ZH Bukhari Law Online

ZH Bukhari Law Online Rare Material on Laws, Rules, Regulations & Caselaws.

09/02/2026
15/01/2026

[PLD 2011 SC 241]
Held that a person who has not signed the document as attesting witness but has come to depose as marginal witness cannot be termed as attesting witness of the document.

09/10/2025

2011 PLD 117 Kar.
Master ABDUL BASIT Vs Dr. SAEEDA ANWAR.
Suit for damages & Compensation for medical negligence of doctor.
S.1 of Pakistan Medical and Dental Council Ordinance (###II of 1961) S.32---Suit for compensation and damages---Death of patient due to wrongful acts, gross negligence and carelessness in professional duties of doctor s---Proof---Lady doctor after examining gallbladder of deceased not properly functioning advised for his immediate operation in her hospital through a Professor/doctor ---Such hospital was not having proper operation theatre, pre and post operation facilities, competent and trained staff to look after such type of patients---Professor/doctor had operated patient on advice of Lady doctor without caring that patient was already suffering from jaundice and knowing that in such cases operations were not conducted---Professor had not attempted to go through patient's record, but had carried out operation in a post haste manner---Patient had died on account of a fistulae developed due to Professor's/doctor 's negligence and mishandling during operation---Inquiry Board constituted by Ministry of Health had found both such doctor s to be negligent in performing their professional duties while operating the deceased---According to report of the Board, Lady doctor as Senior Medical Officer in a Government Hospital was running a private clinic and hospital---Report of the Board stated that no general anesthesia was given to deceased prior to operation and only spinal anesthesia was given to her, which was a fatal negligence committed by doctor s---Life of deceased was in danger due to development of fistulae, for which Professor/doctor had advised husband of deceased that she needed re-operation, which showed that there was something wrong in the operation---Tests taken after operation showed abnormality of bilirubin, alkaline and phosphate presence in ascetics---Ultra-sound of whole abdomen showed enlargement of liver and spleen of deceased, but no heed was paid thereto by doctor s---doctor s had not taken any positive step to cure ailment caused to deceased due to their negligence nor had cared to conduct more tests, but kept on falsely informing husband of deceased that there was no need to worry---Record showed that Professor/doctor had never visited deceased after operation, but her husband contacted him at each occasion---Lady doctor seeing condition of deceased deteriorating day, to day took her to Government Hospital and got her admitted there for ICU treatment, when deceased had reached to a point of no return and could not survive there due to low condition as a result of septicemia---Evidence on record showed that defendants- doctor s were responsible for mismanaging case of deceased and had failed to perform their duty in a conscientious manner---Report of Medical Board showed that Lady doctor had mismanaged deceased and was responsible for wrong doings and mismanagement at her hospital apart from her professional gross negligence. Lady doctor was debarred from filing written statement as she did not receive notice of court, but had abused bailiff of court---Deceased had lost life due to gross negligence and carelessness committed by defendants/doctor s in their professional duties---Defendants were liable to pay damages in sum of Rs.10 Million each and pay Rs. one lac each to legal heirs of deceased, while Lady doctor was liable to pay to husband of deceased Rs. 3,65,000 as medical expenses incurred by him---High Court decreed the suit on such terms while directing Pakistan Medical and Dental Council to take necessary actions against defendants- doctors.

09/10/2025
19/09/2025

*سپریم کورٹ کے حالیہ تازہ ترین فیصلہ کی روشنی میں طلاق بدعت، عدت اور وراثت: فقہ اسلامی اور ملکی قانون کا تقابلی جائزہ""طلاق ثلاثہ کی قانونی افادیت: آئین، شریعت اور عدالتی نظائر کی روشنی میں"فقہ اور قانون میں عدت کے دوران وراثت کا حق: ایک تحقیقی مطالعہ"*

C.P.L.A.181/2023
Aziz Ahmad and others v. Mst. Musarat & another
Mr. Justice Shakeel Ahmad
09-04-2025
فیصلہ ۔۔۔
تین طلاقوں کا تصور — یعنی بیک وقت تین طلاقیں دینا — نہ قرآنِ پاک میں جڑیں رکھتا ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں اس کی بنیاد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف فقہی مکاتبِ فکر میں اس پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ فقہ جعفریہ اور مالکی فقہ اس طریقے کو درست تسلیم نہیں کرتیں، جب کہ شافعی مکتبِ فکر بھی اس سے متفق ہے۔ البتہ فقہ حنبلی کے نزدیک اگر نکاح مکمل ہو چکا ہو اور مخصوص انداز میں طلاق دی جائے تو تین طلاقیں ایک طلاق شمار کی جاتی ہیں۔

ان اختلافات اور فوری و یک طرفہ طلاق کے سماجی اثرات نے قانون ساز اداروں کو اس مسئلے میں مداخلت پر مجبور کیا، جس کا نتیجہ "مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961" کے سیکشن 7 کی ذیلی شق (3) کی صورت میں سامنے آیا۔ اس شق کے مطابق جب تک طلاق کا نوٹس یونین کونسل کے چیئرمین کو نہ دیا جائے اور نوے دن کی مدت نہ گزر جائے، طلاق نافذ نہیں ہوتی۔ اس مدت میں میاں بیوی کا ازدواجی رشتہ برقرار رہتا ہے تاکہ صلح و رجوع کا موقع مل سکے۔

قانون کی اس حکمت عملی کا مقصد جلد بازی میں دی جانے والی طلاقوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے اور یہ اسلام کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ قرآن مجید سورہ البقرہ میں واضح طور پر طلاق سے پہلے عدت و غور و فکر کی مدت مقرر کرتا ہے تاکہ نکاح جیسے مقدس بندھن کو فوری طور پر ختم نہ کیا جائے۔

اسلام نے اگرچہ ناگزیر حالات میں نکاح کو ختم کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن یہ عمل ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ ترین چیزوں میں شمار ہوتا ہے۔ طلاق کے نفاذ کے لیے قرآن نے ایک باقاعدہ طریقہ کار تجویز کیا ہے، جس میں عدت کی پابندی لازم ہے — خواہ طلاق ہو یا شوہر کا انتقال۔ عدت کا دورانیہ محض رسمی نہیں بلکہ اس کا مقصد رجوع، غور و فکر اور جذباتی فیصلوں پر نظرِ ثانی کا موقع فراہم کرنا ہے۔ مگر طلاقِ بدعت کو فوری نافذ العمل تسلیم کرنا ان مقاصد کو زائل کر دیتا ہے اور قرآن کی تعلیمات سے ٹکراتا ہے، جو نکاح اور اس کے خاتمے کو سنجیدگی سے لینے کا حکم دیتا ہے۔

C.P.L.A.181/2023
عزیز احمد و دیگر بمقابلہ مسرت بی بی و ایک اور
جسٹس شکیل احمد
مورخہ: 09 اپریل 2025

محمڈن لاء اور عائلی قوانین کا اسلامی و قانونی تجزیاتی جائزہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کی روشنی میں
1. تعارف
محمڈن لاء (Mohammadan Law) برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عائلی معاملات (نکاح، طلاق، وراثت، نان نفقہ، عدت، ولایت) کو منظم کرنے والا فقہی و روایتی نظام ہے، جو قرآن و سنت، اجماع، قیاس اور مختلف فقہی مکاتبِ فکر پر مبنی ہے۔ پاکستان میں یہ قوانین "مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961" اور دیگر ذیلی قوانین کے تحت عملی جامہ پہنتے ہیں۔

2. نکاح اور اس کی شرعی حیثیت
نکاح اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے، جو قرآن میں "میثاقِ غلیظ" (پکا عہد) قرار دیا گیا ہے (النساء:21)۔

فقہی اعتبار سے نکاح ایک عقدِ لازم (binding contract) ہے، جو ایجاب و قبول، گواہوں اور مہر پر مشتمل ہوتا ہے۔

پاکستان میں نکاح کا اندراج مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے (سیکشن 5)۔

3. طلاق اور اس کا طریقہ کار
اسلام میں طلاق ایک ناپسندیدہ لیکن جائز عمل ہے۔

قرآن میں طلاق کے لیے تین مراحل (طلاقِ رجعی، عدت، طلاقِ بائن) بیان کیے گئے ہیں (البقرہ: 229-231)۔

فقہی طور پر طلاق کو متعدد اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: رجعی، بائن، مغلظہ، اور طلاقِ بدعت۔

طلاقِ بدعت (یعنی بیک وقت تین طلاقیں دینا) کو بیشتر مکاتبِ فکر (مالکی، شافعی، جعفری) نے غیر شرعی اور خلافِ قرآن قرار دیا ہے۔

پاکستان میں سیکشن 7 (1) مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت طلاق کا نوٹس چیئرمین یونین کونسل کو دینا اور 90 دن کی عدت کا انتظار لازم ہے۔ اس دوران صلح کی کوشش کی جاتی ہے۔

4. عدت (Iddah) اور اس کی اہمیت
عدت قرآن کی واضح ہدایت ہے (البقرہ: 234، 228)۔

طلاق یا شوہر کی وفات کی صورت میں عورت کو عدت گزارنا لازم ہے۔

طلاق کی صورت میں تین حیض یا تین ماہ (اگر حیض نہ آتا ہو) اور وفات کی صورت میں چار ماہ دس دن۔

عدت میں وراثت کے حقوق بھی محفوظ رہتے ہیں، جیسا کہ عدالت عظمیٰ نے حالیہ فیصلے (CPLA 181/2023) میں قرار دیا کہ اگر شوہر کی وفات عدت کے دوران ہو جائے تو عورت وراثت کی حق دار ہو گی۔

5. وراثت (Inheritance)
اسلامی قانونِ وراثت نہایت مفصل اور عادلانہ ہے (النساء: 11، 12)۔

عورت کو بیٹی، بیوی، ماں، بہن کی حیثیت سے حصہ دیا گیا ہے۔

فقہ کے مطابق عدت میں موجود بیوی کو شوہر کی وفات پر وراثت ملتی ہے، چاہے طلاق دی گئی ہو، بشرطیکہ عدت باقی ہو۔

6. قانون اور فقہ کا باہمی تعلق
پاکستان کا عائلی قانون فقہ حنفی کو بنیادی حوالہ مانتا ہے، مگر آئینی طور پر "اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ قانون سازی" کا تقاضا کرتا ہے (آرٹیکل 227، آئین پاکستان)۔

عدالتیں فقہ، قرآن، سنت، اور قانون کا مشترکہ جائزہ لیتی ہیں۔

تین طلاقوں کے خلاف قانون سازی اسلامی اصولوں سے متصادم نہیں بلکہ عین موافق ہے، جیسا کہ عدالتی فیصلوں میں قرار دیا گیا ہے۔

7. حالیہ عدالتی نظائر
مسرت کیس (CPLA 181/2023): تین طلاقوں کے باوجود عورت کا عدت میں ہونے کی وجہ سے شوہر کی وراثت میں حصہ دار ہونا تسلیم کیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ طلاقِ بدعت فوری نافذ العمل نہیں، بلکہ نوے دن کا انتظار اور مصالحتی عمل لازم ہے۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔۔
اسلامی عائلی قوانین قرآن و سنت پر مبنی ہیں اور ان میں انسانی ہمدردی، عدل اور معاشرتی استحکام کا بھرپور لحاظ رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے مسلم فیملی لاز بھی انہی اصولوں کو قانونی شکل دیتے ہیں، جس میں طلاق، نکاح، عدت، وراثت جیسے حساس معاملات کو فقہی اور قرآنی روشنی میں حل کیا جاتا ہے۔ تاہم، جدید حالات میں قانونی تحفظات، مصالحتی کوششیں، اور عدالتی نگرانی اسلامی اصولوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے ایک مؤثر نظام فراہم کرتی ہیں۔

Financial Assistance by POP (27.08.2025)
27/08/2025

Financial Assistance by POP (27.08.2025)

16/08/2025

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 45 سال بعد سپریم کورٹ رولز 1980 کو منسوخ کر کے سپریم کورٹ رولز 2025 نافذ کر دیے ہیں، جو 6 اگست 2025 سے مؤثر ہیں۔ یہ نئے رولز عدالتی کارروائیوں میں شفافیت، کارکردگی، اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ذیل میں رولز 1980 اور رولز 2025 کا تقابلی جائزہ اور نئے رولز کی اہم خصوصیات پیش کی جا رہی ہیں:
تقابلی جائزہ: رولز 1980 بمقابلہ رولز 2025
پہلو
رولز 1980
رولز 2025
اپیل دائر کرنے کی مدت
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کے لیے مدت 30 دن تھی۔
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے۔
نظرثانی درخواست کی مدت
واضح طور پر مدت کا ذکر نہیں تھا، یا پرانے طریقہ کار پر عمل ہوتا تھا۔
نظرثانی درخواست کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کو فوری طور پر دوسرے فریق کو نوٹس دینا لازم ہے۔
رجسٹرار اعتراضات پر اپیل
اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت واضح نہیں تھی یا روایتی طریقہ کار پر انحصار تھا۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل 14 دن کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔
نظرثانی درخواست کے تقاضے
نئے شواہد یا دستاویزات کے لیے مخصوص تقاضوں کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔ نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ
غیر سنجیدہ یا پریشان کن درخواستوں کے لیے جرمانے کا کوئی واضح نظام نہیں تھا۔
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواست پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
نظرثانی درخواست کی سماعت
واضح طور پر بینچ کے تعین کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس
جیل درخواستوں پر فیس کے بارے میں واضح ہدایات نہیں تھیں۔
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی۔
کورٹ فیس
فیس کا ڈھانچہ پرانا تھا اور ڈیجیٹلائزیشن کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
نیا کورٹ فیس چارٹ جاری کیا گیا ہے، مثلاً: سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس 2500 روپے، آئینی درخواست کی فیس 2500 روپے، سول ریویو کی فیس 1250 روپے، سیکیورٹی چالان کی فیس 50,000 روپے، انٹرا کورٹ اپیل کی فیس 5000 روپے، وغیرہ۔
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت
ڈیجیٹلائزیشن یا آٹومیشن پر زور نہیں تھا۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ اور آٹومیشن کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
رولز کی تیاری
پرانے رولز 1980 میں بنائے گئے تھے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز لے کر رولز تیار کیے۔
نئے رولز 2025 کی اہم خصوصیات
مدت میں اضافہ:
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے، جو درخواست گزاروں کو زیادہ وقت فراہم کرتی ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت 14 دن مقرر کی گئی ہے۔
نظرثانی درخواستوں کے تقاضے:
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے یا حکم کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔
نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
درخواست پر دستخط کرنے والے وکیل یا فریق کو نظرثانی کی بنیاد مختصر طور پر بیان کرنا ہوگا۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ:
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواستوں پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دے گا۔
نظرثانی کی سماعت کا طریقہ کار:
نظرثانی کی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس معافی:
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی، جو قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو آسان بناتی ہے۔
نیا کورٹ فیس چارٹ:
نیا فیس چارٹ 6 اگست 2025 سے نافذ العمل ہے، جس میں شامل ہے:
سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس: 2500 روپے
آئینی درخواست کی فیس: 2500 روپے
سول ریویو کی فیس: 1250 روپے
سیکیورٹی چالان کی فیس: 50,000 روپے
انٹرا کورٹ اپیل کی فیس: 5000 روپے
پاور آف اٹارنی، کیویٹ، کنسائز اسٹیٹمنٹ کی فیس: 500 روپے
حلف نامہ کی فیس: 500 روپے
درخواست فیس: 100 روپے
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت:
نئے رولز میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور آٹومیشن کے ذریعے انتظامی کاموں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کم ہوگی اور عوام کے لیے عدالتی معلومات تک رسائی بہتر ہوگی۔
چیف جسٹس کی صوابدیدی اختیارات:
اگر کسی شق پر عمل درآمد میں مشکل پیش آئے تو چیف جسٹس کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر حکم جاری کر سکتے ہیں، جو رولز سے متصادم نہ ہو۔
رولز کی تیاری کا عمل:
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان، اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔ کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز طلب کیں۔
اہم فرق اور فوائد
زیادہ لچک: اپیلوں کی مدت بڑھانے سے درخواست گزاروں کو زیادہ وقت ملے گا، جو انصاف تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔
شفافیت اور جوابدہی: غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ اور نظرثانی کے سخت تقاضوں سے عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکا جائے گا۔
ڈیجیٹلائزیشن: جدید تقاضوں کے مطابق آٹومیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال عدالتی کارروائیوں کو تیز اور شفاف بنائے گا۔
جیل درخواستوں کی سہولت: فیس معافی سے قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔
نتیجہ
سپریم کورٹ رولز 2025 پرانے رولز 1980 کے مقابلے میں زیادہ منظم، شفاف، اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ رولز عدالتی کارروائیوں میں کارکردگی، شفافیت، اور انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن پر زور دینے سے عدالتی نظام جدید خطوط پر استوار ہوگا، جبکہ جرمانوں اور سخت تقاضوں سے غیر ضروری مقدمات کی روک تھام ہوگی۔

Address

District Complex Chakwal
Chakwal
48800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZH Bukhari Law Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to ZH Bukhari Law Online:

Share