Haq nawaz khan leghari

Haq nawaz khan leghari 03338585338

16/09/2025

"Mesne Profits"
ایک قانونی اصطلاح ہے جو بالخصوص سول مقدمات میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ وہ آمدنی یا نفع ہے جو کسی شخص نے غیرقانونی طور پر کسی جائیداد پر قبضہ کرکے حاصل کیا حالانکہ وہ جائیداد کسی اور کی ملکیت تھی۔

یعنی اگر کوئی شخص کسی زمین یا مکان پر ناجائز طور پر قابض رہے اور اس دوران اس جائیداد سے فائدہ اٹھائے (جیسے کرایہ وصول کرے کھیتی باڑی کرے یا کاروبار چلائے) تو اصل مالک اس نفع کا حقدار ہے۔

Order 20 Rule 12
Mesne Profits
وہ نفع ہے جو قبضہ کرنے والا شخص ناجائز طور پر جائیداد سے حاصل کرے یا معقول طور پر حاصل کرسکتا تھا ساتھ ہی اس عرصے کے دوران پیدا ہونے والا کوئی بھی فائدہ (مگر اس میں اچھی نیتی کے ساتھ کی گئی بہتری کا خرچ شامل نہیں ہوتا)۔

19/06/2024

ایسا گواہ جو وقوعہ کا اہم گواہ ہو اور اسے پراسکیوشن گواہ کے طور پر پیش نہ کرے تو اسکے خلاف adverse inference اس لیے لی جائے گی کیونکہ اگر وہ گواہ پیش ہوتا تو شاید پراسکیوشن کے خلاف جائے.

2024 SCMR 1146

25/01/2024
23/07/2023

فوجداری نظامِ انصاف کہتا ہے کہ اگر کسی شخص پر کسی جرم کا الزام ہے تو اُسے جلد سے جلد کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اگر ہو بے گناہ ہے تو ڈسچارج یا بری کیا جائے اور اگر گناہ گار ہے تو سزا پائے۔ اگر کوئی فوجداری مقدمہ کسی وجہ کے بغیر طوالت کا شکار ہو جائے تو مقولہ "انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے برابر ہے" سچ ثابت ہو جاتا ہے۔ تاخیر سے صرف استغاثہ نہیں بلکہ دفاع بھی متاثر ہوتا ہے۔
PLD 2018 SC 296
Haqnawaz khan leghari Advocate High court District Bar Association dg khan.
03338585338

21/07/2023

طبی شہادت، و برآمگی ایک تائیدی شہادت تصور ہوتی ہے ♦ فقط تائیدی شہادت کی بنیاد پر عدالتیں سزائیں دینے سے گریزاں ہوتی ہیں ♦

Value and status of and is always in nature, which alone is to sustain the of an accused. ( )

12/07/2023

جس شخص کے خلاف استغاثہ دائر کیا جاتا ہے تو عدالت اسے ضابطہ فوجداری کئی دفعہ 204 کے تحت طلب کرتی ہے اور حاضری کے بعد ضمانتی مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دے سکتی ہے۔
2019 PCr.LJ 665

اگر کوئی شخص جھوٹا استغاثہ دائر کرے گا تو عدالت ضابطہ فوجداری کی دفعہ 250 کے تحت سزا دینے اور معقول جرمانہ ادا کرنے کا حکم صادر کر سکتی ہے ۔
2017 MLD 920

پرائیویٹ استغاثہ میں اس کے حقائق پر آزادانہ کاروائی کی جاتی ہے لہذا ملزمان کو بھی اپنے دفاع کے لیے مکمل موقع فراہم کیا جاتا ہے اور ان کو وکیل تک رسائی دے دی جاتی ہے۔
2017 YLR 1036

اگرچہ استغاثہ دائر کرنے کی کوئی معیاد قانون میں مقرر نہیں ہے۔ مگر استغاثہ جتنی دیر سے دائر کیا جاتا ہے تو اس کی سچائی کے امکانات اتنے ہی کم ہوجاتے ہیں۔
PLD 2018 Lhr. 118

Haqnawaz khan leghari Advocate High court District Bar Association dg khan.
03338585338

12/07/2023

فوجداری مقدمہ کے مراحل
(ایف آئی آر سے فیصلہ مقدمہ تک)

ایف آئی آر 𝐅𝐈𝐑:
جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے اگر وہ جرم قابلِ دست اندازی ہو تو پولیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟓𝟒 کے تحت 𝐅𝐈𝐑 درج کرتی ہے(قابل دست اندازی جرم وہ ہوتے ہیں ہیں جن میں پولیس کسی بھی ملزم کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے) ایف آئی آر کا مقصد فوجداری قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو پولیس کے اس عمل کے خلاف آپ 𝐃𝐒𝐏 یا 𝐒𝐏 کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو جسٹس آف پیس (𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐞𝐚𝐜𝐞) کے پاس پٹیشن (𝐩𝐞𝐭𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧) دائر کی جاتی ہے۔ یہ پٹیشن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟐𝟐𝐀 اور 𝟐𝟐𝐁 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات سیشن ججز کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ مطلب کہ یہ درخواست سیشن جج (𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞) کے پاس درج کی جائے گی اور وہ پولیس کو 𝐝𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭 کرے گا کہ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس استغاثہ (𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐚𝐢𝐧𝐭) کا راستہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کسی بھی جرم (چاہے وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو) کے متعلق علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

ضمانت قبل از گرفتاری:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد اگر شخص سمجھتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے تو وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟒𝟗𝟖 کے تحت سیشن کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر سکتا اور گرفتار ہونے سے بچ سکتا ہے۔

تفتیش:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد پولیس دفعہ 𝟏𝟓𝟔 کے تحت اس کے متعلق تفتیش شروع کرتی ہے۔ جائے وقوعہ پر جا کر کر ثبوت اکٹھے کرتی ہے۔ دفعہ 𝟏𝟔𝟏 کے تحت گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری:
پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ دوران تفتیش قابلِ ضمانت یا ناقابلِ ضمانت کیس میں ملزمان کو گرفتار کرے۔ اس کے علاوہ دفعہ 𝟏𝟔𝟗 کے تحت پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو بے گناہ پا کر چھوڑ بھی سکتی ہے۔
مجسٹریٹ کے سامنے پیشی:
تفتیش کے دوران پولیس 𝟐𝟒 گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار شدہ ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی پابند ہے۔
جب پولیس گرفتار ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس وقت تک کی گئی تفتیش بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی ہوتی ہے اور اگر 𝟐𝟒 گھنٹوں میں تفتیش مکمل نہ کی گئی ہو تو ملزم کے جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست دی جاتی ہے اور دوسری جانب مجسٹریٹ کے سامنے پیشی پر ملزم ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے درخواست دیتا ہے۔

ریمانڈ:
ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔ جب پولیس نے ملزم سے کوئی برآمدگی کرنی ہو تو وہ دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتی ہے کہ ملزم کو واپس پولیس کے حوالے کیا جائے۔ اگر پولیس کو ملزم کی حراست کی ضرورت نہ ہو تو وہ دفعہ دفعہ 𝟑𝟒𝟒 کے تحت ریمانڈ جوڈیشل کی درخواست کرتی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ میعاد 𝟏𝟓 دن ہے لیکن مجسٹریٹ کبھی بھی 𝟏𝟓 دن کا ریمانڈ ایک ساتھ نہیں دیتا بلکہ دو دو یا چار چار دن کا ریمانڈ جسمانی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اب اگر دو دن کا ریمانڈ دیا گیا ہو تو پولیس اس شخص کو دو دن کے بعد دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس دوران جو بھی تفتیش کی ہوتی ہے وہ مجسٹریٹ کے سامنے رکھے گی اور دوبارہ سے ریمانڈ کے لیے درخواست دے گی۔ اس طرح وقفے وقفے سے مجسٹریٹ ٹوٹل 𝟏𝟓 دن کا جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کر سکتا ہے لیکن اگر ریمانڈ کی درخواست دیتے وقت مجسٹریٹ کو لگے کہ کہ پولیس نے کوئی خاص تفتیش نہیں کی تو مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ نہیں دیتا بلکہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتا ہے۔

ضمانت بعد از گرفتاری:
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ ایف آئی آر درج ہوگئی ملزم گرفتار ہوا اور ہم نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ ملزم اب بعد از گرفتاری ضمانت کیلئے درخواست دائر کرسکتا ہے اور اگر عائد کردہ جرم قابل ضمانت ہو تو ضمانت ملزم کا حق ہے۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں اگر ملزم بے گناہ ہو اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو اور مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو بھی ملزم کو ضمانت مل سکتی ہے۔

چالان (𝐏𝐨𝐥𝐢𝐜𝐞 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭):
اب اگلا مرحلہ چالان جمع کروانے کا ہوتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟕𝟑 ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 𝟏𝟒 دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع کروانا ہوتا ہے اگر 𝟏𝟒 دنوں میں پولیس نے چالان جمع نہیں کرایا تو تین دن کے اندر عبوری چالان جمع کرائے گی۔ مطلب کہ پولیس کے پاس چالان جمع کرانے کے لیے 𝟏𝟒+𝟑 دن کا وقت ہوتا ہے اس دورانیہ میں پولیس نے ہر حال میں مکمل یا نامکمل چالان جمع کرانا ہوتا ہے ( نامکمل چالان اس صورت میں جمع ہوتا ہے جب 𝐟𝐨𝐫𝐞𝐧𝐬𝐢𝐜 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 تیار نہیں ہوتی اور اس کے آنے میں ابھی وقت ہوتا ہے) تاکہ جتنے بھی ثبوت اکٹھے ہوئے ہیں جتنی بھی تفتیش ہوئی ہے اس کی بنیاد پر عدالت ٹرائل چلا سکے لیکن عدالت کا اختیار ہے کہ وہ مکمل چالان کے بعد بھی ٹرائل شروع کر سکتی ہے۔

چالان کے کالم:
چالان کے 𝟕 کالمز ہوتے ہیں۔ پولیس نے ابھی تک جتنی بھی کارروائی کی ہوتی ہے اس چالان فارم پر لکھتی ہے۔
پہلے کالم میں نام و پتہ مستغیث درج ہوتا ہے
دوسرا کالم اشتہاری ملزمان کا ہوتا ہے
تیسرے کالم میں زیر حراست ملزمان کے کوائف درج ہوتے ہیں چوتھا کالم ان ملزمان کے متعلق ہوتا ہے جو ضمانت پر رہا ہوتے ہیں
پانچویں کالم میں مال مقدمہ کی تفصیل درج ہوتی ہے مثلاً ملزمان سے کوئی ہتھیار یا چرس برآمد ہوئی ہو تو اس کا ذکر ہوتا ہے
چھٹے کالم میں استغاثہ کے گواہان کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ ساتویں کالم میں پوری تفتیش کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے۔
چالان کے ساتھ مختلف ڈاکومنٹ بھی لف ہوتے ہیں جن میں ایف آئی آر کی کاپی، میڈیکل رپورٹ، فرد مقبوضگی اور نقشہ موقع شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مستغیث اور گواہان کے بیانات جو کہ پولیس نے 𝟏𝟔𝟏 کے تحت ریکارڈ کیے ہوں شامل ہوتے ہیں۔

مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع ہونے پر اگر مجسٹریٹ کو لگے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟗𝟎 کے مطابق اس کیس کے ٹرائل کا اختیار رکھتا ہے تو ٹرائل شروع کرتا ہے اور اگر اسے لگے اس کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا اختیار سیشن کورٹ کے پاس ہے تو وہ اس کیس کو سیشن جج کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ضابطہ فوجداری میں دونوں عدالتوں کے ٹرائل کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن یہاں ہم ٹرائل کو عام نقظہ نظر سے دیکھیں گے۔

ملزم کو دستاویزات کی فراہمی:
اگر تو ملزمان ضمانت پر رہا ہیں تو پولیس کے ذریعے انہیں بلایا جائے گا اگر تو وہ جیل میں ہیں تو بذریعہ جیل سپرانٹنڈنٹ انہیں بلایا جائے گا۔ جب ملزمان حاضر ہو جاتے ہیں تو چالان، گواہوں کے بیان اور جو بھی متعلقہ ڈاکومنٹ چالان کے ساتھ لف ہوتا ہے ان سب کی کاپیاں بغیر معاوضہ کے انھیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ڈاکومنٹس فرد جرم عائد ہونے سے کم از کم 𝟕 دن پہلے دینا لازم ہے تاکہ ملزم کو پتہ چل سکے کہ اس کے خلاف کیا کیس ہے اور کیا کیا ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں۔

ٹرائل کا آغاز:
اب ٹرائل کا مرحلہ آتا ہے۔ ٹرائل کا آغاز ملزم پر فرد جرم عائد کرنے سے ہوتا ہے۔ عدالت ملزم کو بتاتی ہے تمہارے اوپر یہ الزام ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اقبال جرم کرتا ہے یا جوابدہی کرے گا۔ ٹرائل کے دوران اگر تو ملزم اقبال جرم کر لے تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس کو سزا سنا دے۔ لیکن اگر عدالت کو لگے کہ وہ جھوٹا اعترافی بیان دے رہا ہے تو عدالت اس کے بیان کو رد بھی کر سکتی ہے۔
اگر ملزم اعترافی بیان نہیں دیتا تو پھر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوتا ہے اس کے بعد پرازیکیوشن(𝐩𝐫𝐨𝐬𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐨𝐧) کے گواہوں کے بیان ریکارڈ ہوتے ہیں اور ملزم کا وکیل ان پر جرح کرتا ہے۔ پرازیکیوشن کے پاس دو طرح کے گواہ ہوتے ہیں ایک تو پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں جو کہ مستغیث کے گواہ ہوتے ہیں مثلاً کہ چشم دید گواہ وغیرہ۔ دوسرے پولیس کے گواہ ہوتے ہیں جیسا کہ ایف آئی آر درج کرنے والا پولیس افسر۔
جب پرازیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو جاتے ہیں اس کے بعد ملزم کا 𝟑𝟒𝟐 کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جو کہ ہر حال میں لازم ہے۔ ملزم سے مختلف سوال پوچھے جاتے ہیں مثلاً اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ہے یہ گواہ آپ کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں۔ ملزم ان سوالوں کا عموماً یہ ہی جواب دیتا ہے کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور میں بے گناہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ اپنی صفائی میں کوئی ڈاکومنٹ یا کوئی گواہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنا گواہ بنتا ہوں تو 𝟑𝟒𝟎 کے تحت وہ حلف اٹھا کر اپنے ہی گواہ کے طور پر پیش ہوتا ہے اور بیان دیتا ہے اور پرازیکیوشن اس پر جرح کرتی ہے۔ لیکن عام طور پر ملزمان 𝟑𝟒𝟎 کے تحت اپنا ہی گواہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے حق میں کوئی گواہ پیش کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنا ہی گواہ خود بنے یا اپنے حق میں کوئی اور گواہ پیش کرے تو مخالف وکیل کو اس پر اور اس کے گواہ پر جرح کا حق ہوگا اور اس جرح میں ملزم پھنس سکتا ہے۔

بحث:
اب اگلا مرحلہ آرگومنٹ کا آتا ہے دونوں اطراف سے دونوں پارٹیز کے وکیل بحث کرتے ہیں۔

فیصلہ:
عدالت کیس کے متعلق فیصلہ سناتی ہے۔ فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ جج پہلے اسے لکھے اور پھر اس فیصلے کو عدالت میں سنائے۔ فیصلہ میں مجرم کو بری کر دیا جاتا ہے یا سزا سنائی جاتی ہے۔ اگر تو فیصلہ اس کی سزا کا ہے تو ملزم کو اپیل دائر کرنے کے لیے اس فیصلہ کی ایک نقل بلا اجرت دی جاتی ہے۔
Haqnawaz khan leghari Advocate High court District Bar Association dg khan.03338585338

12/07/2023

2023 CLC 1171

وکیل کے بیان میں دستاویز پیش کرکے دستاویزات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی ، اگر کؤی فریق کسی دستاویز پر انحصار کرتا ہے یا جن کی بنیاد پر مقدمہ دائر کرتا ہے تو وہ فریق خود سپنے بیان میں وہ شہادت میں پیش کرے گا تاکہ دوسرے فریق کو جرح کرنے کا مناسب موقع ملے۔ اگر فریق اپنے وکیل کے بیان میں کسی دستاویزی کو پیش کرے گا تو اس دستاویزات نہ بھروسہ کیا جاسکتا نہ ہی اسکو شہادت میں مانا جائے گا۔۔۔

2023 CLC 1171

Producing of document in statement of counsel --- Legality --- In the present case the relevant Jamabandi , copy of khasra gurdawari , copy of application as well as impugned gift mutation were produced in the statement of counsel for the beneficiaries / respondents , as such the same was considered as an invalid mode of tendering documents in evidence --- Documents relied upon or on the basis of which the case has been filed should be produced in the evidence by party itself giving a fair opportunity to the other party to cross - examine the same --- As such the documents produced by the respondents ' counsel could not be relied upon as valid evidence and such documents could not be taken into consideration.
Haqnawaz khan leghari Advocate High court
District Bar Association dg khan
03338585338

11/07/2023

Kinds of Qatl (Murder) تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کی اقسام

Qatl & its kinds

تعزایرات پاکستان کے تحت قتل کی چار اقسام ہیں
There are four kinds of qatal

1-Qatl-i-Amd –

Section 302b Of Pakistan Penal Code

Intention of causing death
Intention of causing bodily injury
An act which in ordinary course likely to cause death
قتل کی نیت سے کیا گیا جرم جس میں انسانی جسم کو ضربات اور زخم یا تکلیف دے کر قتل کیا جاے

Punishment u/s 302;
Death as qisas
Death, IOL as tazir
25 year as tazir

2-Qatl Shibh-i-amd

Section 315 of PPC

انسان کو زخم دینے کی نیت سے کریمنل عمل کیا جاے اور اس سے موت واقع ہوجاے

Intention of causing harm
By weapon or an act

Ordinary course not likely to cause death

Punishment u/s 316; liable to diyat, 25 year as tazir

3-Qatl-i-Khata

Section 318 of PPC

ایسا قتل جہاں نہ قتل کرنے کی نیت ہو اور نہ زخم دینے کی نیت ہو جو قتل غلطی سے ہوجاے

No intention of causing death or harm

Mistake of fact
Mistake of act
Punishment u/s 319; diyat, where rash and negligent act up to 5 year addition to diyat.

Punishment for Qatl i- Khata by reash or negligent driving; diyat, 10 year

4-Qatl bis Sabab

Section 321Pakistan Penal Code

No intention to cause death or harm
Some unlawful act which become cause of death

ایسا کریمنل اقدام جو قتل کرنے کی نیت سے نہ کیا گیا ہو مگر ایسے عمل سے قتل ہوجاے

Punishment; Diyat

Address

Dera Ghazi Khan

Telephone

03338585338

Website

http://www.tiktok.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haq nawaz khan leghari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share