Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad 03216677291

Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad            03216677291 Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad

نابالغان کی عارضی اور مستقل حضانت
27/04/2026

نابالغان کی عارضی اور مستقل حضانت

24/04/2026
Apprehension of Arrest
22/04/2026

Apprehension of Arrest

22/04/2026

Son

لے پالک کو اگر ایک بار حقیقی بیٹا یا بیٹی قبول کر لیا جائے تو بعد میں اس سے انحراف نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ڈی این اے ہو سکتا ہے....
PLJ 2005 S.C 785

22/04/2026

جعلی مچلکے دینے پر اب پولیس پرچہ نہیں کاٹ سکتی! لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ......

2025 LHC 251

عدالتِ عالیہ لاہور نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتے کی وضاحت کر دی ہے کہ اگر کوئی شخص عدالت میں جعلی مچلکے (Bail Bonds) جمع کرواتا ہے تو پولیس اس پر براہِ راست ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ جسٹس محمد امجد رفیق صاحب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جعلی مچلکے یا عدالت میں غلط بیانی کے معاملات خالصتاً "انتظامِ انصاف" (Administration of Justice) کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 205 ایک "ناقابلِ دست اندازی" جرم ہے، جس کا مطلب ہے کہ پولیس اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر مچلکے جعلی پائے جائیں تو پولیس کو کیس بھیجنے کے بجائے عدالت کو خود دفعہ 195 اور 476 ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔ یہ فیصلہ پولیس کے بڑھتے ہوئے اختیارات اور شہریوں کی بلاوجہ گرفتاریوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگا۔
اس کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ درخواست گزار تابندہ عدنان اور دیگر کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے عدالت میں جعلی ضمانتی مچلکے پیش کیے۔ معاملہ جب ہائیکورٹ پہنچا تو بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا عدالت ایسے معاملے میں پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ وہ خود ضمانتی (Sureties) نہیں تھے، اس لیے ان پر براہِ راست بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ مسئلہ یہ تھا کہ کیا عدالتی کارروائی کے دوران پیش کیے گئے دستاویزات پر پولیس کا ایکشن بنتا ہے یا صرف عدالت ہی کارروائی کر سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس پیچیدہ معاملے کو قانون کی روشنی میں حل کرتے ہوئے ایک نئی نظیر قائم کر دی ہے۔
عدالت کے اہم قانونی نکات
دفعہ 205 PPC: یہ ایک ناقابلِ دست اندازی (Non-Cognizable) جرم ہے، جس پر پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔
دفعہ 195 Cr.P.C: عدالتی دستاویزات میں جعل سازی ہونے پر صرف متعلقہ عدالت ہی تحریری شکایت درج کروا سکتی ہے۔
مچلکے بطور شہادت: قانونِ شہادت کی رو سے ہر وہ دستاویز جو عدالت کے معائنے کے لیے پیش کی جائے وہ "شہادت" (Evidence) کہلاتی ہے، بشمول ضمانتی مچلکے۔
انتظامِ انصاف میں مداخلت: پولیس کو ایسے معاملات سونپنا عدالت کے اپنے وقار اور انتظامِ انصاف میں بیرونی مداخلت کے مترادف ہے۔
خصوصی طریقہ کار: جعل سازی ثابت ہونے پر عدالت مچلکے مسترد کر کے نئے مانگ سکتی ہے یا دفعہ 476 کے تحت خود انکوائری کر کے ٹرائل کا آغاز کر سکتی ہے۔
نجی دستاویزات بمقابلہ عدالتی دستاویزات: نکاح نامہ یا بیع نامہ جیسے کاغذات جو عدالت سے باہر بنتے ہیں ان پر ایف آئی آر ہو سکتی ہے، مگر جو کاغذات عدالتی حکم پر دورانِ سماعت بنیں (جیسے ضمانتی مچلکے) ان پر صرف عدالت کا اختیار ہے۔
اس فیصلے کے عام عوام پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مخالف فریق معمولی تکنیکی غلطیوں پر پولیس کو ملوث کر کے بندے کو جیل بھجوا دیتے ہیں۔ اب اس فیصلے کے بعد، کوئی بھی شخص کسی دوسرے سے "ذاتی دشمنی" نکالنے کے لیے جعلی مچلکوں کا سہارا لے کر براہِ راست پولیس کے ذریعے کسی کو ہراساں نہیں کر سکے گا۔ یہ فیصلہ عام آدمی کو پولیس گردی سے بچاتا ہے اور انصاف کا ترازو عدالت کے ہاتھ میں رکھتا ہے۔
مخالف ریفرنس (جو اب اس صورتحال میں لاگو نہیں ہوگا): ایسے تمام مقدمات جن میں عدالت سے باہر تیار کردہ جعلی دستاویزات (جیسے فرضی رجسٹری یا نجی معاہدہ) پر براہِ راست ایف آئی آر کو جائز قرار دیا گیا ہو۔
حق میں اہم ریفرنس:
2025 LHC 251 (موجودہ فیصلہ)
1970 SCMR 10 (چوہدری فیروز دین بنام ڈاکٹر کے ایم منیر - سپریم کورٹ کا فیصلہ جس میں دفعہ 195 کی اہمیت واضح کی گئی)

22/04/2026

چیک اور پرنوٹ کے مقدمہ میں مدعی کو گواہان پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی محض چیک اور مدعی کا بیان دعوی
ڈگری ہونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔...

PLJ 2022 Lahore 831
2023 CLC 905

Whether it is necessary to prove promissory note by producing marginal witnesses? 2. Effect of presumption, as to consideration, attached to negotiable instrument. 3. How presumption arising under section 118 (a) of the Negotiable Instrument Act, 1881 can be rebutted?.

PLJ 2022 Lahore 831
2023 CLC 905

Article 79 of Q.S.O., 1984 provides that a document cannot be used as evidence until two witnesses at least are called to prove ex*****on, however, this requirement applies only if that particular document is required by law to be attested. Article 17(2) specifies that such requirement of attestation does not apply when contrary is provided in any special law. Section 4 of the N.I.A., 1881 provides that promissory note, which is an unconditional undertaking, is only required to be signed by maker.

The N.I.A., 1881, which is a special law, does not require attestation by witnesses or provides for any bearing of attestation or non-attestation on the instrument. The combined reading of the above articles of Q.S.O., 1984 and N.I.A., 1881 makes it amply clear that neither any attestation is required on the promissory note nor there is any requirement of calling the witnesses to prove its ex*****on.

22/04/2026

Khula through Attorney
دعویٰ خلع مختیار خاص دائر ہو سکتا ہے سکیشن18 فیملی کورٹ ایکٹ1964...
PLD 2020 Lahore 343
2019 YLR 86
2011 YLR 3034
2017 CLC 1718

     ゚
22/04/2026

Section 156 (3) CrPc
21/04/2026

Section 156 (3) CrPc

Court Marriage
19/04/2026

Court Marriage

Address

49/50, Basement, Sufi Barkat Ali Law Building, District Courts
Faisalabad
37000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad 03216677291 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Muhammad Ali Law Associates, Faisalabad 03216677291:

Share

Category