18/06/2025
وکیل اور اس کے اختیارات
وکیل کا اختیار Authority of Council
ایک وکیل کو خصوصی طور پر یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے سائل کے لئے جو بہتر سمجھے کرے۔
*(1990 ALD 623 – 1989 Clc 1316)*
وکیل کی طرف سے انجام دیئے گئے افعال سائل پر قابل پابندی ہوتے ہیں جب تک اسکے اختیار پر پابندی نہ لگادی گئی ہو۔
*(1990 Clc 1473 – AIR 1975 Sc 2202)*
فریقین اپنے وکلاء کی طرف سے نیک نیتی پر کئے گئے کاموں کے پابند ہیں جو انہوں نے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر سر انجام دیئے ہوں۔
*(AIR 1929 Pc 333)*
ایک وکیل ذیل رول5 کے تابع اپنا اختیار دوسرے وکیل کو منتقل کر سکتا ہے۔
*(1984 Clc 2154 – AIR 1932 Lah 373)*
*(AIR 1922 Cal 515)*
عام قسم کے فرائض مثلاً درخواست یا دعویٰ وغیرہ دائر کرنا وکلاء کء کلرکوں کو بھی تفویض کئے جا سکتے ہیں۔
*(AIR 1941 Pesh 1 – AIR 1939 Rag 1)*
البتہ کلرک اپنے وکیل کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرنے کا مجاز نہیں۔
*(1984 Clc 3332 – AIR 1928 Lah 841)*
وکیل دعویٰ بھی واپس لینے کا مجاز ہے بشرطیکہ معاہدے میں اس کے برعکس کوئی شرط شامل نہ ہو۔ *(PLD993 Lah 76)*
وکیل کو مصالحت کرنے یا تنازعہ کو حل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔
*(1992 SCMR 876 – PLD 1992 Lah 432)*
وکیل ان معاملوں میں مصالحت نہیں کر سکتا جو دعویٰ سے متعلقہ نہ ہو۔
*(1992 SCMR 876)*
وکیل حقائق کے کسی معاملے کے بارے میں اقبالی بیان دے سکتا ہے۔
*(1989 MLD 141)*
وکیل کی طرف سے اقبالی بیان اسکے سائل پر قابل پابندی جب تک کہ حقائق کا غلط ادراک نہ کیا گیا ہو۔
*(1992 SCMR 876 – PLD 1965 Sc 106)*
وکیل کا اقبالی بیان سائل پر اس وقت قابل پابندی نہ ہوگا جب وہ ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیا گیا ہو۔
*(1992 SCMR 876 – 1984 Clc 1771)*
قانون کے سوال پر غلط اقبالی بیان سائل پر قابل پابندی نہیں ہوگا۔
*(1991 MLD 1030 1291 – PLD 1975 Lah 311)*
وکیل دعویٰ میں مصالحت کرنے کا مجاز نہیں ہوگا جب تک اسے اس سے متعلق واضح ہدایات نہ دی گئی ہوں۔
*(PLD 1979 AJK 23 -AIR 1941 Sindh 28 861)*
البتہ ایک با اختیار وکیل دعویٰ میں مصالحت کرنے کا مجاز ہے۔
( *1971 SCMR 634 – PLD 1978 Lah 829)*
وکالت نامہ کی تعبیر سختی سے کی جانی چاہئے۔
*(1991 Clc N67 – 1991 Clc N124)*
وکیل یہ اختیار بھی رکھتا ہے کہ وہ سائل کی طرف سے عرضی دعویٰ یا جواب دعویٰ پر دستخط کرے۔ *(PLD 1980 Kar 477)*
عدالت کو اس امر کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی فریق کی گلو خلاصی وکیل کی طرف سے دیئے گئے اقبالی بیان سے کرادے۔
*(1993 SCMR 657 – PLD 1979 Sc AJK 47)*
وکیل کی طرف سے بحث کے دوران اظہار رائے اس کے سائل پر قابل پابندی نہیں ہے (*ILR 18 Mad 73)*
کسی وکیل کی طرف سے ایک قانونی نکتہ پر دی گئی رائے جو اس نے پہلے دعویٰ میں دی ہو دوسرے مقدمہ میں اس پر قابل پابندی نہیں ہوگی۔
*(PLD 1980 Sc 22 – PLD 1976 Sc 202)*
وکیل کی ابتدائی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مقدمہ کی پیروی مناسب طور پر کرے اور عدالت کی امداد اس طرح سے کرے کہ اسے انصاف کی بناء پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔ *(PLD 1997 Kar 204)*
وکالت نامہ میں استعمال کئے گئے الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ ماسوائے دو قسم کے اختیارات کے یعنی پیروی اور عمل کرنا کے بعد کوئی اختیار وکیل کو نہ دیا گیا تھا۔الفاظ پیروی کرنا اور عمل کرنا کو اس حد تک وسعت نہ دی جا سکتی تھی کہ وکیل کو اپنے موکل کی طرف سے مقدمہ کے بارے میں تمام اختیارات حاصل ہوگئے تھے یہ خصوصی اختیار کہ وکیل حالات کے مطابق جو ضروری سمجھے وہ کرے اس سے مراد یہ نہیں لی جا سکتی جو واضح اختیار ات سے متصادم ہو۔ وکیل کو اپنے موکلوں کی پیروی کرتے ہوئے اختیار سے زیادہ اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔ وکیل کا اختیار وکالت نامہ کی بناء پر ہوتا ہے اور اسکی شرائط پر مبنی ہوتا ہے اسلئے اگر بعض اختیارات کا وکالت نامہ میں ذکر موجود نہ ہو تو انہیں اس حد تک وسعت نہیں دی جا سکتی کہ انہیں مصنوی اختیار کے اصول کو وسعت دی جا سکے۔ وکیل کو وکالت نامہ کی شرائط کے مطابق یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ مقدمہ کو بر حلف فیصلہ کرنے کی پیشکش کرے چنانچہ کاروائی میں شامل تمام فریق حلف کی پیشکش میں شامل باور نہیں کئے جا سکتے۔ فریقین کے لئے معقول وجوہات موجود تھیں کہ وہ حلف کی پیشکش سے دستبردار ہو جائیں۔ عدالت ابتدائی کی طرف سے حلف پر مبنی فیصلہ کو منسوخ کردیا گیا اور فریقین کو اجازت دے دی گئی کہ وہ حلف کی پیشکش کو واپس لیں۔
1997 Clc 243 – PLD 1996 Sc 2377.