Shahzad Ahmad Khan Rath Advocate

Shahzad Ahmad Khan Rath Advocate lawyer,
life time member Lahore High Court Bar Association,Lahore
Executive member bar association Arifwala. Chief Executive R&J law associates Arifwala.

20/03/2026

Shahzad Ahmad Khan Rath R & J Law Assosiates Shams Ch Muhammad Ahmad M Murtaza Khan Rath Zain Ali Khan Rath Muhammad Arshad ناصراقبال ایڈووکیٹ سید علی عمران گیلانی Babu Rath Arsalan Rasheed Khan Rath M Asghar Rath Ali Ali Ali Haider Rath Mian Afzal Joyia Adv Asim Altaf Khan Rath Altaf Hussain Rath Mirza Abrar Imtiaz Nawaz Khan fans

علی کا علی سے مکالمہ👇اسرائیل نے بڑے فخر سے علی لاریجانی کے قتل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ...
20/03/2026

علی کا علی سے مکالمہ👇
اسرائیل نے بڑے فخر سے علی لاریجانی کے قتل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ لاریجانی ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے ۔ انہوں نے اپنی حفاظت کا مناسب انتظام کیوں نہ کیا؟ ابھی اس سوال کا جواب نہیں ملا تھا کہ ایک سفارتکار نے ایران کے ایک اخبار میں لاریجانی اور ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کے درمیان آخری مکالمے کی شائع ہونے والی تفصیل بھیجی ۔ جس دن لاریجانی کی شہادت ہوئی اُس سے ایک دن قبل لاریجانی نے خود اس مکالمے کی تفصیل جاری کی جو اُنکے پاس ایک امانت تھی ۔ شہادت سے قبل لاریجانی نے یہ امانت ایرانی عوام کے سپرد کر دی اور اُنہیں اپنے ساتھ ساتھ علی خامنہ ای کی شہادت کی وجہ بھی بتا دی۔ ایران کے دو لیڈروں کے درمیان یہ مکالمہ ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ قتل حسین اصل میں مرگ یزید کیوں ہے اور اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ کیوں ہو جاتاہے ؟ مجھ تک یہ مکالمہ انگریزی میں پہنچا ہے جسے فارسی سے ترجمہ کیا گیا لیکن اسکے راوی علی لاریحانی ہیں اور انداز بیان بھی انہی کا ہے۔ یہ دراصل لاریجانی اور علی خامنہ ای کے درمیان آخری ملاقات کی کہانی ہے ۔ دونوں کا نام علی تھا لیکن لاریجانی سپریم لیڈر کو ہمیشہ میرے قائد کہتے تھے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے سے چند گھنٹے قبل علی لاریجانی ہاتھ میں ایک فائل اُٹھائے سپریم لیڈر سے ملاقات کیلئے اُنکے آفس میں تشریف لائے۔ لاریجانی بارہ سال تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے ۔2005 ء سے 2007ء تک وہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے اور اگست 2025ء میں ایران صدر مسعود پزشکیان نے انہیں دوسری مرتبہ اس عہدے پر فائز کیا تھا۔ پزشکیان نے یہ فیصلہ سپریم لیڈر کے ساتھ مشورے کے بعد کیا تھا۔ لاریجانی اپنے سپریم لیڈر کو ان کے قتل کے منصوبے سے آگاہ کرنے آئے تھے۔ لاریجانی کو اس منصوبے کی تفصیلات مختلف ذرائع سے ملی تھیں لہٰذا وہ اس منصوبے کے بارے میں فائل بھی ساتھ لیکر آئے تاکہ سپریم لیڈر کے ممکنہ سوالات کا جواب دے سکیں۔ دعا سلام کے بعد لاریجانی اپنے قائد کے سامنے بیٹھ گئے اور گفتگو کے آغاز سے قبل چند لمحوں تک سپریم لیڈر کو احترام اور محبت سے دیکھتے رہے۔ پھر گویا ہوئے ’’میرے قائد ! اس مرتبہ یہ دباؤ ڈالنے کا حربہ یا عام سا پیغام نہیں بلکہ ایک فیصلے کی خبر ہے ۔ دشمن نے آپکو ہر قیمت پر شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے خواہ اسے پورا آسمان میزائلوں کی آگ سے جلانا پڑے ۔ " سپریم لیڈر بڑی سنجیدگی سے لاریجانی کی بات سُن رہے تھے ۔ لاریجانی نے انہیں مزید بتایا کہ ہم نے آپ کیلئے ایک محفوظ مقام کا بندوبست کیا ہے جہاں آپ دشمن کی آنکھ سے اوجھل رہیں گے ، جہاں نہ تو دشمن کے بم آسانی سےپہنچ سکیں گے اور نہ ہی دشمن کے جنگی طیارے اُس جگہ کو ٹارگٹ کر سکیں گے ۔ سپریم لیڈر بالکل خاموش تھے ۔ اب لاریجانی نے منت سماجت کے انداز میں سپریم لیڈر کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے قائد ! یہ کوئی چھپنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک عارضی قیام گاہ ہے تا کہ طوفان کے گزرنے تک آپ نظروں سے اوجھل رہیں ۔ یہ الفاظ ادا کر کے لاریجانی خاموش ہو گئے ۔ سپریم لیڈر کچھ دیر تک مشفق مسکراہٹ کے ساتھ لاریجانی کو دیکھتے رہے ۔ پھر خامنہ ای کھڑے ہو گئے ۔ لاریجانی کو ایسا محسوس ہوا کہ سپریم لیڈر کے ساتھ تاریخ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔ سپریم لیڈر نے شفقت بھرے پرسکون لہجے میں لاریجانی سے پوچھا کہ جب آپ میرے پاس آ رہے تھے تو آپکو مجھ سے کس قسم کے جواب کی توقع تھی ؟ لاریجانی نے تمام تر احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جھجک جھجک کر کہا کہ مجھے خدشہ تھا کہ آپ انکار کر دیں گے لیکن میرے قائد ! قوم کو آپکی ضرورت ہے ہم یہ جنگ اپنے کمانڈر کے بغیر نہیں لڑ سکتے ۔ یہ سُن کر سپریم کمانڈر کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جسکے پیچھے افسردگی کے ساتھ ساتھ حکمت کی جھلک بھی نمایاں تھی ۔ سپریم لیڈر نے لاریجانی سے کہا کہ ریاستی امور اور سکیورٹی کے تقاضوں کی روشنی میں آپ نے جو کہا وہ بالکل درست ہے لیکن آئیے ایک لمحے کیلئے اس معاملے پر ذرا مختلف پہلو سے نظر ڈالتے ہیں ۔ اب لاریجانی بھی اپنے قائد کی بات غور سے سننے لگے ۔سپریم لیڈر نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اگر میں خود غائب ہو جاؤں تو اپنے سپاہیوں کو یہ کیسے کہوں گا کہ موت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاؤ ؟ میں اپنے لوگوں سے یہ کیسے کہوں گا کہ گھبرانا نہیں ؟اگر میں خود ہی میدان سے غائب ہو گیا تو دوسروں کو حوصلہ قائم رکھنے کا درس کیسے دوں گا ؟ پھر سپریم لیڈر نے گفتگو میں ایک وقفہ لیا تو لاریجانی کو ایسا لگا کہ اُن کے قائد کے سینے میں کربلا کا ایک دروازہ کھل گیا ہے ۔ ایک علی نے دوسرے علی کو یاد دلایا کہ ہم حسین ابن علی کی اولاد ہیں اور یہ وہ امام تھے جنہیں اپنے انجام کا پتہ تھا لیکن وہ اللّٰہ کے بھروسے پر اس انجام کی طرف بڑھتے ہوئے کر بلا تک پہنچ گئے ۔ سپریم کمانڈر نے لاریجانی کو یاد دلایا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی فوج بہت چھوٹی تھی انہیں پتہ تھا وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے لیکن انہوں نے غائب ہونے کی بجائے میدان میں آکر دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ علی خامنہ ای کی بات سن کر علی لاریجانی نے ایک دفعہ پھر التجا کرتے ہوئے کہا کہ میرے قائد ! تاریخ صرف ایک واقعے کا نام نہیں ہے ہماری تاریخ میں ایک اور امام (اہل تشیع کے بارہویں امام محمد المہدی) بھی ہیں اور اُن کا منظر سے غائب ہونا بتاتا ہے کہ کبھی کبھار نظروں سے اوجھل ہونا حکمت کا تقاضا ہے بزدلی نہیں ۔ یہ سن کرسپریم لیڈر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا۔ " مسٹر لاریجانی ! فرق یہ ہے جب امام (محمد المہدی) غائب ہوئے تو اُن کے پیچھے سچ کا دفاع کرنے کیلئے کوئی فوج یا قوم نہیں تھی ۔ میں کیسے غائب ہو جاؤں جبکہ میری قوم لڑنے کیلئے تیار ہے ؟ میں کیسے غائب ہو جاؤں جب میری فوج دشمن کی آگ کے سامنے بہادری سےکھڑی ہے ؟ لیڈر کے پیچھے فوج نہ ہو تو اُس کے غائب ہونے میں حکمت ہے لیکن جب پوری قوم اسکے پیچھے کھڑی ہو اور پھر بھی لیڈر جان بچانے کیلئے غائب ہو جائے تو وہ تاریخ کے ضمیر پر ایک بھاری سوال بن جاتا ہے ۔ اب لاریجانی خاموش ہو چکے تھے ۔ اُن کےپاس کوئی جواب نہ تھا۔ سپریم لیڈر نےاُنہیںرخصت کرتے ہوئے ہاتھ ملا کر اُنکی پیشکش کا شکریہ ادا کیا۔ لاریجانی کے رخصت ہونے کے بعد سپریم لیڈر نے اپنے خاندان کو اکٹھا کیا اور انہیں لاریجانی کے خدشات اور پیشکش سے آگاہ کیا۔ خاندان کے افراد نے انہیں کہا کہ آپ جہاں رہیں گے ہم بھی آپ کے ساتھ وہیں رہیں گے ۔ تھوڑی دیر بعد سپریم لیڈر اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ اسرائیلی میزائلوں کا نشانہ بن گئے ۔ اُنکی شہادت کے بعد بھی ایران میں رجیم چینج کا خواب پورا نہ ہو سکا کیونکہ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ۔ علی خامنہ ای کی شہادت سے علی لاریجانی کو یہ سمجھ آگئی کہ جولیڈر موت سے گھبرا کر غائب ہو جاتے ہیں وہ اپنی قوم کی یاداشت سے بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔ لاریجانی بھی نتین یاہو کی طرح زمین دوزپناہ گاہوں میں چھپ سکتےتھے لیکن وہ اپنی قوم اور فوج کی نظروں کے سامنے موجود رہے اور چند دن بعد اپنے قائد کی طرح شہید ہو گئے ۔ رمضان میں شہید ہونے والے یہ دونوں علی ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یاد دلاتے ہیں جو 21 رمضان کو شہید ہوئے ۔ کچھ دانشوروں کے خیال میں طاقت کے سامنے ڈٹ جانا بے وقوفی ہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ جس لیڈر کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اُسکی موت قوم کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اور پھر یہ زندگی وقت کے نمرود ، فرعون اور یزید کے زوال کا باعث بنتی ہے۔

          آج تک ہمارے فرقہ پرست مولوی وعلماء ہمیں ایران سے نفرت سکھاتے رہے،اور اسرائیل کو اسلام دشمن ظاہر کر کے،فلسطین ک...
20/03/2026











آج تک ہمارے فرقہ پرست مولوی وعلماء ہمیں ایران سے نفرت سکھاتے رہے،
اور اسرائیل کو اسلام دشمن ظاہر کر کے،
فلسطین کی آزادی کے لیے ہمیں پڑھاتے آئے۔
ہماری دعاؤں میں آج تک شامل رہی:
"اسرائیل نیست و نابود ہو اور فلسطین آزاد ہو!"
آج جب اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کا وقت آیا ہے،
تو ان طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں اکیلا ایران کھڑا ہے۔
کوئی مسلم ملک کھلم کھلا ایران کے ساتھ نہیں ہے۔
اللہ پاک نے حق و باطل واضح کر دیا ہے:
کون حق پر ہے، کون باطل پر،
کون کفر و ظلم کے ساتھ اور کون اسلام کے ساتھ۔
آج اسرائیلی و امریکی جارحیت اور ایران کی
ثابت قدمی ہمیں یاد دلا رہی ہے
ماضی کے عظیم اسلامی معرکوں کی! واقعہ کربلا کی!
نعرہ وار انداز میں آخر میں:
"ایران کے ساتھ، اسلام کے ساتھ!"
"فلسطین آزاد ہو، اسرائیل نیست و نابود ہو!"

Life is short.  Spend it with people who make you laugh and feel loved. 😍 ❤️ 🫂💑💏
19/03/2026

Life is short.
Spend it with people who make you laugh and feel loved. 😍 ❤️ 🫂💑💏

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔میرے سب عزیز، دوست ،رفقاء کو ایڈوانس عید مبارک۔Shahzad Ahmad Khan Rath R & J Law Assosia...
17/03/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
میرے سب عزیز، دوست ،رفقاء کو ایڈوانس عید مبارک۔
Shahzad Ahmad Khan Rath R & J Law Assosiates
https://rjlawassoc-7yqbnwd4.manus.space

 #انشاءاللہ نصر من اللہ و فتح  قریب
09/03/2026

#انشاءاللہ
نصر من اللہ و فتح قریب

  with Shahzad Ahmad Khan Rath, Babu Rath, Ch.Usman Ali (ex president TBA), Ch.Rashid Ali Advocate, Ch.Muhammad Yasin Sa...
09/03/2026

with Shahzad Ahmad Khan Rath, Babu Rath, Ch.Usman Ali (ex president TBA), Ch.Rashid Ali Advocate, Ch.Muhammad Yasin Sarwar & Waqar Minhas Advocate.

09/03/2026

پیشہ ورانہ عزم اور دوستی کا سنگم!
لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ الیکشن کے موقع پر دوستوں کے ساتھ ایک یادگار لمحہ۔

بہتر مستقبل اور مضبوط بار کے لیے پرامید!    الیکشن ڈے کی کچھ جھلکیاں
09/03/2026

بہتر مستقبل اور مضبوط بار کے لیے پرامید! الیکشن ڈے کی کچھ جھلکیاں

آج ایران تنہا، کل پاکستان؟ ایک سنجیدہ سوالاگر آج ایران تنہا دکھائی دیتا ہے تو کل یہی منظر پاکستان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔...
09/03/2026

آج ایران تنہا، کل پاکستان؟ ایک سنجیدہ سوال
اگر آج ایران تنہا دکھائی دیتا ہے تو کل یہی منظر پاکستان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم دنیا کو کمزور کرنے کے لیے طاقتور قوتیں ہمیشہ ایک ہی حکمتِ عملی اختیار کرتی رہی ہیں: پہلے کسی ملک کو تنہا کرو، پھر اسے دباؤ، جنگ یا پابندیوں کے ذریعے تباہی کے دہانے تک پہنچا دو۔ عراق، لیبیا، شام، لبنان اور فلسطین اس حکمتِ عملی کی واضح مثالیں ہیں۔ آج ایران اسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور بعید نہیں کہ کل اس صف میں پاکستان یا ترکی بھی کھڑے نظر آئیں۔ ۔
ماضی میں جب پاکستان کو خطرات لاحق ہوئے تو ایران، ترکی اور دیگر مسلم ممالک نے کم از کم سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کی۔ مغربی سرحد نسبتاً محفوظ رہی اور خطے میں ایک توازن قائم تھا۔ لیکن آج صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ہم نے اپنی پالیسیوں اور اندرونی کمزوریوں کے باعث مغربی سرحد پر بھی کشیدگی پیدا کرلی ہے۔ ملک کے اندر سیاسی غیر یقینی، داخلی عدم استحکام اور قومی یکجہتی کے فقدان نے ہماری مجموعی قوت کو مزید کمزور کردیا ہے۔ ۔
حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی کشیدگی میں بھی پاکستان کھل کر ایران کی حمایت کرنے سے گریزاں نظر آیا۔ امریکی دباؤ کے باعث ایران سے سستا تیل اور گیس خریدنے کے بجائے ہمیں مہنگے ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست قوم پر پڑتا ہے۔ ۔
ایسی صورتحال میں اگر بھارت پاکستان کے خلاف کسی جارحیت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو خطرہ صرف مشرقی سرحد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مغربی سرحد بھی دباؤ میں آسکتی ہے۔ تب شاید ہمارے ساتھ صرف رسمی مذمتیں اور او آئی سی کے روایتی اجلاس ہی رہ جائیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ایک ایٹمی طاقت کو کس سمت میں لا کھڑا کیا ہے اور ہمیں اب کہاں جانا چاہیے۔ ۔

غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جس نے یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے واضح کر دی کہ فتح و شکست کا فیصلہ صرف افرادی قوت، ...
07/03/2026

غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جس نے یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے واضح کر دی کہ فتح و شکست کا فیصلہ صرف افرادی قوت، اسلحہ یا ظاہری طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ اصل کامیابی اللہ تعالیٰ پر کامل توکل، سچے ایمان اور ثابت قدمی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ معرکہ دراصل حق اور باطل کے درمیان پہلا بڑا فیصلہ کن مقابلہ تھا جس نے مسلمانوں کو حوصلہ، یقین اور استقامت کا ایسا سبق دیا جو قیامت تک زندہ رہے گا۔
17 رمضان المبارک سن 2 ہجری کو پیش آنے والے اس تاریخی معرکے میں ایک طرف مسلمان تھے جن کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی۔ ان کے پاس نہ مکمل جنگی سازوسامان تھا، نہ زیادہ گھوڑے اور نہ ہی وہ وسائل جو ایک بڑی جنگ کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف قریش مکہ کا لشکر تھا جس کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی اور وہ مکمل اسلحہ اور وسائل سے لیس تھا۔ بظاہر حالات یہ ظاہر کر رہے تھے کہ یہ مقابلہ غیر مساوی ہے اور مسلمانوں کے لیے کامیابی کا امکان کم نظر آتا ہے۔
لیکن اس موقع پر مسلمانوں نے اپنی طاقت کو ظاہری وسائل میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد پر یقین میں تلاش کیا۔ رسول اکرم ﷺ نے میدان بدر میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور اخلاص کے ساتھ دعا فرمائی اور مسلمانوں کو حوصلہ اور استقامت کی تلقین کی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق مسلمانوں کی مدد فرمائی اور قلیل تعداد ہونے کے باوجود انہیں عظیم فتح نصیب ہوئی۔ قرآن مجید میں بھی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کی۔
غزوۂ بدر کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ مسلمان کبھی دشمن کی بڑی تعداد، طاقتور ہتھیاروں یا ظاہری قوت کو دیکھ کر مرعوب نہ ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اہلِ حق نے اخلاص، اتحاد اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ میدان میں قدم رکھا تو بڑی سے بڑی طاقتیں بھی ان کے سامنے شکست کھا گئیں۔ لیکن جب مسلمان باہمی اختلافات، کمزوریوں اور دنیاوی مفادات میں الجھ گئے تو ان کی قوت کمزور ہوتی چلی گئی۔
آج کے عالمی حالات پر نظر ڈالیں تو کئی حوالوں سے بدر جیسی صورتحال کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف ایران نسبتاً تنہا کھڑا دکھائی دیتا ہے جس کی جنگی صلاحیت محدود سمجھی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے مقابلے میں اسرائیل اور امریکہ جیسی بڑی طاقتیں موجود ہیں جو جدید ترین اسلحہ اور ایٹمی قوت کی حامل ہیں۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی قابلِ افسوس ہے کہ بہت سے مسلم ممالک اس کشیدہ صورتحال میں عملی کردار ادا کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسے حالات میں بدر کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل قوت ایمان، حوصلہ، اتحاد اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
تاہم بدر کا پیغام صرف جنگی قوت تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمیں حکمت، نظم و ضبط اور باہمی مشاورت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے میدان بدر میں بہترین حکمت عملی اختیار کی، صحابہؓ سے مشورہ کیا اور مکمل تیاری کے بعد اللہ پر توکل فرمایا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کامیابی کے لیے ایمان کے ساتھ ساتھ تدبیر اور اتحاد بھی ضروری ہیں۔
مختصراً یہ کہ غزوۂ بدر ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اہلِ حق کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایمان مضبوط ہو، مقصد حق ہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہو تو کم تعداد اور محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دی جا سکتی ہے۔ یہی بدر کا پیغام ہے جو ہر دور میں اہلِ ایمان کے لیے امید، حوصلے اور کامیابی کی علامت بنا ہوا ہے

#2ہجری

Address

R&J Law Assosiates, Tehsil Courts
Arifwala
57450

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923236565265

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahzad Ahmad Khan Rath Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Shahzad Ahmad Khan Rath Advocate:

Share