Young Lawyers Forum Chakdara

Young Lawyers Forum Chakdara lawyers unity and brotherhood.

16/09/2024

آئینی ترامیم کے نکات۔۔اور ملک،قوم،ریاست،جمہوریت،جوڈیشری،وکلاء پر اثرات کیا ہوں گئیں
● آرمی چیف اور دیگر سروسز چیفس کی تقرری، دوباری تعیناتی اور برطرفی آرمی ایکٹ کے مطابق ہوگی۔۔ اور اس ایکٹ میں ترمیم نہیں کی جاسکے گی۔۔
یعنی کہ آرمی ایکٹ کو آئین کی حیثیت دینے کی تجویز ہے اور اس میں ترمیم صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔۔!!!

●مجوزہ بل کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری قومی اسمبلی کی کمیٹی تین سینئر ججز میں سے کرے گی۔۔ پہلا چیف جسٹس صدر پاکستان وزیراعظم کی سفارش جبکہ آئینی عدالت کے پہلے ججز کی تقرری صدر پاکستان چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں گے۔۔!!!

● نئی آئینی عدالت کا ہیڈ چیف جسٹس آف پاکستان ہو گا جس کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال ہو گی۔۔ (یعنی قاضی کی نوکری پکی)۔۔
جبکہ سپریم کورٹ کا سربراہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ ہو گا۔۔

● ججوں کے نکالنے کا بھی طریقہ کار آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل کیا جا رہا ہے۔۔!!! (یعنی جو جج حکم عدولی کرے گا۔۔ اسکو اٹھا کر گھر بھیج دیا جائیگا)

● آئینی ترمیمی بل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔۔
اسلام آباد ہاہیکورٹ کے ججز کی تقرری کے لیے قائم کمیشن میں اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ساتھ اسلام بار کا نمائندہ اور ایک وفاقی وزیر شامل ہوگا۔۔ موجودہ قانون کے مطابق چیف جسٹس اور سینئیر ترین جج کمیشن کا حصہ ہیں۔۔!!!

● مجوزہ ترمیم کے مطابق ججز کی تقرری کے لیے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی پر آئین کے آرٹیکل 68 کا اطلاق نہیں ہوگا۔۔ آئین کے آرٹیکل 68 کے مطابق ججز کے کنڈکٹ پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔۔ یعنی عملا آرٹیکل 68 کو آئین سے نکالنے کی ہی تجویز ہے۔۔!!!

● آئینی ترمیم کے ذریعے فورتھ شیڈول میں ترمیم کے ذریعے کنٹونمنٹ ایریاز میں آرمڈ فورسز کو ٹیکسز، ٹولز یا دیگر سروسز کے چارجز لگانے کا بھی اختیار دینے کی تجویز ہے۔۔!!!

● آئینی ترمیمی بل میں آرٹیکل 215 میں ترمیم کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ریٹائیرمنٹ کے بعد بھی کام جاری رکھیں گے۔۔ جب تک ان کی جگہ نئی تعیناتی نہیں ہوجاتی۔۔
یہی نہیں جو شخص پہلے کمشنر یا ممبر رہ چکا ہو اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قرارداد منظور کروا کر دوبارہ تین سال کے لیے عہدے پر تعینات کیا جاسکتا ہے۔۔!!! (یعنی یہ لوگ مکمل طور پر حکومت کی خوشنودی کیلئے کام کریں گے اپنی سروس میں۔۔ تاکہ بعد میں ایکسٹینشن لے سکیں)۔۔

● مجوزہ آئینی ترمیمی مسودے کے مطابق آرٹیکل 209 میں تبدیلی کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی نئی مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس کرے گا۔۔
سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اس کونسل میں واحد رکن ہوگا۔۔ جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے دو موسٹ سینئر ججز اور ہائیکورٹس کے دو موسٹ سینئر چیف جسٹس اس کا حصہ ہوں گے۔۔
کونسل کی اپنی رپورٹ یا کسی بھی ذریعے سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر کونسل خود سے یا صدر کسی بھی جج کے خلاف شکایت کی انکوائری کروا سکیں گے۔۔ اور انکوائری ثابت ہونے پر اس جج کو فارغ کیا جاسکے گا۔۔
رپورٹ اور شکایات میں مس کنڈکٹ کا الزام، یا ذہنی و جسمانی صلاحیت کی کمی، یا اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں کوتاہی جیسے کسی بھی الزام یا معاملے کی تحقیقات کی جاسکیں گی۔۔!!!

● سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا نئی مجوزہ وفاقی آئینی عدالت سمیت کسی بھی فورم پر کسی بھی گراونڈ کے تحت آئین کی کوئی شق یا ترمیم پر سوال نہیں اٹھایا جاسکے گا۔۔!!!

● فوجی عدالتوں کو مکمل آئینی تحفظ ملے گا۔۔!!!

● پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی 5 سینئر موسٹ کی بجائے 3 سینئر موسٹ ججز میں سے کریگی۔۔!!!

● آئینی ترمیمی بل کے مطابق نئی قائم کی جانے والی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری وزیراعظم کی ہدایت پر صدر کرے گا۔۔
حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے جتنے چاہے وفاقی آئینی عدالت میں ججز لگا سکے گی۔۔ جب تک ایکٹ آف مجلس شوری تعداد کا تعین نہیں کرتا۔۔ صدر تعداد کا تعین کرے گا۔۔ اور ججز کی تعیناتی آرٹیکل 75 اے کے تحت قائم کردہ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں صدر کرے گا۔۔ وفاقی آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے ججز کی تعداد برابر ہوگی۔۔!!!

● آئینی ترمیمی بل کی ترمیم نمبر 19 کے مطابق آرٹیکل 178 اے کا اضافہ کیا جائیگا۔۔ جس میں سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 کی بجائے 68 سال ہوگی۔۔
نئی مجوزہ وفاقی آئینی عدالت میں سپریم کورٹ کے سابق ججز کی تعیناتی اور چیف جسٹس کی تقرری 3 سال کی مدت کیلیے ہوگی۔۔!!!

● آرٹیکل 179 بی کے اضافے کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کی خالی سیٹ پر صدر مجوزہ طریقہ کار کو اپناتے ہوئے کسی ریٹائرڈ جج کو عارضی ججز کے طور پر لگا سکتا ہے۔۔ اور وہ تب تک لگا رہے گا جب تک صدر تعیناتی کالعدم نہ کرے۔۔!!!

● وفاقی آئینی عدالت وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے تنازعات کے کیسز سن سنے گی۔۔ بنیادی حقوق کے معاملات اور عوامی مفاد سے متعلقہ معاملے پر حتمی فیصلہ بھی دے سکے گی۔۔
26 وی آئینی ترمیم کے نافذ العمل ہوتے ہی سپریم کورٹ میں پینڈنگ آئینی کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر ہو جائیں گے۔۔ جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار محدود ہو جائیگا۔۔ (پختونخوا حکومت کو قابو میں کرنے کیلئے)۔۔

● مجوزہ آئینی ترمیمی مسودے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 200 میں ترمیم کی جائیگی۔۔ کہ کسی بھی ہائیکورٹ جج کو صدر جوڈیشل کمیشن کے طے کردہ دورانیے کیلیے کسی دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر کر سکے گا۔۔
وہ جج اپنی سروس کے حساب سے ہی سینئر یا جونیئر سمجھا جائیگا۔ ٹرانسفر ہونے والا جج اس ہائیکورٹ میں چیف جسٹس نہیں لگ سکے گا۔۔
اس سے قبل صدر کسی بھی ہائیکورٹ جج کو اسکی رضامندی، چیف جسٹس آف پاکستان اور دونوں ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بغیر ٹرانسفر نہیں کر سکتا تھا۔۔!!!

● مجوزہ آئینی ترمیمی مسودے کے مطابق آرٹیکل 199 میں ترمیم ہوگی کہ کوئی بھی ہائیکورٹ خود سے آرٹیکل 199 کی کلاز 1 کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔۔
جبکہ خفیہ ایجنسیوں کے غیر قانونی کام اور طریقہ کار کو آئینی و قانونی تحفظ دینے کیلیے " قومی سلامتی سے متعلقہ کسی بھی قانون کے تحت کام کرنے" کی سب کلاز کا اضافہ کیا جائیگا۔۔
جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے علاوہ کسی اور عدالت کے پاس ان معاملات کو دیکھنے کا اختیار نہیں ہوگا۔۔!!!

● آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت سب سے سپریم ہوگی اسلیے ملک بھر کی تمام عدالتیں بشمول سپریم کورٹ، حکومتیں اور ادارے وفاقی آئینی عدالت کی مدد کرنے کے پابند ہوں گے۔۔!!!

● نئی قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت کے پاس تمام فیصلوں اور آرڈرز پر پارلیمنٹ کے ایکٹ سے مشروط ریویو کا اختیار ہوگا۔۔
وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بھی ریویو کر سکے گی۔۔ اور اس کا فیصلہ تمام عدالتوں سمیت سپریم کورٹ پر بھی بائنڈنگ ہوگا۔۔
جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے علاوہ باقی تمام عدالتوں پر بائنڈنگ ہوگا۔۔ اور سپریم کورٹ کے پاس وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کو ریویو کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔۔!!!

● مجوزہ آئینی ترمیمی مسودے کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو کیسز کے ٹرانسفر کے خصوصی اختیارات ہوں گے۔۔
پوائنٹ نمبر 27 کے مطابق سپریم کو انصاف کو یقینی بنانے کی خاطر کسی بھی کیس، اپیل یا پروسیڈنگ کو ایک ہائیکورٹ سے دوسری میں بھیج سکتی ہے۔۔ آرٹیکل 199 کے تحت جاری پروسیڈنگ کو استثنا حاصل ہوگا۔۔
جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے پاس آرٹیکل 199 کے تحت جاری کسی بھی پروسیڈنگ کو ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ یا اپنے پاس ٹرانسفر کرنے کا اختیار ہوگا۔۔!!!
● اہم ترین قانونی معاملات اور آئینی تشریح کے معاملات کو نئی مجوزہ وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔۔ اگر کہیں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو وفاقی آئینی عدالت ہی طے کرے گی۔۔!!!

15/09/2024

*متنازعہ دستخط ثابت کرنے کا طریقہ کار*

متنازعہ دستخط یا مہر کو عدالت میں ثابت قانون شہادت کے آرٹیکل 84 کے تحت کیا جاتا ہے مذکورہ آرٹیکل کے تحت اگر عدالت کو کوئی لکھائی یا دستخط مشکوک لگیں یا کوئی فریق اعتراض اٹھاے تو مندرجہ ذیل سے تعین کیا جاسکتا ہے -

عدالت اس شخص کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے کر اسے کسی صاف کاغذ پر لکھنے کا حکم دے گی اور ایکسپرٹ کو بلوا کر ان دستخط کا موازنا کرے گی -

اگر اس شخص کے دستخط جعلی ثابت ہوے تو عدالت اس شخص کو تعزیرات پاکستان کے تحت سزا سنا سکتی ہے جس نے کاغذات جمع کراے ہونگے -

Disputed thumb impression can be compared with admitted one by court under provision of Art. 84 of QSO
2011 MLD 416

اس کیس لاء میں بھی عدالت نے قرار دیا ہے کہ عدالت متنازعہ انگوٹھا کو بھی ثابت کرنے کے لیے آرٹیکل 84 کے تحت اس شخص کو بلوا کر موازنہ کرسکتی ہے -

عدالت کے اوپر کوئی پابندی نہیں کہ وہ کسی شخص کو بلواے اور کسی شخص کو نہ بلواے پاکستان کی کوئی بھی عدالت کسی شخص کو حتی کہ وزیر اعظم یا آرمی چیف کو بھی پیش ہونے کا حکم دے سکتی ہے اگر انکے دستخط شدہ کوئی متنازعہ کاغذات جمع کراے جائیں -

یہ حق قانون شہادت کا آرٹیکل 84 عدلیہ کو عطا کرتا ہے متنازعہ دستخط پر مخالف فریق بھی اعتراض اٹھا سکتا ہے اور عدالت از خود بھی اپنی تسلی کے لیے موازنہ کراسکتی ہے -

جو ایکسپرٹ دستخط کا موازنہ کرنے کے لیے عدالت منگواتی ہے اس شخص کے بارے پہلے عدالت دونوں فریقن کے وکلاء سے راے لیتی ہے کہ آیا کسی فریق کو اس شخص کی اہلیت یا شخصیت پر اعتراض تو نہیں ہے.

17/04/2024
پاکستان میں منشیات مقدمات میں سزائے موت ختم کر دیا گیا ہے۔اب منشیات مقدمات میں صرف اور صرف عمر قید سزا دی جائے گیپاکستان...
09/04/2024

پاکستان میں منشیات مقدمات میں سزائے موت ختم کر دیا گیا ہے۔اب منشیات مقدمات میں صرف اور صرف عمر قید سزا دی جائے گی
پاکستان میں سزائے موت کا غلط استعمال کیا جاتا تھا ۔دنیا میں منشیات کے مقدمات میں سزائے موت کو غیر آئینی وقانونی وانسانی سزا تصور کی جاتی ہے
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے انسداد نشہ آور اشیاء ترمیمی بل 2022 منظور کر لیا
بل کے ذریعے انسداد نشہ آور اشیاء ایکٹ 1997 میں ترامیم منظور،بل کے ذریعے سزائے موت کو عمر قید سے بدل دیا گیا

الحمد اللہ کل مورخہ 30 مارچ 2024 کو چکدرہ بار میں سالانہ ایلکشن ہوا،ایلکشن میں ینگ لائیر فورم کے ممبران نے حصہ لیا،جسمیں...
31/03/2024

الحمد اللہ کل مورخہ 30 مارچ 2024 کو چکدرہ بار میں سالانہ ایلکشن ہوا،ایلکشن میں ینگ لائیر فورم کے ممبران نے حصہ لیا،جسمیں جناب مقدر شاہ ایڈوکیٹ فنانس سیکرٹری ،امجد نواز جنرل سیکرٹری ،شفقت خان جوائنٹ سیکرٹری اور ذیشان الدین لائبریرین سیکرٹری منتخب ہوۓ۔۔۔سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اللہ اپکوں کامیاب رکھیں امین۔

06/03/2024

سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر صدارتی ریفرنس ذولفقار علی بھٹو کیس میں آئینی وقانونی پوئنٹ رائے کا فیصلہ سنا دیا ہے
The reference filed by the President of Pakistan has provided us an
opportunity to reflect upon the proceedings of the trial, conviction and
death sentence of Mr. Bhutto, under the regime of the military dictator
General Zia Ul Haq. The reference was filed during the government of the
political party founded by Mr. Bhutto but the successive governments of
other major political parties carried forward this inquiry and did not opt to
withdraw the reference. This collective interest reflects the widespread
desire of the people of Pakistan to seek the opinion of this Court on whether
Mr. Bhutto was afforded a fair trial and due process for his trial for the
murder of Mr. Muhammad Ahmed Khan Kasuri.
4. With the able assistance of the eminent legal minds of the country,
we for the reasons to be recorded later and subject to amplifications and
explanations made therein, render an opinion on the referred questions in
the following terms:
Question (1)
Whether the decision of the Lahore High Court as well as the
Supreme Court of Pakistan in the murder trial against
Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto meets the requirements of fundamental
rights as guaranteed under Article 4, sub-Articles (1) and (2)(a),
Article 8, Article 9, Article 10A/due process, Article 14, Article 25 of
the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973? If it does
not, its effect and consequences?
Opinion
(i) The proceedings of the trial by the Lahore High Court and of the
appeal by the Supreme Court of Pakistan do not meet the
requirements of the Fundamental Right to a fair trial and due process
enshrined in Articles 4 and 9 of the Constitution and later
guaranteed as a separate and independent Fundamental Right under
Article 10A of the Constitution.
(ii) The Constitution and the law do not provide a mechanism to set
aside the judgment whereby Mr. Bhutto was convicted and sentenced; the said judgment attained finality after the dismissal of
the review petition by this Court.
Question (2)
Whether the conviction leading to ex*****on of Shaheed Zulfiqar Ali
Bhutto could be termed as a decision of the Supreme Court binding
on all other courts being based upon or enunciating the principle of
law in terms of Article 189 of the Constitution of the Islamic Republic
of Pakistan, 1973? If not, its effect and consequences?
Opinion
Referenced questions do not specify the principle of law enunciated
by this Court in the Zulfiqar Ali Bhutto case regarding which our
opinion is sought. Therefore, it cannot be answered whether any
principle of law enunciated in the Zulfiqar Ali Bhutto case has already
been dissented to or overruled.
Questions (3) and (5)
Whether in the peculiar circumstances of this case awarding and
maintaining of the death sentence was justified or it could amount to
deliberate murder keeping in view the glaring bias against Shaheed
Zulfiqar Ali Bhutto?
Whether on the basis of conclusions arrived at and inferences drawn
from the evidence/material in the case an order for conviction and
sentence against Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto could have been
recorded?
Opinion
In its advisory jurisdiction under Article 186 of the Constitution, this
Court cannot reappraise the evidence and undo the decision of the
case. However, in our detailed reasons, we shall identify the major
constitutional and legal lapses that had occurred with respect to fair
trial and due process.
Question (4)
Whether the decision in the case of murder trial against Shaheed
Zulfiqar Ali Bhutto fulfils the requirements of Islamic laws as codified
in the Holy Quran and the Sunnah of the Holy Prophet (SAW)? If so,
whether present case is covered by doctrine of repentance specifically
mentioned in the following Suras of Holy Quran:
(a) Sura Al-Nisa, verses 17 and 18; Sura Al-
Baqara, verses 159, 160 and 222; Sura Al-
Maida, verse 39; Sura Al-Aaraaf, verse 153; Sura
Al-Nepal, verse 119; Sura Al-Taha, verse 82; as
well as (b) Sunan Ibn-e-Maaja, Chapter 171,
Hadith No. 395.
What are effects and consequences of doctrine – Re: Repentance
Opinion
We were not rendered any assistance on this question, therefore, it
would be inappropriate to render an opinion.

Address

Chakdara Fort

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Young Lawyers Forum Chakdara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share