Rehman Law Chamber

Rehman Law Chamber Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rehman Law Chamber, Lawyer & Law Firm, District Bar Association Pahar Pur, Dera Ismail Khan.

Rehman Law Chamber is a premier legal practice based in Paharpur, Dera Ismail Khan, dedicated to providing sophisticated legal counsel and robust representation across the judicial landscape of Pakistan.

خاتون کو حراس کرنے پر افسران کی برطرفی۔نادیہ سرور 2008 سے نیشنل بینک آف پاکستان میں ملازمت کر رہی تھیں۔ ان کا مؤقف یہ تھ...
16/03/2026

خاتون کو حراس کرنے پر افسران کی برطرفی۔
نادیہ سرور 2008 سے نیشنل بینک آف پاکستان میں ملازمت کر رہی تھیں۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ دورانِ ملازمت انہیں اپنے دو اعلیٰ افسران، عقیل عباس اور عثمان شاہد، کے ہاتھوں نامناسب رویے اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے پیش نظر انہوں نے 24 ستمبر 2012 کو بینک کے صدر کو تحریری شکایت ارسال کی۔ درخواست گزار کے مطابق اس شکایت کے باوجود ادارے کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ اس کے بعد ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جس سے ان کے لیے دفتر کا ماحول مزید مشکل اور خوفزدہ کن ہو گیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اس صورتحال سے متعلق اعلیٰ حکام کو متعدد بار آگاہ کیا۔ 24 جون 2013 کو انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے ڈویژنل ہیڈ کو معاملے سے آگاہ کیا اور 26 جون 2013 کو ایک ای میل کے ذریعے بھی اپنی شکایت کا اعادہ کیا۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود بھی کوئی باقاعدہ انکوائری شروع نہیں کی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے 2 جولائی 2013 کو ایک اور تحریری شکایت دائر کی جس میں انہوں نے ہراسانی کے چند مخصوص واقعات کا ذکر کیا۔

چونکہ ادارے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح کارروائی نہ ہوئی، اس لیے درخواست گزار نے بالآخر 3 ستمبر 2013 کو خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 کے تحت وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین کے سامنے باضابطہ شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کی سماعت کے دوران جواب دہندگان کی جانب سے ابتدائی طور پر یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ درخواست گزار کی شکایت قابل سماعت نہیں کیونکہ ان کی ٹیم کو پہلے ہی ان کی رضامندی سے تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس طرح معاملہ حل ہو چکا تھا۔

محتسب نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کے مطابق ہر ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ ہراسانی کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک باقاعدہ انکوائری کمیٹی قائم کرے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ متعلقہ وقت میں بینک نے قانون کے تقاضوں کے مطابق ایسی کمیٹی قائم نہیں کی تھی۔ اس بنیاد پر محتسب نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو براہِ راست محتسب کے سامنے شکایت دائر کرنے کا حق حاصل تھا۔
تمام شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد محتسب نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ درخواست گزار کے الزامات قابلِ قبول ہیں اور انہوں نے اپنے مؤقف کو قابلِ اعتبار شواہد کے ذریعے ثابت کر دیا ہے۔ چنانچہ 4 فروری 2014 کو جاری کیے گئے فیصلے کے ذریعے جواب دہندگان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ان پر بڑی سزا عائد کی گئی اور انہیں جبری ریٹائرمنٹ کی سزا سنائی گئی۔

اس فیصلے کے خلاف جواب دہندگان نے صدرِ پاکستان کے سامنے نمائندگی دائر کی۔ درخواست گزار نے بھی اس مرحلے پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ جواب دہندگان کے خلاف سزا مزید سخت ہونی چاہیے۔ صدرِ پاکستان نے فریقین کے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد 11 نومبر 2014 کو ایک حکم جاری کیا جس کے ذریعے محتسب کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور اس کی جگہ جواب دہندگان کے خلاف صرف سنسر کی سزا برقرار رکھی گئی۔

صدر کے حکم میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے اپنے مختلف بیانات میں بعض ایسے واقعات کا ذکر کیا جو ابتدائی شکایت میں شامل نہیں تھے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مقدمے میں بعد ازاں نئے الزامات شامل کیے گئے۔

درخواست گزار نے اس حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ (اس) عدالت کے سامنے چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کا حکم شواہد کے غلط جائزے اور قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے۔ ان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بینک نے قانون کے مطابق انکوائری کمیٹی قائم نہیں کی تھی اور اسی وجہ سے درخواست گزار کو محتسب کے سامنے براہِ راست رجوع کرنے کا حق حاصل تھا۔ مزید یہ کہ درخواست گزار کی ابتدائی شکایات محض صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے تھیں اور ان میں تمام تفصیلات شامل نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ بعد میں بیان کیے گئے واقعات جھوٹے تھے۔

دوسری جانب جواب دہندگان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے الزامات میں اضافہ کیا اور اس طرح اپنے مقدمے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی شکایت میں جن واقعات کا ذکر نہیں تھا انہیں بعد میں بیان کرنا مقدمے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد عدالت نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا صدر کے حکم میں بیان کیے گئے اسباب قانونی طور پر درست تھے یا نہیں۔ عدالت نے سب سے پہلے اس امر کا جائزہ لیا کہ آیا بینک کی جانب سے کی گئی اندرونی کارروائی کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔

ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ جس کمیٹی کو بینک کی جانب سے انکوائری کمیٹی قرار دیا گیا وہ دراصل قانون کے مطابق تشکیل نہیں دی گئی تھی کیونکہ قانون کے تحت ایسی کمیٹی میں تین اراکین کا ہونا لازمی ہے جبکہ مذکورہ کمیٹی میں یہ شرط پوری نہیں کی گئی تھی۔ مزید برآں اس کمیٹی کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب درخواست گزار پہلے ہی محتسب کے سامنے شکایت دائر کر چکی تھیں۔ اس بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ اس کمیٹی کی کارروائی کو قانونی حیثیت حاصل نہیں تھی اور اس پر انحصار کرنا درست نہیں تھا۔

عدالت نے اس اعتراض کا بھی جائزہ لیا کہ آیا درخواست گزار نے بعد میں نئے الزامات شامل کیے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی ابتدائی شکایات دراصل ادارے کے اعلیٰ حکام کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے تھیں اور انہیں باقاعدہ قانونی شکایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ قانون میں یہ لازم نہیں کہ شکایت کنندہ اپنی پہلی تحریری شکایت میں تمام واقعات کی مکمل تفصیل بیان کرے۔

عدالت نے اس اصول کی طرف بھی توجہ دلائی کہ فوجداری مقدمات میں بھی ابتدائی اطلاع یعنی ایف آئی آر کو تمام تفصیلات کا مکمل ریکارڈ تصور نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا مقصد صرف قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ محض اس بنیاد پر کہ بعض واقعات ابتدائی شکایت میں شامل نہیں تھے، انہیں بعد میں ناقابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ محتسب کے سامنے پیش کیے گئے شواہد کا مجموعی طور پر جائزہ لینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار کے مؤقف کی تائید کرنے والے متعدد گواہ موجود تھے جبکہ جواب دہندگان کی جانب سے ان الزامات کے رد میں کوئی قابلِ اعتماد وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا حکم شواہد کے درست جائزے کے بغیر دیا گیا اور اس میں بعض اہم قانونی نکات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ حکم قانون کے مطابق برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

چنانچہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کے 11 نومبر 2014 کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور وفاقی محتسب کے 4 فروری 2014 کے فیصلے کو بحال کر دیا،اور دونوں افسروں کو جبری ریٹائرڈ کر دیا۔

یوں اس مقدمے میں عدالت نے یہ اصول واضح کیا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے معاملات میں قانون کی روح کے مطابق شکایات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں اور کسی بھی ادارے کی جانب سے عورت کی حراسانی کی شکائت کو نظر انداز کرنا ، خلافِ قانون ہے۔

یہ کارروائی بنیادی طور پر “تحفظِ خواتین از ہراسانی در مقامِ کار ایکٹ 2010” کے تحت شروع ہوئی۔ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی خاتون یا مرد ملازم کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے اور اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کے ازالے کے لیے ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار فراہم کیا جائے۔ اس قانون کی دفعہ 2(h) میں ہراسانی کی تعریف بیان کی گئی ہے جس کے مطابق کسی بھی شخص کا ایسا رویہ، اشارہ، جملہ یا عمل جو جنسی نوعیت کا ہو یا کسی فرد کے لیے توہین آمیز اور غیر محفوظ ماحول پیدا کرے، ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

قانون کی دفعہ 3 کے تحت ہر ادارے کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ادارے میں ایک باقاعدہ “انکوائری کمیٹی” قائم کرے جو ہراسانی کی شکایات کی تحقیقات کرے۔ اس کمیٹی میں کم از کم تین اراکین ہونا ضروری ہیں جن میں سے ایک خاتون ہونا بھی لازمی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شکایت کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کی جا سکیں۔

قانون کی دفعہ 4 کے مطابق اگر کسی ملازم کو ہراسانی کا سامنا ہو تو وہ سب سے پہلے اپنے ادارے کی انکوائری کمیٹی کو تحریری شکایت پیش کرے۔ کمیٹی اس شکایت کی تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کرتی ہے۔ اس قانون کی دفعہ 4(4) کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد کمیٹی فریقین کے بیانات اور شواہد کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرتی ہے۔

اگر ادارہ اس قانون کے مطابق کمیٹی قائم نہ کرے یا شکایت پر مناسب کارروائی نہ کرے تو دفعہ 8 کے تحت متاثرہ فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ براہِ راست وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین کے سامنے شکایت درج کرائے۔ اسی قانونی اختیار کے تحت درخواست گزار نے وفاقی محتسب کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔

وفاقی محتسب کو اس قانون کے تحت مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ شواہد کا جائزہ لے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرے اور اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو مناسب سزا عائد کرے۔ اس قانون کی دفعہ 4 اور دفعہ 5 کے تحت مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں جن میں سرزنش (Censure)، تنبیہ (Warning)، ترقی روک دینا، تنزلی، جبری ریٹائرمنٹ، یا ملازمت سے برطرفی شامل ہیں۔

(آئینہ عدالت ؛ از قلم ، احسن یار چھینہ، ایڈووکیٹ ھائ کورٹ)

It is a settled principle of law that a declaratory decree can only be granted where the plaintiff establishes an existi...
16/03/2026

It is a settled principle of law that a declaratory decree can only be granted where the plaintiff establishes an existing legal character or a vested legal right that is denied or threatened to be denied. Section 42 of the Act does not permit adjudication of abstract questions or the creation of rights where none exist. A declaratory suit cannot be based on mere expectation or disagreement with policy, but must involve infringement of a subsisting right. In the present case, the respondents’ claims were founded on an anticipation of inclusion in the merit list despite failing to meet the prescribed threshold. A candidate in a competitive recruitment process acquires at most a right to fair, equal, and non-discriminatory consideration, but no vested right to appointment exists unless the eligibility criteria are fulfilled. Where a valid policy prescribes minimum qualifying marks, failure to meet them extinguishes even this limited expectancy. Consequently, any claim for inclusion despite non-fulfilment of the criteria is, in substance, a challenge to policy itself, and unless the policy is shown to be ultra vires, beyond the authority of the competent forum, or violative of constitutional guarantees, no enforceable legal right arises.

C.P.L.A.862-P/2024
Government of Khyber Pakhtunkhwa through Secretary Elementary & Secondary Education Department, Peshawar and another. v. Rozina Abbas and others
Mr. Justice Shakeel Ahmad
18-02-2026

Cutting your nose to spite your face....
16/08/2024

Cutting your nose to spite your face....

04/08/2024

The collapse of the Western debt and money printing system ll result in civil war and gang rule.

Alarming!!!!Entire Europe is dying. Not a single country has the required fertility rate (2.1) to maintain its populatio...
21/06/2024

Alarming!!!!
Entire Europe is dying. Not a single country has the required fertility rate (2.1) to maintain its population.

This is the result of capitalism and social engineering. High cost of living, stagnant wages, urbanization, hedonism, women having to work etc. have made marriages and families difficult or undesirable.

13/05/2024

Welcome to the 21st Century where S*X is FREE and LOVE is EXPENSIVE, where LOSING phone is more PAINFUL than LOSING your VIRGINITY, where MODERNIZATION means NUDITY(NAKED), where if you don't SMOKE or DRINK you are out of FASHION, where if don't CHEAT on partner it's because you are not SMART or CLEVER, where the BATHROOMS have become PHOTO STUDIOS, where TEMPLES become DATING POINTS, where to WORSHIP GOD is DIFFICULT, where LIES become REALITIES where the WOMEN fear PREGNANCY more than STD's , where a PIZZA DELIEVERY is FASTER than EMERGENCY RESPONSE, PERSPECTIVES and DRIP DECIEDE the value of a person ,where the BOYS/GIRLS are AFRAID of MARRIAGE but LOVE having S*X, where whoever PLAYS the MIND always gets happiness but whoever plays with the HEART gets HURT , MODERNITY LOVE and LIQUID EDUCATION

What's your opinion !

11/03/2024

Ramadan Mubarak!

May Allah Almighty accept our prayers during this blessed month.

06/02/2024

میری تحقیق اور رائے کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات معمول پر آنا صرف طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔

سطح کے نیچے ایک بہت بڑا مالیاتی بحران جنم لے رہا ہے جو سیاسی افراتفری کے گرد ابھی سے گھوم رہا ہے۔

اور آخر کار، یک دم سے یہ بحران سامنے آئیگا۔ اس کی بد ترین مثال بنکنگ کرائسسز ہوگا۔ جس کا تذکرہ مغربی ممالک کےمعاشی ایکسپرٹ اور ڈیپ سٹیٹ بلاگرز بار بار کر رہے ہیں۔

میں رحمان پیشہ سے وکیل ہوں مگر معاشیات اور معیشت پر بھی مجھے دسترس حاصل ہے۔ اور انتہاء کا شوق ہے دنیا کی معیشت کو پڑھنے کا۔ میں روز انٹرنیٹ پر مختلف بلاگرز اور جریدوں کو پڑھتا ہوں۔

میرے خیال سے:
کچھ ہی سالوں میں بہت بڑے بڑے بنک دیوالیہ ہو جائینگے۔ مالیاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ ادائیگیاں کرنی مشکل ہوجائےگی۔ سوفٹ سسٹم ختم ہو جائے گا۔ اور مختلف ممالک کے درمیان درآمدات و برآمدات رک جائیں گی۔ سخت قحط پیدا ہوگا۔ بعض ممالک میں کھانے پینے کی اشیاء ناپید ہوجائیں گے۔

کیونکہ ورلڈ اکنامک فورم میں بار بار انسانی ابادی کو کم کرنے پر زور دیا گیا۔ یہی ورلڈ اکنامک فورم ہی شیطانوں کا گھونسلا ہے۔ مالیاتی نظام کا استحصال اس کا ایک حصہ ہے۔

16/12/2023
ایک چشم کشا تحریرکیا آپ جانتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اپنی مرضی سے کرنسی جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں.؟ آپ کی جیب میں پ...
09/12/2023

ایک چشم کشا تحریر

کیا آپ جانتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اپنی مرضی سے کرنسی جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں.؟

آپ کی جیب میں پڑا ہر کرنسی نوٹ ایک قرض ہے جو آپ کی حکومت نے سٹیٹ بنک سے اس وعدے پر لیا ہے کہ وہ اس نوٹ کو سود سمیت واپس کرے گی.

چونکہ کرنسی جاری کرنے کا اختیار ہی صرف سٹیٹ بنک کے پاس ہے اس لیئے کرنسی نوٹ کی واپسی پر سٹیٹ بنک کے حصے کے سود کا پیسا بھی سٹیٹ بنک ہی چھاپتا ہے اور اس پر دوبارہ سود لیا جاتا ہے. وہ سود واپس کرنے کے لیئے دوبارہ نوٹ چھاپے جاتے ہیں اور دوبارہ ان پر سود لیا جاتا ہے. یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا.

اسی وجہ سے ملک کا اندرونی قرضہ کبھی بھی کم یا ختم نہیں ہوا اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہتی ہے.

سٹیٹ بنک آف پاکستان حکومتِ پاکستان کے ماتحت نہیں بلکہ ایک آزاد ادارہ ہے.

ہر کرنسی نوٹ اس بات کی رسید ہوتا ہے کہ سٹیٹ بنک کے پاس اس نوٹ کے متبادل سونا موجود ہے. جبکہ اصل میں کرنسی نوٹ کے مقابلے میں سٹیٹ بنک کے پاس موجود سونے کی شرح بیس فیصد سے بھی کم ہے.

آپ کی جیب میں موجود کرنسی نوٹ پر لکھی تحریر *"حامل ہزا کو مطالبے پر ادا کرے گا"* کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی حکومت آپ کے مطالبے پر اس نوٹ کے برابر سونا ادا کرنے کی پابند ہے.

اگر آج ہی پاکستان کی کل آبادی سٹیٹ بنک کو نوٹ واپس کر کے سونا لینا شروع کر دے تو صرف بیس فیصد نوٹ قابلِ استعمال ہونگے. باقی اسی فیصد نوٹوں کی قیمت تیرہ روپے فی کلو ہے. کیوں کہ باقی نوٹوں کا سونا موجود ہی نہیں اس لیئے ان کی قیمت وہی ہے جو ردی کوڑے کی ہوتی ہے.

دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے لوگ لکڑی کی جگہ کرنسی نوٹ جلاتے تھے. کیوں کہ لکڑی کی قیمت کرنسی سے زیادہ ہو گئی تھی.

مہنگائی بڑھنے کی شرح جسے انفلیشن یا افراط زر کہتے ہیں کا کانسیپٹ صرف سو سال پرانا ہے.

ایک مرغی کی قیمت فرعون کے دور میں دو درہم تھی جو کی انیسویں صدی کہ آخر تک دو درہم ہی رہی. اگر ہم غور کریں تو آج بھی اس کی قیمت دو درہم ہی بنتی ہے. مطلب صفر فیصد انفلیشن.

پچھلے صرف 100 سالوں کے دوران کاغزی کرنسی کی قیمت کئی سو گنا گر چکی ہے.

انفلیشن دراصل ایک ٹیکس ہے جو امیر اور غریب بغیر کسی تفریق کے برابر ادا کرتے ہیں.

آج غربت اور افلاس کی سب سے بڑی وجہ ہی پیپر کرنسی اور اس پر دیا جانے والا سود ہے.

جب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں تو اصل میں ڈالرز ہمارے پاس منتقل نہیں ہوتے. بلکہ امریکہ میں ہی کسی بینک میں موجود ایک اکاؤنٹ میں صرف کمپیوٹر کے زریعے ٹرانزیکشن ہوتی ہے. اس اکاؤنٹ میں بھی ڈالرز منتقل نہیں ہوتے.

آج تک دنیا میں موجود ڈالرز کا صرف تین فیصد چھاپا گیا ہے. باقی ستانوے فیصد ڈالرز صرف کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسکس میں محفوظ ہیں.

آئی ایم ایف کے چارٹر میں یہ بات تحریر ہے کہ کوئی ملک سونے اور چاندی کے سکے جاری نہیں کر سکتا. اگر کرے گا تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک ایسے ملک کو قرضہ نہیں دیں گے.

امریکہ سمیت دنیا میں کئی سربراہ مملکت اس بات پر قتل ہو چکے ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی کرنسی یا سونے اور چاندی کے سکے جاری کرنے کی کوشش کی.

اس ملک کی حکومت وزیرِ خزانہ اور سیکریٹری فائیننس آئی ایم ایف کی اجازت کے بغیر نہیں لگا سکتی.

آئی ایم ایف قرضہ دیتے ہوئے سب سے پہلی شرط پرائیویٹائیزیشن کی رکھتا ہے اور اس کے بعد قرض دیا جاتا ہے. کبھی غور کیجئیے گا کہ ایسا کیوں ہے.

سعودی عرب اور ایران سمیت تمام پٹرول برآمد کرنے والے ملک اس بات کے پابند ہیں کہ پٹرول صرف ڈالرز کے بدلے بیچا جائے گا نہ کہ بیچنے یا خریدنے والے ملک کی کرنسی میں.

انسانی تاریخ میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکا. یہ انسان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے.

حضرت عیسی (علیہ السلام) جن کی نرم دلی کی مثالیں دی جاتی ہیں انہوں نے بھی سود لینے والوں کی میزیں الٹ دیں تھیں اور ان کو ڈنڈے سے سبق سکھایا.
سود ایسی واحد لعنت ہے جس کے متعلق اللہ نے خود اعلانِ جنگ کیا ہے. آپ بتائیں کہ جنگ اگر اللہ سے ہے تو جیت کس کی ہوگی؟
ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ہمیں دجال کے فتنوں سے ڈرایا تھا. دجال کا سب سے بڑا فتنہ اس وقت آپ کی جیب میں موجود ہے.

ایک بستی تھی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے۔۔۔اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کرلیا ت...
07/12/2023

ایک بستی تھی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے۔۔۔
اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کرلیا تمام تر شرعی احکام بجا لائے گئے سوائے اعلانِ نکاح کے۔۔
قاضی بھی موجود تھا ،گواہ بھی تھے اور ایجاب و قبول بھی ہوا۔۔۔

کچھ عرصے کے بعد میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی اور ان دونوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا لیکن شوہر نے عورت کو تمام تر شرعی حقوق سے محروم رکھا جس پر عورت نے معاملہ قاضی کی عدالت میں پہونچا کر اپنے حقوق حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو شوہر نے عورت کو سرے سے جاننے سے ہی انکار کردیا۔۔
جس پر عورت نے کہا کہ میرے نکاح کے گواہ موجود ہیں انہیں طلب کیا جائے۔۔۔
گواہوں کو طلب کیا گیا تو گواہوں نے بھی عورت کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا۔۔۔

قاضی نے عورت سے کہا تمہارے گھر میں کتے ہیں۔۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا تو قاضی نے کہا۔۔!

ھَلْ تَقْبِلِیْنَ بِشَہَادَةِ کِلَابِہِمْ وَحُکْمِہِمْ۔۔؟؟
کہ کیا آپ ان کی گواہی اور فیصلے کو قبول کریں گی۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
تو قاضی نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عورت کو اس کے گھر لے جاؤ ،عورت کو دیکھ کر اگر کتے بھونکنے لگے تو عورت جھوٹی ہے کیوں کہ کتا نامانوس فرد کو دیکھ ہی بھونکتا ہے اگر عورت سچی ہے تو کتے نہیں بھونکیں گے کیوں کہ وہ اس سے مانوس ہوں گے۔۔۔

یہ فیصلہ سننا تھا کہ شوہر اور گواہوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بغلیں جھانکنے لگے۔۔۔
کیوں کہ ان کی جھوٹی گواہی کی قلعی کھل چکی تھی اور انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرلیا۔۔۔

اس وقت قاضی نے ایک تاریخی جملہ کہا اگر کسی میں رتی بھر شرم و حیا اور غیرت ہو تو یہ جملہ اس کی زندگی سنوارنے کےلئے کافی ہے اور جن میں رتی بھر بھی نہ ہوں تو پھر وہ جو چاہے کرتا رہے۔۔۔
قاضی نے کہا۔۔۔۔۔
بئس القریٰ اللتی کلابھا اصدق من اہلہا۔۔۔
بدترین ہے وہ بستی جس کے کتے وہاں کے باسیوں سے زیادہ سچے ہوں۔۔۔
(ہائے۔۔۔میرے پاکستانی مسلمانو۔۔!!)

تھوڑا نہیں پورا سوچئیے اپنے گریبانوں میں جھانک کر۔۔۔

(عربی کتاب سے ماخوذ)

Address

District Bar Association Pahar Pur
Dera Ismail Khan
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rehman Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share