Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad 03216677291

Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad            03216677291 Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad

04/08/2026
Procedure for Partition
12/07/2026

Procedure for Partition

Punjab Land authority Service Charges
09/07/2026

Punjab Land authority Service Charges

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ سے متعلق اھم معلومات 1. دستاویز کا نامTransactional Property Report (TPR)جاری کنندہ: Punjab Land R...
09/07/2026

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ سے متعلق اھم معلومات

1. دستاویز کا نام

Transactional Property Report (TPR)
جاری کنندہ: Punjab Land Records Authority (PLRA)

2. بنیادی معلومات

مقصد: Sale Deed

ضلع: گجرات

تحصیل: جلالپور جٹاں

موضع: رنگنوالہ

رقبہ: 3 کنال 18 مرلہ

زمین کا استعمال: زرعی زمین

پراپرٹی اسٹیٹس: Green

3. مالک کی تفصیل

مالک: پرویز اقبال انجم

والد: محمد یعقوب

حق ملکیت: Maalik Rahin (مالک رہن)

4. اس رپورٹ کے استعمالات

موجودہ مالک کی تصدیق

رقبہ اور Parcel ID کی معلومات

رجسٹری سے قبل ابتدائی جانچ

DC ویلیو معلوم کرنے کے لیے

زمین کی بنیادی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے

5. اس رپورٹ کا استعمال نہیں ہو سکتا

فردِ ملکیت کے متبادل کے طور پر

رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے متبادل کے طور پر

انتقال (Mutation) کے ثبوت کے طور پر

قبضہ ثابت کرنے کے لیے

حدودِ اراضی (Demarcation) کے قانونی ثبوت کے طور پر

عدالت میں حتمی ثبوتِ ملکیت کے طور پر

6. اہم نکتہ

Nature of Rights: "Maalik Rahin" سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین رہن (Mortgage) ہے، لہٰذا خرید و فروخت سے قبل رہن کی حیثیت اور متعلقہ بینک یا ادارے سے کلیئرنس کی تصدیق ضروری ہے۔

08/07/2026

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: آرڈر XXIII رول 1 CPC کے تحت دعویٰ واپس لینے اور ازسرِنو دعویٰ دائر کرنے کی اجازت کے قانونی اصول

اس مقدمہ میں مدعی نے استقرارِ حق، قبضہ اور مستقل حکمِ امتناعی کے لیے سول دعویٰ دائر کیا۔ فریقین کے مابین تحریری بیانات کے بعد عدالت نے تنازعہ کے نکات (Issues) مرتب کیے اور مقدمہ مدعی کے شواہد کے مرحلہ پر پہنچ گیا۔ اس مرحلہ پر مدعی نے بیان دیا کہ دعویٰ میں بعض قانونی و تکنیکی نقائص موجود ہیں اور دعویٰ اس کی ہدایات کے برخلاف غلط حقائق کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے، لہٰذا اسے آرڈر XXIII رول 1 CPC کے تحت دعویٰ واپس لینے اور اسی موضوع پر ازسرِنو دعویٰ دائر کرنے کی اجازت دی جائے۔

فاضل سول جج نے مدعی کی استدعا منظور کرتے ہوئے دعویٰ کو واپس لینے کی اجازت دی اور نیا دعویٰ دائر کرنے کی اجازت بھی عطا کر دی۔ اس حکم کے خلاف دائر کردہ سول ریویژن بھی خارج ہوگئی، جس پر درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنے کی استدعا کی۔

📍لاہور ہائیکورٹ کے قانونی اصول

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آرڈر XXIII رول 1(2) CPC کے تحت دعویٰ واپس لینے کے ساتھ ازسرِنو دعویٰ دائر کرنے کی اجازت معمول کا اختیار نہیں بلکہ ایک استثنائی (Exceptional) قانونی رعایت ہے۔ ایسی اجازت صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب عدالت اس امر پر مطمئن ہو کہ دعویٰ کسی Formal Defect یا کسی دیگر Sufficient Ground کی وجہ سے ناکام ہونے کا اندیشہ رکھتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ مدعی کی جانب سے صرف یہ مؤقف اختیار کرنا کہ دعویٰ میں "قانونی یا تکنیکی خامیاں" موجود ہیں یا دعویٰ غلط حقائق کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، بذاتِ خود آرڈر XXIII رول 1(2) CPC کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ مدعی پر لازم ہے کہ وہ مخصوص قانونی نقص یا معقول بنیاد کی نشاندہی کرے، جبکہ عدالت پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے حکم میں واضح وجوہات درج کرے کہ کون سا رسمی نقص یا کافی قانونی سبب موجود تھا جس کی بنا پر اجازت دی جا رہی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ Judicial Satisfaction محض ایک رسمی اظہار نہیں بلکہ ایک قانونی تقاضا ہے، جس کا اظہار عدالتی حکم میں واضح وجوہات کی صورت میں ہونا چاہیے۔ اس لیے ہر ایسا حکم Speaking Order ہونا ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عدالت نے قانون کے مطابق اپنے صوابدیدی اختیار (Judicial Discretion) کو کس بنیاد پر استعمال کیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مخالف فریق کی رضامندی، عدم اعتراض یا خاموشی عدالت کو قانون کے تقاضوں سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔ عدالت پابند ہے کہ وہ آزادانہ طور پر آرڈر XXIII رول 1(2) CPC کی شرائط پوری ہونے کا جائزہ لے اور صرف اسی صورت میں اجازت دے جب قانونی تقاضے مکمل ہوں۔

عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ دعویٰ واپس لینے اور ازسرِنو دعویٰ دائر کرنے کی اجازت ایک Composite Prayer ہے۔ اگر عدالت اجازت دینے کے لیے درکار قانونی شرائط پوری نہ ہونے پر اجازت مسترد کرتی ہے تو مقدمہ خودکار طور پر ختم نہیں ہوتا بلکہ مدعی کو اختیار حاصل رہتا ہے کہ وہ یا تو مقدمہ جاری رکھے یا بعد ازاں اپنی مرضی سے سادہ طور پر دعویٰ واپس لے۔

📍عدالت کا حتمی فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ اور ریویژنل کورٹ دونوں نے آرڈر XXIII رول 1(2) CPC کے تقاضوں کے مطابق اپنی عدالتی تسلی (Judicial Satisfaction) کی وجوہات ریکارڈ نہیں کیں، اس لیے دونوں احکام قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتے۔

چنانچہ ہائیکورٹ نے دونوں عدالتی احکام کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ اگر مدعی اب بھی دعویٰ واپس لے کر نیا دعویٰ دائر کرنے کی اجازت چاہتا ہے تو اس کی درخواست پر قانون کے مطابق تفصیلی وجوہات پر مشتمل Speaking Order جاری کیا جائے۔ اگر عدالت اجازت دینے سے انکار کرے تو مقدمہ قانون کے مطابق اپنی سابقہ حیثیت سے جاری رکھا جائے، الا یہ کہ مدعی بعد میں سادہ طور پر دعویٰ واپس لینے کا انتخاب کرے۔

📍فیصلے سے اخذ ہونے والے اہم قانونی اصول

اس فیصلے سے یہ اصول مستحکم ہوا کہ آرڈر XXIII رول 1(2) CPC کے تحت ازسرِنو دعویٰ دائر کرنے کی اجازت صرف رسمی یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کے لیے لازم ہے کہ وہ رسمی نقص یا کافی قانونی سبب کی واضح نشاندہی کرے اور اپنے حکم میں تفصیلی وجوہات درج کرے۔ مزید یہ کہ عدالتی صوابدید ہمیشہ قانون کے مطابق، معقول وجوہات اور شفاف عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر استعمال کی جائے گی، جبکہ مخالف فریق کی رضامندی یا عدم اعتراض اس قانونی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتا۔

06/07/2026

ملزم کی درخواست پر ہائیکورٹ نے دوبارہ طبی معائنے کا حکم دے دیا! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ ⚖️
رٹ پٹیشن نمبر 55471/2024 — جسٹس سید شاہباز علی رضوی
کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر طبی رپورٹ اور ہتھیار کی نوعیت میں واضح تضاد ہو تو ملزم کو دوبارہ طبی معائنے کا قانونی حق حاصل ہے — چاہے 21 دن کیوں نہ گزر چکے ہوں؟
کیس کا پس منظر:
صغیر احمد نامی ملزم پر FIR نمبر 576/2024 تھانہ تھیہ شیخم، ضلع قصور میں PPC دفعات 337-F(v)، 354، 506 اور 34 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ الزام یہ تھا کہ اس نے مسمات اختری بی بی کے سر پر لوہے کی راڈ سے وار کیا جسے خاتون نے اپنے بائیں ہاتھ پر روک لیا۔
طبی رپورٹ میں واضح تضاد:
Lady Medical Officer کی رپورٹ (MLC نمبر 1188/2024) میں صرف سوجن (swelling) درج تھی — نہ کوئی نیل (contusion)، نہ رگڑ (abrasion)، نہ کھال پھٹنے کا نشان (laceration)۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہا:
"لوہے کی راڈ جیسے بھاری ہتھیار سے زوردار وار کے بعد جلد پر کوئی نشان نہ ہونا — یہ ناممکن حد تک حیران کن ہے!"
ملزم نے دوبارہ معائنے کی درخواست دی — ماتحت عدالتوں نے رد کر دی:
دو بنیادی وجوہات پر:
درخواست میں زخموں کے بناوٹی ہونے کا واضح الزام نہیں لگایا گیا
پہلے معائنے کے 21 دن گزر چکے تھے
لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی تجزیہ:
✅ حکومتِ پنجاب کے نوٹیفکیشن 12 فروری 1990 نے 21 دن کی مدت مقرر کی تھی
✅ 8 فروری 1992 کی ترمیم میں واضح کیا گیا: اگر مجسٹریٹ 21 دن بعد بھی حکم دے تو وہ حکم محکمہ صحت کی ہدایات پر حاوی ہوگا
✅ PLD 1998 Lahore 223 (محمد انور بنام ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) — 21 دن کی مدت کو غیر معینہ وقت تک بڑھایا جا سکتا ہے
✅ 2017 MLD 1828 اور 2022 PCrLJ 1293 — جوڈیشل افسر کو صوابدیدی اختیار حاصل ہے
✅ عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر رٹ پٹیشن منظور کر لی
✅ MS ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور کو فوری ڈسٹرکٹ اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ بلانے کا حکم
اس فیصلے سے سبق:
🔹 طبی رپورٹ اور ہتھیار کی نوعیت میں تضاد ہو تو دوبارہ معائنے کا حق موجود ہے
🔹 21 دن گزرنے کے بعد بھی عدالتی حکم سے دوبارہ معائنہ ممکن ہے
🔹 جوڈیشل آفیسر حالات کے مطابق صوابدیدی اختیار استعمال کر سکتا ہے
🔹 کمزور یا متضاد طبی رپورٹ کو قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے

06/07/2026

ڈگری کی رقم ادا نہ کرنے پر فوراً گرفتاری نہیں ہو سکتی!

آرڈر 21 رول 40 اور سیکشن 51 CPC کے بغیر مقروض (Judgment Debtor) کو سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا

(لاہور ہائی کورٹ، جسٹس احمد ندیم ارشد، W.P. No.31402/2026)

پس منظر

درخواست گزار کے خلاف تقریباً 28 کروڑ روپے کی ڈگری (Decree) جاری ہوئی۔ ڈگری ہولڈر نے رقم وصول کرنے کے لیے عملدرآمد (Ex*****on) کی درخواست دائر کی۔ عملدرآمد کے دوران درخواست گزار کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ چونکہ وہ رقم ادا نہ کر سکا اور نہ ہی ضمانت فراہم کی، اس لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ نے اسے سول جیل بھیج دیا۔

درخواست گزار نے اس حکم کو لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا۔



درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* ایگزیکیوٹنگ کورٹ نے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کی لازمی شرائط پوری کیے بغیر اسے سول جیل بھیج دیا۔
* قانون کے مطابق پہلے باقاعدہ انکوائری کرنا ضروری تھی۔
* عدالت نے اس کا مؤقف سنے بغیر اور وجوہات ریکارڈ کیے بغیر حکم جاری کیا، جو غیر قانونی ہے۔



ہائی کورٹ کا فیصلہ

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

1۔ صرف رقم ادا نہ کرنے پر سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا

صرف اس وجہ سے کہ ڈگری کی رقم ادا نہیں ہوئی، کسی شخص کو گرفتار یا سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔



2۔ Order XXI Rule 40 CPC لازمی ہے

عدالت کو پہلے:

* ڈگری ہولڈر کا مؤقف سننا ہوگا۔
* شواہد (Evidence) ریکارڈ کرنا ہوں گے۔
* Judgment Debtor کو وضاحت کا پورا موقع دینا ہوگا۔
* پھر فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اسے سول جیل بھیجنا قانوناً جائز ہے یا نہیں۔

یہ صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ لازمی قانونی تقاضا ہے۔



3۔ Section 51 CPC کی شرائط ثابت ہونا ضروری ہیں

کسی Judgment Debtor کو سول جیل صرف اس صورت میں بھیجا جا سکتا ہے جب عدالت وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرے کہ درج ذیل میں سے کوئی شرط موجود ہے:

* وہ عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے؛
* اس نے مقدمہ دائر ہونے کے بعد بدنیتی سے اپنی جائیداد منتقل، چھپائی یا فروخت کی؛
* اس کے پاس رقم ادا کرنے کی استطاعت موجود ہے لیکن وہ جان بوجھ کر ادائیگی نہیں کر رہا؛
* یا ڈگری کسی Fiduciary ذمہ داری (امانت یا اعتماد) سے متعلق ہے۔



4۔ ثبوت پیش کرنا ڈگری ہولڈر کی ذمہ داری ہے

عدالت نے واضح کیا کہ:

* صرف الزام کافی نہیں۔
* ڈگری ہولڈر کو ثبوت دینا ہوگا کہ Judgment Debtor کے پاس واقعی ادائیگی کی استطاعت موجود ہے یا اس نے بدنیتی سے جائیداد چھپائی یا منتقل کی ہے۔



5۔ ذاتی آزادی بنیادی حق ہے

عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کی آزادی چھیننے سے پہلے قانون میں دی گئی تمام شرائط پوری کرنا لازمی ہے، ورنہ ایسا حکم غیر قانونی ہوگا۔



6۔ ایگزیکیوٹنگ کورٹ کی غلطی

ہائی کورٹ نے پایا کہ:

* کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔
* کوئی ثبوت ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
* سیکشن 51 CPC کے مطابق کوئی تحریری وجوہات نہیں دی گئیں۔
* صرف عدم ادائیگی کی بنیاد پر سول جیل بھیج دیا گیا۔

یہ طریقہ قانون کے خلاف قرار دیا گیا۔



حتمی فیصلہ

ہائی کورٹ نے:

* ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا 13-05-2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
* مقدمہ دوبارہ ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو بھیج دیا۔
* ہدایت کی کہ پہلے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کے مطابق مکمل انکوائری کی جائے، دونوں فریقوں کو شواہد پیش کرنے کا موقع دیا جائے، پھر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
* اس دوران درخواست گزار کو مناسب ضمانت فراہم کرنے کی شرط پر فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔



اس فیصلے کا قانونی اصول (Ratio Decidendi)

“کسی Judgment Debtor کو صرف اس بنیاد پر کہ اس نے ڈگری کی رقم ادا نہیں کی، سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔ پہلے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کے مطابق لازمی انکوائری، شواہد، وجوہات کا تحریری اندراج اور عدالت کا اطمینان ضروری ہے۔ ان شرائط کے بغیر گرفتاری یا سول جیل کا حکم غیر قانونی اور کالعدم ہوگا۔

06/07/2026

لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمہ میں قرار دیا کہ اگر کسی فریق کی جانب سے آرڈر IX رول 13 ضابطہ دیوانی (C.P.C.) کے تحت یکطرفہ (Ex Parte) ڈگری کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی جائے اور وہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ اسے مقدمہ کی سمن قانون کے مطابق موصول ہی نہیں ہوئے تھے، تو عدالت محض مدتِ معیاد (Limitation) کی بنیاد پر درخواست مسترد نہیں کر سکتی۔ سب سے پہلے عدالت پر لازم ہے کہ وہ یہ تعین کرے کہ آیا مدعا علیہ کو واقعی قانون کے مطابق سمن کی تعمیل ہوئی تھی یا نہیں، کیونکہ اگر سمن کی درست تعمیل ثابت نہ ہو تو معیاد کا آغاز ڈگری کی تاریخ سے نہیں بلکہ اس دن سے ہوگا جب درخواست گزار کو ڈگری کا حقیقی علم ہوا۔

عدالت نے قرار دیا کہ گیس یوٹیلٹی کورٹ/ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے درخواست گزار کی درخواست صرف یہ کہہ کر خارج کر دی کہ وہ مقررہ مدت کے بعد دائر کی گئی ہے، حالانکہ اس نے یہ بنیادی سوال ہی طے نہیں کیا کہ آیا سمن کی قانونی تعمیل ہوئی تھی یا نہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ نچلی عدالت نے صرف یہ لکھ دیا کہ سمن عام طریقہ، رجسٹرڈ ڈاک اور اخباری اشاعت کے ذریعے بھیجے گئے تھے، لیکن اس نے نہ پروسیس سرور کی رپورٹ، نہ ڈاک کی رسیدیں، نہ واپس آنے والے لفافے، نہ اشاعت کا ریکارڈ اور نہ ہی متبادل تعمیل (Substituted Service) کی قانونی شرائط کا جائزہ لیا۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قانون کے مطابق سمن کی تعمیل ثابت ہو گئی تھی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسے یکطرفہ ڈگری کا علم پہلی مرتبہ یکم مئی 2023 کو ہوا، جبکہ فریق مخالف کا دعویٰ تھا کہ اسے 16 نومبر 2020 کو ایک دوسرے مقدمہ میں پیش کیے گئے دستاویز (Ex.D-7) کے ذریعے علم ہو چکا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ ایک متنازعہ حقیقت (Disputed Question of Fact) تھی، جسے صرف وکلاء کے دلائل سن کر طے نہیں کیا جا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ انکوائری، ضروری نکات کی تشکیل اور اگر ضرورت ہو تو شہادت ریکارڈ کرنا لازم تھا۔

عدالت نے اس پہلو کو بھی اہم قرار دیا کہ درخواست گزار نے الزام عائد کیا تھا کہ اسی صارف کنکشن اور تقریباً اسی تنازع سے متعلق ایک مقدمہ پہلے ہی 2013 سے زیر سماعت تھا، مگر اس حقیقت کو ظاہر کیے بغیر بعد میں دوسرا مقدمہ دائر کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ اس مرحلے پر ان الزامات کی سچائی یا غلطی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ الزامات عدالتی عمل کے ناجائز استعمال (Abuse of Process) اور اہم حقائق کو چھپانے (Suppression of Material Facts) جیسے اہم قانونی سوالات پیدا کرتے تھے، جن کا جائزہ لینا نچلی عدالت کی ذمہ داری تھی، مگر اس نے اس پہلو پر کوئی غور نہیں کیا۔

اسی طرح عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈگری پر عملدرآمد (Ex*****on Proceedings) کے دوران بھی فریق مخالف بار بار سمن کی تعمیل کرانے میں ناکام رہا، حتیٰ کہ عملدرآمد کی درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہو گئی۔ عدالت کے مطابق یہ صورتحال بھی اس دعویٰ کی تائید کر سکتی تھی کہ درخواست گزار کو پہلے سے ڈگری کا علم نہیں تھا، لیکن نچلی عدالت نے اس اہم پہلو کو بھی نظر انداز کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ طریقہ کار سے متعلق قوانین انصاف کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ انصاف سے محروم کرنے کے لیے۔ اگر یکطرفہ ڈگری کی بنیاد یعنی سمن کی قانونی تعمیل ہی متنازع ہو تو عدالت کو مکمل احتیاط سے انکوائری کرنا لازم ہے۔ اسی طرح جب مدتِ معیاد کا انحصار اس بات پر ہو کہ درخواست گزار کو ڈگری کا علم کب ہوا، تو اس سوال کا فیصلہ محض قیاس آرائی یا مفروضے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

ان وجوہات کی بنا پر لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ گیس یوٹیلٹی کورٹ نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر صرف معیاد کی بنیاد پر درخواست خارج کر کے اپنے اختیارات درست طور پر استعمال نہیں کیے۔ چنانچہ عدالت نے 24 اپریل 2025 کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی اور معاملہ دوبارہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج/گیس یوٹیلٹی کورٹ لاہور کو واپس بھیج دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست کو دوبارہ قانون کے مطابق، تفصیلی اور وجوہات پر مبنی فیصلہ کے ذریعے نمٹایا جائے، دونوں فریقوں کو ضرورت پڑنے پر شہادت پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے اور بالخصوص یہ طے کیا جائے کہ آیا سمن قانون کے مطابق تعمیل ہوئے تھے، درخواست گزار کو ڈگری کا حقیقی علم کب ہوا، سابقہ مقدمہ چھپانے کے الزامات کا کیا اثر ہے، اور اس مقدمہ سے متعلق دیگر تمام قانونی و حقائق پر مبنی سوالات کا فیصلہ آزادانہ طور پر کیا جائے۔ مزید یہ بھی واضح کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے مقدمہ کے میرٹ پر کوئی حتمی رائے نہیں دی اور تمام قانونی و حقائق پر مبنی نکات نچلی عدالت کے فیصلے کے لیے کھلے رہیں گے۔

New Rules and Blockage of CNIC.
28/06/2026

New Rules and Blockage of CNIC.

Address

49/50, Basement, Sufi Barkat Ali Law Building, District Courts
Faisalabad
37000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad 03216677291 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad 03216677291:

Shortcuts

Share

Category