Lawyers of Bahawalpur

Lawyers of Bahawalpur Advocate ⚖️ | Voice for the voiceless.

10/08/2026

The Colonial Justice System
2025 Ranking by World Justice project, Pakistan ranked 104 out of 143 one step ahead of previous year (2024), overall ranking.
104/143 (103rd in 2024) for constraints on government powers, 123/143 (2024 ranking120th) for corruption, 109/143 (106 in 2024) for open government, 128/143 (125th in 2024) for fundamental rights, 143/143 for order and security, 127/143 for regulatory enforcement, 129/143 (128th in 2024) for civil justice and 101/143 (98th in 2024) for criminal justice. Among the six South Asian states, Pakistan is at the bottom of the index.

Advance Happy Independence Day....

بھاولپور کے دوستوں سے استدعا ہے کہ مسرور بلوچ صاحب کو اپنے قیمتی ووٹ سے نوازیں۔ انتہائی ممنون و مشکور رہینگے۔
08/08/2026

بھاولپور کے دوستوں سے استدعا ہے کہ مسرور بلوچ صاحب کو اپنے قیمتی ووٹ سے نوازیں۔ انتہائی ممنون و مشکور رہینگے۔

02/08/2026

کرپٹو کرنسی، USDT/P2P ٹریڈنگ، PECA، FERA سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم وصول ہونا جرم ثابت نہیں کرتا۔
صرف P2P یا USDT ٹرانزیکشن جرم نہیں۔
فوجداری ذمہ داری ہمیشہ انفرادی ہوتی ہے۔
ہر ملزم کا کردار الگ الگ ثابت کرنا ضروری ہے۔
PECA کی دفعات لگانے کے لیے الیکٹرانک فراڈ یا جعلی ڈیٹا کا واضح ثبوت ضروری ہے۔
PPC کی دفعات 468 اور 471 صرف جعلی دستاویز یا جعلی الیکٹرانک ریکارڈ کی موجودگی میں لاگو ہوں گی۔
USDT کو خودکار طور پر Foreign Currency یا Foreign Exchange قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Crl. Misc. No. 1974-B/2026
Hammad Ali and others Vs The State and another
2026LHC4849

24/07/2026

2026 LHC 4758
(Guidelines for Family Courts)
لاہور ہائی کورٹ نے پیرا 10 میں فیملی کورٹس کے لیے درج ذیل اصول وضع کیے ہیں:
1. حقِ مہر ایک ملکیتی حق (Proprietary Right) ہے
حقِ مہر نکاح کے معاہدے سے پیدا ہونے والا قانونی حق ہے۔
یہ شوہر کے لیے سزا یا عدالت کی صوابدیدی رعایت نہیں۔
واضح قانونی بنیاد کے بغیر حقِ مہر ضبط، کم یا تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

2. فسخِ نکاح اور حقِ مہر الگ حقوق ہیں
نکاح کے خاتمے کا فیصلہ خود بخود حقِ مہر کا فیصلہ نہیں کرتا۔
حقِ مہر کے بارے میں علیحدہ قانونی اور ثبوتی فیصلہ ضروری ہے۔

3. PLD 2022 FSC 25 کا اثر
فیملی کورٹ ہر کیس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔
یہ دیکھنا ہوگا کہ علیحدگی صرف بیوی کی ناپسندیدگی کی وجہ سے ہے یا شوہر کے قصور کی وجہ سے۔

4. ہر مقدمہ خلع نہیں ہوتا
صرف لفظ "خلع" لکھ دینے سے مقدمہ خلع نہیں بن جاتا۔
اگر بیوی نے 1939 کے قانون کی دفعہ 2 کے تحت کوئی قانونی گراؤنڈ اختیار کیا ہے تو فیصلہ اسی بنیاد پر ہوگا۔
بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر عدالت خلع نافذ نہیں کر سکتی۔

5. ظلم (Cruelty) کی وسیع تشریح
جسمانی تشدد کے علاوہ:
ذہنی تشدد
زبانی بدسلوکی
جذباتی اذیت
معاشی استحصال
جھوٹے الزامات
نان نفقہ نہ دینا
والدین سے رقم لانے کا مطالبہ
بلا جواز گھر سے نکال دینا
یہ سب ظلم میں شامل ہو سکتے ہیں۔

6. اگر دفعہ 2 ثابت ہو جائے
Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کی دفعہ 2 کے کسی بھی گراؤنڈ کے ثابت ہونے پر:
حقِ مہر مکمل برقرار رہے گا۔
شوہر کسی حصے کی واپسی کا حق دار نہیں ہوگا۔
غیر ادا شدہ حقِ مہر بھی مکمل ڈگری کیا جائے گا۔

7. خلع میں بھی حقِ مہر کی ضبطی خودکار نہیں
اگر مقدمہ واقعی خلع کا ہو تب بھی حقِ مہر کی واپسی لازمی نہیں۔
عدالت وجوہات کے ساتھ طے کرے گی کہ کتنا، اگر کچھ، واپس کیا جا سکتا ہے ۔
جو حقِ مہر ادا ہی نہیں ہوا، اس کی واپسی کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔

8. شک کی صورت میں فائدہ بیوی کو
اگر ثبوت متوازن ہوں اور عدالت یقین سے فیصلہ نہ کر سکے تو شک کا فائدہ حقِ مہر کے معاملے میں بیوی کو دیا جائے گا۔

9. وجوہات پر مبنی فیصلہ ضروری
ہر حکم میں واضح طور پر لکھا جائے:
کون سا قانونی گراؤنڈ ثابت ہوا؟
حقِ مہر کیوں برقرار رکھا گیا یا کیوں واپس کرنے کا حکم دیا گیا؟
بغیر وجوہات کے حکم قانون کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
مختصر
"اگر شوہر کا ظلم یا 1939 ایکٹ کی دفعہ 2 کا کوئی گراؤنڈ ثابت ہو جائے تو حقِ مہر مکمل محفوظ رہے گا؛ جبکہ خلع کی صورت میں بھی حقِ مہر کی واپسی خودکار نہیں بلکہ حقائق کے مطابق عدالت فیصلہ کرے گی۔"

17/07/2026
17/07/2026

PLD 2026 Lahore 593
Where a substantive remedy akin to appeal or revision under Section 14 of the Federal Ombudsman Institutional Reforms Act, 2013 is available and has been invoked, the bar in the proviso to Section 3(2) of the Law Reforms Ordinance, 1972 stands attracted, rendering an intra-court appeal under Section 3 of the Ordinance not maintainable.
ICA-130-25
MUHAMMAD UMAIR FAROOQI VS FEDERATION OF PAKISTAN ETC.

17/07/2026

Responsibilities of Public Authorities in contesting court matters.
-------------------------
The Public authorities are obligated to contest the Court cases vigilantly with due diligence. Failure to do so amounts to the breach of their duty. In the case at hand, serious lapses, negligence and reckless conduct is apparent from the record. Despite various opportunities and change of counsel, CDA failed to actively defend the civil suit in question. In spite of availing various opportunities, neither any written statement was filed nor even after declaring ex-parte did the counsel appear to avail the opportunity of cross examination to the plaintiff, heedless demeanour which debilitated their case and endorsed the case of plaintiff. Engaging counsel does not absolve or exonerate a party leaving the case at the mercy of counsel, rather the negligence or laxity of a lawyer is by and large considered the negligence of the client seemingly as the principal and agent. In the scarcities of the sense of responsibility of counsel who disappear from Court despite engagement by his client, the court has no control over but as a consequence of such callous conduct, it is the client who suffers the adverse repercussions and not the opposing party. Every litigant should have a sense of duty to follow up his case with due attentiveness. On passing ex- parte decree, a valuable right accrues in favour of the successful party and ex parte decree cannot be recalled unless the defendant proves sufficient cause which should not be simply based on irresponsible conduct of counsel. If the counsel negligence is treated so sacrosanct, this will become a much loved and most favourable elected device of a litigant to intentionally delay the proceedings and after declaring ex-parte in every case, adopt this strategy and shift the entire burden on the shoulders of counsel, exonerating himself from the responsibility of seriously pursuing the Court case to safeguard his interest. A party cannot relegate whole accountability on his lawyer or the court but it is supposed to make inquiries for regular update in the progress of the lawsuit. However in the interest of justice, the Courts may intervene if the absence of counsel was due to circumstances beyond the control, such as the death or incapacitation of the lawyer or owing to some other force majeure circumstances, which can be distinguished from species of ordinary or gross negligence.

C.P.L.A.2284/2025
Capital Development Authority (CDA), through Chairman, Islamabad and others v. Dr. Sheikh Muhammad Shoaib Shafi and another
2026 SCMR 1033

16/07/2026

🚨 وراثتی یا مشترکہ زمین کی تقسیم اب برسوں تک نہیں لٹکائی جا سکتی!

⚖️ لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
2025 MLD 31

اگر آپ کی وراثتی یا مشترکہ زمین کی تقسیم کا معاملہ ریونیو آفس میں عرصہ دراز سے زیر التوا ہے، تو یہ فیصلہ آپ کے لیے نہایت اہم ہے۔

ہائی کورٹ نے واضح قرار دیا ہے کہ مشترکہ یا وراثتی زمین کی تقسیم ہر شریکِ ملکیت کا بنیادی قانونی حق ہے۔ ریونیو آفیسر محض فائلیں سنبھالنے کے لیے نہیں، بلکہ قانون کے مطابق بروقت کارروائی اور فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ:

✅ اگر شریک مالکان متفق ہوں تو تقسیم کی منظوری قانون کے مطابق دی جائے۔
✅ اختلاف کی صورت میں ریونیو آفیسر فوری طور پر تقسیم کی کارروائی شروع کرے۔
✅ تقسیم کی کارروائی بلاجواز تاخیر کا شکار نہیں بنائی جا سکتی۔
✅ اگر ملکیت سے متعلق تنازع سامنے آئے تو متعلقہ قانونی دفعات کے تحت اس کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
✅ بلاجواز تاخیر یا عدم فیصلہ کی صورت میں متاثرہ فریق ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔

📚 حوالہ: 2025 MLD 31 (Lahore High Court)

⚠️ اگر آپ کی تقسیمِ اراضی کی درخواست بھی مہینوں یا برسوں سے زیر التوا ہے، تو یہ فیصلہ آپ کے قانونی حقوق کے تحفظ میں اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
0300 7389621

16/07/2026

⚖️ فیملی کورٹ میں جھوٹی گواہی اور جعلی دستاویزات پر قانونی کارروائی — سندھ ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

سندھ ہائیکورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ فیملی کورٹ، سول کورٹ کا درجہ رکھنے کے باعث، نہ صرف گواہی ریکارڈ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے بلکہ عدالت کے روبرو جھوٹی گواہی (Perjury) دینے یا جعلی دستاویزات پیش کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی بھی کر سکتی ہے۔ اس لیے عدالتی کارروائی کے دوران کسی بھی فریق کی جانب سے دانستہ طور پر غلط بیانی یا جعلی شواہد پیش کرنا ایک سنگین قانونی جرم ہے۔

📌 کیس کا پس منظر
🔹 زیورات کی واپسی کے مقدمے میں شوہر نے اپنے مؤقف کے حق میں مبینہ طور پر جعلی رسیدیں عدالت میں پیش کیں۔
🔹 متعلقہ جیولر نے عدالت کے سامنے ان رسیدوں کے اجراء سے واضح طور پر انکار کر دیا، جس سے ان دستاویزات کی صداقت مشکوک ہو گئی۔
🔹 اس بنیاد پر بیوی نے شوہر کے خلاف جھوٹی گواہی اور جعلی دستاویزات پیش کرنے پر کارروائی کی درخواست دائر کی، تاہم فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔
🔹 سندھ ہائیکورٹ نے دونوں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ فیملی کورٹ اس معاملے کا خود نوٹس لے یا سیکشن 476-A کے تحت قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ مجاز عدالت کو ریفرنس بھیجے۔

⚖️ متعلقہ قانونی دفعات
• دفعہ 193، پاکستان پینل کوڈ — جھوٹی گواہی
• دفعہ 468، پاکستان پینل کوڈ — جعلسازی اور جعلی دستاویزات
• دفعہ 220، پاکستان پینل کوڈ

✅ نتیجہ
یہ فیصلہ اس اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ عدالت کے سامنے دیانت داری، سچائی اور مستند شواہد پیش کرنا ہر فریق کی قانونی ذمہ داری ہے۔ فیملی کورٹ میں جھوٹی گواہی یا جعلی دستاویزات پیش کرنا نہ صرف مقدمے کو متاثر کرتا ہے بلکہ متعلقہ شخص کو فوجداری کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ عدالتی نظام کے تقدس، شفافیت اور انصاف کے مؤثر نفاذ کی جانب ایک اہم نظیر ہے۔

📚 حوالہ: PLD 2013 Karachi 194

16/07/2026

اہم قانونی آگاہی
کیا ماں نابالغ بچے کی جائیداد فروخت کر سکتی ہے؟
ہم سے پوچھا گیا سوال:
"اگر ماں اپنے نابالغ بچے کی نیچرل گارڈین ہے، تو کیا وہ گارڈین کورٹ کی اجازت کے بغیر بچے کی جائیداد فروخت کر سکتی ہے؟"
✅ جواب:
نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگرچہ ماں نابالغ بچے کی نیچرل گارڈین ہے، لیکن صرف اس بنیاد پر اسے نابالغ کی غیر منقولہ جائیداد فروخت یا منتقل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
📌 اگر نابالغ کی جائیداد فروخت یا منتقل کرنی ہو تو Guardian Court سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔
⚖️ گارڈین کورٹ کی اجازت کے بغیر کی گئی فروخت یا منتقلی قانونی طور پر مؤثر (Valid) نہیں سمجھی جائے گی۔
📖 اہم فیصلہ:
2025 CLC 196
📢 عوام کے لیے اہم پیغام:
نابالغ بچوں کی جائیداد خریدنے سے پہلے ضرور تصدیق کریں کہ:
کیا گارڈین کورٹ سے اجازت لی گئی تھی؟
کیا فروخت عدالتی حکم کے مطابق ہوئی؟
بصورت دیگر مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Address

Bahawalpur
63100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers of Bahawalpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers of Bahawalpur:

Shortcuts

Share