کے تحت ملزمان کو فیئر ٹرائل کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے اور اگر پروسیجر فالو نہیں ہوتا تو اسے ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ اگر ملک میں جوڈیشل سسٹم چل رہا ہو تو سویلینز کے مقدمات کو سول کورٹ میں بھیجے جانے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
کرنل انعام کہتے ہیں کہ یہاں یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے کہ ٹرائل ملٹری کورٹس کے ذریعے ہو گا یا سویلین عدالت کے ذریعے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ جوڈیشل سسٹم صحیح طرح کام نہیں کر رہا تو وہ مقدمات ملٹری کورٹس کو بھجوا سکتی ہے۔
ایسے مقدمات کو چیلنج کرنے کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جن تین سویلنز کو سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے دور میں سزائے موت دی گئی تھی انھیں ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا کیونکہ ان کے خلاف نہ تو ایف آئی آر درج تھی نہ انھیں کونسل تک رسائی دی گئی اور آرٹیکل 10 (اے) کے تحت یہ دونوں لازم ہیں
ماضی میں کن سویلینز کو ایسے مقدمات میں فوجی ٹرائل کے بعد سزائیں ہوئیں؟

ماضی میں ایسے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کرنل انعام کہتے ہیں کہ بے شمار سویلینز پر ایسے مقدمات درج کیے گئے جن میں سے کچھ کے کیسز ابھی تک ہائیکورٹ میں زیِرالتوا ہیں۔

اس کی حالیہ مثال میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی عسکری کے بیٹے حسن عسکری ہیں جنھیں جولائی 2021 میں پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

حسن عسکری پر الزام تھا کہ انھوں نے سنہ 2020 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ملنے اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔ انھوں نے اس خط کی نقول پاکستانی فوج کے متعدد جرنیلوں کو بھی بھیجی تھیں۔

حسن عسکری کے والد کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں دی گئی درخواست میں بتایا گیا تھا کہ ان پر مقدمہ گوجرانوالہ چھاؤنی میں چلا جہاں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے انھیں مجرم گردانتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

کرنل انعام بتاتے ہیں کہ حال ہی میں جنرل (ر) باجوہ کے دور میں 25 سویلینز کا ملٹری ٹرائل ہوا اور ان میں سے تین کو سزائے موت جبکہ دیگر کو 10-14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سنہ 2021 میں ایک فوجی عدالت نے سماجی کارکن ادریس خٹک کو جاسوسی کے الزام میں 14 برس قید کی سزا سنائی تھی.

سپریم کورٹ نے شوہر اور سسرال کے ظلم و ستم اور ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو درست قرار دے دیا ہے۔                 ...
21/07/2023

سپریم کورٹ نے شوہر اور سسرال کے ظلم و ستم اور ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو درست قرار دے دیا ہے۔

2023 SCMR 246

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی ذہنی یا جسمانی ظلم کی بنیاد پر شوہر سے تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرنے کا حق رکھتی ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ تنسیخ نکاح سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے دیا۔

یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے جس میں ’قانونِ محمدی‘ کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ ’اگر بیوی پر سسرال میں ظلم ہو رہا ہو اور وہ خاوند کے گھر میں غیر محفوظ ہو تو وہ تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔‘

عدالت نے تشدد کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو خلع کے ذریعے شادی کے خاتمے میں تبدیل کرنے کے اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو بحال کیا ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ ’مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی بندھن پاکیزہ رشتہ ہے جو زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ رشتہ میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کی خوشی اور ہمدردی کے جذبات کو پروان چڑھاتا ہے اور اس پر ہی خاندانی نسب اور وراثت کا بھی انحصار ہوتا ہے۔‘

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ازدواجی رشتہ نرمی، انسانی اور جذباتی وابستگی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے جس کے لیے باہمی اعتماد، احترام، وقار، محبت اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے اور اس لیے یہ اہم رشتہ معاشرتی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے جیسا کہ دینِ اسلام شوہر کو خوراک، لباس، رہائش اور دیگر تمام ضروریات زندگی فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے، اسی طرح مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ پیار اور محبت کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھے گا۔‘

معاملہ شروع کب ہوا تھا؟
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا طرزِ عمل یا رویہ جو بیوی کے لیے ذہنی اذیت اور جسمانی تکلیف کا باعث بنتا ہے اس کے لیے ازدواجی بندھن کو برقرار رکھنا ناممکن بنا دیتا ہے تو وہ تنسیخ نکاح کے دعوے کی حق دار ہے۔‘

واضح رہے کہ پشاور کی رہائشی ایک خاتون نے سنہ 2014 میں اپنے شوہر کے ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح اور حق مہر کی ادائیگی کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

فیملی کورٹ نے دعویٰ منظور کیا جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے فیصلے کے خلاف اپیل جزوی طور پر منظور کر کے ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو خلع میں تبدیل کر دیا اور بیوی کو حق مہر کا پانچ تولہ سونا یا مارکیٹ ریٹ کے مطابق مساوی رقم شوہر کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی۔

تاہم اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر کے فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور قرار دیا ہے کہ ’شوہر کا بیوی کے دعوے کے جواب میں ازدواجی حقوق پورے نہ کرنے کا مؤقف مہر کی ادائیگی سے بچنے کا محرک ہو سکتا ہے۔‘

فیصلے میں مزید کیا کہا گیا ہے؟
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’فریقین کے درمیان بنیادی اختلاف کے سبب یہ سوال تھا کہ کیا درخواست گزار طیبہ عنبرین ظلم کی بنیاد پر شادی ختم کرنے کے حکم نامے کا دعویٰ کرنے کی مستحق تھی اور کیا اپیلیٹ فورم نے ظلم کی بنیاد پر نکاح کو ختم کرنے کے بجائے خلع کے ذریعے ختم کر کے ٹھیک فیصلہ کیا؟‘

سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ’بے رحمانہ، ظالمانہ اور جابرانہ طرزِ عمل اور رویے کے باوجود شوہر کی جانب سے ازدواجی حقوق کے دعوے کا واحد اور بنیادی مقصد صرف اور صرف کفالت اور مہر کی رقم کی ادائیگی سے بچنا معلوم ہوتا ہے۔

’مدعا علیہ کی یہ کوشش اس وقت کامیاب ہوئی جب اپیلیٹ کورٹ نے بیوی کو مہر کی رقم واپس کرنے کی ہدایت کرنے کے ساتھ خلع کے ذریعے شادی ختم کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔‘

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’فیملی کورٹ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا کہ درخواست گزار خاتون نے کئی واقعات کا حوالہ دے کر شوہر کی جانب سے ان پر کیے جانے والے ظلم کو ثابت کیا جبکہ جرح کے دوران بھی خاتون کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کو جھٹلایا نہیں گیا۔ لہٰذا فیملی کورٹ نے مکمل جانچ پڑتال اور شواہد پر غور کرنے کے بعد ظلم کو بنیاد بناتے ہوئے شادی کو ختم کیا۔‘

سپریم کورٹ کے فیصلے میں ان واقعات کا بھی حوالہ دیا کہ فیملی کورٹ کے فیصلے میں کس طرح مختلف حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی جو بیوی کے لیے ذہنی اذیت اور تشدد کا باعث بنے جیسا کہ یہ بات کہ شادی کے صرف ایک ہفتے بعد ہی شوہر نے بیوی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ کرائے پر مکان حاصل کرنے کے لیے رقم کا بندوبست کرے۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ ’شوہر اور اس کے خاندان کے افراد نے بھی خاتون پر جھوٹے الزامات لگائے جس میں یہ الزام بھی تھا کہ درخواست گزار کے بطن سے پیدا ہونے والی بچی مدعا علیہ کی بیٹی نہیں اور اس طرح کی الزامات کے باعث درخواست گزار کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اس کے علاوہ شوہر اور اس کے خاندان کے افراد نے خاتون پر ’یہ سخت شرط عائد کی کہ وہ اپنی تنخواہ شوہر کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرائے اور ذاتی استعمال کے لیے رقم اس کی اجازت سے لے۔‘

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ’عدالت میں کیس دائر کرنے کے باوجود شوہر کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس نے اپنی بیوی کو مزید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا اور اس پر مزید جھوٹے الزامات لگانا شروع کر دیے۔‘

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’اپیلیٹ کورٹ نے ثبوتوں پر غور کرنے کے بجائے بغیر کسی وجہ کے قرار دیا کہ جسمانی تکلیف یا ذہنی اذیت کو ظاہر کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔‘

The dissolution of marriage on the ground of cruelty, the Court must adjudge the intensity and ruthlessness of the acts and examine whether the conduct complained of is not merely a trivial issue which may happen in day-to-day married life, but is of such a nature which no reasonable person can endure. While claiming conjugal rights by a husband in response to the suit for dissolution of marriage, dower, dowry and maintenance, it is also an onerous responsibility of the Court to see whether he is sincerely fulfilling his obligations towards his wife.

Address

New Civil Courts Complex Street
Fatehjang
43350

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 16:00 - 19:00

Telephone

+923335077500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Farrukh Ahmed Gilani, Adv. High Court posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Syed Farrukh Ahmed Gilani, Adv. High Court:

Share