Tahir Khan Daudzai Advocate

Tahir Khan Daudzai Advocate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tahir Khan Daudzai Advocate, Corporate lawyer, District Courts, Dera Ghazi Khan.

Advocate High Court,
Legal Advisor MCB,
Legal Advisor Pakistan Railway,
Legal Advisor PTCL,
Legal Advisor Ufone,
Legal Advisor HBFCL Bank,
Legal Advisor MCB Bank,
Chairman Free Legal Aid Commetie PBC,
Executive Member High Court Bar Association Multan,

⚖️ 2026 P. Cr. LJ 259 ​منشیات مقدمہ میں شک کا فایدہ دیتے ہوئے ملزمہ کی سزا کالعدم کرکے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ منشی...
28/04/2026

⚖️ 2026 P. Cr. LJ 259
​منشیات مقدمہ میں شک کا فایدہ دیتے ہوئے ملزمہ کی سزا کالعدم کرکے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ
منشیات کے مقدمات میں استغاثہ کے لیے ثبوت کے معیار اور "چین آف کسٹڈی" (Chain of Custody) کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ محض زبانی گواہی یا لیبارٹری کی مثبت رپورٹ ملزم کو سزا دینے کے لیے کافی نہیں، جب تک کہ دستاویزی ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ مالِ مقدمہ ہر مرحلے پر محفوظ رہا۔


​🏛️ کیس کا پس منظر
​الزام: ملزمہ نسیم کوثر سے 2200 گرام ہیروئن (دو پیکٹ) برآمد ہوئی۔
​ٹرائل کورٹ کا فیصلہ: ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور نے ملزمہ کو 14 سال قیدِ مشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
​اپیل: ملزمہ نے سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔

​📚 اہم قانونی نکات اور عدالتی مشاہدات
​1. دستاویزی ثبوت کی اہمیت (Importance of Documentary Evidence):
​عدالت نے قرار دیا کہ پولیس افسران کی یہ زبانی شہادت کہ "مالِ مقدمہ محفوظ تھا" کافی نہیں ہے۔ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ درج ذیل دستاویزی ثبوت پیش کرے:

​رجسٹر نمبر 19 (Malkhana Register): مالِ مقدمہ کے تھانے میں جمع ہونے اور وہاں سے نکلنے کا مکمل ریکارڈ۔

​روڈ سرٹیفکیٹ (Road Certificate/Register No. 21): وہ دستاویز جو ثابت کرے کہ نمونہ کس کے ذریعے اور کس تاریخ کو فارنسک لیبارٹری بھیجا گیا۔

​روزنامچہ (Register No. 2): پولیس کی آمد و رفت کا ریکارڈ۔

​2. "چین آف کسٹڈی" میں ٹوٹ پھوٹ (Break in Chain of Custody):
​عدالت کے مطابق، اگر استغاثہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ برآمد شدہ منشیات لیبارٹری تک محفوظ طریقے سے پہنچیں اور اس دوران کسی تبدیلی (Tampering) کا امکان نہیں تھا، تو فارنسک رپورٹ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔ اس کیس میں پولیس رجسٹر نمبر 19 اور روڈ سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی۔

Posted by Legal Luminaries

​3. قانونی نظائر کا اطلاق (Prospective vs Retrospective):

​عدالت نے Ahmed Ali case (2023 SCMR 781) اور Jeehand case (2025 SCMR 923) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے یہ فیصلے کہ "رجسٹر 19 اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہے"، تمام زیرِ التواء (Pending) مقدمات پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہ محض "طریقہ کار کی غلطی" نہیں بلکہ ایک ایسی بنیادی خامی ہے جو پورے مقدمے کو مشکوک بنا دیتی ہے۔

​4. جرم کا مفروضہ (Presumption of Guilt - Section 29 CNSA):
​قانونِ منشیات (CNSA) کے تحت ملزم کے خلاف جرم کا مفروضہ تب ہی قائم ہوتا ہے جب استغاثہ بنیادی حقائق (Foundational Facts) ثابت کر دے۔ جب مالِ مقدمہ کی محفوظ منتقلی ہی ثابت نہ ہو، تو ملزم کی بے گناہی کا مفروضہ برقرار رہتا ہے اور ثبوت کا بوجھ استغاثہ سے ملزم پر منتقل نہیں ہوتا۔

​⚖️ عدالت کا حتمی فیصلہ (Final Verdict)
​عدالت نے قرار دیا کہ:
​استغاثہ مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل اور منتقلی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

​دستاویزی ریکارڈ (Registers) کی عدم موجودگی میں ملزمہ کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) دیا جانا چاہیے۔

​نتیجہ: لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمہ کی اپیل منظور کر لی اور اسے بری کرنے کا حکم دیا۔

​📖 کلیدی نکتہ (Key Takeaway)
​"منشیات کے مقدمات میں سزا جتنی سخت ہے، ثبوت کا معیار بھی اتنا ہی سخت ہونا چاہیے۔ زبانی دعوے دستاویزی ریکارڈ (پولیس رولز کے تحت رجسٹرز) کی جگہ نہیں لے سکتے۔"
2026 P. Cr. LJ 259
Before Tariq Saleem Sheikh and Raja Ghazanfar Ali Khan, JJ

NASEEM KOUSAR---Appellant
versus

The STATE and another---Respondents
Criminal Appeal No. 351 of 2024, decided on 27th May, 2025.
(a) Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997)---
S. 9(c)-Possession of narcotic substances---Appreciation of evidence---Benefit of doubt---Safe custody of case property---Safe transmission of samples to laboratory not proved---Prosecution case was that 2200 grams he**in in two packets was recovered from the possession of accused-appellant---Complainant and a recovery witness deposed that on 14.05.2023 he apprehended the appellant and recovered 2200 grams of he**in; that 55 grams were separated from each packet of he**in and prepared two sealed sample parcels for chemical analysis; then complainant sealed the remaining he**in in two separate sealed parcels at the spot in the presence of witnesses and secured all four parcels vide recovery memo---When the Investigating Officer reached the spot, he handed over the case property and custody of the appellant to him---Investigating Officer testified that on his return to the police station, he entrusted the case property to Moharrar for safekceping in the police station's Malkhana---Moharrar confirmed that he kept it there and, on 16.05.2023, handed over sealed sample parcels to complainant for transmission to the Forensic Science Agency, who delivered them on the same day---Moharrar further testified that on 19.05.2023, he handed over the sealed parcels of the remaining case property to complainant for their deposit in the Malkhana, who delivered them there on the same day---Prosecution also produced the recovered narcotic in Court during the trial and exhibited them in evidence through a competent witness---However, said oral assertions and the production of case property were insufficient to establish safe custody or secure transmission unless supported by documentary evidence---Prosecution failed to produce Register Nos. II or XIX, or the Road Ce

آپ کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات میں سے ایک اہم سوال کا جواب ہماری عمومی سوالات (FAQ) پوسٹ میں حاضر ہے۔ برائے مہربان...
28/04/2026

آپ کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات میں سے ایک اہم سوال کا جواب ہماری عمومی سوالات (FAQ) پوسٹ میں حاضر ہے۔ برائے مہربانی پوسٹ کو ملاحظہ فرمائیں۔ مزید رہنمائی کے لیئے رابطہ کریں:

ای میل: [email protected]
ویب سائٹ: grmis.pulse.gop.pk/citizen

PULSESurvey

وراثت کا دعویٰ 34 سال بعد؟ — لاہور ہائیکورٹ کی اہم وضاحتلاہور ہائیکورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے *2025 PLD 581* میں یہ واضح کر...
28/04/2026

وراثت کا دعویٰ 34 سال بعد؟ — لاہور ہائیکورٹ کی اہم وضاحت
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے *2025 PLD 581* میں یہ واضح کر دیا ہے کہ وراثت کے نام پر دہائیوں پرانی رجسٹرڈ دستاویزات کو جب چاہیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر مورث (والدین/بزرگ) اپنی زندگی میں کسی ٹرانزیکشن (جیسے گفٹ یا فروخت) کو چیلنج نہیں کرتے، تو بعد میں آنے والے وارث محض وراثت کا سہارا لے کر اس تاخیر کو جواز فراہم نہیں کر سکتے—خاص طور پر جب تیسرے فریق کے حقوق پیدا ہو چکے ہوں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ قانونی اصولوں جیسے **acquiescence، waiver اور estoppel** کی reaffirmation ہے۔ یہ اصول پہلے بھی PLD 2014 SC 167 میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے جا چکے ہیں، جہاں عدالت نے واضح کیا تھا کہ ہر کیس اپنے مخصوص حقائق اور حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔

عدالت نے اس کیس میں 34 سال کی تاخیر کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے دعویٰ ناقابلِ سماعت قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ قانون ایسے افراد کی مدد نہیں کرتا جو اپنے حقوق کے حوالے سے طویل عرصے تک خاموش رہیں۔ مزید برآں، جہاں جائیداد آگے فروخت ہو کر تیسرے فریق کے حقوق مستحکم ہو جائیں، وہاں پرانے دعوؤں کو کھولنا قانونی استحکام کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

تاہم، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کچھ استثنائی حالات (مثلاً ثابت شدہ دھوکہ دہی، جائیداد پر مسلسل قبضہ، یا آمدن کا تسلسل) میں قانونِ میعاد مختلف انداز میں لاگو ہو سکتا ہے—لہٰذا ہر کیس کو اس کے اپنے میرٹس پر دیکھنا ضروری ہے۔



















خوش آمدید محمد عطا ربانی صاحب  سیشن جج ڈی جی خان♥️♥️
27/04/2026

خوش آمدید محمد عطا ربانی صاحب سیشن جج ڈی جی خان♥️♥️

2025 CLC 1158ہبہ کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائطہائی کورٹعدالتِ عالیہ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ آیا جس میں ایک بھائی ن...
27/04/2026

2025 CLC 1158
ہبہ کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائط
ہائی کورٹ

عدالتِ عالیہ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ آیا جس میں ایک بھائی نے اپنے والد کی جائیداد سے بہن کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنے کے لیے ہبہ (Gift) کا جعلی دعویٰ کیا۔ ابتدائی عدالت اور اپیلٹ کورٹ نے بھائی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا، تاہم ہائی کورٹ نے دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بہن کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔

عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ جو فریق کسی معاملے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو، اسی پر اس معاملے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چونکہ بھائی ہبہ کا بینیفشری تھا، اس لیے اس پر لازم تھا کہ وہ ہبہ کو قانونی اور قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی ہبہ کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے درج ذیل آٹھ بنیادی شرائط کا پورا ہونا ناگزیر ہے:

1. ایجاب (Offer): ہبہ کرنے والے کی جانب سے واضح اور غیر مبہم اعلان۔

2. قبول (Acceptance): ہبہ لینے والے کی جانب سے صریح قبولیت۔

3. قبضہ (Delivery of Possession): جائیداد کا حقیقی قبضہ ہبہ لینے والے کے سپرد ہونا۔

4. ہبہ کنندہ کی نیت (Donor’s Intention): ہبہ خلوصِ نیت پر مبنی ہو، فراڈ یا فریب پر نہیں۔

5. آزادیٔ ارادہ (Free Consent): ہبہ کسی دباؤ، جبر یا دھوکے کے بغیر کیا گیا ہو۔

6. گواہان کی موجودگی (Witnesses): ایجاب و قبول معتبر گواہوں کے روبرو ہوا ہو۔

7. محکمہ مال میں درست اندراج (Mutation in Revenue Record): لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق انتقال کا اندراج کیا گیا ہو۔

8. شہادت میں مطابقت (Consistency in Evidence): گواہان کے بیانات اور سرکاری ریکارڈ میں کوئی تضاد موجود نہ ہو۔

عدالت کے مشاہدات کے مطابق بھائی کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات آپس میں متضاد تھے۔ روزنامچہ واقعاتی (Roznamcha Waqiati) اور ایجاب و قبول کے وقت کے بارے میں بھی واضح تضاد پایا گیا۔ مزید یہ کہ بیٹے کی بطور گواہ شہادت ناقابلِ قبول قرار دی گئی کیونکہ وہ ایجاب و قبول کے وقت موجود ہی نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کی دفعہ 42 کے تحت انتقال کا عوامی اعلان (Public Attestation) ثابت نہیں کیا جا سکا، جو ہبہ کے قانونی ثبوت کے لیے ایک لازمی تقاضا ہے۔

2025 CLC 1158

Eight Essential Ingredients Required to Prove a Valid Gift
High Court

The High Court dealt with a case in which a brother, in order to deprive his sister of her lawful Islamic share in their father’s property, put forward a false and fabricated claim of gift (Hiba). The trial court as well as the appellate court had decided the matter in favour of the brother. However, the High Court set aside both judgments and decreed the suit in favour of the sister.

The Court observed that the burden of proof lies upon the party who seeks to derive benefit from a particular fact. Since the brother was the beneficiary of the alleged gift, it was incumbent upon him to establish the gift through credible and lawful evidence.

The High Court held that for a gift to be legally proved, the following eight essential ingredients must be strictly fulfilled:

1. Offer: A clear and unequivocal declaration by the donor.

2. Acceptance: An explicit acceptance by the donee.

3. Delivery of Possession: Actual transfer of possession of the property to the donee.

4. Donor’s Intention: The gift must be genuine and bona fide, free from fraud or deception.

5. Free Consent: The gift must be made voluntarily, without coercion, undue influence, or misrepresentation.

6. Witnesses: The offer and acceptance must take place in the presence of credible witnesses.

7. Mutation in Revenue Record: Proper mutation must be sanctioned in accordance with the Land Revenue Act.

8. Consistency in Evidence: There must be no contradiction between the statements of witnesses and the official revenue record.

While evaluating the evidence, the Court found that the statements of the witnesses produced by the brother were mutually contradictory. Clear inconsistencies were also noticed regarding the Roznamcha Waqiati and the timing of offer and acceptance. Furthermore, the testimony of the son was held to be unreliable and inadmissible, as he was not present at the time of the alleged offer and acceptance.

The Court further held that the mandatory requirement of public attestation of mutation under Section 42 of the Land Revenue Act, 1967, was not proved, rendering the alleged gift legally unsustainable.

2026  PCrLJ  472   نوجوان وکلاء کیلئے فوجداری مقدمات میں ٹرائل کے کسی بھی سٹیج پر ملزم کس بھی متعلقہ شخص یا ریکارڈ کو بط...
26/04/2026

2026 PCrLJ 472
نوجوان وکلاء کیلئے
فوجداری مقدمات میں ٹرائل کے کسی بھی سٹیج پر ملزم کس بھی متعلقہ شخص یا ریکارڈ کو بطور کورٹ گواہ طلب کرنے کیلئے درخواست دائر کر سکتا ہے اور ٹرائل کورٹ ملزم کو مجبور نہیں کر سکتا ہے کہ بیان ملزم کے بعد خود بطور صفائی گواہ یا صفائی کے گواہان پیش کرتے ہوئے اس گواہ کو پیش کیا جا سکتا ہیں ٹرائل کورٹ کیس کے ریکارڈ کے مطابق کس بھی سٹیج پر کورٹ گواہ کو انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے طلب کر سکتا ہے
Summoning of witness---Scope---Application filed by the petitioner for summoning of Control Room Wireless Operator/Moharrar as Court witness was dismissed---Validity---Petitioner/accused had sought the summoning of Control Room Wireless Operator/Moharrar along with record/register regarding Rapts dated 18.05.2023 as Court Witness maintaining that on the said date, three calls were made at Rescue 15 with the report that one person inflicted injuries to another person and according to the 3rd call an information was laid to the effect that one person gave information that somebody made fire shot at his cousin, who passed away at hospital---Said witness and record was essential for a just decision of the case---Petitioner/accused claimed that according to calls made to Rescue 15 on 18.05.2023, no person was mentioned as accused, as such its production was necessary for the just decision of the case---Said documents/Rapts were relevant under Art.24 of Qanun-e-Shahadat, 1984---Summoning, production and use of the said documents may make the the existence or non-existence of a fact highly probable or improbable, as such were essential for the just decision of the case---"Just" means right, fair and well founded---Moreover, it is always duty of the Court to make every effort that no aspect of the case should be left unattended, therefore, the Trial Court, while passing the impugned order dated 17.05.2025, refusing to summon the said witness along with record, committed material irregularity---Trial Court failed to exercise discretion judiciously and did not record any substantial reason for rejecting the application, despite the witness being relevant and material.

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی ح...
26/04/2026

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور علاقہ مجسٹریٹ کو پہلے سے زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے۔
نیچے ان نئی قانونی تبدیلیوں اور مجسٹریٹ کے اختیارات کی تفصیل دی گئی ہے:
1. مجسٹریٹ کے اختیارات میں نئی تبدیلیاں (Power of Magistrate)
پہلے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے شہریوں کو دفعہ 22-A/22-B کے تحت سیشن جج (جسٹس آف پیس) کے پاس جانا پڑتا تھا، جو کہ ایک طویل عمل تھا۔ اب نئی ترامیم کے تحت:
• براہِ راست مداخلت (Direct Intervention): مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے والا جج نہیں رہا۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے، تو سائل سیکشن 156(3) اور سیکشن 190 کے تحت مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔
• حکمِ اندراجِ مقدمہ: مجسٹریٹ کے پاس اب یہ واضح اختیار ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے اس کی نقل عدالت میں پیش کی جائے۔
• پولیس کی جواب طلبی: اگر پولیس 24 گھنٹے کی ٹائم لائن کے اندر اندراج نہیں کرتی، تو مجسٹریٹ متعلقہ ایس ایچ او (SHO) کو طلب کر کے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو لکھ سکتا ہے۔
2. نئے قانون کی اہم ترامیم (2024-25)
نئے سسٹم کا مقصد "انصاف آپ کی دہلیز پر" کے تصور کو حقیقت بنانا ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
الف) ڈیجیٹل ایف آئی آر اور ٹائم لائن
• اب ہر درخواست کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کرتی (یعنی پرچہ درج کرنا یا خارج کرنا)، تو سسٹم میں وہ درخواست خود بخود "Pending" ظاہر ہوتی ہے جس کا جواب ڈی پی او (DPO) کو دینا پڑتا ہے۔
ب) زیرو ایف آئی آر (Zero FIR)
• نئی ترمیم کے تحت کوئی بھی تھانہ یہ کہہ کر درخواست مسترد نہیں کر سکتا کہ "یہ علاقہ ہمارے پاس نہیں آتا"۔ انہیں پرچہ درج کرنا ہوگا (جسے زیرو ایف آئی آر کہتے ہیں) اور پھر اسے متعلقہ تھانے منتقل کرنا ہوگا۔
ج) پولیس افسر کے خلاف سزا (Section 166-A PPC)
• اگر کوئی پولیس افسر جان بوجھ کر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے یا تاخیر کرے، تو اسے تعزیراتِ پاکستان کے تحت قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ اس کارروائی کا آغاز کروا سکتا ہے۔
3. ایف آئی آر درج کروانے کا نیا طریقہ کار (Step-by-Step)
اگر آپ کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا، تو آپ ان مراحل سے گزر سکتے ہیں:
1. پہلا مرحلہ: تھانے میں تحریری درخواست دیں اور ڈائری نمبر (Tag Number) حاصل کریں۔ یا پنجاب پولیس کی ایپ/خدمت مرکز پر آن لائن اپلائی کریں۔
2. دوسرا مرحلہ: اگر 24 گھنٹے میں پرچہ درج نہ ہو، تو ایک درخواست ایس ڈی پی او (SDPO/DSP) یا ڈی پی او (DPO) کو دیں۔
3. تیسرا مرحلہ (عدالتی راستہ): اگر پولیس پھر بھی کارروائی نہ کرے، تو اپنے وکیل کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دیں۔ مجسٹریٹ ریکارڈ طلب کرے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پولیس کو پرچہ درج کرنے کا حکم جاری کرے گا۔

1. سیکشن 154 میں ترمیم (FIR کا ڈیجیٹل اور خودکار اندراج)
نئی ترمیم کے بعد اب ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا طریقہ کار صرف تھانیدار کی مرضی پر منحصر نہیں رہا:
• آن لائن اندراج: اب کوئی بھی شہری آن لائن پورٹل یا مخصوص ایپ کے ذریعے اطلاع دے سکتا ہے۔ اگر اطلاع قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی ہے، تو سسٹم اسے خودکار طریقے سے رجسٹر کرنے کا پابند ہے۔
• وقت کی پابندی: پولیس افسر اب ایف آئی آر درج کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہیں کر سکتا۔ اگر وہ انکار کرے تو سسٹم میں اس کا اندراج "ڈیفالٹ" کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جس کی جوابدہی اعلیٰ افسران کو کرنی پڑتی ہے۔
2. مجسٹریٹ کے اختیارات (سیکشن 190 اور 156 میں اضافہ)
2025 کی ترامیم میں مجسٹریٹ کو تھانے کے معاملات پر زیادہ کنٹرول دیا گیا ہے تاکہ 22-A اور 22-B کے بوجھ کو کم کیا جا سکے:
• براہِ راست حکمِ اندراج: اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو سائل براہِ راست متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔ مجسٹریٹ کو اب یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے (پہلے یہ اختیار زیادہ تر سیشن جج کے پاس 22-A کے تحت تھا)۔
• مداخلت کا اختیار: مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے تک محدود نہیں، بلکہ وہ تفتیش کے معیار اور ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر پر پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
3. زیرو ایف آئی آر (Zero FIR) کا تصور
نئی ترمیم میں یہ قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی جرم کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ہوا ہے، تب بھی متعلقہ تھانہ اطلاع ملنے پر "زیرو ایف آئی آر" درج کرنے کا پابند ہے۔ بعد میں اسے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا جائے گا، لیکن اندراج سے انکار جرم تصور ہوگا۔
خلاصہ: 2025 کی ترامیم کا مقصد
1. پولیس کی صوابدید کا خاتمہ: پولیس اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ "پہلے انکوائری ہوگی پھر پرچہ ہوگا"۔ اگر جرم ہوا ہے تو پرچہ فوری درج کرنا لازمی ہے۔
2. مجسٹریٹ کی بااختیاری: عوام کو ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ جانے کے بجائے مقامی مجسٹریٹ سے فوری ریلیف دلوانا۔
3. ٹیکنالوجی کا استعمال: انسانی مداخلت کم کر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے اندراج کو یقینی بنانا۔
قانونی نکتہ: یہ ترامیم فی الحال پنجاب کی سطح پر "پنجاب کرمنل لا (ترمیمی) آرڈیننس/ایکٹ" کے ذریعے نافذ العمل کی جا رہی ہیں تاکہ نظامِ انصاف کو نچلی سطح پر تیز کیا جا سکے۔

1. فوری اندراج (Instant Registration)
• قابلِ دست اندازی جرائم (Cognizable Offenses): اگر جرم کی اطلاع واضح ہے اور وہ سنگین نوعیت کا ہے (جیسے ڈکیتی، قتل، اغوا یا زیادتی)، تو پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ اس میں کسی قسم کی "ابتدائی انکوائری" کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔
2. 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن (The 24-Hour Rule)
• اگر اطلاع ملنے پر پولیس کو جرم کی نوعیت کے حوالے سے شک ہو یا معاملہ مالی لین دین (Civil nature) جیسا لگے، تو وہ ابتدائی تصدیق کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی اب وقت مقرر ہے:
• زیادہ سے زیادہ وقت: اطلاع ملنے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر پولیس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پرچہ درج کرنا ہے یا اسے خارج کرنا ہے۔
• آن لائن درخواست: اگر درخواست "پنجاب پولیس ایپ" یا "خدمت مرکز" کے ذریعے دی گئی ہے، تو سسٹم خودکار طریقے سے وقت کا حساب رکھتا ہے (Time Stamping)۔
3. مجسٹریٹ کا حکم اور ٹائم لائن
• سیکشن 154 اور 156 کے تحت: اگر سائل مجسٹریٹ کے پاس جائے اور مجسٹریٹ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے (Direction for FIR)، تو پولیس کو عام طور پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر کمپلائنس رپورٹ عدالت میں جمع کروانی ہوتی ہے۔
4. حساس جرائم کے لیے ترجیحی وقت
• خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم: ایسے مقدمات میں ٹائم لائنز مزید سخت ہیں۔ آئی جی پنجاب کی حالیہ ہدایات اور ترامیم کے مطابق، ایسے واقعات کی اطلاع ملتے ہی 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر اندراج کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میڈیکل یا دیگر شواہد ضائع نہ ہوں۔
اگر پولیس ٹائم لائن کی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوگا؟
نئی ترامیم کے تحت اگر تھانہ مقررہ وقت میں پرچہ درج نہیں کرتا تو:
1. ڈیجیٹل الرٹ: پولیس کا انٹرنل مانیٹرنگ سسٹم (Dashboard) متعلقہ ڈی پی او (DPO) کو الرٹ بھیج دیتا ہے کہ درخواست "Pendency" میں چلی گئی ہے۔
2. سیکشن 166-A (PPC): اگر پولیس افسر جان بوجھ کر قانونی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج نہیں کرتا، تو اس کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں قید اور جرمانہ شامل ہے۔
ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
داودی لاء ایسوسی ایٹ
03216784649

26/04/2026

BREAKING: Thousands protested in Tel Aviv against the government of Israeli PM Benjamin Netanyahu, calling for an investigation into the October 7 events, reports Israeli media.

🔴 More on http://aljazeera.com

🚨 بڑی خبر: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ - اب بلاوجہ گرفتاری نہیں ہوگی! 🚨​سپریم کورٹ آف پاکستان نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pr...
26/04/2026

🚨 بڑی خبر: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ - اب بلاوجہ گرفتاری نہیں ہوگی! 🚨
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جدید قانونی اصول واضح کر دیا ہے۔
​فیصلہ کیا ہے؟ ⚖️
​عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ:
​"اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں وہ بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جائے گا، تو ایسی صورت میں ملزم کو جیل بھیجنا محض ایک 'کاغذی کارروائی' (Procedural Formality) ہوگی جس کا کوئی تعمیری مقصد نہیں ہے۔"
​اس کا آسان مطلب کیا ہے؟
​اکثر کیسز میں پولیس اور مخالف فریق صرف ملزم کو ذلیل کرنے کے لیے جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اگر کیس ایسا ہے جس میں بعد میں ضمانت ملنی ہی ملنی ہے، تو ملزم کو صرف "رسم پوری کرنے" کے لیے جیل میں ڈالنا انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
​اہم حوالہ (Reference):
​📖 PLJ 2026 Supreme Court (Criminal) 21
کیس: محمد اختر بنام سرکار (Muhammad Akhtar Vs State)
​اس فیصلے کے فوائد:
✅ بے گناہ شہریوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ہوگا۔
✅ جیلوں میں بلاوجہ کا رش کم ہوگا۔
✅ انتقامی کارروائیوں کا راستہ رکے گا۔

ملزم کا دماغی توازن درست نہ ہونے کے بارے میں محض جیل کے ڈاکٹر کی اہمیت نہ ہے بلکہ ملزم کا ٹیسٹ حسب ضابطہ کروایا جائے گا....
25/04/2026

ملزم کا دماغی توازن درست نہ ہونے کے بارے میں محض جیل کے ڈاکٹر کی اہمیت نہ ہے بلکہ ملزم کا ٹیسٹ حسب ضابطہ کروایا جائے گا.
(2015 PCrLJ 361).
اگر بوقت شہادت، ڈاکٹر صاحب نتیجہ ڈاکٹری Exibit نہ کیا جا سکے تو ڈاکٹر صاحب کو دفعہ 540 ض ف کے تحت دوبارہ بلایا جا سکتا ہے.
(2013 CrLJ 718).
گواہان کے مطابق فائر 6 فٹ سے لگے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب کے مطابق ضربات پر Blackning نہ تھی. بریت
(2020 YLR 1139).
کالک سیاہی (Blackening) کا انحصار فاصلے، گن پوڈر کی قسم اور مقدار اور بیرل کی لمبائی پر ہے.
(2013 YLR 1215) .
ضربات پر سیاہی یا Blackening وغیرہ صرف اس صورت
میں آئے گی جبکہ فائر 5/6 فٹ کے فاصلہ سے کیا گیا ہو.
(2019 YLR 2037) .

تمام ریونی عدالتوں میں فزیکل دائرگی (Physical Filing) جاری رکھی جائے گی ۔ آرسی ایم ایس (RCMS) کے تحت بھی دائرگی کی سہولت...
25/04/2026

تمام ریونی عدالتوں میں فزیکل دائرگی (Physical Filing) جاری رکھی جائے گی ۔ آرسی ایم ایس (RCMS) کے تحت بھی دائرگی کی سہولت دستیاب ہوگی ۔

وکلاء حضرات کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق فزیکل یا آن لائن (RCMS) دائرگی کا انتخاب

کریں۔

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے اس ضمن میں آج با قاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وکلاء برادری اور سائلین کو در پیش مسائل کا مؤ ثر حل ممکن ہو سکے گا۔
👇👇👇👇

ڈیرہ غازیخان محترمہ ساجدہ محبوب صاحبہ سول جج ڈیرہ غازی خان انتقال کر گئ مرحومہ کافی عرصہ سے گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھی...
25/04/2026

ڈیرہ غازیخان محترمہ ساجدہ محبوب صاحبہ سول جج ڈیرہ غازی خان انتقال کر گئ مرحومہ کافی عرصہ سے گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھی مرحومہ کا نماز جنازہ آج شام 5 بجے ان کے آبائی علاقے محمد پور میں ادا کیا جائے گا.

Address

District Courts
Dera Ghazi Khan
32200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahir Khan Daudzai Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Tahir Khan Daudzai Advocate:

Share