19/01/2026
لومڑی، گدھا اور شیر — عقل کا امتحان
ایک بار کا ذکر ہے، شیر کو سخت بھوک لگی۔ اُس نے لومڑی سے کہا: “میرے لیے کچھ کھانے کا انتظام کرو، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا!”
لومڑی فوراً ایک گدھے کے پاس پہنچی اور بڑے اعتماد سے بولی: “شیر تمہیں بادشاہ بنانا چاہتا ہے، میرے ساتھ چلو!”
گدھا خوش ہو گیا اور اس کے ساتھ چل پڑا۔
جیسے ہی شیر نے گدھے کو دیکھا، اس پر جھپٹا اور اس کے کان کاٹ دیے۔
گدھا کسی طرح جان بچا کر بھاگ نکلا۔
اس نے لومڑی سے غصے میں کہا: “تم نے مجھے دھوکہ دیا! شیر نے تو مجھے مارنے کی کوشش کی!”
لومڑی مسکرا کر بولی: “ارے نہیں! اس نے تمہارے کان اس لیے کاٹے تھے تاکہ تمہارے سر پر تاج رکھا جا سکے۔ چلو، واپس چلتے ہیں!”
گدھا باتوں میں آ گیا اور دوبارہ چل پڑا۔
اس بار شیر نے اس کی دُم کاٹ دی۔
گدھا پھر بچ گیا اور چیخ کر بولا: “اب کی بار اس نے میری دُم کاٹ دی! تم جھوٹ بول رہی ہو!”
لومڑی نے بڑی سنجیدگی سے کہا: “یہ بھی بادشاہی کی نشانی ہے۔ اس نے دُم اس لیے کاٹی تاکہ تم تخت پر آرام سے بیٹھ سکو!”
گدھا ایک بار پھر مان گیا۔
تیسری بار جب وہ واپس آیا، تو شیر نے اسے مار ڈالا۔
شیر نے لومڑی سے کہا: “خوب! اب اس کی کھال اتارو اور اس کا دماغ، پھیپھڑے، جگر اور دل میرے پاس لاؤ!”
لومڑی نے گدھے کی کھال اتاری،
دماغ خود کھا لیا اور باقی سب چیزیں شیر کے سامنے رکھ دیں۔
شیر نے غصے سے پوچھا: “دماغ کہاں ہے؟!”
لومڑی نے بڑے سکون سے جواب دیا: “میرے بادشاہ! اس کے پاس دماغ تھا ہی نہیں۔
اگر دماغ ہوتا تو کیا وہ کان اور دُم کٹنے کے بعد دوبارہ واپس آتا؟”
شیر مسکرا دیا اور بولا: “بالکل درست کہا!”
✨ سبق:
گدھے کی طرح نہ بنو 😎
دنیا میں بہت سی لومڑیاں ہیں جو باتوں، نعروں اور وعدوں سے بار بار گدھوں کو بہکا لیتی ہیں۔