17/09/2026
⚖️ انتقالِ اراضی کے بارے میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ:
🔹 جب کوئی انتقال (Mutation) منظور ہو کر جمعبندی میں شامل ہو جائے تو اسے درست تصور کیے جانے کا قانونی قرینہ حاصل ہوتا ہے، جب تک مضبوط اور قابلِ اعتماد شہادت سے اس کے خلاف ثابت نہ کیا جائے۔
🔹 اگر کسی شخص نے طویل عرصے تک انتقال یا ریونیو ریکارڈ میں درج اندراجات کو چیلنج نہ کیا ہو تو کئی سال بعد کیا جانے والا دعویٰ مدتِ قانونی (Limitation) کی پابندی سے متاثر ہو سکتا ہے۔
🔹 محض فراڈ کا الزام لگا دینا کافی نہیں۔ فراڈ کو واضح طور پر بیان کرنا اور قابلِ اعتماد شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔
🔹 انتقال خود ملکیت کا حق (Title) پیدا نہیں کرتا، تاہم اگر انتقال کے پیچھے موجود اصل لین دین قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت ہو تو محض طریقۂ کار کی معمولی بے قاعدگی کی بنیاد پر اسے کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
📌 حوالہ:
2026 SCMR 1019 — سپریم کورٹ آف پاکستا