14/08/2026
ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — کرایہ داری کے مقدمے میں دفعہ 12(2) سی پی سی کے تحت بڑا اہم فیصلہ
دھوکے سے حاصل کیا گیا بے دخلی کا حکم برقرار نہیں رہ سکتا، قبضہ مل جانے کے بعد بھی عدالت حکم واپس لے سکتی ہے
لاہور ہائی کورٹ، بہاولپور بنچ — رِٹ پٹیشن نمبر 4596/2026/BWP
محمد محبوب بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ
فیصلہ: 6 اگست 2026
مقدمے کا مکمل خلاصہ
یہ مقدمہ ایک 18 مرلہ جائیداد کی بے دخلی سے متعلق تھا۔ درخواست گزار اور دوسرے افراد نے ایک شخص کے خلاف کرایہ داری کی بنیاد پر بے دخلی کی درخواست دائر کی۔ مؤقف تھا کہ کرایہ دار نے 5,000 روپے ماہانہ کرایہ پر جگہ حاصل کی، لیکن کرایہ ادا نہیں کیا اور قبضہ واپس نہیں کیا۔ کرایہ دار عدالت میں پیش نہیں ہوا، اس لیے مقدمہ یک طرفہ چلایا گیا اور 31 جنوری 2024 کو بے دخلی کا حتمی حکم جاری ہوگیا۔ بعد میں اس حکم پر عمل درآمد بھی ہوا اور جائیداد کا قبضہ درخواست گزاروں کو دے دیا گیا۔
اصل تنازعہ کہاں سے شروع ہوا؟
بعد میں جواب دہندہ نمبر 3 سامنے آیا اور اس نے مؤقف اختیار کیا کہ جس جائیداد کا قبضہ بے دخلی کے حکم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے، وہ درخواست گزاروں کی ملکیت نہیں بلکہ اس کے حق اور قبضے سے متعلق جائیداد ہے۔
اس نے الزام لگایا کہ جائیداد کی شناخت، ملکیت اور تفصیل کے بارے میں غلط بیانی کی گئی اور اہم حقائق چھپائے گئے۔
اسی بنیاد پر اس نے دفعہ 12(2) ضابطۂ دیوانی کے تحت درخواست دائر کی۔
مقامی کمیشن اور زمین کی پیمائش
فریقین کی رضامندی سے عدالت نے جائیداد کی اصل شناخت اور حد بندی معلوم کرنے کے لیے مقامی کمیشن مقرر کیا۔
تحصیلدار صدر بہاولپور کو کمیشن مقرر کیا گیا اور فریقین کی رضامندی سے جی پی ایس ماہر کی مدد سے موقع پر پیمائش کرائی گئی اور نقشہ تیار کیا گیا۔
کمیشن کی رپورٹ میں اہم بات سامنے آئی کہ موقع پر موجود جائیداد تقریباً 13.4 مرلہ تھی، جبکہ بے دخلی کی کارروائی میں جائیداد 18 مرلہ ظاہر کی گئی تھی۔
کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ موقع پر موجود زمین درخواست گزاروں کی ملکیت میں اس طرح شامل نہیں تھی جس طرح انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔ رپورٹ میں زمین کو متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور موقع کی پیمائش سے جوڑا گیا۔
کمیشن کی رپورٹ پر اعتراض
درخواست گزاروں نے کمیشن کی رپورٹ کے خلاف اعتراضات کیے، لیکن کرایہ کنٹرولر نے 11 ستمبر 2025 کو ان اعتراضات کو مسترد کر دیا۔
اس حکم کو الگ سے چیلنج نہیں کیا گیا، اس لیے کمیشن کی رپورٹ سے متعلق نتائج حتمی حیثیت اختیار کر گئے۔
کرایہ کنٹرولر نے کیا فیصلہ دیا؟
کرایہ کنٹرولر نے دفعہ 12(2) کی درخواست منظور کرتے ہوئے:
31 جنوری 2024 کا بے دخلی کا حکم ختم کردیا۔
بے دخلی کی کارروائی بحال کردی۔
درخواست گزاروں کو ہدایت دی کہ جواب دہندہ نمبر 3 کو فریق بنا کر درخواست میں ضروری ترمیم کریں۔
بعد میں نظرثانی عدالت نے بھی کرایہ کنٹرولر کا حکم برقرار رکھا۔
ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی قانونی سوال
ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ:
اگر پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کے تحت کارروائی میں ضابطۂ دیوانی کا عمومی اطلاق خارج ہے، تو کیا کرایہ کنٹرولر دھوکے، غلط بیانی یا اہم حقائق چھپا کر حاصل کیا گیا بے دخلی کا حکم واپس لے سکتا ہے؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہاں، ایسا اختیار موجود ہے۔
اہم سنہری قانونی اصول
1۔ دھوکے سے حاصل کیا گیا عدالتی حکم برقرار نہیں رہ سکتا
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے Chief Settlement Commissioner v. Raja Muhammad Fazil Khan, PLD 1975 SC 331 پر انحصار کیا۔
اصول یہ ہے کہ اگر کوئی حکم عدالت کے ساتھ دھوکہ کرکے حاصل کیا گیا ہو تو عدالت یا متعلقہ ٹریبونل اس حکم کو واپس لینے کا اختیار رکھتا ہے۔ کوئی شخص اپنے دھوکے سے حاصل کیا گیا فائدہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔
2۔ کرایہ کنٹرولر بھی ایسا حکم واپس لے سکتا ہے
سپریم کورٹ کے Mst. Fehmida Begum v. Muhammad Khalid, 1992 SCMR 1908 کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ محدود اختیار رکھنے والا کرایہ ٹریبونل بھی دھوکے یا غلط بیانی سے حاصل کیا گیا حکم واپس لے سکتا ہے۔
3۔ پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ میں ضابطۂ دیوانی کا اخراج مکمل رکاوٹ نہیں
عدالت نے پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کی دفعات 26، 31 اور 34 کو باہم ملا کر پڑھا۔
خاص طور پر دفعہ 31 کے تحت کرایہ کنٹرولر کو بعض مقاصد کے لیے دیوانی عدالت کے اختیارات حاصل ہیں۔ اس لیے دفعہ 34 میں ضابطۂ دیوانی کے عمومی اخراج کو ایسا نہیں سمجھا جا سکتا کہ دھوکے سے حاصل کیے گئے حکم کو کبھی واپس ہی نہ لیا جا سکے۔
4۔ دفعہ 12(2) اپیل یا نظرثانی کا متبادل نہیں
یہ نہایت اہم اصول ہے۔
اگر کسی شخص کو صرف یہ شکایت ہو کہ عدالت نے مقدمے کا فیصلہ غلط کیا ہے تو دفعہ 12(2) استعمال نہیں کی جا سکتی۔
دفعہ 12(2) اس وقت متعلقہ ہوتی ہے جب حکم کی بنیاد میں دھوکہ، غلط بیانی، اہم حقائق چھپانا یا بنیادی دائرۂ اختیار کی خرابی ہو۔
5۔ قبضہ مل جانے سے غلط حکم درست نہیں ہوجاتا
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر کسی حکم پر عمل درآمد ہو بھی چکا ہو اور قبضہ بھی دے دیا گیا ہو، تب بھی اگر بنیادی حکم دھوکے یا سنگین غلط بیانی کی بنیاد پر حاصل ہوا ہو تو صرف عمل درآمد اسے قانونی طور پر محفوظ نہیں بنا دیتا۔
عمل درآمد دھوکے سے حاصل کیے گئے حکم کی خامی ختم نہیں کرتا۔
6۔ کرایہ ٹریبونل پیچیدہ ملکیتی تنازعے کا حتمی فیصلہ نہیں کرتا
جب جواب دہندہ نمبر 3 نے اپنی الگ ملکیت اور قبضے کا دعویٰ کیا تو معاملہ صرف مالک اور کرایہ دار کے درمیان نہیں رہا۔
اب اصل سوالات زمین کی شناخت، ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے سے متعلق ہوگئے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ایسے پیچیدہ ملکیتی تنازعے کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی، نہ کہ کرایہ ٹریبونل۔
7۔ دفعہ 12(2) منظور ہونے کے بعد عام طور پر مقدمہ واپس بھیجا جاتا ہے
عدالت نے Sheikh Muhammad Sadiq v. Elahi Bakhsh, 2006 SCMR 12 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عام اصول یہ ہے کہ دفعہ 12(2) منظور ہونے کے بعد مقدمہ دوبارہ متعلقہ عدالت کو میرٹ پر فیصلے کے لیے واپس بھیجا جائے۔
8۔ لیکن غیر معمولی حالات میں دوبارہ مقدمہ چلانا ضروری نہیں
Haji Farman Ullah v. Latif-ur-Rehman, 2015 SCMR 1708 کے مطابق بہت ہی نادر اور خاص حالات میں عدالت دوبارہ مقدمہ چلانے کے بجائے کوئی دوسرا مناسب راستہ اختیار کر سکتی ہے۔
اس مقدمے میں ہائی کورٹ نے یہی استثنائی اصول استعمال کیا، کیونکہ اصل تنازعہ اب کرایہ داری سے زیادہ ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے کا بن چکا تھا۔
9۔ مقامی کمیشن کی رپورٹ پر انحصار درست قرار دیا گیا
درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ باقاعدہ نکات مقرر کیے بغیر اور روایتی زبانی شہادت ریکارڈ کیے بغیر فیصلہ کیا گیا۔
ہائی کورٹ نے یہ اعتراض مسترد کردیا، کیونکہ دفعہ 12(3) ضابطۂ دیوانی عدالت کو حالات کے مطابق منصفانہ اور تیز طریقۂ کار اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
اس مقدمے میں کمیشن فریقین کی رضامندی سے مقرر ہوا، جی پی ایس سے پیمائش ہوئی، نقشہ بنایا گیا اور درخواست گزاروں کو رپورٹ پر اعتراض کا پورا موقع بھی ملا۔
عدالت نے آخر میں کیا حکم دیا؟
ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی آئینی درخواست خارج کردی اور:
02 اکتوبر 2025 کا کرایہ کنٹرولر کا حکم برقرار رکھا۔
18 مئی 2026 کا نظرثانی عدالت کا حکم بھی برقرار رکھا۔
تاہم عدالت نے بہت اہم وضاحت کی کہ اس فیصلے سے کسی فریق کو جائیداد کا حتمی مالک قرار نہیں دیا گیا۔ ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی۔
عدالت نے کن اہم فیصلوں کی رہنمائی لی؟
Chief Settlement Commissioner v. Raja Muhammad Fazil Khan — PLD 1975 SC 331
Mst. Fehmida Begum v. Muhammad Khalid — 1992 SCMR 1908
Allah Ditta v. Bashir Ahmed — PLD 1995 Lahore 76
Sheikh Muhammad Sadiq v. Elahi Bakhsh — 2006 SCMR 12
Haji Farman Ullah v. Latif-ur-Rehman — 2015 SCMR 1708
Ghulam Ali v. Rana Babar Khan — PLD 2023 Lahore 507
آخری اور آسان نچوڑ
اگر کوئی شخص عدالت سے دھوکے، غلط بیانی یا اہم حقائق چھپا کر بے دخلی کا حکم حاصل کرلے تو صرف یہ وجہ کہ اس حکم پر عمل ہوچکا ہے اور قبضہ بھی مل چکا ہے، اسے قانونی تحفظ نہیں دیتی۔ کرایہ کنٹرولر ایسا حکم واپس لے سکتا ہے۔ تاہم اگر اصل جھگڑا ملکیت اور قبضے کا پیچیدہ تنازعہ بن جائے تو اس کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی۔
Iska poster bna dy