Lawyers of Bahawalpur

Lawyers of Bahawalpur Advocate ⚖️ | Voice for the voiceless.

28/04/2026

سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ نے حلالے کو عورت کے وقار اور آزادی کیخلاف قرار دیا اور اسے عورت کی غلامی کی ایک شکل کہا، جس میں عورت غلط طور ایک عمل میں حیلے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ انھوں نے فیصلے میں لکھا ، نیت طلاق سے کیا گیا، کوئی نکاح اسلام میں ، نکاح نہیں سمجھا جاتا۔ حلالہ قانونا ، شرعا اور اخلاقا کسی طور بھی جائز اور گوارا نہیں۔
یہ جسٹس عائشہ نے لکھا، اور درست لکھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت فرمائی، اسے سانڈ کہا گیا۔ اصلا بات یہ ہے کہ ایسا عمل مسلمانوں میں ہونا بجائے خود شرمندگی ، بے حسی ، بے دینی اور بے ضمیری کی بات ہے۔ اصلا اسے ایک حیلے کے طور پر اختیار کیا گیا مگر کیا ہی برا حیلہ ہے یہ۔
اس کے پیچھے اصل محرک ہماری ایک اور خرابی میں چھپا ہے۔ وہ عمل جو ہم نے اپنے ڈراموں میں لکھ لکھ کر عورت کا بیڑا غرق کر دیا۔ یعنی طلاق کی گن سے عورت پر بہ یک وقت تین طلاقوں کی فائرنگ۔ ہمارے عوامی لٹریچر میں ہمیشہ یہی دکھایا جاتاہے کہ مرد مشتعل ہوکے بس طلاق طلاق طلاق کے الفاظ دہراتا چلا جاتا ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کیلئے میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام قرار پاتے ہیں۔ کوئی آپشن نہیں بچتی ، یہ رشتہ بچنے اور بچانے کی، کیونکہ ایک فقہی رائے کے مطابق ایک مجلس میں دی گئی زیادہ طلاقیں، متعدد شمار کر لی جاتی ہیں، حالانکہ اسلامی نظریاتی کونسل اور انڈین عدالت بھی اسے ایک شمار کرنے پر فیصلہ دے چکی ہیں۔
اس کے بعد حلالہ انڈسٹری کا وجود سامنے آتا ہے۔ مارکیٹ میں ایسے کاریگر اپنے کارڈز چھاپ کے بیٹھے ہیں، جو راز داری سے اور مکمل قوت سے حلالہ کرنے کیلئے دکانیں کھولے اور امیدیں بڑھائے بیٹھے ہیں۔ یہ مرد کی بے حمیتی اور عورت کی بے توقیری ہے۔
اس کا ایک غلط مظہر خود ہماری یونین کونسل میں موجود ہے۔ یونین کونسل میں طلاق کے پراسیس میں عمل یہ دہرایا جاتا ہے کہ آدمی کی طرف سے ہر ماہ ایک طلاق بیوی کو بھیجی جاتی ہے۔ جس سے تین ماہ کے اندر اندر مرد یا عورت کے نہ چاہتے ہوئے بھی معاملہ ان کے ہاتھ سے نکال کر حلالہ کرنے والے سانڈ کے ہاتھ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔
طلاق دینا ایک دینی اور سماجی عمل ہے اور اگر اسے نبی رحمت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اختیارکیا جائے تو کمال کی کیفیت سامنے آتی ہے۔
درست طریقہ یہ ہے کہ مرد اگر دیکھتا ہے کہ زندگی اب دونوں کے لئے اکٹھے گزارنا ممکن نظر نہیں آتا تو وہ صرف ایک طلاق عورت کو دے گا۔ اسے تڑ تڑ طلاق کی گولی سے تینوں فائر کرنے کی نہ ایک ہی مجلس میں ضرورت ہے اور نہ اس کے بعد۔ طلاق اس نے دے دی۔ عورت اب طلاق کی کیفیت میں اپنی عدت گزارے گی۔ اگر درمیان میں دوران عدت یہ رجوع کرنا چاہیں،سمجھیں کہ جذبات میں یا غلط فہمی میں غلطی ہوگئی تو بغیر دوبارہ نکاح کئے میاں بیوی کے طور پر دوبارہ سے رہنا شروع کر سکتے ہیں، اگر عدت کا وقت گزر چکا تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، انھیں کسی حلالے یا حرامے کی ضرورت نہیں، تاہم طلاق کا یہ مرد ایک حق استعمال کر چکا ہے۔ دو اب بھی باقی ہیں۔ اگر یہ رجوع نہیں کرتے یا دوبارہ باہم نکاح نہیں کرتے تو یہ عورت آگے جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ یہاں غلط طور پر ثالثی کونسل یا یونین کونسل مرد سے اسلام کا یہ حق چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے اور ہر ماہ ایک طلاق بھیجتی رہتی ہے۔ جس کی بالکل ضرورت نہیں ،بلکہ یہ عین خرابی ہے۔ جس کے بعد میاں بیوی کے پاس باہم ملنے اور واپسی کا کوئی آپشن نہیں بچتا ، چنانچہ یہاں کارڈ والا مولوی اپنا حلالہ سنٹر اناؤنس کرنے آتا ہے۔ معاشرے میں طلاق کے درست طریقے اور شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیدنا عمر فاروق نے دم آخر اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کا نام اس لسٹ سے خارج کروا دیا تھا، جنھیں خلافت کے لیے زیر غور لایا جانا تھا، ان کا کہنا تھا، اسے تو طلاق دینے کا درست طریقہ بھی نہیں آتا۔ تو طلاق دینے کا درست طریقہ آنا بھی چاہئے اور عام بھی کرنا چاہیے۔ صرف طریقہ ، طلاق نہیں کہ یہ محض مجبوری کا آپشن ہے، پسندیدہ چیزنہیں۔

28/04/2026

کیا وراثت کا دعویٰ 34 سال بعد بھی کیا جا سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ جس نے برسوں پرانے وہم ختم کر دیے!

Citation Name: 2025 PLD 581 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE

MUHAMMAD HAFEEZ VS MUHAMMAD RAMZAN


​عدالت کا حتمی فیصلہ: قانون خواب غفلت میں سونے والوں کے لیے نہیں ہے
​لاہور ہائیکورٹ نے اس تاریخی فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ وراثت کا نام لے کر آپ دہائیوں پرانی رجسٹرڈ دستاویزات کو جب چاہیں چیلنج نہیں کر سکتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی شخص کے بزرگوں نے اپنی زندگی میں کسی جائیداد کے انتقال یا گفٹ (ہبہ) کو چیلنج نہیں کیا، تو ان کی وفات کے بعد ان کے وارث محض وراثت کا سہارا لے کر "قانونِ میعاد" (Limitation) سے بچ نہیں سکتے۔ عدالت نے 34 سال کی تاخیر کے بعد دائر کیے گئے دعوے کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور یہ اصول واضح کیا کہ جہاں تیسرے فریق (Third Party) کے حقوق پیدا ہو چکے ہوں، وہاں محض وراثت کی بنیاد پر سالوں کی خاموشی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
​کیس کا پس منظر: 1981 سے 2015 تک کی قانونی جنگ
​اس کیس کی بنیاد 1981 میں رکھے گئے ایک "رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ" پر تھی، جس کے ذریعے نانا نے زمین اپنے بیٹوں (ماموں) کے نام کر دی تھی۔ ان بیٹوں نے 1984 میں وہ زمین آگے دوسرے لوگوں کو بیچ دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گفٹ دینے والے کی بیٹی (درخواست گزار کی والدہ) 2009 تک زندہ رہی لیکن اس نے اپنی زندگی میں کبھی اس گفٹ یا زمین کی فروخت کو چیلنج نہیں کیا۔ والدہ کی وفات کے 6 سال بعد، یعنی 2015 میں، اس کے بیٹے (نواسے) نے اچانک وراثت کا دعویٰ کر دیا کہ اسے حصہ نہیں ملا اور نانا کا وہ گفٹ جعلی تھا۔ ٹرائل کورٹ نے کیس چلانے کا کہا، لیکن ہائیکورٹ نے سول ریویژن میں اس کیس کو جڑ سے ختم کر دیا۔
​اہم قانونی نکات: جو ہر شہری کو معلوم ہونے چاہئیں
​وراثت اور میعاد: ہر وراثت کے کیس میں "قانونِ میعاد" (Limitation) غیر متعلقہ نہیں ہوتی؛ حالات و واقعات دیکھنا ضروری ہیں۔
​بزرگوں کی خاموشی: اگر مورث (والدین) نے اپنی زندگی میں کسی ٹرانزیکشن پر اعتراض نہیں کیا، تو اولاد کو اسے چیلنج کرنے کا حق محدود ہو جاتا ہے۔
​تیسرے فریق کا تحفظ: جب جائیداد آگے فروخت ہو جائے اور خریداروں کے حقوق بن جائیں، تو سالوں بعد کا چیلنج "حقِ وراثت" کے نام پر قبول نہیں ہوگا۔
​خواتین کے حقوق کے استثنیٰ: عدالت نے 5 ایسی صورتیں بتائیں جہاں میعاد اثر انداز نہیں ہوگی (مثلاً دھوکہ دہی، جائیداد سے آمدن ملتے رہنا، یا قبضہ برقرار ہونا)۔
​دعوے کا وقت: وراثت کے نام پر قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا؛ حق کے لیے وقت پر عدالت آنا لازمی ہے۔
​عوامی اثرات: یہ فیصلہ آپ کے لیے کیوں ضروری ہے؟
​یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے ایک وارننگ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جائیداد کا جھگڑا "سو سال" بعد بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس سے جائیداد کے خریداروں کو تحفظ ملے گا تاکہ وہ پرانے وراثت کے جھگڑوں سے بچ سکیں۔ عام عوام کو اب سمجھنا ہوگا کہ اگر وراثت میں حق نہیں ملا، تو فوری آواز اٹھائیں؛ سالوں کی خاموشی آپ کے قانونی حق کو "ویور" (Waiver) یا دستبرداری تصور کروا سکتی ہے۔

​ عدالتی حوالہ جات

​موجودہ فیصلہ (خلاف): 2025 PLD 581 Lahore High Court (جس میں تاخیر کی بنیاد پر دعویٰ خارج ہوا)۔
​فیصلہ (حق میں): 1990 SCMR 1529 اور PLD 1990 SC 1 (جہاں ثابت شدہ دھوکہ دہی کی صورت میں خواتین کو ریلیف دیا گیا)۔
​ تلخ مگر سچی حقیقت
​میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ ججمنٹ "لٹیگیشن کے کلچر" کو لگام ڈالنے کے لیے بہترین ہے۔ لوگ اکثر جائیداد کی قیمت بڑھنے پر دہائیوں پرانے گڑے مردے اکھاڑتے ہیں۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو "پراپرٹی بلیک میلنگ" کے لیے وراثت کا کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ انصاف ان کا حق ہے جو بیدار ہیں، ان کا نہیں جو حق ضائع ہونے کے 30 سال بعد جاگتے ہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وراثت کا حق کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے، چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جائے؟ یا آپ ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے متفق ہیں کہ خریداروں کے حقوق کا تحفظ زیادہ ضروری ہے؟
​:
​کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی جائیداد کا ریکارڈ کتنا پرانا اور درست ہے؟
​کیا 34 سال بعد کسی دستخط کو چیلنج کرنا انصاف ہے یا زیادتی؟
​کیا خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے بعد "میعاد" کا سہارا لینا اخلاقی طور پر درست ہے؟
​اگر آپ کوئی زمین خریدیں اور 30 سال بعد کوئی وارث آ جائے، تو آپ پر کیا گزرے گی؟

27/04/2026

*Writ Petition No.73316/2023*
*نکاح کے کالم نمبر 17 میں لکھی گئی شرط کو ہائی کورٹ کے جسٹس عابد حسین چٹھہ نے سائل کی رٹ منظور کرتے ہوۓ غیر قانونی و غیر شرعی قرار دے دیا۔*
*بیوی نے فیملی کورٹ/سول کورٹ میں دعویٰ دائر کیا کہ نکاح نامہ کے کالم نمبر 17 میں خاوند نے لکھ کر دیا ہے کہ وہ طلاق دینے کی صورت میں بیوی کو تین لاکھ روپے ادا کرے گا۔ جو کہ فیملی عدالت / سول کورٹ نے بیوی کے حق میں کیس ڈگری کرتے ہوۓ خاوند کو حکم دیا کہ وہ بیوی کو تین لاکھ روپے ادا کرے۔ خاوند نے ڈسٹرکٹ جج کے پاس اپیل دائر کی جو کہ خارج ہو گئی۔*
*خاوند نے ہائی کورٹ میں رٹ نمبر 73316/2023 دائر کی جس میں معزز جج صاحب نے میرے دلائل سے اتفاق کرتے ہوۓ خاوند کے حق میں رٹ منظور کر لی اور قرار دیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے کیس (محمد بشیر علی صدیقی بنام مسماۃ سرور جہان بیگم)*
*(2008 SCMR 186)*
*کی رو سے طلاق کی شرط غیر قانونی و غیر شرعی ہے۔ طلاق پر کسی قسم کی کوئی شرط عائد نہیں کی جا سکتی۔ خاوند تین لاکھ ادا کرنے کا پابند نہیں۔ رٹ منظور ہوئی۔*

26/04/2026

بڑی خبر: کیا سٹیمپ پیپر پر بچے سے دستبرداری کا معاہدہ قانونی ہے؟ ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ!
(Citation: 2025 MLD 760 High Court Azad Kashmir)
​عدالت کا حتمی فیصلہ (The Decision)
​آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں حکم دیا ہے کہ 5 سے 6 سال کے معصوم بچے کی تحویل فوری طور پر ماں کے حوالے کی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب باپ بیرون ملک ہو تو دادا کو ماں پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ماں کے ذریعے کیے گئے کسی بھی "آؤٹ آف کورٹ" معاہدے کو مسترد کر دیا جس میں اس نے بچے کی تحویل سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ عدالت کے مطابق بچے کی فلاح (Welfare) سب سے مقدم ہے اور اسے ماں جیسی فطری سرپرست سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔
​کیس کا پس منظر (Background)
​اس کیس میں پٹیشنر (حرا مشتاق) نے عدالت سے رجوع کیا کہ اس کے سسر (دادا) نے اس کے کمسن بچے کو زبردستی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ دادا کا موقف یہ تھا کہ ماں نے دوسری شادی کر لی ہے اور ایک تحریری معاہدے کے ذریعے بچے کے حقوق سے دستبردار ہو چکی ہے، لہذا وہ اب بچے کو رکھنے کا حق نہیں رکھتی۔ دوسری جانب باپ روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم تھا۔ یہ معاملہ ہائیکورٹ میں دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت حبسِ بے جا (Illegal Detention) کی صورت میں پہنچا تاکہ بچے کی عبوری تحویل کا فیصلہ ہو سکے۔
​اہم قانونی نکات (Legal Findings)
​نیچرل گارڈین: ماں اور باپ دونوں بچے کے فطری سرپرست ہیں؛ ان کی موجودگی میں کسی تیسرے شخص (بشمول دادا) کو ترجیح نہیں مل سکتی۔
​معاہدے کی قانونی حیثیت: بچے کی تحویل سے دستبرداری کا کوئی بھی نجی معاہدہ یا سٹیمپ پیپر قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
​بچے کی نفسیات: عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بچہ اپنے دادا کے سامنے خوفزدہ اور دباؤ میں تھا، جو اس کی فلاح کے خلاف ہے۔
​دوسری شادی کا اثر: ماں کا دوسری شادی کرنا یا نہ کرنا اور اس سے تحویل پر پڑنے والے اثرات کا حتمی فیصلہ گارڈین کورٹ شہادتوں کی بنیاد پر کرے گی، لیکن عبوری طور پر بچہ ماں کے پاس رہے گا۔
​ہائیکورٹ کا اختیار: ہائیکورٹ سیکشن 491 کے تحت بچے کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے "سٹاپ گیپ ارینجمنٹ" (عارضی تحویل) کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔
​عوامی اثرات اور اہمیت (Public Impact)
​یہ فیصلہ ان تمام ماؤں کے لیے ایک ڈھال ہے جنہیں طلاق یا علیحدگی کے وقت "کاعذات" پر دستخط کروا کر بچوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ماں کا حقِ حضانت (Custody) کوئی ایسی چیز نہیں جسے کسی معاہدے کے ذریعے خریدا یا بیچا جا سکے۔ معاشرے میں یہ شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ بچے کی بہترین پرورش ماں کے سائے میں ہی ممکن ہے، خاص کر جب باپ موجود نہ ہو۔
​قانونی حوالہ جات
​پٹیشنر (ماں) کی جانب سے حوالہ:
2025 MLD 760 HIGH-COURT-AZAD-KASHMIR
(اس فیصلے میں ماں کو "Natural Guardian" قرار دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ باپ کی عدم موجودگی میں ماں ہی بہترین کفیل ہے)۔
​مدعا علیہ (دادا) کا موقف:
جواب دہندہ نے آؤٹ آف کورٹ معاہدے (Out of Court Agreement) اور ماں کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر تحویل اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی، جسے عدالت نے بچے کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا۔
قانونی رائے (Expert Opinion)
​قانون صرف خشک حروف کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی جذبوں اور بچے کی نفسیات کا محافظ ہے۔ دادا کے سائے میں سہمے ہوئے بچے کی خاموشی اس بات کی گواہی تھی کہ تحویل زبردستی لی گئی تھی۔ یاد رکھیں! کوئی بھی سٹیمپ پیپر ماں کی ممتا کا متبادل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی عدالتیں ایسے کسی معاہدے کو تسلیم کرتی ہیں جو بچے کے مستقبل سے سمجھوتہ کرے۔
​کیا آپ کے خیال میں دوسری شادی کرنے پر ماں سے اس کا بچہ چھین لینا انصاف ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں اور اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ کسی مجبور ماں کی مدد ہو سکے۔

26/04/2026

Supreme Court Judgment – Property & Power of Attorney)
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس مقدمہ میں ایک نہایت اہم اصول واضح کیا ہے جو عام لوگوں اور خاص طور پر پراپرٹی معاملات میں ملوث افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یہ مقدمہ ایک ایسے تنازعہ سے متعلق تھا جس میں ایک خاتون نے اپنی زمین کے انتظام کے لیے اپنے قریبی رشتہ دار کو Power of Attorney دی، لیکن بعد میں اس نمائندے (Attorney) نے اسی اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے زمین اپنے بیٹوں کے نام منتقل کر دی۔
⚖️ سپریم کورٹ کے اہم نکات
General Power of Attorney مکمل اختیار نہیں دیتی
عدالت نے واضح کیا کہ عام (General) پاور آف اٹارنی دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ایجنٹ زمین بیچ سکتا ہے، جب تک اس میں واضح اجازت نہ ہو۔
قریبی رشتہ دار کے حق میں ٹرانسفر سخت جانچ کے تحت آئے گا
اگر اٹارنی اپنی یا اپنے بچوں/رشتہ داروں کے نام جائیداد منتقل کرے، تو یہ عمل مشکوک سمجھا جائے گا۔
مالک کی واضح اور پیشگی اجازت ضروری ہے
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے کسی بھی ٹرانزیکشن کے لیے مالک (Principal) کی واضح، پیشگی اور تحریری اجازت لازمی ہے۔
Trust (اعتماد) کا غلط استعمال قابلِ قبول نہیں
Attorney ایک fiduciary position میں ہوتا ہے، یعنی وہ اعتماد کا امین ہے—اس اعتماد کا غلط استعمال قانوناً ناجائز ہے۔
صرف پیسے کی ادائیگی کافی ثبوت نہیں
عدالت نے کہا کہ صرف چیک کے ذریعے ادائیگی دکھانا کافی نہیں، جب تک مکمل قانونی معاہدہ اور شواہد موجود نہ ہوں۔
عدالت کا حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:
اٹارنی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا
مالک کی اجازت ثابت نہیں ہوئی
ٹرانسفر غیر قانونی اور کالعدم ہے
لہٰذا اپیل مسترد کر دی گئی اور اصل مالک کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
عوام اور کلائنٹس کے لیے اہم سبق
✔️ پاور آف اٹارنی دیتے وقت مکمل احتیاط کریں
✔️ اگر زمین بیچنے کا اختیار دینا ہو تو واضح تحریری شق شامل کریں
✔️ کبھی بھی خالی یا جنرل پاور آف اٹارنی پر اندھا اعتماد نہ کریں
✔️ اگر آپ Attorney ہیں تو اپنے فائدے یا رشتہ داروں کے لیے ٹرانسفر کرنے سے پہلے مالک کی اجازت لازمی لیں
✔️ ہر لین دین کے لیے مکمل قانونی دستاویزات اور ثبوت رکھیں
⚖️ ایڈووکیٹ کے طور پر قانونی رائے
یہ فیصلہ اس بات کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ:
“Power of Attorney trust پر مبنی ہوتی ہے، اور اس کا misuse عدالت ہرگز برداشت نہیں کرتی”
یہ کیس خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو پراپرٹی معاملات میں family members کو اختیار دیتے ہیں۔

24/04/2026

📌 اہم عدالتی فیصلہ — لاہور ہائی کورٹ
PLD 2026 Lahore 332
PLJ 2026 Lahore 43

لاہور ہائی کورٹ نے 13 سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے لے پالک والدین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

🔹 جسٹس فیصل زمان خان نے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ بچوں کی حوالگی کے مقدمات میں سب سے اہم چیز بچے کی خواہش، ذہنی کیفیت اور فلاح ہوتی ہے۔

🔹 کیس میں بچے نے بار بار لے پالک والدین کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی، حتیٰ کہ ایک ہفتہ حقیقی والدین کے ساتھ گزارنے کے بعد بھی اسی مؤقف کو دہرایا۔

🔹 عدالت نے کہا کہ اگرچہ اصولی طور پر حقیقی والدین کو ترجیح حاصل ہوتی ہے، مگر ہر کیس میں بچے کے بہترین مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔

🔹 فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ:
✔️ بچے نے 9 سال لے پالک والدین کے ساتھ سکون سے گزارے

✔️ حقیقی والد کے 3 نکاح اور 13 بچے ہیں
✔️ بچے کو اچانک اجنبی ماحول میں منتقل کرنا اس کے مفاد میں نہیں

🔹 عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ بچے کی فلاح سے زیادہ خاندانی تنازع کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

📢 نتیجہ:
بچے کی حوالگی لے پالک والدین کے پاس برقرار رکھی گئی، جبکہ حقیقی والدین کو ملاقات کے لیے گارڈین کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی گئی۔

23/04/2026

وکالت کے پیشے کے دنیا میں #سینئر ، #جونیئر کا پروفیشن لائف ، #کردار،ڈیوٹی اور #فرائض
وکالت کی دنیا میں اصل سچائی یہ ہونی چاہئے جو ایک سینئر اپنے جونیئر کو کسی چائے کے وقفے میں یااوٹ اسٹیشن کیس وزٹ یا لائبریری، ی خاموشی میں سکھایا جاتا ہیں وہ ان اصولوں کی ایسی تشریح ہے جو خالصتاً پیشہ ورانہ تجربے اور انسانی مشاہدے پر مبنی ہے، جس میں مصنوعی پن کا کوئی نشان نہیں:
1. #مقدمہ لڑیں، #دشمنی نہیں
وکالت میں آپ کا واسطہ روز ایسے لوگوں سے پڑے گا جن کے موقف سے آپ کو اختلاف ہوگا۔ لیکن یاد رکھیں، مخالف وکیل بھی آپ کی طرح ایک پیشہ ورانہ فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ جب آپ کسی کی ذاتیات پر بات کرتے ہیں، تو آپ دراصل اپنی دلیل کی کمزوری کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک زیرک وکیل ہمیشہ فائل کے کاغذات اور قانون کی دفعات سے جواب دیتا ہے، طعن و تشنیع سے نہیں۔
2. #خاموشی کی #طاقت
عدالت میں سب سے مشکل کام اس وقت چپ رہنا ہے جب سامنے والا اشتعال دلا رہا ہو۔ شور مچانا یا ہاتھ پاؤں چلانا کسی بھی طرح آپ کی قابلیت کو ثابت نہیں کرتا۔ جج ہمیشہ اس وکیل کو زیادہ سنجیدگی سے سنتا ہے جو پرسکون رہ کر اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔ ضبطِ نفس ہی وہ صفت ہے جو ایک عام بولنے والے اور ایک مدبر وکیل کے درمیان لکیر کھینچتی ہے۔
3. #شائستگی: ایک پیشہ ورانہ #ہتھیار
آپ کا لہجہ جتنا نرم ہوگا، آپ کی بات اتنی ہی گہرائی تک جائے گی۔ بدتمیزی یا سخت کلامی آپ کے مقدمے کو مضبوط نہیں بناتی بلکہ جج کی توجہ اصل قانونی نکتے سے ہٹا کر آپ کے رویے کی طرف کر دیتی ہے۔ ایک باوقار وکیل اختلاف بھی اس طرح کرتا ہے کہ سننے والے کو اس کی دیانتداری پر شک نہیں ہوتا۔
4. #الفاظ کا #چناؤ اور #توازن
بہت زیادہ بولنا مہارت نہیں ہے، بلکہ کم الفاظ میں بڑی بات کہہ دینا اصل فن ہے۔ عدالت میں گرج چمک کی ضرورت نہیں ہوتی، وہاں منطق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی بات کو اتنا واضح اور دو ٹوک رکھیں کہ جج کو اسے سمجھنے کے لیے محنت نہ کرنی پڑے۔ یاد رکھیں، عدالتیں گواہوں اور ثبوتوں سے متاثر ہوتی ہیں، جذبات سے نہیں۔
5. #طنز سے #پرہیز اور #منطق کی #بالادستی
کسی کی غلطی پر ہنسنا یا اس کا مذاق اڑانا آپ کے اپنے معیار کو گرا دیتا ہے۔ اگر مخالف وکیل سے کوئی غلطی ہوئی ہے، تو اسے قانونی حوالے سے درست کریں نہ کہ اس کی تضحیک کریں۔ آپ کی دلیل میں اتنی کاٹ ہونی چاہیے کہ وہ خود بخود مخالف کے موقف کو بے اثر کر دے، آپ کو زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑے۔
6. #ساکھ: آپ کا واحد #اثاثہ
ایک وکیل کی سب سے بڑی پونجی اس کی ساکھ ہے۔ اگر جج کو یہ یقین ہو جائے کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ درست ہے اور آپ کبھی عدالت کو گمراہ نہیں کریں گے، تو آدھا مقدمہ آپ وہیں جیت جاتے ہیں۔ یہ بھروسہ برسوں کی سچائی اور محنت سے بنتا ہے اور ایک لمحے کی بددیانتی سے ٹوٹ جاتا ہے۔
7. #ہمہ وقت #مشاہدہ
عدالت میں آپ صرف اس وقت زیرِ غور نہیں ہوتے جب آپ بول رہے ہوتے ہیں، بلکہ آپ کا ہر عمل—کرسی پر بیٹھنے سے لے کر فائل کھولنے تک—نوٹ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ایک پیشہ ور وکیل ہمیشہ اپنی حرکات و سکنات میں سنجیدگی برقرار رکھتا ہے، کیونکہ جج صرف قانون نہیں، انسان کو بھی پڑھ رہا ہوتا ہے۔
8. موکل کا اعتماد اور حقیقت پسندی
موکل اکثر چاہتا ہے کہ اس کا وکیل عدالت میں "پرفارمنس" دکھائے۔ لیکن ایک سچا وکیل وہی ہے جو اپنے موکل کو خوش کرنے کے لیے ڈرامہ نہیں کرتا، بلکہ اسے کیس کی اصل قانونی پوزیشن سے آگاہ رکھتا ہے۔ آپ کی سنجیدگی ہی موکل کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اس کا کیس محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
9. #وقار: #دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت
وکالت میں ایسے لمحات آئیں گے جب سب کچھ آپ کے خلاف جا رہا ہوگا۔ جج ناراض ہو سکتا ہے یا مخالف وکیل حاوی ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں اپنے اعصاب پر قابو رکھنا اور اپنے وقار کو نہ گرنے دینا ہی آپ کی اصل آزمائش ہے۔ جو مشکل وقت میں مسکرا سکتا ہے، وہی طویل ریس کا گھوڑا ثابت ہوتا ہے۔
10. پیشہ ورانہ کامیابی کا معیار
کامیابی کا مطلب صرف مقدمہ جیتنا نہیں، بلکہ اس طریقے سے جیتنا ہے کہ آپ کا ضمیر مطمئن ہو اور آپ کا سر بلند رہے۔ جب آپ کورٹ روم سے باہر نکلیں، تو مخالف وکیل بھی دل میں آپ کی قابلیت اور اخلاق کا معترف ہو۔ یہی ایک عظیم وکیل کی اصل معراج ہے۔
مختصر بات:
قانون کی کتابیں سب کے لیے ایک جیسی ہیں، فرق صرف کردار کا ہے۔ اگر آپ کا کردار مضبوط ہے، تو آپ کے دلائل میں خود بخود وہ وزن پیدا ہو جائے گا جسے کوئی رد نہیں کر سکے گا۔

23/04/2026

2017 SCMR 393
⚖️ اہم عدالتی فیصلہ — جہیز کے مقدمات میں اہم رہنمائی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جہیز کے سامان کی بازیابی کے لیے صرف بیوی کا بیان اور حلفیہ بیان بھی کافی ہو سکتا ہے، اور رسیدوں کی عدم موجودگی دعویٰ کو کمزور نہیں کرتی۔

یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فیملی کورٹس تکنیکی قانونی پیچیدگیوں کے بجائے انصاف اور حقیقت کو ترجیح دیتی ہیں۔

23/04/2026

Can Wife Claim 12 Years of Back Maintenance Allowance
مقدمہ کے حقائق کے مطابق فریقین کا نکاح 20 فروری 2003 کو ہوا، جبکہ بیوی نے 20 ستمبر 2024 کو خلع، نان و نفقہ اور جہیز کی واپسی کا دعویٰ دائر کیا۔ فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری جاری کرتے ہوئے بیوی کے حق میں جنوری 2012 سے عدت تک نان و نفقہ دینے کا حکم دیا۔ شوہر نے اس فیصلے کو اپیل میں چیلنج کیا، تاہم اپیلیٹ عدالت نے بھی فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بعد ازاں شوہر نے ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ نان و نفقہ کی ہر ماہ عدم ادائیگی ایک الگ cause of action ہے، اس لیے قانون کے مطابق صرف چھ سال تک کے بقایاجات ہی وصول کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اس سے زائد مدت کا نان و نفقہ قابلِ وصول نہیں۔

عدالت نے اس اعتراض کو مقدمہ کے مخصوص حالات میں قابلِ قبول نہیں سمجھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر نے اپنے تحریری جواب میں اعادہ حقوقِ زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) کا دعویٰ کیا، جو اس بات کا اظہار ہے کہ وہ ازدواجی تعلق کو برقرار تسلیم کرتا ہے اور بیوی کی واپسی کا خواہاں ہے۔ ایسی صورت میں وہ ایک طرف ازدواجی تعلق کا دعویٰ کرے اور دوسری طرف نان و نفقہ سے انکار کرے، یہ ایک متضاد مؤقف ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اس معاملے میں estoppel کا اصول لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت اگر کوئی فریق اپنے عمل یا مؤقف کے ذریعے کسی حق کو تسلیم کر لے تو وہ بعد میں اس کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ لہٰذا شوہر limitation کے قانون کو بطور دفاع استعمال کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔

مزید برآں عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے مقدمات، جن میں خلع، نان و نفقہ اور اعادہ حقوقِ زوجیت کے دعوے شامل ہوں، انہیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط ازدواجی تنازع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں چھ سال کی تحدید سابقہ نان و نفقہ کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بنتی، خواہ مدت بارہ سال یا اس سے زائد ہی کیوں نہ ہو۔

ان وجوہات کی بنا پر ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے بارہ سالہ سابقہ نان و نفقہ دینا قانون کے مطابق ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی پہلو موجود نہیں۔ چنانچہ آئینی درخواست کو خارج کر دیا گیا۔

اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ اگر شوہر خود اعادہ حقوقِ زوجیت کا دعویٰ کرے اور اپنے طرزِ عمل سے ازدواجی تعلق کو تسلیم کرے، تو وہ بعد میں limitation کا سہارا لے کر سابقہ نان و نفقہ کی ادائیگی سے نہیں بچ سکتا۔
یہ مقدمہ اس بنیادی قانونی سوال کے گرد گھومتا ہے کہ آیا بیوی کو سابقہ نان و نفقہ چھ سال سے زائد مدت کے لیے دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ Limitation Act 1908 کے تحت چھ سال سے زیادہ عرصہ کے بقایاجات نان و نفقہ کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں، لہٰذا بارہ سالہ سابقہ نان و نفقہ کی ڈگری غیر قانونی ہے۔

18/04/2026

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا۔ یہ حق مہر نکاح نامہ میں درج ہونے کے بجائے ایک اسٹامپ پیپر پر تھا، جس کیمطابق شوہر نے اقرار کیا کہ طلاق کی صورت میں وہ اپنی بیوی کو 40 لاکھ روپے بطور حق مہر ادا کرے گا۔ فیملی کورٹ نے یہ اسٹامپ پیپر والے حق مہر کا کلیم مسترد کردیا۔ بیوی نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے بعد از ریمانڈ کارروائی میں بیوی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اسے 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیا۔ شوہر نے اس کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے فروری 2024ء میں کیس کی سماعت کی۔ جہاں شوہر کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ اسٹامپ پیپر شوہر نے دراصل میڈیکل اسٹور کے لائسنس کی تجدید کیلئے نکلوایا تھا۔ لیکن بیوی نے اسے چوری کرکے اس پر یہ جعلی معاہدہ تحریر کرلیا۔ اور، بالفرض اگر اس معاہدے کو درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو چونکہ یہ طلاق کو مالی جرمانے سے مشروط کرنا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے "بشیر صدیقی" کیس کی رُو سے درست نہیں۔ بیوی کے وکیل نے کہا کہ یہ طلاق کو جرمانے سے مشروط کرنا نہیں بلکہ حق مہر میں اضافے کا معاہدہ ہے، جو بالکل درست ہے۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ چونکہ یہ متنازعہ معاہدہ بیوی کے حق میں تھا تو عدالت میں اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اُسی پر تھی۔ خاتون نے اصل معاہدہ کے ہمراہ اس کے دونوں گواہوں کو بھی عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اس کے اصل ہونے کی تائید کی۔ دورانِ جرح بیوی سے معاہدے کے جعلی ہونے پر کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ جبکہ شوہر نے جرح میں تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر خود اسی نے نکلوایا تھا اور اسکے دونوں اطراف اسی کے اصل دستخط موجود ہیں۔

پشت پر اسٹامپ پیپر نکلوانے کی غرض میں واضح درج ہے کہ یہ شوہر اور بیوی کے مابین معاہدے کیلئے ہے (نہ کہ میڈیکل سٹور کیلئے)۔ اگرچہ معاہدے کے کاتب اور اسٹامپ فروش کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لیکن اس کا نقصان شوہر کو ہی ہوا کیونکہ یہ ثابت کرنا اس کی ذمہ داری تھی کہ اسٹامپ میڈیکل سٹور کیلئے لیا گیا تھا۔ شوہر نے چوری کا دعویٰ تو کیا لیکن اس نے نہ تو کوئی FIR یا رَپٹ درج کروائی اور نہ ہی اسٹامپ کی منسوخی کی کوئی درخواست دی۔ لہذا یہ معاہدہ بلاشبہ ثابت شدہ ہے۔

طلاق کی صورت میں 40 لاکھ روپے حق مہر، شادی کو زبردستی قائم رکھنے کی شرط نہیں بلکہ حق مہر میں اضافہ ہے، جو قانونی طور پر جائز ہے ۔"محمدن لا" کے پیرا نمبر 287 اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں یہ طے شدہ قانون ہے کہ حق مہر کی رقم شادی سے پہلے اور بعد میں بھی مقرر اور اسمیں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔

ہائیکورٹ نے بیوی کو 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیتے ہوئے شوہر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ نکاح نامہ میں یا بعد میں، کسی معاہدے میں یہ لکھوانا کہ"طلاق کی صورت میں شوہر بیوی کو اتنی رقم یا جائیداد دے گا"، درست ہے یا نہیں؟ اس پر اعلی عدلیہ کے فیصلوں میں اختلاف ہے۔ لیکن موجودہ کیس میں بیوی نے غالباََ وکیل سے مشورہ کرکے طلاق سے مشروط اس رقم کو "حق مہر" لکھوا لیا جو بلا اختلاف درست ہے۔ اس لیے معاہدے لکھتے لکھاتے وقت چیٹ جی پی ٹی سے نہیں بلکہ کسی وکیل سے مشورہ کرنا چاہئے

17/04/2026

بورڈ آف ریونیو کا فیصلہ آخری نہیں: کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کی تقسیم (ونڈا) کا فائنل آرڈر بھی دیوانی عدالت میں چیلنج ہو کر کالعدم ہو سکتا ہے؟ (تحقیق بحوالہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967)
​لینڈ ریونیو کے جدید ترین قوانین اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ بورڈ آف ریونیو (BOR) کا فیصلہ پتھر پر لکیر نہیں ہے۔ اگر تقسیمِ اراضی (ونڈا) کے دوران کسی بھی سطح پر آپ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، تو دیوانی عدالت (Civil Court) کا دروازہ آپ کے لیے کھلا ہے۔ قانون کے مطابق، اگر تقسیم کی کارروائی میں "سوالِ استحقاق" (Question of Title) پیدا ہو جائے، یعنی زمین کی ملکیت پر ہی جھگڑا ہو، تو ریونیو افسر کا اختیار ختم ہو جاتا ہے اور صرف سول جج ہی اس کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ نظائر (Precedents) بتاتے ہیں کہ اگر ریونیو اتھارٹیز نے قانون کے لازمی طریقہ کار، جیسے نوٹس کی فراہمی یا موقع کی درست نشاندہی، کو نظر انداز کیا ہو تو ایسی کارروائی "کالعدم" (Void) تصور ہوگی۔ دیوانی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ریونیو ریکارڈ میں ہونے والی کسی بھی ایسی تبدیلی کو منسوخ کر دے جو دھوکہ دہی یا اختیارات سے تجاوز کر کے کی گئی ہو۔ لہٰذا، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ونڈا بناتے وقت پٹواری یا تحصیلدار نے ملی بھگت کر کے آپ کا قیمتی رقبہ کسی دوسرے کو دے دیا ہے، تو آپ اسے دیوانی عدالت میں "استقرارِ حق" (Declaration) کے دعویٰ کے ذریعے چیلنج کر سکتے ہیں۔ قانون آپ کو یہ تحفظ دیتا ہے کہ آپ کی مرضی یا قانونی حق کے بغیر آپ کی زمین کا ایک انچ بھی کسی دوسرے کے نام منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کے خلاف سول کورٹ میں دعویٰ دائر کرنے کے لیے مضبوط قانونی وجوہات کا ہونا لازمی ہے جنہیں ثابت کر کے آپ اپنا حق واپس لے سکتے ہیں۔
​زمین کی تقسیم یا "ونڈا" ایک ایسا پیچیدہ عمل ہے جس میں خاندانی دشمنیاں اور پٹواریوں کی مداخلت اکثر حقائق کو مسخ کر دیتی ہے۔ عام طور پر جب کوئی مشترکہ کھاتہ دار اپنی زمین الگ کروانا چاہتا ہے تو وہ تحصیلدار کے پاس تقسیم کی درخواست دیتا ہے۔ یہ کیس تحصیلدار سے شروع ہو کر کلکٹر، کمشنر اور آخر میں بورڈ آف ریونیو تک پہنچتا ہے۔ اس طویل سفر کے دوران اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بااثر فریق جعلی نوٹس بنوا کر یا دیگر وارثوں کو لاعلم رکھ کر اپنے حق میں ونڈا بنوا لیتا ہے۔ جب بورڈ آف ریونیو سے مہر لگ جاتی ہے، تو سائل سمجھتا ہے کہ اب سب ختم ہو گیا، حالانکہ اصل قانونی جنگ یہاں سے بھی شروع ہو سکتی ہے۔ اگر تقسیم کے وقت آپ کا "مخصوص قبضہ" (Specific Possession) متاثر ہوا ہو یا آپ کو کیس کا حصہ ہی نہ بنایا گیا ہو، تو یہ ایک سنگین قانونی سقم ہے۔ ریونیو قوانین کا مقصد صرف انتظامی تقسیم ہے، جبکہ دیوانی عدالت کا مقصد حقوقِ ملکیت کا تحفظ ہے۔ اگر ریکارڈ میں آپ کا حصہ غلط درج ہے یا آپ کی ملکیتی زمین کو کسی دوسرے کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے، تو یہ خالصتاً دیوانی عدالت کا معاملہ بن جاتا ہے۔ جدید ریونیو پریکٹس میں اب یہ تسلیم شدہ ہے کہ ریونیو افسر جج کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
​اہم قانونی نکات اور وجوہات:
​سوالِ استحقاق (Question of Title): اگر زمین کی ملکیت یا حصے کی مقدار پر تنازع ہو تو ریونیو افسر کو کارروائی روک کر فریقین کو سول کورٹ بھیجنا پڑتا ہے۔
​دھوکہ دہی اور فراڈ (Fraud): اگر کسی فریق کے فرضی انگوٹھے لگوائے گئے ہوں یا اسے نوٹس ہی نہ ملا ہو، تو فراڈ کی بنیاد پر پوری کارروائی چیلنج ہو سکتی ہے۔
​دائرہ اختیار سے تجاوز (Jurisdiction): اگر ریونیو افسر نے ایسی زمین تقسیم کی جو زرعی نہیں بلکہ شہری حدود میں تھی، تو یہ فیصلہ غیر قانونی ہوگا۔
​طریقہ کار کی خلاف ورزی: لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 135 سے 150 تک دیے گئے طریقہ کار پر عمل نہ کرنا فیصلے کو کمزور کر دیتا ہے۔
​مخصوص قبضے کی پامالی: اگر آپ کسی جگہ پر عرصے سے قابض ہیں اور وہاں آپ کی تعمیرات ہیں، تو ونڈا بناتے وقت اسے نظر انداز کرنا قانونی غلطی ہے۔
​اس فیصلے اور قانونی پوزیشن کا براہِ راست اثر عام عوام پر پڑتا ہے کیونکہ زمین جائیداد کے معاملات میں لوگ اکثر ریونیو افسران کے غلط فیصلوں کو اپنی تقدیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس شعور سے لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں گے اور پٹواری کلچر کے ذریعے ہونے والی ناانصافیوں کا خاتمہ ہوگا۔
​عدالتی حوالہ جات:
​حق میں حوالہ: PLD 2023 Supreme Court 382۔ اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جہاں فراڈ یا سوالِ استحقاق موجود ہو، وہاں سول کورٹ کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوتا۔
​مخالفانہ حوالہ: 2012 SCMR 1235۔ اس میں قرار دیا گیا کہ اگر ریونیو افسر نے تمام ضابطے پورے کیے ہوں، تو دفعہ 172 کے تحت دیوانی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی (اسے تب ہی استعمال کیا جاتا ہے جب کارروائی میں کوئی سقم نہ ہو)۔
​میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ریونیو افسران کو دیوانی عدالتوں کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ قانون کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوتے۔ تقسیمِ اراضی جیسے حساس معاملے میں جج کی مداخلت ہی انصاف کی ضمانت ہے۔
​کیا آپ کو لگتا ہے کہ پٹواری اور ریونیو افسران کو زمین کی تقسیم کا مکمل اختیار دینا درست ہے؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے قانون کی درست سمت کو پہچانیں۔
​آپ نے اس معلومات سے کیا سیکھا؟ درج ذیل 5 سوالات پر غور کریں:
​کیا آپ جانتے ہیں کہ ونڈا چیلنج کرنے کے لیے "سوالِ استحقاق" سب سے مضبوط بنیاد ہے؟
​کیا آپ کے علاقے میں کبھی کسی کو نوٹس دیے بغیر زمین تقسیم کی گئی؟
​کیا آپ کو معلوم ہے کہ فراڈ ثابت ہونے پر 20 سال پرانا انتقال بھی سول کورٹ سے منسوخ ہو سکتا ہے؟
​کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ریونیو ریکارڈ سے زیادہ دیوانی عدالت پر بھروسہ کرنا چاہیے؟
​کیا اس پوسٹ سے آپ کو اپنی زمین کے تحفظ کے لیے نئی راہ ملی؟

16/04/2026

پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ میں جو ترمیم کی گئی ہے جس میں سائیلین کو اپیل کے فورم سے محروم کیا گیا ہے اور جو اپیل کی شرائط رکھی گئی ہیں مثلا پہلے قبضہ چھوڑنا ہوگا تب ہی اپیل سنی جائیگی، اس بھونڈی ترمیم کے خلاف وکلاء برداری کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ یہ قوانین میں بیہودہ قسم کی ترامیم کر کے اس قانون کی شکل ہی بگاڑی جارہی ہے اور اس کے خلاف ہم وکلاء کو آواز بلند کرنی ہوگی خاص کر ہمارے نمائندگان کو اپنا کردار نبھانا چاہئے ورنہ یہ معاشرہ اپنی موت آپ مر جائیگا۔

Address

Bahawalpur
63100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers of Bahawalpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers of Bahawalpur:

Share