Lawyers of Faisalabad

Lawyers of Faisalabad If you are searching for a good family lawyers in Faisalabad, then you have come to the right place.

22/08/2026
18/08/2026
ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — کرایہ داری کے مقدمے میں دفعہ 12(2) سی پی سی کے تحت بڑا اہم فیصلہدھوکے سے حاصل کیا گیا بے دخلی ک...
14/08/2026

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — کرایہ داری کے مقدمے میں دفعہ 12(2) سی پی سی کے تحت بڑا اہم فیصلہ

دھوکے سے حاصل کیا گیا بے دخلی کا حکم برقرار نہیں رہ سکتا، قبضہ مل جانے کے بعد بھی عدالت حکم واپس لے سکتی ہے
لاہور ہائی کورٹ، بہاولپور بنچ — رِٹ پٹیشن نمبر 4596/2026/BWP
محمد محبوب بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ
فیصلہ: 6 اگست 2026
مقدمے کا مکمل خلاصہ
یہ مقدمہ ایک 18 مرلہ جائیداد کی بے دخلی سے متعلق تھا۔ درخواست گزار اور دوسرے افراد نے ایک شخص کے خلاف کرایہ داری کی بنیاد پر بے دخلی کی درخواست دائر کی۔ مؤقف تھا کہ کرایہ دار نے 5,000 روپے ماہانہ کرایہ پر جگہ حاصل کی، لیکن کرایہ ادا نہیں کیا اور قبضہ واپس نہیں کیا۔ کرایہ دار عدالت میں پیش نہیں ہوا، اس لیے مقدمہ یک طرفہ چلایا گیا اور 31 جنوری 2024 کو بے دخلی کا حتمی حکم جاری ہوگیا۔ بعد میں اس حکم پر عمل درآمد بھی ہوا اور جائیداد کا قبضہ درخواست گزاروں کو دے دیا گیا۔

اصل تنازعہ کہاں سے شروع ہوا؟
بعد میں جواب دہندہ نمبر 3 سامنے آیا اور اس نے مؤقف اختیار کیا کہ جس جائیداد کا قبضہ بے دخلی کے حکم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے، وہ درخواست گزاروں کی ملکیت نہیں بلکہ اس کے حق اور قبضے سے متعلق جائیداد ہے۔
اس نے الزام لگایا کہ جائیداد کی شناخت، ملکیت اور تفصیل کے بارے میں غلط بیانی کی گئی اور اہم حقائق چھپائے گئے۔
اسی بنیاد پر اس نے دفعہ 12(2) ضابطۂ دیوانی کے تحت درخواست دائر کی۔

مقامی کمیشن اور زمین کی پیمائش
فریقین کی رضامندی سے عدالت نے جائیداد کی اصل شناخت اور حد بندی معلوم کرنے کے لیے مقامی کمیشن مقرر کیا۔
تحصیلدار صدر بہاولپور کو کمیشن مقرر کیا گیا اور فریقین کی رضامندی سے جی پی ایس ماہر کی مدد سے موقع پر پیمائش کرائی گئی اور نقشہ تیار کیا گیا۔

کمیشن کی رپورٹ میں اہم بات سامنے آئی کہ موقع پر موجود جائیداد تقریباً 13.4 مرلہ تھی، جبکہ بے دخلی کی کارروائی میں جائیداد 18 مرلہ ظاہر کی گئی تھی۔
کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ موقع پر موجود زمین درخواست گزاروں کی ملکیت میں اس طرح شامل نہیں تھی جس طرح انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔ رپورٹ میں زمین کو متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور موقع کی پیمائش سے جوڑا گیا۔

کمیشن کی رپورٹ پر اعتراض
درخواست گزاروں نے کمیشن کی رپورٹ کے خلاف اعتراضات کیے، لیکن کرایہ کنٹرولر نے 11 ستمبر 2025 کو ان اعتراضات کو مسترد کر دیا۔
اس حکم کو الگ سے چیلنج نہیں کیا گیا، اس لیے کمیشن کی رپورٹ سے متعلق نتائج حتمی حیثیت اختیار کر گئے۔

کرایہ کنٹرولر نے کیا فیصلہ دیا؟
کرایہ کنٹرولر نے دفعہ 12(2) کی درخواست منظور کرتے ہوئے:
31 جنوری 2024 کا بے دخلی کا حکم ختم کردیا۔
بے دخلی کی کارروائی بحال کردی۔
درخواست گزاروں کو ہدایت دی کہ جواب دہندہ نمبر 3 کو فریق بنا کر درخواست میں ضروری ترمیم کریں۔
بعد میں نظرثانی عدالت نے بھی کرایہ کنٹرولر کا حکم برقرار رکھا۔

ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی قانونی سوال
ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ:
اگر پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کے تحت کارروائی میں ضابطۂ دیوانی کا عمومی اطلاق خارج ہے، تو کیا کرایہ کنٹرولر دھوکے، غلط بیانی یا اہم حقائق چھپا کر حاصل کیا گیا بے دخلی کا حکم واپس لے سکتا ہے؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہاں، ایسا اختیار موجود ہے۔

اہم سنہری قانونی اصول
1۔ دھوکے سے حاصل کیا گیا عدالتی حکم برقرار نہیں رہ سکتا
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے Chief Settlement Commissioner v. Raja Muhammad Fazil Khan, PLD 1975 SC 331 پر انحصار کیا۔
اصول یہ ہے کہ اگر کوئی حکم عدالت کے ساتھ دھوکہ کرکے حاصل کیا گیا ہو تو عدالت یا متعلقہ ٹریبونل اس حکم کو واپس لینے کا اختیار رکھتا ہے۔ کوئی شخص اپنے دھوکے سے حاصل کیا گیا فائدہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔

2۔ کرایہ کنٹرولر بھی ایسا حکم واپس لے سکتا ہے
سپریم کورٹ کے Mst. Fehmida Begum v. Muhammad Khalid, 1992 SCMR 1908 کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ محدود اختیار رکھنے والا کرایہ ٹریبونل بھی دھوکے یا غلط بیانی سے حاصل کیا گیا حکم واپس لے سکتا ہے۔

3۔ پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ میں ضابطۂ دیوانی کا اخراج مکمل رکاوٹ نہیں
عدالت نے پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کی دفعات 26، 31 اور 34 کو باہم ملا کر پڑھا۔
خاص طور پر دفعہ 31 کے تحت کرایہ کنٹرولر کو بعض مقاصد کے لیے دیوانی عدالت کے اختیارات حاصل ہیں۔ اس لیے دفعہ 34 میں ضابطۂ دیوانی کے عمومی اخراج کو ایسا نہیں سمجھا جا سکتا کہ دھوکے سے حاصل کیے گئے حکم کو کبھی واپس ہی نہ لیا جا سکے۔

4۔ دفعہ 12(2) اپیل یا نظرثانی کا متبادل نہیں
یہ نہایت اہم اصول ہے۔
اگر کسی شخص کو صرف یہ شکایت ہو کہ عدالت نے مقدمے کا فیصلہ غلط کیا ہے تو دفعہ 12(2) استعمال نہیں کی جا سکتی۔
دفعہ 12(2) اس وقت متعلقہ ہوتی ہے جب حکم کی بنیاد میں دھوکہ، غلط بیانی، اہم حقائق چھپانا یا بنیادی دائرۂ اختیار کی خرابی ہو۔

5۔ قبضہ مل جانے سے غلط حکم درست نہیں ہوجاتا
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر کسی حکم پر عمل درآمد ہو بھی چکا ہو اور قبضہ بھی دے دیا گیا ہو، تب بھی اگر بنیادی حکم دھوکے یا سنگین غلط بیانی کی بنیاد پر حاصل ہوا ہو تو صرف عمل درآمد اسے قانونی طور پر محفوظ نہیں بنا دیتا۔
عمل درآمد دھوکے سے حاصل کیے گئے حکم کی خامی ختم نہیں کرتا۔

6۔ کرایہ ٹریبونل پیچیدہ ملکیتی تنازعے کا حتمی فیصلہ نہیں کرتا
جب جواب دہندہ نمبر 3 نے اپنی الگ ملکیت اور قبضے کا دعویٰ کیا تو معاملہ صرف مالک اور کرایہ دار کے درمیان نہیں رہا۔
اب اصل سوالات زمین کی شناخت، ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے سے متعلق ہوگئے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ایسے پیچیدہ ملکیتی تنازعے کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی، نہ کہ کرایہ ٹریبونل۔

7۔ دفعہ 12(2) منظور ہونے کے بعد عام طور پر مقدمہ واپس بھیجا جاتا ہے
عدالت نے Sheikh Muhammad Sadiq v. Elahi Bakhsh, 2006 SCMR 12 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عام اصول یہ ہے کہ دفعہ 12(2) منظور ہونے کے بعد مقدمہ دوبارہ متعلقہ عدالت کو میرٹ پر فیصلے کے لیے واپس بھیجا جائے۔

8۔ لیکن غیر معمولی حالات میں دوبارہ مقدمہ چلانا ضروری نہیں
Haji Farman Ullah v. Latif-ur-Rehman, 2015 SCMR 1708 کے مطابق بہت ہی نادر اور خاص حالات میں عدالت دوبارہ مقدمہ چلانے کے بجائے کوئی دوسرا مناسب راستہ اختیار کر سکتی ہے۔

اس مقدمے میں ہائی کورٹ نے یہی استثنائی اصول استعمال کیا، کیونکہ اصل تنازعہ اب کرایہ داری سے زیادہ ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے کا بن چکا تھا۔

9۔ مقامی کمیشن کی رپورٹ پر انحصار درست قرار دیا گیا
درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ باقاعدہ نکات مقرر کیے بغیر اور روایتی زبانی شہادت ریکارڈ کیے بغیر فیصلہ کیا گیا۔
ہائی کورٹ نے یہ اعتراض مسترد کردیا، کیونکہ دفعہ 12(3) ضابطۂ دیوانی عدالت کو حالات کے مطابق منصفانہ اور تیز طریقۂ کار اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
اس مقدمے میں کمیشن فریقین کی رضامندی سے مقرر ہوا، جی پی ایس سے پیمائش ہوئی، نقشہ بنایا گیا اور درخواست گزاروں کو رپورٹ پر اعتراض کا پورا موقع بھی ملا۔

عدالت نے آخر میں کیا حکم دیا؟
ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی آئینی درخواست خارج کردی اور:
02 اکتوبر 2025 کا کرایہ کنٹرولر کا حکم برقرار رکھا۔
18 مئی 2026 کا نظرثانی عدالت کا حکم بھی برقرار رکھا۔
تاہم عدالت نے بہت اہم وضاحت کی کہ اس فیصلے سے کسی فریق کو جائیداد کا حتمی مالک قرار نہیں دیا گیا۔ ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی۔

عدالت نے کن اہم فیصلوں کی رہنمائی لی؟
Chief Settlement Commissioner v. Raja Muhammad Fazil Khan — PLD 1975 SC 331
Mst. Fehmida Begum v. Muhammad Khalid — 1992 SCMR 1908
Allah Ditta v. Bashir Ahmed — PLD 1995 Lahore 76
Sheikh Muhammad Sadiq v. Elahi Bakhsh — 2006 SCMR 12
Haji Farman Ullah v. Latif-ur-Rehman — 2015 SCMR 1708
Ghulam Ali v. Rana Babar Khan — PLD 2023 Lahore 507
آخری اور آسان نچوڑ
اگر کوئی شخص عدالت سے دھوکے، غلط بیانی یا اہم حقائق چھپا کر بے دخلی کا حکم حاصل کرلے تو صرف یہ وجہ کہ اس حکم پر عمل ہوچکا ہے اور قبضہ بھی مل چکا ہے، اسے قانونی تحفظ نہیں دیتی۔ کرایہ کنٹرولر ایسا حکم واپس لے سکتا ہے۔ تاہم اگر اصل جھگڑا ملکیت اور قبضے کا پیچیدہ تنازعہ بن جائے تو اس کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی۔
Iska poster bna dy

⚖️ نارکوٹکس ٹرائل — اہم قانونی نکاتنارکوٹکس کے مقدمات کا ٹرائل کس طریقے سے کیا جائے اور عدالت کن چیزوں کو اہمیت دیتی ہے؟...
14/08/2026

⚖️ نارکوٹکس ٹرائل — اہم قانونی نکات

نارکوٹکس کے مقدمات کا ٹرائل کس طریقے سے کیا جائے اور عدالت کن چیزوں کو اہمیت دیتی ہے؟

نارکوٹکس کے مقدمات کے حوالے سے پاکستان میں پہلے Prohibition Order Ordinance 1979 نافذ تھا، پھر Control of Narcotic Substances Act 1997 (CNSA) آیا۔ خیبر پختونخوا میں KP CNS Act 2019 بھی نافذ ہے، جبکہ ANF کے مقدمات اب بھی CNSA 1997 کے تحت متعلقہ Special Courts میں چلتے ہیں۔

نارکوٹکس ٹرائل میں ایک بنیادی اصول ہمیشہ یاد رکھیں:

Prosecution کے کیس میں اگر Investigation یا Trial کے دوران کوئی اہم خامی یا شک پیدا ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔

🔹 1۔ Crime Scene کی Video Recording

Crime Scene کی مناسب Video Graphy انتہائی اہم ہے۔ جدید تفتیش میں وقوعہ اور ریکوری کے مراحل کی ویڈیو ریکارڈنگ کے تقاضوں کو نظر انداز کرنا Prosecution کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اگر ویڈیو بنائی گئی ہے تو اس کے متعلق:

ویڈیو بنانے والے شخص کی شہادت

متعلقہ Device

اور Trial کے دوران Video کو مناسب طریقے سے پیش کرنا

اہم ہو سکتا ہے۔

🔹 2۔ Case Property کو Magistrate کے سامنے پیش کرنا

جب ملزم کو Remand کے لیے پیش کیا جائے تو Case Property کی پیشی بھی اہم قانونی تقاضا ہے۔

اگر Case Property اس وقت پیش نہ کی جائے جبکہ اس کی موجودگی متوقع اور ضروری ہو، تو اس سے Prosecution کے کیس میں شک پیدا ہو سکتا ہے۔

🔹 3۔ اہم Prosecution Witnesses

نارکوٹکس ٹرائل میں عام طور پر درج ذیل گواہ انتہائی اہم ہوتے ہیں:

1. Seizing Officer

جو Recovery کرتا، Case Property قبضے میں لیتا اور ملزم کو گرفتار کرتا ہے۔

2. Marginal / Recovery Memo Witness

جو Recovery Memo پر بطور گواہ موجود ہوتا ہے۔

3. Investigation Officer

جو Site Plan تیار کرتا، گواہان کے 161 Cr.P.C. کے بیانات ریکارڈ کرتا، Samples FSL بھیجنے کا انتظام کرتا اور تفتیش مکمل کرتا ہے۔

4. Moharrir / Malkhana Official

جو Case Property اور Samples کی محفوظ تحویل اور متعلقہ Entries کے بارے میں شہادت دیتا ہے۔

5. Carrier of Samples

جو Police Station سے Samples لے کر FSL پہنچاتا ہے۔

ان اہم Links میں سے کسی اہم Link کا مناسب طور پر ثابت نہ ہونا Prosecution کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

🔹 4۔ Register No. 19 اور Register No. 21

نارکوٹکس ٹرائل میں Register No. 19 اور Register No. 21 انتہائی اہم ہیں۔

Register No. 19:

Police Station کے Malkhana میں Case Property کے Deposit اور اس سے متعلق Entries۔

Register No. 21:

Case Property یا Samples کے Police Malkhana سے Court یا FSL وغیرہ بھیجے جانے سے متعلق Entries۔

Trial کے دوران یہ دیکھنا ضروری ہے کہ متعلقہ Registers کے Extracts پیش اور Exhibit کیے گئے ہیں یا نہیں۔

🔹 5۔ Road Certificate / Receipt

Samples جب Police Station سے FSL بھیجے جاتے ہیں تو Road Certificate / Receipt بھی اہم Link ہے۔

اس میں عموماً:

FIR Number

Section of Law

Police Station

Date

Carrier کا نام

متعلقہ Signatures

وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

🔹 6۔ Chain of Safe Custody

نارکوٹکس مقدمات میں Chain of Safe Custody بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

یعنی:

Recovery → Police Station → Malkhana → Sample Separation → Carrier → FSL → Chemical Examination → Court

اس پورے Chain میں ہر اہم Link کو Prosecution کو قابلِ اعتماد طریقے سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔

اگر Chain of Safe Custody میں کوئی اہم Link Missing یا مشکوک ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو مل سکتا ہے۔

🔹 7۔ Police Rules 1934

Crime Scene سے Police Station واپسی اور متعلقہ کارروائیوں کے بارے میں Police Rules 1934، Rule 22.48 اور Rule 22.49 کی Entries بھی اہم ہو سکتی ہیں۔

اگر متعلقہ Police Station Registers کی Entries یا Extracts Trial میں پیش نہ کیے جائیں تو Prosecution کے کیس میں شک پیدا ہو سکتا ہے۔

🔹 8۔ Samples کی Proper Identification

Bulk Quantity اور FSL کے لیے Samples کی Proper Separation، Packing، Identification اور Sealing ضروری ہے۔

ہر Parcel پر:

FIR Number

Date

متعلقہ Identification

اور Proper Seal/Stamp

کا موجود ہونا اہم ہے۔

اگر کسی Parcel کی شناخت یا Seal کے بارے میں بنیادی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ Prosecution کو نہیں بلکہ ملزم کو مل سکتا ہے۔

📌 **باپ بچے سے کب کب ملاقات کر سکتا ہے؟ (حضانت کے بعد حقِ ملاقات)**🔹 **قانونی بنیاد**▪️ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 میں...
13/08/2026

📌 **باپ بچے سے کب کب ملاقات کر سکتا ہے؟ (حضانت کے بعد حقِ ملاقات)**

🔹 **قانونی بنیاد**
▪️ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 میں ملاقات (Visitation Rights) کا واضح ذکر موجود نہیں، لیکن ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی سیکشن 7 کے تحت غیر حاضن (جس کے پاس بچے کی کسٹڈی نہیں) والدین کو عدالت سے ملاقات کا حق مانگنے کا اختیار حاصل ہے۔

🔹 **اگر بچہ ماں کے پاس ہو**
▪️ اگر حضانت (کسٹڈی) ماں کے پاس ہو تو باپ فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کر کے باقاعدہ اور مستقل بنیادوں پر بچے سے ملاقات کا حق حاصل کر سکتا ہے۔
▪️ یہی اصول اُلٹ صورت میں بھی لاگو ہوتا ہے، یعنی اگر بچہ باپ کے پاس ہو تو ماں بھی یہی حق استعمال کر سکتی ہے۔

🔹 **ملاقات کا شیڈول کیسے طے ہوتا ہے؟**
▪️ قانون میں ملاقات کی مدت یا تعدد کے بارے میں کوئی مقررہ گائیڈ لائن موجود نہیں۔
▪️ عدالت سیکشن 25 کے تحت دائر پٹیشن کے ساتھ سیکشن 12 کی درخواست پر بچے کی پیشی کا حکم دیتی ہے، اور فریقین کو سن کر، بچے کی بہتری (Welfare of Minor) کو مدنظر رکھتے ہوئے ملاقات کا شیڈول طے کرتی ہے۔

🔹 **بنیادی اصول**
▪️ عدالت ہر فیصلے میں سب سے زیادہ اہمیت "بچے کی فلاح و بہبود" کو دیتی ہے، نہ کہ ماں یا باپ کی خواہش کو۔
▪️ اگر حاضن (کسٹوڈین) ملاقات میں رکاوٹ ڈالے تو غیر حاضن والدین عدالت سے نفاذ (Enforcement) کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔
03009657315

2026 CLC 12نان ونفقہ میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری(basic)کی رقم بجائے موجودہ(current) رقم پر ہوگامثلا اگر فیملی کورٹ 500...
13/08/2026

2026 CLC 12
نان ونفقہ میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری(basic)کی رقم بجائے موجودہ(current) رقم پر ہوگا
مثلا اگر فیملی کورٹ 5000 روپے ماہوار خرچہ ناں و نفقہ ڈگری کرتی ہے تو پہلے سال سالانہ اضافہ 5000 روپے کی رقم پر ہوگا اگلے سال سالانہ اضافہ 5500 روپے اور اگلے سال سالانہ اضافہ 6050 روپے کی رقم پر ہوگا

Hafiz muhammad Zubair Ahmed Advocate mobile # 0300 9657315

2022 MLD 6342018 SCMR 1885  خرچہ نان ونفقہ نابالغان کے مقدمہ میں اگر حتمی حکم وڈگری میں نابالغان /بچوں کا ماھانہ خرچہ فی...
13/08/2026

2022 MLD 634
2018 SCMR 1885 خرچہ نان ونفقہ نابالغان کے مقدمہ میں اگر حتمی حکم وڈگری میں نابالغان /بچوں کا ماھانہ خرچہ فی کس مبلغ 5000 روپے تک مقرر ھو جائے تو والد خرچہ کم کروانے کیلئے اس حکم وڈگری کے خلاف اپیل دائر نہیں کرسکتا جبکہ نابالغان/بچے، خرچہ نان ونفقہ بڑھانے کیلئے اپیل دائر کر سکتے ھیں۔Hafiz M Zubair Advocate 0300 9657315

04/07/2026

لسٹ سامان جہیز اور رسیدات کی کوئی اہمیت نہ ہے، دعوی سامان جہیز ڈگری شد.
(2013 CLC 698).

Address

Chamber #145 District Courts
Faisalabad
38000

Telephone

+923009657315

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers of Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share