02/09/2026
معاہدۂ بیع میں بقایا رقم ادا نہ کی؟ سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!
صرف معاہدہ ہونا کافی نہیں، خریدار کو اپنی ادائیگی اور تیاری و آمادگی بھی ثابت کرنا ہوگی
سپریم کورٹ نے معاہدۂ بیع اور مخصوص عمل درآمد (Specific Performance) کے دعوے سے متعلق اہم اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر خریدار کے ذمے معاہدے کے تحت بقایا زرِ فروخت مقررہ وقت میں ادا کرنا ایک واضح اور بنیادی ذمہ داری ہو اور خریدار اس ذمہ داری کو پورا نہ کرے، تو محض معاہدے کی موجودگی کی بنیاد پر وہ مخصوص عمل درآمد کا مؤثر حق حاصل نہیں کرسکتا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ خریدار کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ معاہدہ مکمل کرنے کے لیے ہمیشہ تیار اور آمادہ (ready and willing) تھا؛ اسے اپنے مؤقف کی تائید میں قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے۔
⸻
1️⃣ اگر معاہدہ پہلے ہی منسوخ ہوچکا ہو تو Specific Performance کیسے؟
اگر کسی مجاز عدالت نے بقایا رقم کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر معاہدۂ بیع منسوخ کردیا ہو اور اس فیصلے کو متعلقہ فریق نے مزید چیلنج نہ کیا ہو، تو ایسا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔
ایسی صورت میں بعد ازاں اسی معاہدے کے مخصوص عمل درآمد کا حکم برقرار رکھنا قانونی طور پر ممکن نہیں رہتا، کیونکہ جس معاہدے کی بنیاد ہی ختم ہوچکی ہو، اس کی بنیاد پر مخصوص ریلیف کا دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔
⸻
2️⃣ مقررہ وقت پر بقایا رقم کی ادائیگی — بنیادی معاہداتی ذمہ داری
اگر معاہدے میں واضح طور پر یہ طے ہو کہ خریدار مقررہ تاریخ تک بقایا زرِ فروخت ادا کرے گا تو یہ خریدار کی اہم اور بنیادی contractual obligation ہے۔
خریدار کا مقررہ وقت میں ادائیگی نہ کرنا اس کے دعوے کے لیے ایک اہم قانونی رکاوٹ بن سکتا ہے، خصوصاً جب وہ بعد میں Specific Performance کا ریلیف طلب کرے۔
⸻
3️⃣ صرف زبانی دعویٰ کہ “رقم موجود تھی” کافی نہیں
Specific Performance کے دعوے میں خریدار کے لیے یہ دکھانا اہم ہے کہ وہ معاہدے کی تکمیل کے لیے حقیقتاً تیار اور آمادہ تھا۔
اس کے لیے حالات کے مطابق قابلِ اعتماد مالی شواہد اہم ہوسکتے ہیں، مثلاً:
🔹 پے آرڈر یا بینک ڈرافٹ؛
🔹 بینک میں رقم کی دستیابی؛
🔹 بینک گارنٹی؛
🔹 رقم کے حصول یا ادائیگی کا قابلِ تصدیق انتظام؛
🔹 یا دیگر قابلِ اعتماد مالی دستاویزات۔
اگر مقررہ مدت میں ایسے شواہد موجود نہ ہوں تو محض زبانی بیان کہ “میں رقم ادا کرنے کے لیے تیار تھا” دعوے کو مضبوط کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔
⸻
4️⃣ عدالت Specific Performance دینے میں کیا دیکھتی ہے؟
مخصوص عمل درآمد ایک ایسا ریلیف ہے جس کے لیے عدالت فریقین کے معاہداتی طرزِ عمل، ادائیگی کی شرائط، مقررہ وقت، readiness and willingness اور دستیاب شواہد کو مجموعی طور پر دیکھتی ہے۔
لہٰذا خریدار کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ اس نے خود بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے تھے۔
صرف معاہدے پر دستخط ہونا، بذاتِ خود، Specific Performance کا حق یقینی نہیں بناتا۔
⸻
5️⃣ بیعانہ/ارنسٹ منی کا کیا ہوگا؟
عدالت نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بھی قرار دیا کہ جہاں مخصوص عمل درآمد کا دعویٰ برقرار نہ رہ سکے، وہاں خریدار کی جانب سے ادا کی گئی بیعانہ/ارنسٹ منی کی واپسی کا معاملہ بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق دیکھا جائے گا۔
مذکورہ معاملے میں بیچنے والے کو ادا شدہ رقم واپس کرنے کی ہدایت دی گئی۔
⸻
6️⃣ ماتحت عدالتوں کے بیک وقت نتائج میں سپریم کورٹ کی مداخلت
سپریم کورٹ نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ اگر ماتحت عدالتوں نے دستیاب شواہد کا جائزہ لے کر ایک ہی نتیجہ اخذ کیا ہو اور ان کے findings قانون اور ریکارڈ کے مطابق ہوں، تو سپریم کورٹ محض اس بنیاد پر دوبارہ evidence re-appraise کرکے مداخلت نہیں کرتی کہ ایک مختلف نتیجہ بھی ممکن ہوسکتا تھا۔
یعنی جہاں ماتحت عدالتوں کے concurrent findings قانونی اور شواہد پر مبنی ہوں، وہاں اعلیٰ عدالت کی مداخلت کے لیے مضبوط قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔
⸻
سپریم کورٹ کا بنیادی قانونی اصول
“مخصوص عمل درآمد کے دعوے کے لیے صرف معاہدہ ثابت کرنا کافی نہیں؛ دعویدار کو اپنے معاہداتی فرائض کی پابندی، مقررہ وقت پر ادائیگی اور معاہدہ مکمل کرنے کے لیے اپنی حقیقی تیاری و آمادگی قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنا ہوتی ہے۔”
خریداروں کے لیے اہم قانونی سبق
اگر خریدار:
❌ مقررہ وقت پر بقایا رقم ادا نہ کرے؛
❌ رقم کی ادائیگی کے لیے حقیقی مالی انتظام ثابت نہ کرسکے؛
❌ صرف زبانی طور پر اپنی readiness and willingness کا دعویٰ کرے؛ یا
❌ اس معاہدے کے مخصوص عمل درآمد کا مطالبہ کرے جو پہلے ہی حتمی عدالتی فیصلے کے ذریعے منسوخ ہوچکا ہو؛
تو Specific Performance کا دعویٰ شدید قانونی مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔