Bahrain Law Chamber

Bahrain Law Chamber Advocacy, lagal Advice, Work for justice,
High Court, Distract Courts, Tehsil Courts

۔۔۔اسلام علیکم۔۔۔۔۔بحرین لإ چیمبر کی طرف سے آپ سب کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عید الفطر کی ڈھیروں مبارکباد قبول ہو۔ اللہ ...
21/03/2026

۔۔۔اسلام علیکم۔۔۔۔۔
بحرین لإ چیمبر کی طرف سے آپ سب کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عید الفطر کی ڈھیروں مبارکباد قبول ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام عبادات، نمازیں، روزے، تروایح کو اپنی بارگاہِ الٰہی میں قبول و منظور فرمائے اور آپ کو عظیم اجر سے نوازے۔ آمین ثمہ آمین۔

اشفاق احمد ایڈوکیٹ ہاٸی کورٹ۔۔۔

06/03/2026
Please vote and Support..
05/03/2026

Please vote and Support..

Please Vote and Support
05/03/2026

Please Vote and Support

02/03/2026

*پریس ریلیز/مذمتی بیان*
*مورخہ 2, مارچ، 2026*
*سوات،*

*پشاور ہائی کورٹ، مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن* کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت *رضاءالدین خان ایڈوکیٹ سپریم کورٹ،* صدر پشاور ہائی کورٹ، منگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری کے فرائض *سرفراز خان(چکدروال) ایڈوکیٹ* سیکریٹری جنرل پشاور ہائی کورٹ منگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن نے انجام دیئے۔

بار ایسوسی ایشن نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر مذاکرات کی آڑ میں بزدلانہ اور غیر قانونی جارحیت کرکے ایرانی سپریم لیڈر اور رہب *آیت اللہ علی خامنہ ای* کے ہمراہ دیگر قومی رہنماؤں، ایرانی سکول پر بمباری کے نتیجے میں معصوم طلباء کو باقاعدہ ٹارگٹ کرکے شہید کرنے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی اور اس حملے کو عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا۔

بار ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے بتدریج مختلف مسلم ممالک پر جارحیت کرکے دنیا بالخصوص خطے کا امن داؤ پر لگا چکے ہیں جس سے انسانی المیہ اور بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

بار ایسوسی ایشن نے اس موقع پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید اور دیگر شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا بھی کی۔

*پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن* نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ایرانی عوام کی بروقت خوراک اور ادویات کی شکل میں امداد ارسال کریں اور فوری طور جنگ بندی کے لئے عالمی رہنماؤں سے رابطے کریں۔

بار ایسوسی ایشن نے کراچی میں پر امن مظاہروں کے دوران نہتے شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور اسکے نتیجے میں 40 سے زائد نہتے شہریوں کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس عمل کو آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا نیز بار ایسوسی ایشن وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس المناک سانحے پر جوڈیشل انکوائری کروائی جائے تاکہ ملوث افراد کا تعین کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

*پشاور ہائی کورٹ, منگورہ بنچ، بار ایسوسی ایشن* غم کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ برابر کے شریک ہے اور شہادتوں کے پیش نظر کل *مورخہ 03-03-2026 بروز منگل پوری ملاکنڈ ڈویژن میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔*

*سرفراز خان چکدروال ایڈوکیٹ*
*جنرل سیکرٹری*
پشاور ہائی کورٹ
مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن

NOT ALL WARRIORS CARRY SWORDS.SOME CARRY A SPINE.He survived assassination attempts meant to erase him.He lived through ...
01/03/2026

NOT ALL WARRIORS CARRY SWORDS.
SOME CARRY A SPINE.

He survived assassination attempts meant to erase him.
He lived through decades of crushing economic sanctions meant to break a nation.
He stood under relentless pressure—military, political, psychological—meant to force submission.

Yet he never bent.

While threats circled, he stood firm.
While isolation was imposed, he endured.
While compromise was offered at the cost of dignity, he refused.

This wasn’t the life of comfort.
This was the life of resistance.

History will remember many who chose safety.
But it remembers only a few who chose steadfastness when bending would have been easier.

He carried the weight of a cause through storms designed to sink him.
And through it all, he remained unmoved—
not because he was untouched by pain,
but because conviction outweighed fear.

A warrior is not defined by victory alone.
A warrior is defined by refusal to bow.

May Allah grant you the highest place in Jannah.

24/02/2026

"حضانت" اور "ولایت" میں فرق

(PLD 2025 Lahore 540)
(PLJ 2024 Lahore 413)

یہ بات واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ مسلم قانون میں "ولایت" (Guardianship) اور "حضانت" (Custody) میں فرق موجود ہے۔ جیسا کہ تقریباً ہر قانونی نظام میں، مسلمان قانون کے مطابق بھی باپ بچے کا قدرتی ولی ہوتا ہے، یعنی وہ بچے کے شخص اور اس کے مال کا قانونی نگران ہوتا ہے۔

تاہم، اسلام ماں کو بچے کی حضانت کا پہلا حق دار تسلیم کرتا ہے۔ اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ ایک انسانی بچے کی پرورش، دیکھ بھال، کفالت اور تربیت ماں کے ذریعے بہتر طور پر ممکن ہے تاکہ وہ ایک مفید انسان بن سکے۔ ماں میں فطری طور پر محبت و شفقت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اس ذمہ داری کے لیے موزوں ترین شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے "حضانت" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

"حضانت" کا لفظ عربی کے لفظ "حِضْن" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "ماں کی گود"۔ یعنی بچے کو ماں کی گود میں دینا تاکہ وہ اسے محبت اور نگہداشت کے ساتھ پال سکے۔

اسلام اور قانون دونوں میں ماں کے حقِ حضانت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر باپ دعویٰ کرے کہ وہ بچے کا ولی ہے تو بھی قانوناً ماں کو مخصوص عمر تک بچے کی حضانت کا حق حاصل رہے گا۔

اگر ماں نے کسی وقت کسی شرط پر یا کسی مجبوری کے تحت اپنا حق حضانت ترک بھی کر دیا ہو تو وہ ترک کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا، اور ماں سے اس ترک پر قانونی مواخذہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس کے حضانت کے حق کے ترک میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہ ہو تو وہ دوبارہ اپنا حقِ حضانت حاصل کرنے کی اہل ہوتی ہے اور اس سے محروم نہیں کی جا سکتی۔

قانونِ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت سیشن جج، ایڈیشنل سیشن جج یا ہائی کورٹ کے سامنے کارروائی کی جا سکتی ہے اگر کوئی شخص غیر قانونی یا غلط طریقے سے کسی کی تحویل میں ہو۔ اسی طرح آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 199(1)(b)(i) کے تحت بھی حبسِ بےجا (Habeas Corpus) کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے جب کوئی شخص بغیر قانونی اختیار کے یا غیر قانونی طریقے سے زیرِ حراست ہو۔

یہ آرٹیکل عموماً اس وقت لاگو ہوتا ہے جب کسی فریق کی جانب سے کسی کی تحویل میں بدعنوانی (malfeasance)، نااہلی (misfeasance)، یا غفلت (nonfeasance) برتی گئی ہو۔ تاہم، ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز میں دفعہ 491 کے تحت دائر کی گئی درخواست اور آرٹیکل 199 کے تحت دائر کردہ درخواست کے طریق کار اور فیصلے کے انداز میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔

ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز کا چیپٹر 4-F، والیوم V، قانونِ فوجداری کی دفعہ 491(2) کے تحت بنائے گئے قواعد پر مشتمل ہے، جو ایسی درخواستوں کی کارروائی کو منظم کرتا ہے۔

قانون کے مطابق، ماں کو بچے کی مقررہ عمر تک حضانت کا ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر میاں بیوی میں طلاق بھی واقع ہو چکی ہو، تو بھی ماں اس حقِ حضانت سے محروم نہیں ہوتی، سوائے ان صورتوں کے جو محمدن لا (Para 354) میں بیان کی گئی ہیں، بشرطیکہ ولی عدالت اس کا تعین کرے۔

⚖️ قانونی آگاہی: جعلی سرکاری عہدیدار اور مجرمانہ سازش کے سنگین نتائج۔۔۔سوات پولیس کی بڑی کارروائی! خود کو صوبائی حکومت ک...
21/02/2026

⚖️ قانونی آگاہی: جعلی سرکاری عہدیدار اور مجرمانہ سازش کے سنگین نتائج۔۔۔

سوات پولیس کی بڑی کارروائی! خود کو صوبائی حکومت کا "لیگل ایڈوائزر" ظاہر کرنے والا دھوکہ باز اور اس کا سہولت کار پولیس اہلکار اب سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
حالیہ واقعہ (جس میں ایک شخص نجیب خان خود کو "صوبائی لیگل ایڈوائزر" ظاہر کر کے پولیس پر دباؤ ڈال رہا تھا) کا قانونی تجزیہ عوام الناس اور متعلقہ اداروں کے لیے پیشِ خدمت ہے:

​1. متعلقہ قانونی دفعات (Relevant Penal Provisions)
​اس نوعیت کے جرم میں تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی درج ذیل دفعات کا اطلاق ہوتا ہے:

​دفعہ 170 (Personating a Public Servant): جو کوئی سرکاری ملازم نہ ہوتے ہوئے خود کو سرکاری ملازم ظاہر کرے، اسے 2 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

​دفعہ 419 (Punishment for Cheating by Personation): کسی دوسرے کا روپ دھار کر یا فرضی حیثیت سے دھوکہ دہی کرنے پر 7 سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔
​دفعہ 120-B (Criminal Conspiracy): چونکہ پولیس اہلکار حمید اللہ اس سازش میں شریک تھا، اس لیے اس پر مجرمانہ سازش کی دفعہ لگے گی، جس کی سزا اصل جرم کے برابر ہی ہوتی ہے۔

​دفعہ 506 (Criminal Intimidation): افسران کو دھمکانے کی صورت میں 2 سے 7 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
​2. پولیس رولز اور محکمانہ کارروائی
​پولیس اہلکار حمید اللہ کا فعل نہ صرف فوجداری جرم ہے بلکہ Police Rules 1934 اور Efficiency and Discipline (E&D) Rules کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے:
​مذکورہ اہلکار کو فوری طور پر Dismissal from Service (ملازمت سے برطرفی) کا سامنا کرنا پڑے گا۔
​یاد رہے کہ وردی کی آڑ میں جرائم کی سہولت کاری کرنے والے اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے۔

​ کسی بھی شخص کے "لیگل ایڈوائزر" یا سرکاری عہدیدار ہونے کے دعوے پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں، بلکہ آفیشل نوٹیفیکیشن یا کارڈ کا مطالبہ کریں۔
​رپورٹ کریں: اگر کوئی آپ کو فون پر سرکاری عہدہ استعمال کرتے ہوئے دھمکائے، تو فوری طور پر 15 پر اطلاع دیں یا متعلقہ تھانے سے رجوع کریں۔
​"قانون کی لاعلمی کوئی عذر نہیں (Ignorantia Juris Non Excusat)"
آئیے مل کر ایک باقاعدہ اور قانون پسند معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

21/02/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک نہایت اہم اور حالیہ فیصلہ ہے (C.P.L.A. No. 5626/2024)، جس میں خاندانی قوانین، غیر رجسٹرڈ نکاح، اور خاص طور پر "حیاتیاتی بچے" (Biological Child) کے حقوق کے حوالے سے اہم اصول طے کیے ہیں

​مقدمے کے حقائق اور عدالتی کارروائی
​فریقین: محمد شہزاد (سائل) بنام مسماۃ عائشہ نور وغیرہ (جواب دہندگان)۔
​بنیاد: عائشہ نور نے "دعویٰ تکذیبِ نکاح" (Jactitation of Marriage) دائر کیا تھا، جبکہ محمد شہزاد نے "دعویٰ حقوقِ زن شوئی" (Restitution of Conjugal Rights) دائر کر رکھا تھا، جس میں اس نے 03.04.2020 کو ہونے والے ایک مبینہ "شرعی نکاح" کا سہارا لیا۔
​خاندانی تعلق: ریکارڈ کے مطابق عائشہ نور سائل کی بھانجی/بھتیجی لگتی تھی (سائل اس کا سگا پھوپھا تھا)۔ سائل پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کی بیوی عائشہ نور کی سگی پھوپھی تھی۔
​نچلی عدالتوں کا فیصلہ: فیملی کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے محمد شہزاد کے نکاح کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا تھا، جس کے خلاف وہ سپریم کورٹ پہنچا۔
​اہم قانونی نکات کی وضاحت
​محرمات اور ممنوعہ رشتے (Prohibited Degrees): عدالت نے قرار دیا کہ سائل کی اپنی بیوی کی موجودگی میں اس کی بھتیجی/بھانجی سے شادی قانوناً جائز نہیں تھی اور یہ ممنوعہ رشتوں کے زمرے میں آتی ہے۔
​نکاح کی رجسٹریشن (Section 5, MFLO 1961): سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 کے تحت ہر نکاح کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ غیر رجسٹرڈ نکاح نامہ قانونی اہمیت نہیں رکھتا، خاص طور پر جب اسے ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو۔
​حیاتیاتی بچہ اور نان نفقہ (Biological Child vs Legitimate Child): یہ اس کیس کا سب سے اہم نکتہ ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ نکاح ثابت نہیں ہوا، لیکن ڈی این اے یا دیگر شواہد سے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ شخص بچے کا "حیاتیاتی باپ" (Biological Father) ہے، تو وہ اس بچے کو نان نفقہ دینے کا پابند ہے۔ بچہ معصوم ہے اور والدین کے غیر قانونی تعلق کی سزا بچے کو نہیں دی جا سکتی۔
​عدالتی عمل کا ناجائز استعمال: عدالت نے نوٹ کیا کہ سائل نے محض خاتون کو ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے لیے جھوٹے نکاح کا سہارا لیا۔

🚨 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: جھوٹے نکاح کے دعوے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ!
​⚖️ کیس کی تفصیل:
ایک شخص (جو لڑکی کا پھوپھا تھا) نے اپنی ہی بھتیجی/بھانجی پر زبردستی اور ہراساں کرنے کے لیے "شرعی نکاح" کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ فیملی کورٹ سے ہائی کورٹ تک اس کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا، لیکن وہ باز نہ آیا اور سپریم کورٹ پہنچ گیا۔
​💡 سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس:
✅ غیر رجسٹرڈ نکاح کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: نکاح کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے، ورنہ اسے ثابت کرنا ناممکن ہے۔
✅ حیاتیاتی بچے کا حق: اگر نکاح ثابت نہ بھی ہو، تب بھی "حیاتیاتی باپ" اپنے بچے کو نان نفقہ دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔ بچے کا حقِ زندگی اور وقار سب سے مقدم ہے۔
✅ خواتین کا تحفظ: عدالتوں کو خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
​💰 بھاری جرمانہ:
سپریم کورٹ نے سائل کی اپیل خارج کرتے ہوئے اسے 10 لاکھ روپے (1 Million) مثالی جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تاکہ آئندہ کوئی عدالتوں میں جھوٹے مقدمات نہ لائے۔

⚖️ پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: ایڈیشنل سیشن جج ملازمت سے برطرف​پشاور ہائیکورٹ نے عدلیہ کے وقار اور نظم و ضبط پر سمجھوتہ...
21/02/2026

⚖️ پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: ایڈیشنل سیشن جج ملازمت سے برطرف

​پشاور ہائیکورٹ نے عدلیہ کے وقار اور نظم و ضبط پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے ایک اور اہم تادیبی کارروائی کی ہے۔

: دورانِ ملازمت نااہلی، فرائض میں غفلت اور ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی،

​ذرائع کے مطابق جوڈیشل افسر فدا محمد کے خلاف محکمہ جاتی بنیادوں پر ایک ڈسپلنری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے ان پر عائد الزامات کی تفصیلی انکوائری کی، جس میں ان کی نااہلی اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے ثبوت سامنے آئے۔

​🚫 زیرو ٹالرنس پالیسی:

​پشاور ہائیکورٹ نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد فدا محمد ایڈیشنل سیشن جج بحرین سوات کو فوری طور پر ملازمت سے برخواست کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتی نظام میں کوتاہی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں جوڈیشل سسٹم میں شفافیت لانے کے لیے ڈسپلنری کارروائیوں میں تیزی دکھائی ہے۔
10 فروری کو پشاور ہائی کورٹ نے دو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو بھی ملازمت سے برطرف کیا تھا جن میں ​مدثر شاہ ترمذی (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)
​شیخ افضل (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج) شامل تھے۔​ان ججز کو بھی ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) کی خلاف ورزی اور مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر برطرف کیا گیا۔اسی دوران ایک اور جوڈیشل افسر، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حافظ نسیم اکبر نے اپنے عہدے سے خود ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔

20/02/2026

🦌 مارخور کا شکار: قانونی ٹرافی ہنٹنگ یا 'خاموش' غیر قانونی عمل؟

​خیبر پختونخوا کا فخر، مارخور، صرف ایک جانور نہیں بلکہ ہمارا قومی نشان ہے! 🇵🇰 اس کے تحفظ کے لیے Khyber Pakhtunkhwa Wildlife and Biodiversity Act 2015 ایک واضح دیوار کی طرح موجود ہے، لیکن کیا حالیہ واقعے میں اس قانون کی روح برقرار رکھی گئی؟

​⚖️ قانون کیا کہتا ہے؟ (شفافیت کے 4 ستون)
​1️⃣ اوپن آکشن: مارخور کے شکار کا پرمٹ صرف بین الاقوامی شفاف نیلامی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔
2️⃣ مخصوص کوٹہ: صرف زائد العمر (Trophy size) نر مارخور کا شکار جائز ہے؛ مادہ یا کم عمر جانور کا شکار سنگین جرم ہے۔
3️⃣ کمیونٹی کا حق: حاصل ہونے والی رقم کا 80% حصہ مقامی کمیونٹی (VCC) کو ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنے علاقے کی ترقی پر خرچ کریں۔
4️⃣ قانونی دستاویزات: ٹرافی کی منتقلی کے لیے باقاعدہ 'ٹرانسپورٹ پرمٹ' اور ریکارڈ کا ہونا لازمی ہے۔

​اگر کسی مخصوص واقعے میں درج ذیل معلومات سامنے نہیں لائی جاتیں، تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں:
​📢 نیلامی کی تاریخ اور کامیاب بولی دہندہ کا نام کیا ہے؟
​💰 ادا شدہ رقم اور مقامی کمیٹی (VCC) کا حصہ کہاں ہے؟
​📝 قانونی پرمٹس کے بغیر ٹرافی کو صوبے سے باہر کیسے منتقل کیا گیا؟
​"شفافیت قانون کی روح ہے" — اگر سب کچھ ضابطے کے مطابق ہوا ہے، تو محکمہ وائلڈ لائف کو مکمل ریکارڈ عوامی سطح پر جاری کرنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، یہ غیر قانونی شکار (Poaching) کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا قید، بھاری جرمانہ اور اسلحہ و گاڑی کی ضبطگی ہے! 🚫
​📢 ہمارا مطالبہ:
​عوام کا حق ہے کہ انہیں اپنے قومی اثاثے کے بارے میں مستند معلومات فراہم کی جائیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو!

*پریس ریلیز**پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن*پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن کے *صدر جناب رضاالد...
17/02/2026

*پریس ریلیز*

*پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن*

پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن کے *صدر جناب رضاالدین خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ* نے صوبہ مردان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج طورو قیوم آباد روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں *معزز قانون دان نور بادشاہ طورو ایڈووکیٹ* جان بحق ہو گئے، جبکہ ان کا کمسن بیٹا مامون طورو شدید زخمی ہوا۔ اس واقعہ میں دو دیگر راہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔

بار ایسوسی ایشن اس بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ وہ ایک مخلص، باکردار اور پیشہ ور قانون دان تھے جن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

بار ایسوسی ایشن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ مردان سے مطالبہ کیا ہے کہ وکلا اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اس واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

مزید برآں، خیبر پختونخوا بار کونسل نے اس المناک واقعہ کے خلاف احتجاجاً *بروز بدھ، مورخہ 18 فروری 2026* کو پورے صوبہ خیبر پختونخوا میں مکمل عدالتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کی *پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن بھرپور تائید کرتی ہے۔*

*سرفراز خان (چکدروال) ایڈوکیٹ*
*جنرل سیکرٹری*
پشاور ہائی کورٹ
مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن

Address

Bahrain
19010

Opening Hours

Monday 08:00 - 18:00
Tuesday 08:00 - 18:00
Wednesday 08:00 - 18:00
Thursday 08:00 - 18:00
Friday 08:00 - 18:00
Saturday 08:00 - 18:00

Telephone

+923133205666

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahrain Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category