Al.Ansaar Law Associates

Al.Ansaar Law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al.Ansaar Law Associates, Lawyer & Law Firm, 390 jinnah law chambers district courts, Faisalabad.

30/12/2023

منشیات کے مقدمات کے ٹرائل کرنے والے وکلا کیلیے ان سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے ان دو فیصلہ جات کا مطالعہ نہایت ہی ضروری ہے۔ بالخصوص نوجوان وکلا جنہوں نے حال میں فوجداری ٹرائل کنڈکٹ کرنا شروع کیا ہے تو میرا دعوی ہے کہ اگر وہ ان دونوں فیصلہ جات کو تفصیل سے مکمل طور پر پڑھ کر ان میں دیے گئے نکات کو سمجھ لیں تو وہ منشیات کے مقدمات کے ٹرائل پر عبور حاصل کر لیں گے۔
2023 S C M R 781
PLJ 2022 CrC 492

26/11/2023

ہور بیوی دی کار استعمال کرو، ہور جیز وچ کاراں منگو ۔۔
wife iz entitled to recover the market value of the car ..

06/11/2023

عدالت کی اجازت کے بغیر والدہ کو اپنے نابالغ بچےکی جائیداد کو فروخت کرنے کاحق حاصل نہیں ہے!!!

2022 YLR 2293

05/11/2023

حق حضانت یعنی کسٹڈی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

راجہ محمد اویس نامی مدعی ( شوہر ) کی شادی نازیہ جبین ( بیوی ) نامی مدعا علیہ کے ساتھ ہوئ تھی جس کے نتیجے میں چار بچے پیدا ہوئے جن میں فیضان ، رابعہ ، عائشہ اور امامہ جن کی عمر بالترتیب آٹھ ، تیرہ ، سولہ اور سترہ سال ہے ۔ مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان شادی طلاق کے زریعے دو ہزار سترہ میں اپنے اختتام کو پہنچتی ہے جس کے مدعیہ اپنے چاروں بچوں کی کسٹڈی کے لئے فیملی کورٹ سے رجوع کرتی ہے ۔ ٹرائل کے دوران ایک تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین نے دوسری شادی کی ہوئ ہے اور اس کے دوسرے شوہر کے پہلی بیوی سے چار بچے ہیں جو کہ چاروں بالغ ہیں اور دوسری بات یہ سامنے آجاتی ہے کہ ٹرائل کے دوران ہی مدعی کی دو بیٹیاں عائشہ اور امامہ اپنے والد کو چھوڑ کر اپنی والدہ کے پاس چلی جاتی ہیں ۔ ٹرائل کورٹ یعنی فیملی کورٹ تقریباً دو سال کے عرصے تک کیس چلانے کے بعد بالآخر نازیہ جبین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے اور چاروں بچوں کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیتی ہے ۔ فیملی کورٹ کے فیصلے کو مدعی یعنی راجہ محمد اویس ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج کر دیتا ہے کہ مدعا علیہ نے دوسری شادی کی ہوئ ہے اور اس کے دوسرے شوہر کے پہلے سے چار بیٹے ہیں تو اس بنیاد پر ڈسٹرکٹ کورٹ مدعی یعنی راجہ محمد اویس کے حق میں فیصلہ کر کے تمام بچے اس کو واپس دینے کا حکم صادر کر دیتی ہے ۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کو مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین لاہور ہائی کورٹ میں چیلینج کر دیتی ہے اور لاہور ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ واپس برقرار رکھنے کا حکم صادر کر کے بچے ماں کو واپس دینے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مدعی یعنی راجہ محمد اویس سپریم کورٹ سے رجوع کرتا ہے اور یوں اس کیس کا آغاز ہوتا ہے ۔

سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا دوسری شادی کرنے سے مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین کا حق حضانت ختم ہو جاتا ہے یا نہیں ؟

مدعی کے وکیل کی جانب سے سارا زور اس ایک بات پر ہوتا ہے کہ مدعا علیہ کی دوسری شادی کے نتیجے میں اس کا حق حضانت ختم ہوگیا ہے اور دوسری بات یہ کی جاتی ہے کہ چونکہ بچوں کے والد نے ایک تو دوسری شادی نہیں کی اور دوسری بات کہ وہ اچھے جاب پر ہے تو اس لئے بچوں کی بہتری اس میں ہے کہ حق حضانت مدعی کو دیا جائے اور بچوں کا والد اس دوران خود بھی کورٹ کے سامنے یہ بات رکھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی نوجوان بیٹیاں کیسے بچوں کی ماں کے دوسرے شوہر کے نوجوان بچوں کے ساتھ کیسے ایک گھر میں رہ سکتی ہیں ۔ دوسری جانب مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین کے وکیل کی جانب سے دوسرے شوہر والی بات کے جواب میں کہا گیا کہ مدعا علیہ نے دوسری شادی کی ہے لیکن مدعا علیہ ایک الگ گھر میں رہائش پذیر ہے اور مدعا علیہ کے دوسرے شوہر کی فیملی الگ گھر میں رہائش پذیر ہے ۔ مدعا علیہ کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ بچے خود بھی والدہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور بچوں کی ماں ایک تعلیم یافتہ عورت ہے اور اپنا ایک سکول چلا رہی ہیں تو بچوں کی بہتری اس میں ہے کہ بچوں کا حق حضانت مدعا علیہ کو دیا جائے ۔

سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد فیصلے کے دلائل کا آغاز ڈی ایف ملا کی محمڈن لا کے پیرا نمبر تین سو باون سے کیا ہے جس کے مطابق بچوں کی کسٹڈی کا حق سات سال تک والدہ کے پاس ہوتا ہے لیکن اگر والدہ دوسری شادی کرتی ہے تو اس کا حق حضانت ختم ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد جسٹس صاحبہ نے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے سیکشن سترہ کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق حق حضانت کا فیصلہ بچوں کی بہتری کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس کے بعد جسٹس صاحبہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے PLD 2003 SC 887 کا حوالہ دے کر لکھتی ہیں کہ اس کیس کے مطابق عموماً دوسری شادی کرنے سے حق حضانت ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ اصول حتمی نہیں ہے اور حضانت کا فیصلہ بچوں کی بہتری کو دیکھ کر کیا جائے گا ۔ اس کے بعد تین مزید فیصلوں کا حوالہ دیا جاتا ہے جو کہ 2004 SCMR 990، PLD 2002 SC 267 اور 2014 SCMR 343 جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسری شادی سے حق حضانت ختم ہونے کا اصول قطعی نہیں ہے بلکہ دوسری شادی کے بعد بھی اگر بچے کی بہتری والدہ کے ساتھ رہنے میں تو حق حضانت والدہ کو دیا جائے گا اور یوں مدعی کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دوسری شادی سے بچوں کی ماں کا حق حضانت ختم ہوجاتا ہے تو یہ دعویٰ غلط ہے بلکہ حق حضانت کا فیصلہ ہمیشہ بچوں کی بہتری کو دیکھ کر کیا جائے گا ۔ بچوں کی حضانت دینے کے لیے کوئ حساب کتاب کا اصول نہیں ہے بلکہ بچوں کی بہتری جہاں ہوگی تو حق حضانت اس کو دیا جائے گا اور اس کے بعد جسٹس صاحبہ نے ان عوامل کا زکر کیا ہے جس سے بچوں کی بہتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس میں بچوں کی جسمانی ، زہنی بہتری شامل ہے ۔

کیس لاز کے زکر کے بعد عدالت نے فیصلے میں بچوں کے حقوق کے لیے یونائیٹڈ نیشنز کے کنونشن کا زکر کیا جو کہ پاکستان نے انیس سو نوے میں کچھ تحفظات کے ساتھ دستخط کیا تھا لیکن بعد میں انیس سو ستانوے میں پاکستان نے وہ تحفظات واپس لے لی تھیں ۔ فیصلے میں عدالت نے کنونشن کے آرٹیکل تین ، سات ، نو اور بارہ کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ حق حضانت میں بچوں کی مرضی کو ترجیح دی جائے گی اور آخر میں نتیجہ یہ نکالا ہے کہ اکیلے دوسری شادی سے حق حضانت ختم نہیں ہوتا ۔

فیصلے کے آخر میں عدالت نے لکھا ہے کہ چونکہ مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین ایک تعلیم یافتہ عورت ہے اور وہ اپنا ایک سکول بھی چلا رہی ہیں اور ایک الگ گھر میں بھی رہائش پذیر ہے اور بچوں کی اپنی مرضی بھی یہ ہے کہ وہ والدہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اس موقع پر عدالت نے خود بھی تمام بچوں سے ان کی مرضی پوچھی جس میں تمام بچوں کا جواب والدہ کے حق میں تھا تو ان وجوہات کو دیکھتے ہوئے عدالت نے ہائ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے بچوں کی کسٹڈی والدہ یعنی نازیہ جبین کے پاس برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ۔

This Judgement Is Written By Justice Ayesha A. Malik And Can Be Searched And Cited As 2022 SCP 289.

04/11/2023

سپریم کورٹ نے 34 سال بعد ماموں سے بھانجی کو وراثت میں حق دلوا دیا۔ عدالت کابھانجی کو 5 مربع زمین کا فوری قبضہ دینے کا حکم، ماموں کو قانونی چارہ جوئی کے تمام اخراجات بھی بھانجی کو ادا کرنے کا حکم دیا ، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ خواتین کے حقوق کو غیر آئینی اور غیر شرعی طریقے سے سلب کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، ریمارکس دیے خواتین کے حقوق کو غیر آئینی اور غیر شرعی طریقے سے سلب کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ شرافت سے زمین بھانجی سارہ اخترکے حوالے کر دیں۔درخواستگزار کے وکیل نے کہا کہ بھانجی نے اپنی زمین 1989ء میں ماموں سردار منصور کو فروخت کی، فروخت کے 20 سال بعد زمین کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور اپنے دستخط سے انکاری ہو گئیں۔

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے زمین کی خریداری ثابت کرنا خریدار کا کام تھا۔سارہ اختر کے وکیل نے کہا کہ زمین کی مبینہ فروخت کے وقت سارہ اختر نابالغ تھی، سارہ کے ماموں سردار منصور سابق چیئرمین ضلع کونسل ہیں جنہوں نے زمین اپنے کمسن بچوں، اہلیہ، ساس اور سالے کے نام منتقل کرائی۔
جس کے بعد سپریم کورٹ نے محکمۂ مال ڈیرہ غازی خان کو سارہ اختر کو 5 مربع زمین کا فوری قبضہ دینے کا حکم دے دیا اور ساتھ ماموں سردار منصور کو قانونی چارہ جوئی کے تمام اخراجات بھی بھانجی کو ادا کرنے کا حکم دیا

The burden to establish the sales and the sale mutations, lay upon the beneficiaries thereof, the petitioners, but they failed to discharge it, and when the same was not discharged it may be stated to constitute fraud.
C.P.3030/2021
Mehmood Khan and others v. Sara Akhtar and others
Mr. Justice Qazi Faez Isa
26-10-2023

20/09/2023

تنسیخ نکاح کی وہ صورتیں جس میں عورت کو مکمل حق مہر ملے گا
پاکستانی قانون میں عورت کو یہ حق حاصل ہے اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور اس کا شوہر اس کو طلاق دے کر آزاد نہیں کررہا تو اس صورت میں پاکستانی قانون کے مطابق عورت عدالت میں خلع کا کیس کرسکتی ہے اور عدالت کے ذریعے سے تنسیخ نکاح کروا سکتی ہے.

لیکن اگر عورت عدالت سے خلع لیتی ہے تو The family court Act 1964 کے سیکشن 10 کے تحت عورت کو وہ مہر جو اس کو نہیں ملا یعنی Deferred dower جس کو اردو میں مہر موجل یا غیر معجل بھی کہتے ہیں اس کا 50 فیصد شوہر کو معاف کرے گی اس کو 50 فیصد حق مہر ملے گا اور اگر حق مہر معجل یعنی prompt dower ہے تو 25 فیصد واپس کرے گی اگر وصول کرلیا ہے. اگر حق مہر میں گھر سونا زیور لکھا تھا اس پر بھی یہی اصول لاگو ہوگا خلع کی صورت میں.
کن صورتوں میں بیوی حق مہر واپس نہیں کرے گی؟
تو The dissolution of marriage Act 1939 میں وہ Grounds بیان ہوئے ہیں کہ اگر عورت ان گراونڈز کی بنیاد پر عدالت سے اپنے نکاح کی تنسیخ کرواتی ہے تو اسے حق مہر گھر زیور واپس نہیں کرنا ہوگا۔
1) اگر کسی عورت کا شوہر 4 سال سے لاپتہ ہو تو اس صورت میں عورت عدالت سے نکاح ختم کرواسکتی ہے۔ عدالت 6 ماہ تک انتظار کرے گی اگر شوہر آگیا تو تنسیخ نہ ہوگی اگر شوہر نہ آیا تو تنسیخ نکاح کی ڈگری effective ہو جائے گی۔
2) اگر شوہر 2 سال سے خرچہ نہیں دے رہا
3) اگر شوہر 3 سال سے ازواجی حقوق بغیر کسی وجہ کے ادا نہیں کر رہا.
4) اگر شوہر پاگل ہوگیا ہے یا کوئی وبائی مرض کا شکار ہوگیا عرصہ 2 سال سے
5) اگر شوہر کو 7 سال یا اس سے زائد قید کی سزا ہوگئی ہو
6) اگر شوہر شادی کے وقت سے ہی نامرد تھا اور آگے بھی نامرد ہے تو اس صورت میں بھی عدالت تنسیخ نکاح کا حکم دے دے گی لیکن تنسیخ نکاح سے پہلے عدالت مرد کو علاج کروانے کا ٹائم دے گی 1 سال کا اگر 1 سال میں علاج نہیں ہوتا تو عدالت تنسیخ نکاح کر دے گی
7) اگر عورت کی شادی 16 سال کم عمر میں اسے کے والدین یا سرپرست نے کر دی اب وہ لڑکی 16 سال کی ہوگئی ہے اب اس پر ہے اگر وہ اپنی شادی ختم کرنا چاہے تو کرسکتی ہے اس کو حق اخیارغ البلوغ کہتے ہیں
اگر شوہر مارپیٹ کرتا ہے نشہ کرتا ہے، غیر عورتوں سے تعلقات رکھتا ہے، عورت کا سامان بلا اجازت بیچتا ہے یا عورت کو استعمال نہیں کرنے دیتا، اگر شوہر عورت کو غیر اخلاقی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے یا اس کو اسے مذہبی معاملات کے مطابق زندگی گزارنے نہیں دیتا یا اس کی زیادہ بیویاں ہیں وہ ان بیویوں کی موجودگی میں اس عورت سے انصاف نہیں کرتا تو ان اوپر بیان کی گئی وجوہات کی بنا پر اگر بیوی شوہر سے عدالت کے ذریعے علیحدگی، تنسیخ نکاح کرتی ہے تو اس صورت میں بیوی کو حق مہر گھر زیور واپس نہ کرنا ہوگا. خلع میں اگر بیوی صرف اتنا کہہ دے کے مجھے نفرت ہوگئی ہے اپنے شوہر سے میں نہیں رہنا چاہتی تو عدالت خلع دے دیتی ہے لیکن ان اوپر بیان کی گئی وجوہات کو عدالت میں عورت کو ثابت کرنا ہوگا جیسا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مار پیٹ کرتا ہے. اگر عورت ثابت کر دیتی ہے عدالت میں تو اسے حق مہر واپس نہ کرنا ہوگا.

APPLICATION FOR ISSUANCE OF POSSESSION LICENCE   پرندوں / جانور پالنے والے کے لیے لائسینس To  1. Deputy Director Wildlif...
16/08/2023

APPLICATION FOR ISSUANCE OF POSSESSION LICENCE
پرندوں / جانور پالنے والے کے لیے لائسینس
To 1. Deputy Director Wildlife, ______________ Division.
2. Assistant Director Wildlife, _______________Division.
Subject: APPLICATION FOR ISSUANCE OF POSSESSION LICENCE
It is submitted that I / we (am / are) wildlife lover (s) and have acquired / purchased ________animal(s) / bird(s) from ______________ Private Wildlife Breeding Farm / Government Wildlife Park.
I / we may kindly be issued possession licence for the said animal(s) / bird(s) please.
Name of Applicant(s)
Address
Cell No.
Note: Following documents are required:
1. Copy of CNIC 2.
2 No. Passport Size Photographs
3. Deposit prescribed fee in State Bank of Pakistan after approval

21/05/2023

*فیملی کورٹ کے چند منفرد فیصلے جو روٹین سے ہٹ کر ہیں اور امید ہے آپ کی نظر سے نہیں گزرے ہوں گے۔*_
_فیملی کورٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یکطرفہ ڈگری پاس ہونے کے بعد مدعا علیہ کے پتہ پر ڈگری کی مصدقہ کاپی بھیجے۔_
_*2017 CLC N 69*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی عدالت یکطرفہ ڈکری پاس کرنے سے پہلے مدعا علیہ کو نوٹس حاضری بھیج سکتی ہے۔_
_*2017 PLJ Pesh 01*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہیز کیس کے اجراء میں ضامن کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ڈیفالٹ کی صورت میں جہیز ادا کرے۔_
_*2016 PLD Pesh 109*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_خلع کے علاوہ باقی حقائق کے خلاف درخواست منسوخی ڈگری کی مدت اس وقت شروع ہوگی جب مدعا علیہ/ججمنٹ ڈیٹر کو اس ڈکری کا علم ہوگا۔_
_*2017 CLC N 69*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_بیوی کو حق مہر ادا نہ کرنا بھی ظلم/Cruelty ہے۔ جوکہ خلع کے لیے بہترین گراؤنڈ ہے۔_
_*2018 CLC 93*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی کیس میں Interim Order کے خلاف رِٹ پٹیشن نہیں ہوسکتی۔_
_*2018 CLC N 47*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی کورٹ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فیملی کیس کا 6 ماہ کے اندر اندر فیصلہ کرے۔_
_*2018 YLR 1231*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_باپ اپنے بچے کو خرچہ نان و نفقہ دینے کا پابند ہے۔ اس کا یہ بہانہ نہیں سنا جائے گا کہ اس کے پاس ذرائع آمدن نہیں ہیں۔_
_*2018 CLC N 47*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_بیوی خاوند کی Cruelty ثابت نہ کرسکی۔ عدالت نے حکم دیا کہ بیوی شادی کے تحائف واپس کرے اور شوہر حق مہر ادا کرے۔_
_*2018 PLD Pesh 34*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں خاوند کے لیے Past Maintenance کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔_
_*2018 YLR 1501*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_پردہ نشیں عورت اپنے والد کے ذریعے اپنی شہادت ریکارڈ کروا سکتی ہے اگر اس کے والد کو کیس حالات کا اچھی طرح سے پتہ ہوتو۔_
_*2002 CLC 1336*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں اجراء کی درخواست کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔_
_*2018 YLR 1501*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_ہائی کورٹ فُل بینچ نے فیملی قوانین کی تشریح کرتے وقت یہ قرار دیا کہ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 اور مسلم فیملی لاز آرڈینیس 1961 کی متعلقہ دفعات غیرقانونی ہیں کہ خلع کی صورت میں بیوی کو حق مہر کی رقم بھی واپس کرنی پڑے گی جبکہ اسلامی اصولوں کے تحت اسے صرف شادی کے تحائف واپس کرنے چاہئیں۔_
_*PLD 2009 Pesh 92*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہاں بیوی/عورت رہتی ہوگی اسی جگہ فیملی کیس دائر کیا جاسکتا ہے۔ علاقائی اختیار سماعت نہیں دیکھا جائے گا۔_
_*PLD 2006 Pesh 189*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_طلاق یافتہ بچی اگر ماں کے پاس ہوتو باپ اس کا خرچہ نان و نفقہ دینے کا پابند ہے۔_
_*2014 MLD 351 Pesh*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔_
_*PLD 2012 Lah 43*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_ماں بچے کا خرچہ باپ کو معاف بھی کردے تو باپ دینے کا پابند ہے۔_
_*2014 MLD 351 Pesh*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_نکاح نامہ میں لکھی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں آتی ہے اور فیملی کورٹ اس حوالہ سے ڈکری پاس کرسکتی ہے۔_
_*PLD 2016 SC 613*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔_
_*PLD 2009 Lah 227*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہیز کی رقم مدعیہ کے والد کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔ اب Controversy باپ اور بیٹی کے درمیان ہے۔ خاوند کو اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ سول کورٹ کا معاملہ ہے فیملی کورٹ کا نہیں۔_
_*2013 YLR 1903*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔_
_*PLD 2011 Kar 196*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہاں طلائی زیورات یا انکی قیمت واپس کرنے کی ڈکری پاس ہوجائے تو اس صورت میں قیمت Date of Payment کے حساب سے دیکھی جائے گی۔_
_*2013 SCMR 1049*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جس کیس میں مدعیہ صرف طلائی زیورات کی بابت استدعا کرے اور ان کی مالیت کرنسی میں نہ بتائے تو اس صورت میں مدعاعلیہ کے پاس آپشن ہوگی کہ وہ یاتو طلائی زیورات بمطابق وزن واپس کرے یا پھر اتنی رقم ادا کرے جس سے اس وزن کے طلائی زیورات اوپن مارکیٹ سے خریدے جاسکیں۔_
_*2014 CLC 895*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_ہر باپ کا حق ہے کہ وہ اپنے بچے سے ملاقات غیر مشروط طریقے سے کرے۔ ملاقات کے لیے Surety Bonds مشروط کرنا غیرآئینی ہے اور اسے 199 کے تحت چیلنج کیا جاسکتا ہے۔_
_*2014 CLC 1168*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_اگر Pendency کے دوران دعویٰ Partly واپس لیا جائے تو نیا سوٹ فائل کیا جاسکتا ہے۔ اس پر Res Judicata کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔_
_*2012 MLD 1795*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_معزز ہائیکورٹ نے مشاہدہ کیا کہ 99 فیصد سامان جہیز کے کیسز میں جھوٹ بولتی ہے کہ لِسٹ شادی کے وقت تیار کی گئی تھی۔ اور 1 فیصد کیسز میں وہ ضِد کرتی ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہی۔_
_*2013 MLD 939 Lah*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_خرچہ نان و نفقہ ایک فائدہ نہیں بلکہ حق ہے۔ اگر خلع کے کیس میں خرچہ نان و نفقہ کو بطور شرط معاف کیا گیا تو یہ غیرقانونی ہے اور اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔_
_*2012 MLD 1943*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_چونکہ CPC فیملی لاء پر اپلائی نہیں ہوتی مگر پھر بھی جو طریقہ کار CPC میں دیا گیا ہے انصاف کے بہترین حصول کے لیے وہ فیملی لاء میں اختیار کیا جاسکتا ہے۔_
_*2012 MLD 1795*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی کورٹس ترمیمی ایکٹ 2015 کے تحت خرچہ نان و نفقہ 10 سے 5 فیصد کیا گیا۔ لیکن اس فیصلہ میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوبارہ خرچہ نان و نفقہ 10 فیصد بحال کردیا۔_
_*2016 SCMR 2069*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

04/05/2023

باپ بیٹی کا خرچہ نان و نفقہ اور اسکی شادی کے اخراجات بھی ادا کرنے کا پابند ھے
PLJ 2023 Lahore 323
Father is bound to pay reasonable maintenance allowance as well as marriage expenses of his daughter.

02/05/2023

2023 SCMR 815

Person seeking specific performance has to establish that he is enthusiastic and vehement to act upon his obligations as per the contract but the opponent is refusing or denying its ex*****on

30/04/2023

S. 406--Pre-arrest bail, grant of--Allegation of--Accused persons demand an amount from complainant and promise to return amount, was promise--
PLJ 2023 Cr.C. (Note) 65

Criminal Procedure Code, 1898 (V of 1898)--

----S. 498--Pakistan Penal Code, (XLV of 1860), S. 406--Pre-arrest bail, grant of--Allegation of--Accused persons demand an amount from complainant and promise to return amount, was promise--An amount of 2 lac was transferred by complainant in petitioners bank account--Amount was given by complainant to accused persons including petitioner as loan, as such dispute between parties appears to be of civil nature--Ingredients of criminal breach of trust as described in Section 405 of, PPC ex facie are not attracted to facts of case in hand--In such backdrop mala fide on part of complainant for false implication by converting dispute of civil nature into criminal one cannot be ruled out--Petition is allowed.

[Para 3] A

Mehar Shahid, Advocate vice-counsel with Petitioner.

Mr. Muhammad Ali Shahab, DPG for State.

Malik Badar Munir Bukhari, Advocate for Complainant.

Date of hearing: 21.9.2022.

PLJ 2023 Cr.C. (Note) 65
[Lahore High Court, Multan Bench]
Present: Shakil Ahmed, J.
UMAR AZIZ--Petitioner
versus
STATE and another--Respondents
Crl. Misc. No. 5793-B of 2022, decided on 21.9.2022.

Order

After dismissal, of his pre-arrest bail petition by learned Additional Sessions Judge, Lodhran vide order dated 01.09.2022, petitioner Umar Aziz has filed this petition seeking pre-arrest bail in case FIR No. 570 of 2022 dated 19.07.2022 registered at Police Station Saddar Lodhran for the offence under Section 406, PPC.

2. Heard and perused the record.

3. As per contents of FIR, petitioner along with co-accused Mujeeb-ur-Rehman, Muhammad Arshad and Wajahat Hussain went to complainant on 25.09.2020 at 04:00 p.m. and asked for an amount of Rs. 12,00,000/-as trust in order to purchase material for their grocery shop with the promise that they will return amount after six months, whereupon an amount of Rs. 10,00,000/-was given by complainant to said accused persons in cash and subsequently on 05.01.2021 an amount of Rs. 2,00,000/-was transferred by complainant in petitioner’s bank account. Bare reading of the contents of FIR suggests that the amount was given by complainant to accused persons including the petitioner as loan, as such dispute between the parties appears to be of civil nature. Ingredients of criminal breach of trust as described in Section 405 of PPC ex facie are not attracted to the facts of case in hand. In such backdrop mala fide on the part of complainant for false implication by converting the dispute of civil nature into criminal one cannot be ruled out. Therefore, petition in hand is allowed and ad-interim pre-arrest bail already granted to the petitioner by this Court is confirmed subject to his furnishing of fresh bail bonds in the sum of Rs. 50,000/-with one surety in the like amount to the satisfaction of learned trial Court.

Bail allowed

18/03/2023

🔴Few Grounds for DISMISSAL of a Suit for SPECIFIC PERFORMANCE:

✍️1. Handwriting expert reported that signature are forged. (2012 CLC 1699)

✍️2. Two attested witnesses were not produced. (2006 CLC 571)

✍️3. Agreement was written by unlicensed person. (2006 CLC 571)

✍️4. Stamp paper was not issued by stamp vendor . (2012 MLD 535)

✍️5. Dates of purchasing stamp paper and endorsement were different. (2011 YLR 404)

✍️6. Purchaser of stamp paper was not produced as witness. (2011 MLD 404)

✍️7. Stamp paper was issued on one date in favour of an unknown person and was executed on another date. (PLD 2008 Queta 01)

✍️8. Payment of whole consideration was paid before ex*****on. (2006 YLR 2446)

✍️9. Scribe was not a registered Waseeqa Navees. (2006 CLC 1444)

✍️10. Register of scribe belongs to another person wherein various pages and serial number were missing. (2006 CLC 1444)

✍️11. Contradiction as to vanue where bargain took place. (2006 CLC 1444)

✍️12. Contradiction as to person who obtained stamp paper. (2006 CLC 1444)

✍️13. Plaintiff failed to produce bank record as to payment of half money. 2006 MLD 886

✍️14. Date, Time, Month and Place of transaction was not given in pleading or evidence. (2005 YLR 2655)

✍️15. Number of N.I.C was different from number on agreement. (2002 CLC 942)

✍️16. Land was situated at a place whereas stamp paper was purchased from another place. (2002 CLC 942)

✍️17. Neither vendor of stamp paper nor scribe was produced. (2001 YLR 2145)

✍️18. Agreement was scribed on plain paper and was written by unlicensed petition-writer whereas both were available as nearby place. ( 1996 MLD 562)

✍️19. Stamp paper was purchased at one date and executed after one week, stamp paper neither showed name of stamp vendor nor the place from where it was purchased. (1992 CLC 2193)

✍️20. Failure to deposit balance amount. (PLD 2002 Lah 88, 2012 CLC 1392)

✍️21. Two marginal witnesses were not produced. (2013 YLR 903, 2009 SCMR 740)

✍️22. Payment of consideration not proved.(2006 YLR 1039 )

✍️23. Document was not put before witness. (2006 MLD 1622)

✍️24. One witness was not produced without any reason/ explanation. (2006 MLD 1622)

✍️25. Scribe admitted that alleged promisor was not present at the time of ex*****on neither he signed before him. (2006 MLD 1622)

✍️26. Claim of plaintiff valuing 25 lac was based on a document which was not registered. (2011 CLC 309)

✍️27. Agreement was signed twice. (2011 CLC 309)

✍️28. Original agreement to sell not produced…loss of agreement not pleaded….no attempt was made to produce secondary evidence…plaintiff was not confronted with…Executant defendant was not identified by anyone. (2005 YLR 463)

✍️29. National Identity Card number was not written. (2005 YLR 3163)

✍️30. Lost of original document not proved. (1995 SCMR 1237)

✍️31. It is doubtful that plaintiff paid whole consideration but did not insist for registered sale deed in his favour. (2006 YLR 2779)

Address

390 Jinnah Law Chambers District Courts
Faisalabad

Telephone

+923017199436

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al.Ansaar Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al.Ansaar Law Associates:

Share