Pasha & Kahloon Law Chamber.

Pasha & Kahloon Law Chamber. Client satisfaction is our fee.

12/08/2026

بینک فراڈ کیس میں 4 ملزمان کو مجموعی طور پر 120 سال قید کی سزا

ایف آئی اے کارپوریٹ بینکنگ سرکل لاہور نے بینک فراڈ کیس میں اہم کامیابی حاصل کرلی۔ ایف آئی اے سی بی سی لاہور کے مقدمہ نمبر 78/2023 میں خصوصی عدالت نمبر ایک برائے بینکنگ جرائم نے چار ملزمان کو مجموعی طور پر 120 سال قید کی سزا سنا دی۔

عدالت نے ملزمان پر حبیب بینک کو 5 کروڑ 98 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا جرم ثابت ہونے پر ہر ایک کو 30،30 سال قید کی سزا سنائی۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے کونیکٹ ایپ کے ذریعے مطلوبہ بیلنس کے بغیر غیر قانونی فنڈز منتقل کیے تھے۔

عدالت نے ملزم قاسم رضا بخاری کو 30 سال قید اور 73 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانے، برانچ لیس بینکنگ ایجنٹ جہانزیب کو 30 سال قید اور ایک کروڑ 52 لاکھ ایک ہزار 900 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

ملزم مہران کو 30 سال قید اور 13 لاکھ 60 ہزار روپے جبکہ حارث عباسی کو 30 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ہر ملزم کو مزید ساڑھے 7 سال قید بھگتنا ہوگی۔

ایف آئی اے پراسیکیوشن نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 406، 419، 420، 468، 471 اور 109 کے تحت مقدمہ کامیابی سے ثابت کیا۔
تحریر: ثاقب گجر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور۔

22/07/2026

منشیات کے مقدمات میں مؤثر جرح اور نیا معیار - سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ 2025 SCMR 923 کی روشنی میں ۔

قانونی اعتراضات اور مؤثر Cross-Examination کی عملی گائیڈ

منشیات کے مقدمات میں صرف برآمدگی کافی نہیں۔ استغاثہ پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ برآمد شدہ منشیات کی برآمدگی سے لے کر فرانزک تجزیہ اور عدالت میں پیشی تک ہر مرحلے کی محفوظ تحویل (Chain of Custody) ناقابلِ شبہ دستاویزی ثبوت سے ثابت کرے۔

ذیل میں ایسے مؤثر سوالات درج کر رہا ہوں جو تفتیشی افسر، انچارج مالخانہ اور فرانزک ماہر سے جرح کے دوران مقدمے کی خامیاں نمایاں کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

حصہ اول:

تفتیشی افسر (Investigating Officer / Recovery Officer) سے جرح

کیا آپکو وقوعہ سے قبل کوئی خفیہ یا پیشگی اطلاع موصول ہوئی تھی؟
2. کیا اس اطلاع کا اندراج Rule 22.49 Police Rules 1934 کے مطابق رجسٹر نمبر II (روزنامچہ) میں کیا گیا؟
3. کیا آپ عدالت کو اس اندراج کا نمبر اور وقت بتا سکتے ہیں؟
4. کیا آپ نے دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کیا؟
5. اگر سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا گیا تو کیا اس کی وجوہات روزنامچہ میں درج کی گئیں؟
6. کیا موقع پر دو غیرجانبدار اور آزاد گواہوں کو شامل کیا گیا؟
7. اگر نہیں، تو انکار کی وجوہات کیا ہیں اور کیا وہ بھی روزنامچہ میں درج ہیں؟



B۔ برآمدگی، وزن اور سیلنگ

8. برآمد شدہ منشیات کس ترازو سے تولی گئی؟
9. کیا اس ترازو کی Calibration یا Verification Certificate موجود ہے؟
10. تین نمائندہ نمونے کس وقت، کس مقام پر اور کس کی موجودگی میں تیار کیے گئے؟
11. کیا نمونے آپ نے تیار کیے یا محرر/کسی اور اہلکار نے؟
12. کیا ہر نمونے پر مقدمہ نمبر، تاریخ، مقام، دستخط اور مہر موجود ہے؟
13. باقی مال کس نے سیل کیا؟
14. کیا Form 22.70 پر Sample Seal محفوظ کی گئی؟
15. کیا آپ عدالت میں وہ Sample Seal دکھا سکتے ہیں؟



C۔ Chain of Custody کا آغاز

16. برآمدگی کے فوراً بعد مال کس کے قبضے میں رہا؟
17. مالخانہ میں جمع کرانے تک وہ کس کی تحویل میں تھا؟
18. کیا اس دوران کسی مرحلے کا تحریری ریکارڈ موجود ہے؟



حصہ دوم

محرر / انچارج مالخانہ (Moharrir / Malkhana Incharge) سے جرح

سپریم کورٹ کے مطابق Chain of Custody کی بنیاد

1. کیا آپ متعلقہ تھانے کے انچارج مالخانہ ہیں؟
2. کیا آپ نے مقدمہ کی ضبط شدہ پراپرٹی وصول کی؟
3. تاریخ، وقت اور مقام بتائیں۔
4. کیا اس کا اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کیا گیا؟
5. رجسٹر کا Serial Number کیا ہے؟
6. کیا رجسٹر عدالت میں پیش کیا گیا ہے؟
7. کیا اس اندراج کی مصدقہ نقل موجود ہے؟
8. کیا لیبارٹری بھیجنے سے پہلے Road Certificate (Form 10.17 / Rule 22.72) تیار کیا گیا؟
9. روڈ سرٹیفکیٹ نمبر کیا ہے؟
10. نمونے لے جانے والے اہلکار کا نام کیا ہے؟
11. وہ کس تاریخ اور وقت روانہ ہوا؟
12. کیا اس کی روانگی اور واپسی دونوں کا اندراج رجسٹر میں موجود ہے؟
13. کیا لیبارٹری سے واپسی پر نیا روڈ سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا؟
14. کیا مقدمہ کی پراپرٹی کی ہر نقل و حرکت کا مکمل دستاویزی ریکارڈ عدالت میں موجود ہے؟

انتہائی اہم سوال

15. اگر رجسٹر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ عدالت میں موجود نہیں تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ محفوظ تحویل (Chain of Custody) دستاویزی طور پر ثابت نہیں کی جا سکتی؟



اہم عدالتی نکتہ

اگر گواہ زبانی یادداشت سے جواب دے تو فوراً اعتراض کریں:

“جناب والا! آرٹیکل 102 قانونِ شہادت کے مطابق جب دستاویزی ثبوت موجود ہونا چاہیے تو زبانی شہادت ناقابلِ قبول ہے۔ پہلے متعلقہ رجسٹر اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش کیے جائیں۔”



حصہ سوم

فرانزک / PFSA / Chemical Examiner سے جرح

1. پارسل آپ کو کس شخص نے فراہم کیا؟
2. کیا اس کے ساتھ Road Certificate موجود تھا؟
3. اس کا نمبر کیا تھا؟
4. پارسل وصول کرتے وقت کیا مہر صحیح اور سالم حالت میں تھی؟
5. کیا آپ نے Sample Seal کا موازنہ کیا؟
6. وصولی کا اندراج کس رجسٹر میں کیا گیا؟
7. کیا وہ رجسٹر عدالت میں موجود ہے؟
8. تجزیہ مکمل ہونے کے بعد پارسل کس کے حوالے کیا؟
9. واپسی کے روڈ سرٹیفکیٹ کا نمبر کیا تھا؟
10. کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ Road Certificate یا Chain of Custody کے کسی بھی مرحلے کی عدم موجودگی نمونے کی Integrity پر سوال اٹھا دیتی ہے؟
11. کیا یہی اصول سپریم کورٹ نے 2025 SCMR 923 میں اختیار کیا ہے؟



حصہ چہارم

ناقص اور نامکمل تفتیش

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ محض ایک مبینہ پیڈلر کی گرفتاری مؤثر تفتیش نہیں۔

مندرجہ ذیل سوالات اس خامی کو نمایاں کرتے ہیں:

1. کیا آپ نے معلوم کیا کہ منشیات کا اصل سپلائر کون تھا؟
2. کیا آپ نے خریدار یا وصول کنندہ کی نشاندہی کی؟
3. کیا کسی بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا؟
4. کیا موبائل فون، کال ریکارڈ یا ڈیجیٹل شواہد حاصل کیے گئے؟
5. کیا بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی جانچ کی گئی؟
6. کیا دفعہ 26 CNSA کے تحت اثاثوں اور جائیداد کی تحقیقات کی گئیں؟
7. کیا کسی شریک ملزم کو گرفتار کیا گیا؟
8. کیا کسی منشیات فروش گروہ یا مینوفیکچرر تک پہنچنے کی کوشش کی گئی؟
9. اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش صرف ایک شخص کی گرفتاری تک محدود رہی؟



سپریم کورٹ کے فیصلے 2025 SCMR 923 سے اخذ کردہ تین مضبوط قانونی اعتراضات

1۔ آرٹیکل 102 قانونِ شہادت

“جناب والا! استغاثہ Chain of Custody زبانی شہادت سے ثابت کرنا چاہتا ہے جبکہ قانون دستاویزی ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ رجسٹر نمبر XIX، روزنامچہ اور Road Certificate پیش کیے بغیر زبانی شہادت قابلِ قبول نہیں۔”



2۔ آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت

“استغاثہ نے وہ دستاویزات پیش نہیں کیں جو اس کے قبضے میں تھیں، لہٰذا عدالت منفی مفروضہ قائم کر سکتی ہے کہ اگر یہ ریکارڈ پیش کیا جاتا تو وہ استغاثہ کے مؤقف کے خلاف ہوتا۔”



3۔ محفوظ تحویل (Chain of Custody) ثابت نہ ہونا

“استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ برآمد شدہ منشیات برآمدگی سے لے کر فرانزک تجزیہ اور عدالت میں پیش ہونے تک ہر مرحلے پر محفوظ اور غیر تبدیل شدہ حالت میں رہیں۔ لہٰذا فرانزک رپورٹ اپنی قانونی اہمیت کھو دیتی ہے۔”



سنہری اصول (Golden Rule of Cross-Examination)

سوال ہمیشہ مختصر، واضح اور Leading ہوں۔
ہر سوال کا جواب صرف “ہاں” یا “نہیں” تک محدود رکھیں۔
گواہ کو غیر ضروری وضاحت دینے کا موقع نہ دیں۔
جہاں ممکن ہو گواہ کو متعلقہ دستاویز دکھا کر سوال کریں۔
اگر دستاویز موجود نہ ہو تو فوراً اعتراض ریکارڈ کروائیں۔



جرح کا فیصلہ کن سوال

آخر میں گواہ سے لازماً یہ اقرار ریکارڈ کروانے کی کوشش کریں:

“میں تسلیم کرتا ہوں کہ رجسٹر نمبر XIX، متعلقہ Road Certificate، اور Chain of Custody ثابت کرنے والی تمام دستاویزات معزز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔

Prepared by

Rai Hassan Raza Sher ( Adv )
Lahore High Court

Kindly share this valuable resource for the information, awareness, and professional guidance of young lawyers.

17/06/2026

فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کے
بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ۔ لازمی پڑھیں۔
/-----------------------------**////----------------
پھالیہ، منڈی بہاؤالدین کا علی محمد فوت ہوا تو اسکے ورثاء میں
صرف بیٹیاں تھیں، بیٹا نہ تھا۔ بیٹیوں نے اپنے باپ کو شیعہ/ فقہ جعفریہ کا پیروکار ظاہر کیا اور 30 جنوری کو ساری جائیداد اپنے نام انتقال کروا لی۔ لیکن یہ انتقال 6 فروری کو ریونیو افسر نے اس وجہ سے منسوخ کر دیا کہ بیٹیاں شجرۂ نسب ثابت کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

اس کے بعد بیٹیوں نے 26 فروری کو اپنے والد کا ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا جس میں واضح طور پر اپنے والد کا مسلک "فقہ جعفریہ" لکھوایا۔ اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر 29 مئی کو فقہ جعفریہ کے مطابق وراثتی انتقال بیٹیوں کے نام ہو گیا، اگرچہ اس موقع پر کچھ افراد نے تصدیق کی کہ مرحوم شیعہ تھے، جبکہ چار افراد نے گواہی دی کہ مرحوم سنی تھے، مگر افسرِ مال نے شیعہ مسلک کو تسلیم کر لیا۔

(واضح رہے کہ اگر متوفی کی صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو تو فقہ حنفی کے مطابق دو تہائی وراثت بیٹیوں کو اور باقی قریبی رشتہ داروں کو ملتی ہے، جبکہ فقہ جعفریہ کے مطابق ایسی صورت میں تمام جائیداد صرف بیٹیوں کو ہی ملتی ہے۔ رض)

علی محمد کا ایک قریبی رشتہ دار (کزن) خوشی محمد تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ علی محمد سنی / فقہ حنفی کا پیروکار تھا، لہٰذا اسکی وراثت میں سے مجھے بھی میرا حصہ دیا جائے۔ خوشی محمد نے سول کورٹ میں اپنا وراثتی حصہ لینے کیلئے مقدمہ دائر کر دیا۔

خوشی محمد کی طرف سے عدالت میں محلے کے امام مسجد بطور گواہ پیش ہوئے، جنہوں نے گواہی دی کہ مرحوم علی محمد کا جنازہ انہوں نے پڑھایا تھا اور وہ سنی حنفی تھا۔ گاؤں کے یونین ناظم حامد علی، جو خود شیعہ تھے، انہوں نے گواہی دی کہ علی محمد سنی تھا۔ اسی طرح علی محمد کے ایک بھانجے شیر محمد نے بھی اس کے سنی ہونے کی گواہی دی۔

دوسری طرف متوفی علی محمد کی بیٹی 'صاحب بی بی' بطور گواہ پیش ہوئی اور کہا کہ اس کے والد شیعہ تھے۔ جب اس پر جرح ہوئی تو اس نے اقرار کیا کہ اس کے والد فصلوں کی پیداوار میں سے دس فیصد (عشر) غریبوں کو دیتے تھے۔ وہ شیعہ اور سنی اذان میں فرق نہ بتا سکی۔ باغِ فدک بارے سوال ہوا تو اس کے بارے میں بھی نہ بتا سکی۔ مزید اقرار کیا کہ اس کا نکاح منظور احمد نامی سنی مولوی نے پڑھایا تھا۔ کہا کہ والد کا جنازہ نقوی صاحب نے پڑھایا تھا۔ بیٹیوں کے ایک گواہ نے کہا کہ جنازہ مولوی منظور نے پڑھایا اور ایک کے مطابق سید اعجاز نے پڑھایا۔

سول (ٹرائل) کورٹ نے ان شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مرحوم سنی المسلک تھا، بیٹیاں باپ کی تمام جائیداد خود لینے کے لیے اسے شیعہ ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔ عدالت نے خوشی محمد کا دعویٰ اس کے حق میں ڈگری کر دیا۔

علی محمد کی بیٹیوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو خارج ہوگئی۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں جسٹس احمد ندیم ارشد نے جنوری 2025ء میں سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ سپریم کورٹ "پٹھانا بنام وسائی" کیس (پی ایل ڈی 1965 ایس سی 134) میں یہ قرار دے چکی ہے کہ "برصغیر میں ہر مسلمان کو سنی مسلک کا سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کے برعکس کوئی ٹھوس ثبوت نہ دیا جائے"۔ یوں مرحوم کو شیعہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بیٹیوں کی تھی، جس میں وہ بری طرح ناکام رہیں۔ جبکہ مدعی نے امام مسجد، گاؤں ناظم اور دیگر گواہوں و دستاویزی شہادتوں سے ثابت کیا کہ علی محمد سنی المسلک تھا۔

علی محمد کی بیٹی صاحب بی بی نے دعویٰ کیا کہ وہ 30، 32 برسوں سے مجالس میں شرکت کرتی اور اپنے گھر میں مجلس بھی کراتی ہے۔ پھر بھی وہ قضیہ باغِ فدک سے قطعی ناواقف تھی۔ باغِ فدک وہ اہم تاریخی واقعہ ہے جو حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور خلافت کے درمیان باغِ فدک کی ملکیت سے متعلق ہے۔ یہ شیعہ اسلام کا ایک مرکزی موضوع ہے جو ہر مجلس میں بیان ہوتا ہے۔ جو شخص 30 سال سے مجالس میں شامل ہو، اس کا اس موضوع سے قطعی بے خبر ہونا غیر منطقی اور ناقابلِ یقین ہے۔

صاحب بی بی نے تسلیم کیا کہ والد فصل کا دسواں حصہ (عشر) دیتے تھے، جو کہ سنی مسلک کا طریقۂ کار ہے، جبکہ شیعہ مسلک میں عشر نہیں بلکہ سالانہ بچت کا پانچواں حصہ بطور "خمس" سادات کو ادا کیا جاتا ہے۔ صاحب بی بی نے اعتراف کیا کہ اسکا اور اسکے بیٹے کا نکاح سنی مولوی نے پڑھایا۔ بیٹیوں کے گواہان اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ جنازہ کس نے پڑھایا۔ جبکہ مدعی نے خود جنازہ پڑھانے والے امام کو پیش کیا اور اسے جرح میں نہیں توڑا گیا۔ پہلے انتقال کے منسوخ ہونے کے فوراً بعد ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں مرحوم کا مسلک "فقہ جعفریہ" درج کروانا مدعاعلیہم کی ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ مرحوم کی مکمل جائیداد ہتھیا سکیں۔

ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے مرحوم علی محمد کو سنی المسلک قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے صاحب بی بی وغیرہ کی پٹیشن خارج کر دی۔

12/06/2026

نوجوان وکلاء کیلئے اور پبلک آگہی پوسٹ۔
شہری کو منشیات مقدمہ میں ملوث کرنا ،جھوٹی پروگرس جعلی ایف آئی آر میں نامزد کر نے کے معاشرے میں روجھان کے روک تھام کیلئے کیا قانونی اقدامات کیے جانے چائیں
اگر کسی ملزم پر پولیس کی جانب سے جھوٹی ریکوری (پلانٹڈ ریکوری) ڈال دی گئی ہو، تو اسے فوری طور پر قانونی محاذ پر چیلنج کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات انتہائی اہم ہیں:
1. جائے وقوعہ کی فوٹیج اور تصاویر (CCTV Evidence)
آج کل تقریباً ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہوتے ہیں۔ اگر ریکوری کے وقت یا ملزم کی گرفتاری کے وقت کی فوٹیج مل جائے جس میں پولیس کا بیان کردہ وقت یا مقام غلط ثابت ہو رہا ہو، تو یہ سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اسے محفوظ کریں اور عدالت میں پیش کرنے کے لیے فوری درخواست دیں۔
2. سی ڈی آر (CDR - Call Detail Record)
پولیس اکثر دکھاتی ہے کہ ریکوری فلاں جگہ سے ہوئی، جبکہ اس وقت تفتیشی افسر یا ملزم کی لوکیشن کہیں اور ہوتی ہے۔ ملزم اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے موبائل نمبرز کا CDR اور Geo-Fencing نکلوانے کے لیے عدالت میں درخواست دیں تاکہ ان کی اصل لوکیشن سامنے آ سکے۔
3. ریکوری میمو (Recovery Memo) کی خامیاں
قانون کے مطابق ریکوری کے وقت دو معزز گواہان کا ہونا ضروری ہے (دفعہ 103 ضابطہ فوجداری)۔ اگر:
• گواہان پولیس ملازم ہی ہیں۔
• گواہان اس علاقے کے رہائشی نہیں ہیں۔
• ریکوری میمو پر دستخط یا انگوٹھے کے نشانات میں تضاد ہے۔
تو ان بنیادوں پر جرح (Cross-examination) کے دوران ریکوری کو مشکوک بنایا جا سکتا ہے۔
4. فوری قانونی کارروائی (حالیہ رجحان)
• درخواست برائے حبسِ بے جا: اگر ملزم کو پہلے اٹھایا گیا اور ریکوری بعد میں ڈالی گئی، تو گرفتاری سے پہلے ہی سیشن جج کے پاس Habeas Corpus (دفعہ 491) کی درخواست دینا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
• اعلیٰ حکام کو اطلاع: ریکوری ڈالنے کے فوراً بعد بذریعہ ڈاک یا آن لائن پورٹل ڈی پی او (DPO) یا آئی جی پنجاب کو تحریری شکایت بھیجیں تاکہ ریکارڈ پر رہے کہ آپ نے شروع دن سے ہی اسے جھوٹا قرار دیا تھا۔
5. میڈیکل رپورٹ
اگر ریکوری کے دوران ملزم پر تشدد کیا گیا تاکہ وہ زبردستی اعتراف کرے، تو فوری طور پر میڈیکل چیک اپ کی استدعا کریں تاکہ تشدد ثابت ہو سکے، جو ریکوری کی قانونی حیثیت کو ختم کر دیتا ہے۔
6. جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان
جب ملزم کو پہلی بار ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے، تو وہاں خاموش رہنے کے بجائے جج کو صاف بتائیں کہ یہ ریکوری جھوٹی ہے اور پولیس نے اسے "پلانٹ" کیا ہے۔ یہ بیان ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے جو بعد میں ضمانت میں کام آتا ہے۔

یکن اگر ریکوری "پلانٹڈ" (جھوٹی) ہے، تو اس کے خلاف قانونی دفاع اور کارروائی کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
1. ریکوری کا مقام اور "مال خانہ"
قانون کے مطابق، برآمد کی گئی ہر چیز فوری طور پر متعلقہ تھانے کے مال خانہ میں درج ہونی چاہیے اور اس کا اندراج رجسٹر نمبر 19 میں کیا جاتا ہے۔
• اگر ریکوری پلانٹڈ ہے: تو اکثر وہ چیز پہلے سے ہی پولیس کے پاس غیر قانونی طور پر پڑی ہوتی ہے یا کسی اور مقدمے کا بچا ہوا مال ہوتا ہے۔
• تکنیکی نکتہ: اگر پولیس دعویٰ کرتی ہے کہ ریکوری ملزم کے گھر سے ہوئی لیکن ملزم اس وقت تھانے میں بند تھا اور پولیس اسے باہر لے کر ہی نہیں گئی، تو یہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کو ہر نقل و حرکت کا اندراج روزنامچے میں کرنا ہوتا ہے۔
2. ریمانڈ اور ریکوری کا تضاد
اگر پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ (Physical Remand) اس بنیاد پر لیا کہ "ہمیں اس سے ریکوری کروانی ہے" لیکن وہ ملزم کو تھانے سے باہر کسی مقام پر لے کر ہی نہیں گئے (جس کی گواہی سی سی ٹی وی کیمرے یا تھانے کا گیٹ رجسٹر دے سکتا ہے)، تو یہ ایک سنگین قانونی سقم ہے۔
3. قانونی کارروائی اور دفاع (Legal Remedies)
اگر ریکوری کے وقت ملزم کو جائے وقوعہ پر لے ہی نہیں جایا گیا، تو آپ درج ذیل قانونی راستے اختیار کر سکتے ہیں:
• سیکشن 156(3) ضابطہ فوجداری (CrPC): آپ پولیس افسر کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کے لیے سیشن جج یا مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتے ہیں۔
• پنجاب پولیس آرڈر 2002 (آرٹیکل 155): اس قانون کے تحت اگر کوئی پولیس افسر بدنیتی پر مبنی تفتیش کرے یا جھوٹی ریکوری ڈالے، تو اسے 5 سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
• جرح (Cross-Examination): ٹرائل کے دوران وکیل صفائی پولیس گواہان سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ ملزم کو تھانے سے باہر لے جانے کے لیے کون سی گاڑی استعمال ہوئی، اس کا لاگ بک نمبر کیا تھا، اور تھانے سے روانگی کی "رپٹ" (Entry) کہاں ہے۔ اگر ان سوالات کے جواب نہ ملے تو ریکوری جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔
4. فوری ایکشن: ریکارڈ کی حفاظت
اگر آپ کو شک ہے کہ ریکوری پلانٹڈ ہے، تو فوراً "Preservation of CCTV Footage" کی درخواست عدالت میں دیں تاکہ تھانے کے گیٹ اور کیمروں کی ریکارڈنگ ضائع نہ ہو۔ اگر ریکارڈنگ میں ملزم تھانے کے اندر ہی پایا گیا اور پولیس ریکوری کا دعویٰ باہر کا کر رہی ہے، تو پورا کیس ختم ہو سکتا ہے۔
5. اعلیٰ عدالتوں کا موقف
سپریم کورٹ آف پاکستان کے کئی فیصلوں (مثلاً 2019 SCMR 1029) میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ریکوری کا طریقہ کار مشکوک ہو یا گواہان پولیس کے اپنے بندے ہوں، تو ایسی ریکوری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔
کیا آپ کے پاس اس وقت تھانے یا اس مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہے جہاں سے ریکوری دکھائی گئی ہے؟

1. مال کی شناخت (Identification)
عدالت میں یہ چیک کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ وہی مال ہے جس کا ذکر ایف آئی آر (FIR) یا ریکوری میمو میں ہے؟ اگر ریکوری میمو میں لکھے گئے حلیے، نمبر یا رنگ اور عدالت میں موجود مال میں فرق ہو، تو یہ ریکوری کو "مشکوک" بنا دیتا ہے اور ملزم کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) ملتا ہے۔
2. مہر یا سیل (Seal) کی جانچ
برآمدگی کے بعد پولیس مال کو ایک پارسل میں بند کر کے اس پر مہر لگاتی ہے۔ عدالت میں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ:
• کیا پارسل کی مہریں برقرار ہیں یا ٹوٹی ہوئی ہیں؟
• کیا مہر پر وہی نشان ہے جو برآمدگی کے وقت ریکوری میمو پر درج کیا گیا تھا؟
اگر مہر ٹوٹی ہوئی ہو یا مشکوک ہو، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ مال میں تبدیلی (Tamper)کی گئی ہے۔
(کاپی سینئر وکیل صاحب)

19/01/2026

⭐ پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس 2025

(عام فہم، سادہ اور آسان اردو ترجمہ)
ماخذ: فائل کے صفحات 1 تا 9

---

سیکشن 1 — نام، اطلاق اور نفاذ

اس قانون کا نام پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 ہے۔

یہ پورے پنجاب میں لاگو ہوتا ہے۔

یہ قانون فوراً نافذ ہو جاتا ہے۔

---

سیکشن 2 — تعریفیں (Definitions)

اس قانون میں چند الفاظ کے معنی یہ ہیں:

کمیٹی: تنازعہ نمٹانے والی سرکاری کمیٹی۔

حکومت: پنجاب حکومت۔

غیر منقولہ جائیداد: زمین، عمارت، گھر، کھیت، بنے ہوئے کمرے، اور ہر وہ چیز جو زمین سے جڑی ہو۔

رکن (Member): کمیٹی کا کوئی بھی فرد۔

ٹربیونل: اس قانون کے تحت بنائی گئی خصوصی عدالت جو قبضے کے کیس سنتی ہے۔

---

سیکشن 3 — قانون کی بالادستی

اگر کسی دوسرے قانون میں کچھ اور لکھا ہو، تو بھی اس آرڈیننس کی بات مانی جائے گی۔
یعنی قبضے سے متعلق معاملات میں یہی قانون سب سے اوپر ہے۔

---

سیکشن 4 — غیر قانونی قبضہ (Illegal Possession)

جو شخص:

زبردستی

دھونس دھمکی

دھوکے

جعل سازی

جھوٹے کاغذات

غلط بیانی

یا بغیر اجازت

کے کسی جائیداد پر قبضہ کرے یا قبضہ برقرار رکھے، وہ جرم کرتا ہے۔

اس کی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید ہے۔

---

سیکشن 5 — قبضے میں مدد یا سازش (Abetment / Conspiracy)

اگر کوئی شخص:

قبضہ کروانے میں مدد کرے،

جھوٹے کاغذات بنائے،

قبضہ برقرار رکھنے کے لئے سہولت دے،

یا سازش کرے،

تو وہ بھی جرم کرتا ہے اور اسے بھی وہی سزا ہو سکتی ہے جو قبضہ کرنے والے کو ہوتی ہے۔

---

سیکشن 6 — کمپنی یا ادارے کا جرم

اگر قبضہ کسی ادارے یا کمپنی نے کروایا ہو:

تو اس کمپنی کا ڈائریکٹر، منیجر یا ذمہ دار شخص بھی ذمہ دار ہوگا۔

لیکن اگر وہ ثابت کر دے کہ اسے معاملے کا علم نہیں تھا اور وہ روک نہیں سکا، تو وہ سزا سے بچ سکتا ہے۔

---

سیکشن 7 — شکایت کیسے دائر کی جائے

متاثرہ شخص تحریری درخواست کے ذریعے کمیٹی میں شکایت کرے گا۔
درخواست کے ساتھ یہ معلومات ضروری ہیں:

جائیداد کی مکمل تفصیل

قبضے کا ثبوت

قبضہ کرنے والے کا نام

قبضے کی تاریخ، طریقہ اور نوعیت

کمیٹی درخواست وصول کر کے کارروائی شروع کر دے گی۔

---

سیکشن 8 — نوٹس اور کارروائی

کمیٹی ملزم کو نوٹس دے گی اور دونوں فریقوں سے بات سن کر کارروائی کرے گی۔
کمیٹی چاہے تو موقع پر جا کر بھی جائزہ لے سکتی ہے۔

---

سیکشن 9 — 90 دن میں فیصلہ

کمیٹی کوشش کرے گی کہ معاملہ 90 دن میں نمٹا دے۔
اگر معاملہ پیچیدہ ہو تو یہ مدت مزید 90 دن بڑھائی جا سکتی ہے۔

---

سیکشن 10 — حل نہ ہونے پر معاملہ ٹربیونل کو بھیجنا

اگر کمیٹی معاملہ حل نہ کر سکے تو:

وہ کیس اپنے فیصلے اور رائے کے ساتھ ٹربیونل کو بھیج دے گی۔

ٹربیونل پھر اس کیس کا فیصلہ کرے گا۔

---

سیکشن 11 — ٹربیونل کا قیام

حکومت ایک خصوصی ٹربیونل بنائے گی جس کا سربراہ سیشن جج کے برابر رینک رکھے گا۔
یہ ٹربیونل صرف جائیداد کے قبضے کے کیس سنے گا۔

---

سیکشن 12 — ٹربیونل کی حدودِ اختیار

ٹربیونل کے پاس یہ اختیارات ہیں:

وہ ثبوت طلب کرسکتا ہے

گواہ بلا سکتا ہے

ریکارڈ منگوا سکتا ہے

اور مکمل مقدمہ چلا کر فیصلہ دے سکتا ہے

یہ بالکل ایک مکمل عدالت کی طرح کام کرے گا۔

---

سیکشن 13 — جھوٹی شکایت پر سزا

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر:

جھوٹی

غلط

یا انتقامی

شکایت کرے، تو اس کو بھی سزا دی جا سکتی ہے۔

---

سیکشن 15 — ٹربیونل کے عدالتی اختیارات

ٹربیونل کے پاس:

سول کورٹ

اور سیشن کورٹ

جیسے مکمل اختیارات ہوں گے۔

---

سیکشن 16 — مقدمے کی کارروائی

ٹربیونل:

دونوں فریقوں کو سن کر

شواہد کا جائزہ لے کر

قانونی اصولوں کے مطابق

فیصلہ دے گا۔
اگر ضرورت ہو تو موقع پر جا کر بھی جگہ کا معائنہ کر سکتا ہے۔

---

سیکشن 18 — گرفتاری کا اختیار

ٹربیونل کے کہنے پر:

پولیس

یا کوئی سرکاری ادارہ

ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے، اگر جرم ثابت ہوتا نظر آئے۔

---

سیکشن 20 — اصل مالک کو فوری قبضہ واپس دلوانا

اگر ٹربیونل مطمئن ہو کہ قبضہ واقعی غیر قانونی ہے:

وہ حکم دے سکتا ہے کہ فوراً قبضہ اصل مالک کو واپس دیا جائے

پولیس اور انتظامیہ اس پر فوراً عمل کرے گی

یہ اس قانون کی سب سے طاقتور شق ہے۔

---

سیکشن 21 — رضاکارانہ واپسی

اگر قبضہ کرنے والا خود ہی جائیداد چھوڑ دے یا واپس کر دے
تو ٹربیونل اس بات کو ریکارڈ پر لا کر کارروائی مکمل کر دے گا۔

---

سیکشن 22 — حکومتی اداروں کی مدد

تمام سرکاری محکمے، جیسے:

ریونیو

پولیس

ڈپٹی کمشنر کا دفتر

ٹربیونل کی مدد کریں گے تاکہ قبضہ فوراً ختم کر کے مالک کو جائیداد دلائی جا سکے۔

---

سیکشن 26 — قواعد بنانے کا اختیار

حکومت اس قانون پر عملدرآمد کے لئے مزید قواعد بنا سکتی ہے۔

THE PUNJAB GAZETTE (EXTRAORDINARY)
PUBLISHED BY AUTHORITY
LAHORE, THURSDAY OCTOBER 30, 2025
GOVERNMENT OF THE PUNJAB
LAW AND PARLIAMENTARY AFFAIRS DEPARTMENT
NOTIFICATION
30 October 2025
No. Legis:13-05/2025/3782. — The following Ordinance promulgated by Governor of the Punjab is hereby published for general information:
THE PUNJAB PROTECTION OF OWNERSHIP OF IMMOVABLE PROPERTY ORDINANCE 2025
(VI OF 2025)
An Ordinance
To protect lawful ownership of immovable property in Punjab.
Preamble
It is necessary to protect lawful ownership of immovable property and to provide effective legal remedies against dispossession of lawful owner from his immovable property and to provide a mechanism for expeditious resolution of disputes arising therefrom.
In exercise of the powers conferred under clause (1) of Article 128 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, Governor of the Punjab is pleased to make and promulgate the following Ordinance:
1. Short title, extent and commencement
* This Ordinance may be cited as the Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance 2025.
* It shall extend to the whole of the Punjab.
* It shall come into force at once.
2. Definitions
In the Ordinance:
* (a) "Committee": means the Dispute Resolution Committee provided under section 8.
* (b) "Government": means the Government of the Punjab.
* (c) "Immovable Property": includes land, building, benefits arising out of land, things attached to earth. Does not include: standing trees/crops/grass, fruit/juice in trees, or machinery embedded in earth when dealt with apart from land.
* (h) "Tribunal": means the Property Tribunal established under section 11.
3. Overriding effect
Notwithstanding anything contained in any other law, the provisions of this Ordinance shall override the provisions of such other law.
4. Illegal Possession (The Offence)
Whoever obtains or retains possession of any immovable property without lawful authority, through fraud, deceit, force, coercion, or other illegal means, shall be guilty of an offence.
* Punishment: Imprisonment for a term which may extend to 10 years but shall not be less than 5 years.
5. Punishment for Attempt, Abetment, etc.
Any person who aids, abets, facilitates, sells illegally possessed property, or interferes with the Tribunal:
* Punishment: Imprisonment for a term which may extend to 3 years but not less than 1 year, and fine up to 1 million rupees.
6. Offences by Companies
If an offence is committed by a company/society, every person in charge/responsible (Directors, Managers, etc.) shall be deemed guilty unless they prove lack of knowledge or due diligence.
7. Filing of Complaint
* A complaint may be filed by the owner/title holder with the Deputy Commissioner (DC) of the district.
* The complaint must include property details, evidence of title, and offender particulars.
8. Dispute Resolution Committee
* Composition:
* Deputy Commissioner (Convener)
* District Police Officer (DPO)
* Additional Deputy Commissioner (Revenue)
* Assistant Commissioner concerned
* Sub-Divisional Police Officer concerned
* Co-opted government officer
* Powers: The Committee can scrutinize records, summon persons, take administrative action, and report corruption.
* Timeline: Dispute resolution must conclude within 90 days (extendable by another 90 days by the Commissioner).
* Nature: The Committee has powers of a Civil Court for inquiries. Appearance must be in person (counsel not permissible usually).
9. Preventive Measures
An owner apprehending illegal possession can apply to the DC. The Committee may pass interim orders, including seeking surety/guarantee or sealing the property.
10. Reference to Tribunal
* If resolved, the agreement is sent to the Tribunal for judgment/decree.
* If not resolved, the Committee refers the matter to the Tribunal within 30 days of the deadline expiry.
* False Complaints: If a complaint is false/vexatious, the complainant can be punished with imprisonment (1-5 years) and a fine (25% of property value, min 100,000 PKR).
11. Establishment of Tribunal
* Government establishes Tribunals (at least one per district).
* Head: A "Member" appointed for 3 years, nominated by the Chief Justice of Lahore High Court.
* Qualification: Must be a former Judge of LHC or a District Judge.
13. Exclusive Jurisdiction
The Tribunal has exclusive jurisdiction to try offences under this Ordinance, overriding other laws.
14. Burden of Proof
The onus of proof, in case of illegal possession, shall lie on the offender.
16. Procedure of the Tribunal
* The Tribunal determines questions of title and possession.
* Timeline: Case to be proceeded day-to-day and decided within 90 days.
* Compensation: Tribunal can award compensation (not less than property value) and profits/gains to the owner.
* Tribunal can order the arrest of the offender.
17. Eviction and Interim Relief
The Tribunal may regulate possession and issue interim orders, authorizing officials to take possession (using force if necessary).
18. Delivery of Possession
Upon conclusion, the Tribunal shall order delivery of possession to the lawful owner.
19. Appeal
* Appeal lies to the Lahore High Court (Bench of two judges).
* No appeal/revision lies against interim/interlocutory orders. No court can stay Tribunal proceedings.
20. Prohibition of Alienation
Any sale, gift, lease, or transfer of the disputed property after filing the complaint is null and void.
21. Voluntary Return
If possession is voluntarily returned before reference to the Tribunal, proceedings may stop.
24. Indemnity
No legal proceedings shall lie against any official acting in good faith under this Ordinance.

Pasha & Kahloon Law Chambers.

Address

151 Sufi Barkat Law Building District Court
Faisalabad

Telephone

+923007980679

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pasha & Kahloon Law Chamber. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pasha & Kahloon Law Chamber.:

Shortcuts

Share