13/08/2026
اس فیصلے (2023 SCMR 1375) میں عدالت نے قرار دیا کہ واقعہ سہ پہر 2:30 بجے پیش آیا اور ایف آئی آر اسی روز شام 6:05 بجے درج کرائی گئی، اور تھانے کا فاصلہ 18 کلومیٹر ہونے کے باعث یہ رپورٹ بروقت (with promptitude) درج کرائی گئی سمجھی گئی۔ شکایت کنندہ اور ایک اور گواہ نے فائرنگ کی آواز سنی اور ملزم کو پستول کے ساتھ فرار ہوتے دیکھا، جس کی شہادت کو "وقتاً کار" (res Gestae) کے اصول کے تحت آرٹیکل 19 قانونِ شہادت 1984 کی روشنی میں قابلِ اعتبار قرار دیا گیا کیونکہ یہ بیانات واقعے کے فوری بعد دیئے گئے تھے۔ گواہان کا اسی علاقے کا رہائشی ہونا ان کی موجودگی کو فطری ثابت کرتا تھا، اور طویل جرح کے باوجود دفاع کوئی ایسا نکتہ ثابت نہ کر سکا جو ملزم کے حق میں یا استغاثہ کے خلاف جاتا ہو۔ گواہوں نے واقعے کی تمام تفصیلات، بشمول تاریخ، وقت، جگہ، ملزم کا نام، ہتھیار کی نوعیت اور زخموں کا مقام بیان کیں، جبکہ ملزم کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا کہ شکایت کنندہ اسے جھوٹا کیوں ملوث کرے گا اور اصل قاتل کو کیوں چھوڑ دے گا۔ طبی شہادت بھی استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرتی تھی، اور ملزم کا پانچ سال سے زائد عرصے تک روپوش رہنا بھی اس کے خلاف ایک اضافی ثبوت قرار پایا۔ ان تمام شواہد کی بنیاد پر عدالت نے استغاثہ کے مقدمے کو مصدقہ اور قابلِ اعتماد قرار دیا۔
📌 **حوالہ:** 2023 SCMR 1375