Young Allied Health Professionals Association AJK

Young Allied Health Professionals Association AJK یہ گروپ( اے ایچ ایس) بنانے کا مقصد اپنے فیوچر جاب کے حوا?

27/12/2022

ظلم کی انتہاء محکمہ صحت عامہ میں چند تعلیم مخالف تعلیم دشمن ، شر پسند عناصر تنظیم کا لوگو لگا کر محکمہ صحت عامہ کے آفیسرز کو بلیک میل کر رہےہیں ۔ جو کہ محکمہ صحت کے لیے دھبہ ہیں جن کو الف ب کا پتا نہیں ۔وہ تعلیم یافتہ ،پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگری کے حامل گریجویٹس کی مخالفت کر کے اپنی منفی سوچ کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ۔ہم جناب وزیر اعظم آزاد کشمیر ،وزیر صحت عامہ ،چیف سکریٹری اور سکریٹری صحت عامہ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ کیا جائے جو تعلیم یافتہ لوگوں کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں ۔اور یہ بھی گزارش کرتے ہیں کہ یونیورسٹی آف آزاد کشمیر نے اس وقت پروفیشنل ڈگری میڈیکل ٹیکنالوجی میں سیکڑوں کی تعداد میں فارغ التحصیل بچے اور بچیاں جنہوں نے لاکھوں کے حساب سے فیسز ادا کی ہیں ۔ان کا کوئی سروس سٹرکچر آزاد کشمیر میں موجود نہیں ہے ۔ لہٰذا ان بچے اور بچیوں کے سروس/جاب کے لیے پوسٹیں تخلیق فرمائی جائیں ۔ حکام بالا سے گزارش کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں. قابل عزت جناب وزیراعظم آزاد کشمیر سے بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان الائیڈ ہیلتھ گریجویٹس کے مستقبل کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ اس ریاست کے ھیلتھ سسٹم کو مزید بہتر بنایا جا سکے. اور میڈیا سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ حق کی آواز بنیں اور اس مسئلے کو ہر فورم پر اجاگر کریں شکریہ.
Regards:
Young Allied Health professionals Association AJ&K

Sardar Tanveer Ilyas Khan Civil Society Muzaffarabad Faculty of Health and Medical Sciences,UAJK Deputy Commissioner Office Muzaffarabad Young Allied Health Professionals Association AJK Young Allied Health Professionals Association of Pakistan Faculty of Allied Health & Medical Sciences Ajk University Muzaffarabad Kashmir News Ajk news Health Department AJ&K ھیلتھ نیوز آزاد کشمیر بول نیوز اے جے کے Muzaffarabad News Muzaffarabad News Mirpur Institute of Medical Sciences - MIMS Info AJK Khadim-e-Aala خادم اعلی، مظفرآباد

23/03/2021

خُدا کرے کہ میری عرضِ پاک پہ اُترے
وہ فصلِ گُل جِسے اندیشہء زوال نہ ہو

وزیر اعظم کے پرسنل سکریٹری سے ملاقات۔ ملاقات میں سروس سٹرکچر  سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یقین دل...
27/11/2020

وزیر اعظم کے پرسنل سکریٹری سے ملاقات۔ ملاقات میں سروس سٹرکچر سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ وزیر اعظم کے سامنے سروس سٹرکچر سے متعلق مسائل پر آواز بلند کریں گے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ملازمت کے ڈھانچے سے متعلق ہمارےلیٹر وزیر اعظم نے سیکریٹری ہیلتھ اینڈ سیکریٹری قانون کو اگلے عمل کے لئے بھجوایا ہے۔

14/11/2020

کمزوروں کا زور سلامت
خاموشی کا شور سلامت
نیلم جہلم لال لہو سے
دلی اور لاہور سلامت

12/11/2020

بہک کر باغ جنت سے
چلا آیا تھا دنیا میں
سنا ھے بعد محشر
پھر اسی جنت میں جانا ھے

چلا تو جاوں جنت میں
مگر یہ سوچ کر چپ ہوں

میں آدم زاد ہوں مجھ کو
بہک جانے کی عادت ھے

01/11/2020

کتاب سادہ رہے گی کب تک کبھی تو آغاز باب ہو گا
اجاڑ ڈالے جنہوں نے گلشن کبھی تو ان کا حساب ہو گا

31/10/2020

یونیورسٹی آف آزاد جموں اینڈ کشمیر کے شعبہ بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائینسز کےطلبہ کا مستقبل خطرہ میں ۔ ایک مرتبہ پھر پروفیشنلز ڈیگری ہولڈرز کو مایوسیوں کا سامنہ ، سی ایم مظفرآباد میں مورخہ 22 اکتوبر کو بی ایس کے طلبہ کو ریٹن ٹیسٹ میں بیٹھنے کے اجازت نہ دی گئی۔انتظامیہ دوپہر 12 بجےتک سٹوڈنٹس کو انتظار کرواتی رہی۔ پھر عین ٹیسٹ لینے کے وقت انکو یہ کہہ کر باہر کر دیا گیا کے ہم ایک یا دو سال والے ڈپلومہ ہولڈر کو پروفیشنلز ڈگری ہولڈر پر ترجیح دیتے ہیں۔ سی ایم ایچ انتظامیہ کے ایسے اقدامات پر بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ میں مایوسی اور غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔طلبہ نے س ایم ایچ انتظامیہ سے احتجاجن بات کرنے کی کوشش کی لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ طلبہ نے اپنی حق تلفی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا کہ دنیا کے ہر کونے میں کسی بھی شعبہ میں حتی کہ پاکستان میں بھی ایک یا دو سال والے ڈپلومہ کا ٹرنیڈ ختم ہو رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس ملک کے با صلاحیت نوجوانوں پہ ہوتا ہے۔ کسی بھی شعبہ کی ترقی کا راز اس میں موجود ہائی سکز اور پروفیشنلز لوگوں کے مرہون منت ہے۔ کچھ عرصہ قبل بی ایس کے طلبہ کے ساتھ یہی رویا امبور ہسپتال میں بھی اپنایا گیا۔ دنیا کے شعبہ صحت میں ترقی کے پیش نظر ایسے پروفیشنلز لوگوں کی سکلز کو مدنظر رکھتے ہوے شعبہ میں مناسب جگہ دینا ناگزیر ہے۔ محکمہ صحت کی ایسی غفلت کا زمہ دار کون ہے۔؟ اور کون ان نوجوانوں کے تاریک مستقبل کا ذمہ دار ہے؟ریاست آزاد جموں کشمیر اب تک کیوں ان طلبہ کو ان کا حق دینے میں ناکام ہے ؟۔ کسی بھی شعبہ میں ایڈوانسمنٹ تب ہی ہوگی جب اس میں ایڈوانس سکلز کے حامل افراد موجود ہوں گے۔ پاکستان میں دنیا کے ہیلتھ سٹرکچر کو مد نظر رکھتے ہوئے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اینڈ پیرامیڈمکس کونسل کا قیام اپنے آخری مراحل میں داخل ہے۔ پنجاب، کے پی کے اور دوسرے اضلاع میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اور پیرامیڈکل کا مناسب جاب سٹکچر موجود ہے۔ اور اسی کے مطابق تقرریاں عمل میں لائی جاتی ہیں ۔ آزاد کشمیر کی ستم ظریفی کا یہ عالم ہے . جہاں جرمنی طرز کا ہیلتھ سائینسز کا شعبہ پچھلے 10 سال سے بغیر کسی جاب سٹرکچر کے چلایا جا رہا ہے۔ جس میں سالانہ سینکڑوں طلبہ باقاعدہ اینٹری ٹیسٹ پاس کر کے بھاری بھرکم فیسسز ادا کر کے ایڈمیشن لیتے ہیں اور اب تک تقریبا 2000 کے قریب طلبہ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں ۔ جن میں سے اکثر طلبہ اسلام راولپنڈی کے پرایویٹ ہسپتالوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ اور انہی لوگوں کو اسلام آباد داولپنڈی کےبڑے ہسپتالوں جن میں الشفاء انٹرنیشنل ، کلثوم انٹرنیشنل اور قائداعظم انٹرنیشنل میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے ۔ جہاں ہماری آزاد ریاست کے اشرافیہ اپنا علاج کروانا پسند کرتے ہیں۔ افسوس ہماری ریاست انہیں مناسب جاب سٹرکچر دینے سے بھی قاصر ہے ۔ اور مزید یہ کہ پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک میں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تناسب بہت کم ہے ۔ مثلا 1000 مریضوں کو دیکھنے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ اور اسی طرح نرس اور مریض کے درمیان بھی تناسب بہت کم ہے۔ اسی لیے دنیا کے ہر خطے میں پرائمری ہیلتھ کئیر کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مزید طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے محکمہ صحت کے بنائے گئے رولز کے مطابق اگر ہم ڈگری ہولڈرز بی 9 کی ٹیکنیکل پوسٹ کے اہل نہیں ہیں تو میٹرک یا مڈل پاس ایک یا دو سالہ ڈپلومہ ہولڈرز گرئیڈ 17 کی پوسٹ کے اہل کیسے ہو سکتے ہیں ۔ جبکہ گرئیڈ 17 کی پوسٹ کے لیے کم از کم گریجویشن چونکہ یہ ٹیکنیکل پوسٹیں ہیں اس لیے ریلیوینٹ فیلڈ میں ہی گریجویشن ہونا لازمی ہے۔ کیا اس آزاد ریاست میں کوئی نہیں جو ان طلبہ کی چارہ جوئی کر کے انکو انکا حق دلا سکے؟ ۔ طلبہ کا مزید کہنا تھا ہماری حق تلفی نہ کی جائے ورنہ ہم پر امن احتجاج کا جمہوری حق برقرار رکھتے ہیں ۔ ہمیں سڑکوں پہ آنے پر نہ مجبور کیا جائے اور ریاست آزاد جموں میں پنجاب طرز کا ہیلتھ سروسز سٹرکچر لایا جائے۔۔۔

اعلی حکام کو نوٹس لینا چاہئے۔ ورنہ ہمارے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔ہم حکام کو آگاہ کرنے جارہے ہیں کہ ہم احتجاج کریں گ...
30/10/2020

اعلی حکام کو نوٹس لینا چاہئے۔ ورنہ ہمارے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔
ہم حکام کو آگاہ کرنے جارہے ہیں کہ ہم احتجاج کریں گے جو اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ہمیں اپنے حقوق نہیں ملیں گے۔
ینگ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز ایسوسی ایشن۔

29/10/2020

یونیورسٹی آف آزاد جموں اینڈ کشمیر کے شعبہ بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائینسز کےطلبہ کا مستقبل خطرہ میں ۔ ایک مرتبہ پھر پروفیشنلز ڈیگری ہولڈرز کو مایوسیوں کا سامنہ ، سی ایم مظفرآباد میں مورخہ 22 اکتوبر کو بی ایس کے طلبہ کو ریٹن ٹیسٹ میں بیٹھنے کے اجازت نہ دی گئی۔انتظامیہ دوپہر 12 بجےتک سٹوڈنٹس کو انتظار کرواتی رہی۔ پھر عین ٹیسٹ لینے کے وقت انکو یہ کہہ کر باہر کر دیا گیا کے ہم ایک یا دو سال والے ڈپلومہ ہولڈر کو پروفیشنلز ڈگری ہولڈر پر ترجیح دیتے ہیں۔ سی ایم ایچ انتظامیہ کے ایسے اقدامات پر بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ میں مایوسی اور غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔طلبہ نے س ایم ایچ انتظامیہ سے احتجاجن بات کرنے کی کوشش کی لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ طلبہ نے اپنی حق تلفی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا کہ دنیا کے ہر کونے میں کسی بھی شعبہ میں حتی کہ پاکستان میں بھی ایک یا دو سال والے ڈپلومہ کا ٹرنیڈ ختم ہو رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس ملک کے با صلاحیت نوجوانوں پہ ہوتا ہے۔ کسی بھی شعبہ کی ترقی کا راز اس میں موجود ہائی سکز اور پروفیشنلز لوگوں کے مرہون منت ہے۔ کچھ عرصہ قبل بی ایس کے طلبہ کے ساتھ یہی رویا امبور ہسپتال میں بھی اپنایا گیا۔ دنیا کے شعبہ صحت میں ترقی کے پیش نظر ایسے پروفیشنلز لوگوں کی سکلز کو مدنظر رکھتے ہوے شعبہ میں مناسب جگہ دینا ناگزیر ہے۔ محکمہ صحت کی ایسی غفلت کا زمہ دار کون ہے۔؟ اور کون ان نوجوانوں کے تاریک مستقبل کا ذمہ دار ہے؟ریاست آزاد جموں کشمیر اب تک کیوں ان طلبہ کو ان کا حق دینے میں ناکام ہے ؟۔

authorities should take notice. otherwise we have many more options.
We are going to inform authorities that we will do protest which will not end until we got our rights.
Young Allied Health Professionals Association.

29/10/2020

الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل وہ ہیں جو F.sc اور پھر entery test بھی پاس کرتے ہیں اور کچھ نمبر کم ہونے کی وجہ سے MBBS اور BDS میں ایڈمیشن نہیں لے پاتے اور دوسرے نمبر پے highest merit کے ساتھ معروف اداروں سے بیچلر کی Degree حاصل کرتے ہیں۔
ھر مشکل وقت میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جہاں انکو ھماری ضرورت پڑی انشاء اللہ ھم انکے ساتھ ھیں

*یہ ان ڈاکٹر کیلئے جو ھمیں اتائی سمجھتے ہیں*
یہ لوگ ھمیں اتائی کہ رھے ھیں جو کچھ ڈاکٹر کے علاوہ جو کے چند ایک ھیں MBBS اور BDS میں merit پر ھوتے ھیں اسکے علاوہ وہ وہ ڈاکٹر جو 600,700 نمبر لے کر اور DONATION دے کر Private Colleges میں ایڈمیشن لیتے ہیں اور الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز کو اتائی کہہ رہے ہیں جو +980 اور +1000 نمبر لیکر Merit پر HEC کی RECOMMENDED Universities میں ایڈمیشن لیتے ہیں
ھم اتائی اس لئے ھیں کہ ھم Private کالجز کی فیسیں نہیں دے سکتے؟؟؟؟؟؟؟
یا اتائی اس لئے ھیں کہ ھم Donation نہیں ے سکتے؟؟؟؟؟
یا اتائی اس لئے ھیں کہ ھم شفارش نہیں کرا سکتے؟؟؟؟؟
اگر ھم 980+ لیکر اعلٰی ترین Universities سے الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز کی ڈگری لیتے ہیں
اور ڈاکٹر 600،700 نمبر لیکر Donation دے کر MBBS کی ڈگری لیتے ھو تو آپ کون ھو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
*الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز کون ھیں*
الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز HEC کی Recommended books follow کرتے ہیں
Anatomy (Snell)
Physiology ,Guyton and Hall٫
Bio- Chemistry, Pharmacology, Microbiology, Pathology

اور اسکے علاوہ سپیشل سبجیکٹس کے ساتھ
*Medical Lab Technologist*
(Microbiology by Levinson
Hematology by hoffbrand
Pathology by Robbins
Human genetics
Molecular biology
Chemical pathology
Clinical pathology)

*Anesthesia technologist*
(Morgan, Smith )

*Medical imaging Technologist*
(Ct physics
MRI physics
Positioning
Physics
Nuclear medicine
Angiography
Echocardiography
Ultrasound)

*Dental Technologist*
(Operative dentistry
Prosthodontics
Orthodontics
Oral maxillofacial Surgery
Oral Anatomy & marphology)

*Surgical technologist*
(Berry Kohn’s
Bailey surgery)
اور اسکے علاوہ ٹوٹل 23 ڈیپارٹمنٹ ھیں جو سٹینڈرڈ ھسپتال میں کلینیکل روٹیشن کرنے کے بعد الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز کی ڈگری لیتے ہیں اور اپنے سپیشل سبجیکٹس پڑھتے ہیں جو کہ MBBS والے نہیں پڑھتے اور کچھ ڈیپارٹمنٹ ایسے ہیں جن کے بغیر ڈاکٹر بھی نہیں چل سکتے مثلاً
1) Speech Therapist
2)Occupational therapist
3)Nutritionists
4)Physiotherapist
تصور کیجیے آپ اپنی زندگی کے بارہ سال کڑی محنت کرتے ہیں, انٹری ٹیسٹ،ایف ایس سی میں اچھے نمبرز کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں تب اس قابل ہوتے ہیں کہ کسی اچھے انسٹیٹیوٹ میں الائیڈ ہیلتھ سائینسز میں ایڈمیشن لے سکیں, ہر سٹوڈنٹ کا خواب ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے چار پانچ سال اچھے سے تعلیم حاصل کرے اور جب پاس آؤٹ ہو تو سے فیلڈ پر مکمل عبور حاصل ہو اور ، پھر بھی ھمیں اتائی کھا جائے تو کیا ھم برداشت کریں گے؟؟؟؟؟
ھم آپ سے گزارش کرتے ہیں ھماری کونسل بنانے میں ھماری مدد کریں ھم آپکی جگہ نہیں لینا چاہتے کیونکہ ھم الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز ھیں ڈاکٹر نھیں

*یہ ان ڈاکٹر کیلئے جو ھمیں بھی ھیلتھ کا حصہ سمجھتے ہیں*
جو ھمیں بھی ھیلتھ کا حصہ سمجھتے ہیں جو ھماری کونسل کے لیے محنت کر رہے ہیں، ھمارے ساتھ قدم قدم پر کھڑے ہیں، جو چاھتے ہیں ھماری بھی الگ پہچان ھو، AHPs انکا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، ھم بھی انکے ساتھ ھر مشکل وقت میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جہاں انکو ھماری ضرورت پڑی انشاء اللہ ھم انکے ساتھ ھیں

الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے کوئ کونسل نہیں جو انکے حقوق کا تحفظ کرے, یہاں جس کی لاٹھی اسکی بھینس ہے اور جس کے حقوق محفوظ نہ ہو سے جس طرف چاھے ہانکا جاتا ہے, حق دبایا جاتا ہے اور منہ پر ٹیپ لگا دی جاتی ہے کہ آواز بلند کی تو اتائی , نا اہل ایسے القابات سننے کو ملیں گے,یہ ہ تصویر کشی الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے حال اومستقبل کی اگر اب بھی کونسل کے لیے کھڑے نہ ہوۓ تو یہ آمرانہ نظام آپکو دبوچ لے گا آپکو کبھی وہ نہ مل سکے گا جسکے آپ حق دار ہیں, لیکن اب بس بہت ہوا, اب آواز اٹھانی ہے ,اپنے حق کو مانگیں گے اور مانگے سے نا ملا تو چھین لیں گے.

پریزیڈنٹ
ینگ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشن اے جے کے۔

29/10/2020
29/10/2020

یہ جبر کا یہ جہل کا یہ زر کا تسلط
تم دیکھنا اک وقت میں تینوں سے لڑیں گے

اب جس کو برا لگتا ہے لگتا رہے صاحب
ہم دیش کے بدذات کمینوں سے لڑیں گے

عشروں کے تدبر نے یہی حکم دیا ہے
اب خاک نشیں تخت نشینوں سے لڑیں گے

Address

Bagh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Young Allied Health Professionals Association AJK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category