Tahir Khan Daudzai Advocate

Tahir Khan Daudzai Advocate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tahir Khan Daudzai Advocate, Corporate lawyer, District Courts, Dera Ghazi Khan.

Advocate High Court,
Legal Advisor MCB,
Legal Advisor Pakistan Railway,
Legal Advisor PTCL,
Legal Advisor Ufone,
Legal Advisor HBFCL Bank,
Legal Advisor MCB Bank,
Chairman Free Legal Aid Commetie PBC,
Executive Member High Court Bar Association Multan,

13/08/2026

اس فیصلے (2023 SCMR 1375) میں عدالت نے قرار دیا کہ واقعہ سہ پہر 2:30 بجے پیش آیا اور ایف آئی آر اسی روز شام 6:05 بجے درج کرائی گئی، اور تھانے کا فاصلہ 18 کلومیٹر ہونے کے باعث یہ رپورٹ بروقت (with promptitude) درج کرائی گئی سمجھی گئی۔ شکایت کنندہ اور ایک اور گواہ نے فائرنگ کی آواز سنی اور ملزم کو پستول کے ساتھ فرار ہوتے دیکھا، جس کی شہادت کو "وقتاً کار" (res Gestae) کے اصول کے تحت آرٹیکل 19 قانونِ شہادت 1984 کی روشنی میں قابلِ اعتبار قرار دیا گیا کیونکہ یہ بیانات واقعے کے فوری بعد دیئے گئے تھے۔ گواہان کا اسی علاقے کا رہائشی ہونا ان کی موجودگی کو فطری ثابت کرتا تھا، اور طویل جرح کے باوجود دفاع کوئی ایسا نکتہ ثابت نہ کر سکا جو ملزم کے حق میں یا استغاثہ کے خلاف جاتا ہو۔ گواہوں نے واقعے کی تمام تفصیلات، بشمول تاریخ، وقت، جگہ، ملزم کا نام، ہتھیار کی نوعیت اور زخموں کا مقام بیان کیں، جبکہ ملزم کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا کہ شکایت کنندہ اسے جھوٹا کیوں ملوث کرے گا اور اصل قاتل کو کیوں چھوڑ دے گا۔ طبی شہادت بھی استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرتی تھی، اور ملزم کا پانچ سال سے زائد عرصے تک روپوش رہنا بھی اس کے خلاف ایک اضافی ثبوت قرار پایا۔ ان تمام شواہد کی بنیاد پر عدالت نے استغاثہ کے مقدمے کو مصدقہ اور قابلِ اعتماد قرار دیا۔

📌 **حوالہ:** 2023 SCMR 1375

13/08/2026

📢 اہم عدالتی فیصلہ: سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ اگر کسی کو مختار نامہ (پاور آف اٹارنی) کے ذریعے جائیداد فروخت کرنے کا اختیار دیا گیا ہو تو اس میں معاہدہ بیع (ایگریمنٹ ٹو سیل) کرنے کا اختیار بھی خودبخود شامل تصور ہوگا، چاہے دستاویز میں اس کا الگ سے ذکر نہ ہو۔ عزت مآب جسٹس شاہد بلال حسن نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ مختار نامہ قانونی طور پر مستند تصور کیا جاتا ہے، اور جب پرنسپل کسی کام کے لیے اختیار دیتا ہے تو اس میں وہ تمام ضمنی کام بھی شامل ہوتے ہیں جو اُس کام کی تکمیل کے لیے ضروری ہوں۔ عدالت نے فرمایا کہ اگر مختار کو حتمی بیع نامہ کرنے کی اجازت ہو مگر معاہدہ بیع کی نہ ہو تو یہ تشریح غیر منطقی اور غیر عملی ہوگی۔ یہ فیصلہ جائیداد کے لین دین میں مختار ناموں کی قانونی حیثیت کو مزید واضح کرتا ہے۔

📌 کیس ٹائٹل: Saad Younis, etc v. Ghulam Bari & others
📌 حوالہ: C.A.435-L/2012 | مورخہ: 10-08-2026

#پاکستان

12/08/2026

کروڑوں کا بینک بیلنس… کروڑوں کی ٹیکس ڈیمانڈ… اور پھر ایف بی آر کو بڑا قانونی جھٹکا!۔

یہ فیصلہ بنیادی طور پر اس اہم سوال کے گرد گھومتا ہے کہ کیا ایف بی آر بینک اکاؤنٹ میں آنے والی رقوم کو بنیاد بنا کر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 122(5A) کے تحت پہلے سے مکمل شدہ اسیسمنٹ کو دوبارہ کھول سکتا ہے، جبکہ ان رقوم کو کاروباری سیلز یا چھپی ہوئی آمدن ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیقات درکار ہوں؟ اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو، کراچی، اسپیشل ڈویژن بینچ کوئٹہ نے 10 اگست 2026 کو مسٹر لال محمد کے ٹیکس سال 2018، 2019 اور 2020 سے متعلق تینوں اپیلوں کا فیصلہ ایک مشترکہ حکم کے ذریعے کیا۔
کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ٹیکس دہندہ نے ان تین سالوں کے ریٹرنز جمع کرائے، جن میں بالترتیب تقریباً 93 لاکھ 75 ہزار، 13 لاکھ 5 ہزار اور 13 لاکھ 25 ہزار روپے کا ٹرن اوور ظاہر کیا گیا اور اس پر کم از کم ٹیکس ادا کیا گیا۔ یہ ریٹرنز دفعہ 120(1) کے تحت خودکار طور پر اسیسمنٹ آرڈرز بن گئے۔ بعد ازاں ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن سے ایف بی آر کو بینک اکاؤنٹس میں بھاری کریڈٹ انٹریز کی معلومات موصول ہوئیں۔ ان رقوم کا حجم بالترتیب تقریباً 7 کروڑ 69 لاکھ، 8 کروڑ 45 لاکھ اور 5 کروڑ 39 لاکھ روپے تھا۔
محکمہ نے ان بینک کریڈٹس اور ریٹرن میں ظاہر کیے گئے ٹرن اوور کے درمیان فرق کو کاروباری آمدن یا مبینہ طور پر چھپی ہوئی سیلز قرار دے دیا۔ اس بنیاد پر دفعہ 122(9) کے ساتھ 122(5A) کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔ ٹیکس دہندہ کی طرف سے مؤثر جواب نہ آنے پر محکمہ نے اسیسمنٹس میں ترمیم کرتے ہوئے بھاری ٹیکس ڈیمانڈز پیدا کر دیں، جو تینوں سالوں کے لیے بالترتیب 2 کروڑ 28 لاکھ 75 ہزار 346 روپے، 2 کروڑ 35 لاکھ 31 ہزار 163 روپے اور 1 کروڑ 77 لاکھ 82 ہزار 268 روپے تھیں۔
ٹیکس دہندہ نے اس کارروائی کو چیلنج کیا اور بنیادی اعتراض یہ اٹھایا کہ محکمہ نے غلط قانونی دفعہ استعمال کی ہے۔ اس کے مطابق اگر ایف بی آر کے پاس ایسی معلومات موجود تھیں جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آمدن چھپائی گئی ہے یا اسیسمنٹ کم ہوئی ہے، تو مناسب راستہ دفعہ 122(5) تھا، نہ کہ دفعہ 122(5A)۔ خاص طور پر اس لیے کہ Finance Act 2021 کے بعد دفعہ 122(5A) سے وہ الفاظ حذف کر دیے گئے تھے جو کمشنر کو ضروری انکوائری کرنے یا کروانے کا اختیار دیتے تھے۔

12/08/2026

چیئرمین کا ٹیکس کنسلٹنٹس کے متعلق ہتک آمیز بیان قابل مذمت ہے۔ ملتان ٹیکس بار کو چیئرمین FBR کے بیان کی مذمت کرنی چاہیے۔ کوئی ٹیکس گزار یہ نہیں کہ سکتا کہ ٹیکس کنسلٹنٹ نے اس کو کم ٹیکس جمع کروانے کی ترغیب دی ہے۔ جبکہ محکمہ کی حد سے بڑھی کرپشن پر چیئرمین FBR کی پرسرار خاموشی اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے سے FBR دودھ کا دُھلا نہیں ہوجائے

11/08/2026

مشترکہ کھاتے ختم ۔۔زمین کی تقسیم کا مسئلہ حل ۔
کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی زمین کے ونڈے ہوں گے۔
جائیداد کے مشترکہ کھاتے پنجاب کا ایک انتہائی پیچیدہ اور سنگین مسئلہ ہے۔ جو لڑائی جھگڑوں کا باعث بنتا ہے اور دیہاتوں میں لوگوں کی جان و مال پر بھاری پڑتا ہے۔
اس سنگین مسئلے کے حل کےلئے بورڈ آف ریونیو نے قانون میں اہم تبدیلی کی ہے۔
جس سے اب زمینوں کا مشترکہ رہنا مشکل ہو گیا ہے اور اگر کوئی فریق انکار بھی کرتا ہے پھر بھی زمین تقسیم ہو گی۔۔
طریقہ کار پر بات کریں تو ۔۔
سب سے پہلے تو جو لوگ باہمی رضا مندی سے کھاتے تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو وہ پٹواری تحصیلدار یا اراضی ریکارڈ سنٹر پر جا کر بیان دے کر کھاتے تقسیم کروا سکتے ہیں۔
دوسرا معاملہ سنگین ہے کہ مشترکہ کھاتوں میں ایک دو فریق صاف انکار کر دیتے ہیں تو ایسی زمین کی تقسیم کیسے ہو گی۔
سیکرٹری ریونیو شفقت اللہ مشتاق کے مطابق
سب سے پہلے متعلقہ فریقین کو تحصیلدار کے سامنے درخواست دینی ہو گی۔ وہ پٹواری کے ذریعے تمام فریقین کو بلائے گا۔ اگر کوئی فریق نہیں آئے گا تو تحصیلدار پٹواری اور نمبر کے ذریعے زمین کی کمرشل ویلیو اور قبضے کو دیکھ کر کھاتہ تقسیم کر دے گا۔
اگر تحصیلدار 2 مہینے میں ونڈہ نہیں بنائے گا تو اس کا متعلقہ تحصیل سے تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کیس خود بخود اسسٹنٹ کمشنر کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔
اگر کو فریق تحصیلدار یا ایسے فیصلے سے متفق نہیں ہوتا تو وہ ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے پاس اپیل کر سکتا ہے اور اگر پھر بھی کسی فریق کو اختلاف ہوتا ہے تو کیس سیدھا ممبر بورڈ آف ریونیو کے پاس آئے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ سیکنڈ اپیل یعنی کہ اب کیس کمشنر آفس نہیں جائے گا سیدھا بورڈ آف ریونیو آئے گا۔
سیکرٹری ریونیو کا کہنا ہے چیف سیکرٹری پنجاب اور سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بہترین فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں کو فائدہ اٹھا کر جائیداد کے مشترکہ کھاتوں کے جھنجھٹ سے جان چھڑا لینی چاہیے۔

11/08/2026

2024 YLR 1619
Post arrest bail allowed on medical grounds. Eye sight/blindness.

Crl. Misc.-Post-arrest Bail
1554-B-23
MUHAMMAD AKMAL VS
STATE ETC

10/08/2026

⚠️ بینک آپ کا اکاؤنٹ بلاجواز منجمد نہیں کر سکتا! ⚠️
کیا آپ جانتے ہیں؟ پاکستان میں کوئی بھی بینک آپ کا اکاؤنٹ من مانی سے منجمد یا بلاک نہیں کر سکتا۔
✅ آپ کی محنت کی کمائی پر کسی بھی قسم کی پابندی کے لیے قانونی جواز ضروری ہے۔
✅ یہ پابندی کسی مجاز ادارے کی جانب سے ہونی چاہیے — عدالت کا حکم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)، یا کسی تحقیقاتی ادارے جیسے FIA یا NAB کی طرف سے۔
✅ قانونی طریقہ کار (due process) کی پیروی لازمی ہے۔ بغیر تصدیق شدہ قانونی جواز کے اکاؤنٹ منجمد نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتیں اور ریگولیٹرز بار بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ آپ کے فنڈز قانون کے تحت محفوظ ہیں، اور بینک اس کے پابند ہیں۔
💡 اگر کبھی آپ کا اکاؤنٹ بغیر کسی وجہ کے منجمد کیا گیا ہو، تو آپ کو مکمل حق ہے کہ وجہ پوچھیں اور جواب طلب کریں۔

10/08/2026

فیس بک پر ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے کہ ایک مقدمہ میں بیان زیر دفعہ 164 ض ف ایک بار سے زیادہ بھی قلمبند کرایا جاسکتا ہے۔
یہ بات بالکل غلط اور قانون کے خلاف ہے۔
اینٹی ریپ انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 کی دفعہ 14 کے مطابق مقدمہ میں بیان زیر دفعہ 164 ض ف صرف ایک بار ہی قلمبند کرایا جاسکتا ہے۔
THE ANTI-RAPE (INVESTIGATION AND TRIAL) ACT, 2021۔
14. Statement under section 164 of the Code.—
(1) Notwithstanding anything contained in any other law for the time being in force, as soon as practicable, a statement of the victim shall be recorded under section 164 of the Code only once.
Explanation:— The statement under this sub-section shall be video-recorded, preserved and reduced in writing.
(2) An opportunity of cross examining the victim shall be given to the counsel for the accused and not the accused himself, or the Court may itself put questions to the victim or any questions framed by the accused may be given to the presiding officer of the Court who may put such questions, as found appropriate by him, to the victim.
اس ایکٹ کے نفاذ سے پہلے واقعی اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود تھے کہ بنانے زیر دفعہ 164 ض ف ایک بار سے زیادہ بھی قلمبند کرایا جاسکتا ہے۔ لیکن اینٹی ریپ انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 کے نفاذ کے بعد یہ فیصلے اب غیر موثر ہو گئے ہیں

09/08/2026

PLJ 2026 SC 429
اگر نان ونفقہ کی ڈگری میں یہ نہ ہو کہ سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری کی رقم پر بوگا یا کمپاونڈ یعنی اضافہ شدہ رقم پر ہوگا تو اس صورت میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری کی رقم پر بوگا
Where the decree is silent regarding compounding,the increase or interest must be confined to the originally decreed amount and not extended to the accumulated sum, to be increased every year.

Applying the above principle to the present case, the decree does not provide that the 20% increase shall be calculated on a compound basis. The expression used in the decree does not indicate that each subsequent increase would be calculated on the enhanced amount of the previous year. In the absence of such'express stipulation, the learned Executing Court clearly fell into error by calculating the increase on a compound basis, thereby going beyond the decree. The learned Appellate Court rightly corrected this error by holding that the said 20% increase is to be calculated each year on the originally decreed amount i.e.Rs.65,000/ -

Before parting with this judgment, we deem it appropriate to observe that in matters pertaining to family maintenance, where courts exercise discretion to grant periodic increase, it is incumbent upon the Family Courts to clearly specify the mode and manner of such increase. In particular, it must be expressly stated whether such increase is to operate on a simple basis or on a compound basis. Such clarity would avoid unnecessary litigation at the ex*****on stage and ensure certainty in ex*****on of decrees.

Civil Petition for Leave to Appeal No.3204 of 2022
Muhammad Waqar Wasi VERSUS Mst. Amber Abid & others

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: صارفین کا ڈیٹا بھی "جائیداد" کے زمرے میں شامل، بددیانتی سے استعمال مجرمانہ خیانت میں اما...
09/08/2026

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: صارفین کا ڈیٹا بھی "جائیداد" کے زمرے میں شامل، بددیانتی سے استعمال مجرمانہ خیانت میں امانت قرار
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بینکوں کے پاس موجود صارفین کا ڈیٹا — اکاؤنٹ کی تفصیلات، رجسٹرڈ موبائل نمبرز وغیرہ — پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی رو سے قانوناً "جائیداد" تصور ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس ڈیٹا کا بددیانتی سے استعمال پاکستان پینل کوڈ کے تحت مجرمانہ خیانت در امانت (Criminal Breach of Trust) کے زمرے میں آسکتا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے کیس میں سنایا گیا جس میں سم سویپ فراڈ کے ذریعے چھ صارفین کے اکاؤنٹس سے 1 کروڑ 4 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کی غیر مجاز منتقلی کی گئی، جہاں ملزمان نے مبینہ طور پر متاثرین کے شناختی کارڈز اور فنگر پرنٹس استعمال کرکے ڈپلیکیٹ سمز حاصل کیں۔
📋 فیصلے کے اہم نکات:
✅ پیکا کی دفعہ 27(2) کے تحت صارفین کا ڈیٹا "جائیداد" کے زمرے میں آتا ہے
✅ عدالت نے "فنکشنل ٹیسٹ" کا اصول وضع کیا — ہر بینک ملازم خودبخود دفعہ 409 تعزیرات پاکستان کے دائرہ کار میں نہیں آتا، صرف وہ جن کے پاس حساس ڈیٹا پر عملاً اختیار ہو
✅ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کی دفعہ 33-اے کے تحت رازداری کی خلاف ورزی بھی زیر بحث آئی
✅ ملزم بینک ملازم کی ضمانت مسترد، جبکہ ٹیلی کام فرنچائز آپریٹر کو ضمانت منظور کی گئی
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جدید بینکاری کے نظام میں صارف کے اہم ڈیٹا پر کنٹرول رکھنے والا شخص عملی طور پر اس کی رقم تک رسائی پر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔
#لاہورہائیکورٹ #سائبرکرائم #پیکا #بینکنگ #ڈیٹاپروٹیکشن #پاکستان

Address

District Courts
Dera Ghazi Khan
32200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahir Khan Daudzai Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Tahir Khan Daudzai Advocate:

Shortcuts

Share