18/09/2026
کبھی انسان عجیب کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دل کسی کو اپنا مان چکا ہوتا ہے، اُس کی باتیں سکون دینے لگتی ہیں، اُس کی موجودگی عادت بن جاتی ہے، اُس کے ساتھ مستقبل کے خواب بھی دیکھ لیے جاتے ہیں… مگر پھر حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس شخص کو دل نے چنا ہے، شاید اُس کے ساتھ زندگی کا راستہ لکھا ہی نہیں گیا۔
دل کہتا ہے، قریب جاؤ…
ضمیر کہتا ہے، حد مت پار کرو۔
آنکھیں اُس کی ایک جھلک چاہتی ہیں…
اور ایمان یاد دلاتا ہے کہ ہر خواہش پوری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
سب سے مشکل جنگ کبھی دنیا سے نہیں ہوتی، اپنے ہی دل سے ہوتی ہے۔
ایک طرف محبت ہوتی ہے، دوسری طرف اللہ کا خوف۔ ایک طرف کسی کی قربت کی خواہش ہوتی ہے، دوسری طرف یہ احساس کہ کچھ راستے ایسے ہیں جن پر قدم رکھ کر واپس آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اور پھر انسان سوچتا ہے…
اگر اُس سے نکاح ہی نہیں ہونا تو یہ محبت میرے حصے میں کیوں آئی؟
اگر اُس کے ہاتھ کو تھامنا میرے لیے جائز نہیں تو دل نے اُسی ہاتھ کی خواہش کیوں کی؟
اگر اُس کے ساتھ زندگی نہیں گزارنی تو اُس کی یاد اتنی گہری کیوں ہے؟
شاید اس لیے کہ ہر چاہت کا انجام حاصل ہونا نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں آزمائش بن کر آتے ہیں۔ کچھ تعلقات ہمیں خوشی سے زیادہ سبق دیتے ہیں۔ کچھ محبتیں ہمیں کسی انسان تک نہیں بلکہ اللہ تک واپس لے جاتی ہیں۔
ہمیں لگتا ہے کہ محبت کا مطلب کسی کو حاصل کرنا ہے، مگر کبھی کبھی محبت کا سب سے مشکل مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی کو دل سے چاہنے کے باوجود اُس حد کو نہ توڑے جسے اللہ نے مقرر کیا ہے۔
یہ آسان نہیں ہوتا۔
خاص طور پر اُس وقت جب سامنے والا بھی محبت کا دعویٰ کرے، جب باتوں میں اپنائیت ہو، جب دل ہر لمحہ اُس کی طرف کھنچتا ہو، جب تنہائی میں اُس کی یاد شدت اختیار کر لے۔
انسان خود کو ہزار دلیلیں دیتا ہے:
"ہماری نیت تو صاف ہے۔"
"ہم ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں۔"
"ہم آخرکار شادی کر لیں گے۔"
"صرف بات کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟"
"صرف ہاتھ پکڑنے سے کیا ہوگا؟"
مگر بعض اوقات گناہ کسی ایک بڑے قدم سے شروع نہیں ہوتا۔
وہ چھوٹی چھوٹی رعایتوں سے شروع ہوتا ہے۔
پہلے نظر، پھر بات، پھر عادت، پھر قربت… اور پھر وہ حد جسے کبھی عبور نہ کرنے کا عہد کیا تھا، خود ہی معمول لگنے لگتی ہے۔
اسی لیے پاکیزگی صرف دوسروں کو نصیحت کرنے کا نام نہیں، خود اپنے دل کو روکنے کا نام بھی ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ "قبلِ نکاح چھونا نہیں" صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک مشکل امتحان ہے۔
کیونکہ انسان کے لیے اُس وقت خود کو روکنا آسان نہیں ہوتا جب دل کسی کے لیے نرم ہو چکا ہو۔
لیکن یاد رکھنا…
اللہ کے لیے چھوڑا ہوا کوئی تعلق، کوئی خواہش، کوئی قربت اور کوئی آنسو اللہ کے ہاں بے معنی نہیں ہوتے۔
اگر تم نے کسی کو صرف اس لیے چھوڑا کہ تم اپنے رب کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، تو یہ نقصان نہیں تھا۔
یہ قربانی تھی۔
ہو سکتا ہے آج تمہیں لگے کہ تم نے بہت کچھ کھو دیا۔
ہو سکتا ہے راتوں کو اُس کی یاد آئے۔
ہو سکتا ہے کبھی دل چاہے کہ سب اصول بھول کر اُس کے پاس چلے جاؤ۔
ہو سکتا ہے تمہیں یہ بھی لگے کہ تم نے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت محبت خود اپنے ہاتھوں سے ختم کر دی۔
مگر وقت کے ساتھ شاید تم سمجھ جاؤ کہ ہر خوبصورت چیز تمہارے لیے ضروری نہیں ہوتی۔
کچھ چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں، مگر تمہارے لیے نہیں۔
کچھ لوگ اچھے ہوتے ہیں، مگر تمہارے نصیب میں نہیں ہوتے۔
اور کچھ راستے دل کو بہت پسند ہوتے ہیں، مگر اللہ اُن راستوں پر تمہیں چلنے سے روک دیتا ہے کیونکہ وہ تمہارے لیے بہتر انجام جانتا ہے۔
ہم صرف آج دیکھتے ہیں،
اللہ کل بھی دیکھتا ہے۔
ہم صرف اپنی خواہش جانتے ہیں،
اللہ ہمارے لیے اُس خواہش کا انجام بھی جانتا ہے۔
اس لیے اگر نکاح ممکن نہیں، تو خود کو ایسی امید میں مت باندھو جو تمہیں حرام تعلق میں مزید گہرا کرتی جائے۔
اگر واقعی ایک دوسرے کے لیے سنجیدہ ہو تو حلال راستہ تلاش کرو۔
اور اگر حلال راستہ ممکن نہیں، تو پھر محبت کے نام پر ایک دوسرے کو مسلسل اذیت دینا بھی محبت نہیں۔
کبھی کبھی سب سے سچی محبت یہی ہوتی ہے کہ انسان کہہ دے:
"میں تمہیں چاہتا ہوں، مگر اللہ کی نافرمانی کرکے نہیں۔"
اور پھر فاصلے کو قبول کر لے۔
یہ جدائی شاید آج بہت تکلیف دے، مگر ہر تکلیف نقصان نہیں ہوتی۔
کچھ تکلیفیں انسان کو بچانے آتی ہیں۔
کچھ آنسو گناہ دھونے کے لیے نہیں، دل کو پاک کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔
اس لیے اگر آج تمہارا دل کسی ایسے شخص کے لیے تڑپ رہا ہے جس کے ساتھ نکاح ممکن نہیں، تو خود کو برا مت سمجھو۔
محبت کا احساس ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا، مگر محبت کے بعد کیا کرنا ہے، یہ انتخاب ضرور ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
دل کسی کو چاہ لے تو یہ ہمیشہ گناہ نہیں
مگر اُس چاہت کو کس راستے پر لے کر جانا ہے، اصل امتحان یہ ہے۔
اور شاید یہی فلسفۂ پارسائی کبھی کبھی واقعی انسان کو اندر سے ڈبو دیتا ہے۔