MeraVkeel

MeraVkeel About
Meravkeel was founded on the belief that legal services should be accessible to everyone.

19/12/2025

2025 PCrLJ 627
It is trite that while dealing with bail petition Court can consider as to what offence is made out from facts and circumstance of the case.





15/12/2025

2022 SCMR 1882

Concept of 'rigor mortis' and factors affecting the same explained. The phrase rigor mortis is latin with rigor meaning stiffness and mortis meaning death. Rigor mortis is a temporary condition. Depending on body temperature and other conditions, rigor mortis lasts proximately for 72 hours. The phenomenon is caused by the skeletal muscles partially contracting. The muscles are unable to relax, so the joints become fixed in place. Factors that affect rigor mortis include

(i) temperature/weather
(ii) physical exertion,
(iii) age,
(iv) body fat,
(v) any illness the person had at the time of death,
(vi) sun exposure,
(vii) gender,
(viii) body structure,
(ix) genetics,
(x) tribe and
(xi) inhabitation.








14/12/2025

Difference between "Related" and "Interested" witness:
Term related is not equivalent to intetested. Witness may be called interested (meraVkeel)only when he or she derives some benefit in seeing an accused person punished. Witness who is a natural (meraVkeel)one and is the only possible eye-witness in the circumstances of a case cannot be said to be interested.

2023 SCMR 831
District Bar Faisalabad








23/09/2025
20/04/2024

Adversarial and Inquisitorial:

There were two great procedural traditions in the western law, described as adversarial and inquisitorial. Anglo-American common law tradition was adversarial and continental civil law tradition was inquisitorial.

The nature of adversary litigation is such that it is the parties who are responsible for the preparation and presentation of their cases during the interlocutory stages and at trial. This necessarily means that the pace at which proceedings she pursued is largely dictated by the parties and the traditional role of the court is to adjudicate when called upon to do so.

In the inquisitorial system, on the other hand, it is the duty of the judge to find the truth. Right from its inception, the judiciary takes over the case.




اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا۔ہائیکورٹ کے...
26/03/2024

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا۔

ہائیکورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔

خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے، جبکہ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

خط میں عدالتی امور میں مداخلت پر کنونشن طلب کرنے کا موقف اختیار کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کنونشن سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی، جبکہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی بارے میں مزید معاونت ملے گی۔

خط لکھنے والے ججوں نے اپنے اوپر دباؤ کی کوششوں پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو 2023 اور 2024 میں لکھے خطوط بھی شامل کیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ‏آئی ایس آئی کی جانب سے ججز پر مسلسل دباؤ کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھایا، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی کے سامنے اٹھا چکے ہیں اور انہوں نے آئندہ ایسا نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم آئی ایس آئی کی جانب سے مداخلت جاری رہی۔





20/03/2024

Principles of Criminal Law:

Nexus between crime and criminal has to be established beyond reasonable doubt.




19/03/2024

Principles of Criminal Law:

No doubt an accused is a favourite child of law, but keeping in view the shape of scale and justice, the complainant is also not to be denied justice by the court.




18/03/2024

Principles of Criminal Law:

Any number of accused may escape unpunished for lack of sufficient evidence, but no innocent person should be punished.




16/03/2024

PLD 2024 SC 67:

مندرجہ بالا ججمنٹ میں آنرایبل سپریم کورٹ کے سامنے درج ذیل سوال زیر بحث تھے:

1- آیا والد کے کسی جائز وجہ سے خرچہ نا ادا کرنے کی صورت میں خرچہ ادا کرنے کی ذمہ داری دادا کے ذمہ ہوتی ہے؟ اگر ہاں تو اس ذمہ داری کے منتقل ہونے کی کونسی شرائط ہیں؟

2- آیا executing court دادا کی اس ذمہ داری کی بابت کوئی فیصلہ صادر کرتے ہوئے دادا کے خلاف ڈگری کی عملدرآمد کروا سکتی ہے یا نہیں؟

آنرایبل سپریم کورٹ نے ان سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا؛
اسلامی قانون کی روشنی میں جب باپ فوت ہو جائے یا باپ کی مالی حالت اس قابل نا ہو کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کا خرچہ ادا کر سکے, تب خرچہ ادا کرنے کی ذمہ داری دادا کی طرف منتقل ہو جاتی ہے. لیکن دادا کی طرف اس ذمہ داری کے منتقل ہونے کے لیے چند شرائط کا مکمل ہونا ضروری ہے جو درج ذیل ہیں:

1- پہلی شرط یہ ہے کہ عدالت ہر طرح سے اس فیکٹ کو چیک کر لے کہ بچے کا والد واقع ہی مالی لحاظ سے اس قابل نہیں کہ وہ بچے کا خرچہ ادا نا کر سکتا ہے؟ اگر وہ کسی لحاظ سے بھی خرچہ ادا کرنے کے قابل ہو تو تب یہ ذمہ داری دادا کی طرف منتقل نہیں ہو گی.

2- دوسری شرط یہ ہے کہ عدالت اس بات کا تیقن حاصل کر لے کہ دادا مالی طور پر اس قابل ہے کہ وہ بآسانی بچے کا خرچہ ادا کر سکتا ہے. اگر دادا مالی طور پر تنگدست ہو تو اس صورت میں بھی ذمہ داری دادا کی طرف منتقل نہیں ہو گی.

دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ؛
اس صورت حال میں کہ جب باپ مالی طور پر اس قابل نا ہو کہ وہ بچے کا خرچہ ادا کر سکے تب دادا کی طرف اس ذمہ داری کو منتقل کرنے کے لیے مکمل پروسیجر کے تحت چلنا پڑے گا. چونکہ پوتے کو خرچہ ادا کرنے یہ ایک سول نیچر کا مسئلہ ہے اس لیے اس کا فیصلہ کرنے کے لیے مکمل پروسیجر آڈپٹ کرتے ہوئے انڈیپینڈنٹ کیس کرنا پڑے گا.
یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ دادا کو فیئر ٹرائل اور اپنے موقف کے دفاع کا حق دیا جائے.
مندرجہ بالا جو دو شرائط(باپ کا غریب ہونا/ دادا کا مالی طور پر مستحکم ہونا) ذکر کی گئی وہ لیگل نوعیت کی نہیں بلکہ فیکچوئل نوعیت کی ہیں. لہذا ان شرائط کو ثابت کرنے یا ان سے انکار کرنے کے لیے الگ سے ایک کیس فائل کرنا پڑے گا تا کہ ان کے ثبوت اور عدم ثبوت میں دونوں طرف سے evidence پیش کیا جا سکے اور دونوں پارٹیوں کے ثبوتوں کی روشنی میں کسی فیصلے تک پہنچا جا سکے.
یہی وجہ ہے executing court کا ڈگری پر عملدرآمد کروانے کی پروسیڈینگ کے دوران اس فیکچوئل نوعیت کی سیچوایشن پر اویڈینس لے کر فیصلہ کر دینا خلاف قانون ہے بلکہ اس مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے الگ سے کیس فائل کرتے ہوئے دوطرفہ ثبوتوں کی روشنی میں کسی نتیجے تک پہنچا جانا چاہیے تھا.

ایڈووکیٹ عبدالسلام کٹاریہ
ممبر فیصل آباد بارایسوسی ایشن

15/03/2024

2023 PCrLJ Note 92:

مندرجہ بالا ججمنٹ میں عدالت عالیہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پراسیکیوشن نے درج ذیل سوال رکھا:

پراسیکیوشن نے اپنے ورشن میں دعوی کیا کہ سی آر پی سی کے سیکشن 265C کے مطابق ٹرائل کی ابتداء سے پہلے جن جن کاغذات کی کاپیاں ملزم کو دینا ضروری ہیں وہ درج ذیل کاغذات ہیں؛
1-FIR,
2-police report,
3-statements of all witnesses U/S 161, 164 ,
4-and inspection notes recorded by I.O.

ان کاغذات کے علاوہ کسی دوسرے ڈاکومنٹ کی کاپی ملزم کو دینا ضروری نہیں. خصوصا DVD/CD کی کاپی ملزم کو مہیا کرنا ضروری نہیں.

ہائی کورٹ کے سامنے, پراسیکیوشن کی مندرجہ بالا سٹیٹمنٹ کی روشنی میں, یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا سیکشن 265 سی کے تحت محض مخصوص قسم کے کاغذات ہی کی کاپیاں ملزم کو دینا مقصود ہوتا ہے یا ہر اس ڈاکومنٹ یا ثبوت کی کاپی ملزم کو دینا چاہیے کہ جس کی اہمیت کیس میں واضح ہو, چاہیے وہ DVD/CD ہی کیوں نا ہو, اور ملزم کو اس ڈاکومنٹ یا ثبوت کا دیا جانا اس کے حق دفاع کے تحت ضروری ہو؟

ہائی کورٹ نے پراسیکیوشن کی اس مندرجہ بالا سٹیٹمنٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ 265C میں بیان کیے گئے ڈاکومنٹ minimum Standard ہیں, کہ جن کی کاپیاں کسی بھی ملزم کو دینا ضروری ہوتیں ہی ہیں لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ صرف انہی ڈاکومنٹس کی کاپیاں ملزم کو دینا ضروری ہیں. بلکہ ہر اس ڈاکومنٹ یا ثبوت کی کاپی ملزم کو مہیا کرنا ضروری ہے کہ جس کی اہمیت کیس میں واضح ہو اور جس کا علم ملزم کو ہونا اس کے حق دفاع کے بنیادی حق کے لیے ضروری ہو.

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ آرٹیکل 164 قانون شہادت میں ایڈ ہونے کے بعد یہ اجازت دے دی گئی کہ کسی بھی ماڈرن ڈیوائس سے یا کے ذریعے لیا گیا ثبوت عدالتوں میں قابل قبول ہو گا. لہذا ہر وہ ثبوت کہ جو عدالتوں میں قابل قبول ہو اور جس کو ملزم کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہو اس کی کاپی ملزم کو دیا جانا natural justice کے اصولوں کے عین مطابق ہے.
انہی اصولوں کا تقاضا ہے کہ ملزم ٹرائل شروع ہونے سے پہلے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات اور ان الزامات کے حق میں پیش کیے گئے ثبوتوں سے واقف ہو تا کہ اسے اپنے دفاع کے حق کا مکمل اور مصنفانہ موقع مل سکے.

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ مقدمے کی کسی بھی اسٹیج پر پراسیکیوشن کی طرف سے داخل کیے گئے ڈاکومنٹس اور ثبوتوں کی کاپیاں ملزم کو مہیا کرنے کا حکم صادر کر سکتی ہے.

اس کے علاوہ عدالت نے اس نقطہ پر بھی روشنی ڈالی کہ بعض اوقات پولیس کسی گواہ کا بیان زیر دفعہ 161 ریکارڈ کرنے کی بجائے پولیس ڈائری(سیکشن 172) میں لکھ لیتی ہے. اس صورت حال میں متعلقہ بیان کی کاپی ملزم کو مہیا کرنا ضروری ہے چاہے وہ بیان پولیس ڈائری میں ہی کیوں نا درج کیا گیا ہو.

ایڈووکیٹ عبدالسلام کٹاریہ
ممبر فیصل آباد بارایسوسی ایشن

Address

District Bar Association Faisalabad
Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MeraVkeel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to MeraVkeel:

Share