Lawyers Club of Abbottabad

Lawyers Club of Abbottabad People can ask legal questions.

This Page is Dedicated to Law Community , they can share their ideas, views and experiences, and information for public to update them about their basic rights.

09/09/2025
09/09/2025
09/07/2024

وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ

قومی سلامتی اور کسی بھی جرم کے خدشے کے تناظر میں سیکیورٹی ادارے (آئی ایس آئی ) کو فون ٹیپنگ کی اجازت دے دی گئی، گزٹ نوٹیفیکیشن جاری

16/03/2024

ریمانڈ کیا ہے؟👇

ریمانڈ کی تین قسمیں ہیں۔

👈*1- فزیکل (جسمانی) ریمانڈ*
👈*2- جوڈیشل (عدالتی) ریمانڈ*
👈*3- ٹرانزٹ (سفری) ریمانڈ*

👈1- فزیکل (جسمانی) ریمانڈ کیا ہے؟
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر کے اندارج کے بعد کریمنل پروسیجر کوڈ کی شق 61 کے تحت تفتیشی افسر (انویسٹی گیشن افسر،آئی او) کی ذمہ داری ہے کہ ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے۔ان24 گھنٹے کے اندر ملزم سے تفتیش مکمل نہ ہوئی ہو تو آئی او مجسٹریٹ کو وجوہات بتائے گا کہ تفتیش اور جرم سے متعلق ثبوت اکٹھے کرنے کیلئے ملزم کا ابھی پولیس حراست میں رہنا ضروری ہے۔عدالت جرم کی نوعیت وغیرہ دیکھتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 کے تحت ملزم کو کچھ دن کیلئے پولیس کی حراست میں دے دے گی۔اسے فزیکل ریمانڈ کہتے ہیں۔

👈فزیکل ریمانڈ کتنے دن کا ہوگا؟
قانون کے مطابق مجسٹریٹ ملزم کو زیادہ سے زیادہ15دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرسکتا ہے۔تاہم غیر معمولی نوعیت کے کیسوں میں جسمانی ریمانڈ 15 دن سے زیادہ بھی دیا جاسکتاہے۔(تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے)لیکن مجسٹریٹ ایک دفعہ پیشی پر15 دن سے زیادہ کا جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتا۔
نیب قانون میں ملزم کو 3 مہینے(90 دن) کیلئے جسمانی ریمانڈ پر نیب افسران کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔
جسمانی ریمانڈ سے متعلق ایک غلط فہمی یہ عام ہے کہ شاید اس عرصے میں پولیس جرم قبول کروانے کیلئے ملزم پر تشدد وغیرہ کر سکتی ہے۔تو اس غلط فہمی کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔کسی بھی قانون کے تحت پولیس ملزم پر تشدد نہیں کرسکتی،اگر وہ ایسا کرے گی تو مجرم ہو گی۔جسمانی ریمانڈ کا مقصد صرف ملزم کو اپنے پاس رکھ کر اس سے تفتیش کرنا اور جرم سے متعلقہ ثبوت اکٹھے کرنا ہے۔ثبوت ملزم اور مدعی دونوں طرف سے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔
اگر ملزم خاتون ہے اور جرم قتل یا ڈکیتی نہیں ہے تو آئی او کو اس ملزمہ کی کسٹڈی نہیں دی جائے گی۔ضابطہ فوجداری کی شق 167(5) کے تحت وہ اس سے جیل میں ہی تفتیش کرے گا۔اس موقع پرجیل افسر اور کسی خاتون پولیس اہلکار کا بھی پاس موجود ہونا ضروری ہے۔

👈2- جوڈیشل ریمانڈ کیا ہے؟
ملزم کی گرفتاری کے بعد ضابطہ فوجداری کی دفعہ173 کے تحت آئی او کو 14 دن جس میں 3 مزید دن شامل کیے جا سکتے ہیں عدالت کے سامنے چالان (مکمل یا نامکمل) پیش کرنا ہوتا ہے۔ چالان میں کیس کی تفصیلات اور ملزم سے تفتیش کی صورت میں جو ثبوت وغیرہ اکٹھے ہوئے ان کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔چالان پیش ہونے پر عدالت فائل دیکھنےکے بعد اگر یہ سمجھتی ہے کہ ملزم نے کوئی جرم نہیں کیا تو اسے مقدمے سے ڈسچارج کردیتی ہے۔تاہم اگر ملزم کیخلاف ٹھوس ثبوت موجود ہوں تو ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے۔اس دوران ملزم کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 344 کے تحت پولیس کی حراست سے لے کر جیل میں بھیج دیا جاتاہے۔عدالت میں کیس چلنےکے دوران ملزم جتنا عرصہ جیل میں رہے گا اسے جوڈیشل ریمانڈ کہا جاتا ہے۔

👈3- ٹرانزٹ (سفری) ریمانڈ کیا ہے؟
ملزم جرم کرکے کسی دوسرے شہر فرار ہو گیا۔پولیس اسے گرفتار کرنے کیلئے اس کے پیچھے پہنچتی ہے اور گرفتار کر لیتی ہے۔قانون کے مطابق پولیس کو گرفتاری کے24 گھنٹے کے اندر ملزم کو متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہے۔تاہم سفر اتنا زیادہ ہے کہ24 گھنٹے کے اندر واپس پہنچنا ممکن نہیں تو ایسی صورت میں پولیس نے ملزم کو جس علاقے سے گرفتار کیا اسی علاقےکے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔گرفتاری اس کے نوٹس میں لائے گی اور اس سے ملزم کا سفری ریمانڈ لے گی۔اور ملزم کو اپنے علاقے میں واپس پہنچ کر متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔

18 سال سے کم عمر بچوں کے 'ب' فارم یا شناختی کارڈ بنوانے کا طریقہ• بچے کے کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ کے ہمراہ والدین میں...
10/02/2024

18 سال سے کم عمر بچوں کے 'ب' فارم یا شناختی کارڈ بنوانے کا طریقہ

• بچے کے کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ کے ہمراہ والدین میں سے کوئی ایک یا عدالت سے متعین سرپرست (گارڈین) تشریف لائیں
• دونوں والدین موجود ہوں تو ایک درخواست دہندہ اور دوسرا تصدیق کنندہ ہو گا
• اگر والدین میں سے کوئی ایک موجود ہوں تو درخواست فارم کی تصدیق گزیٹڈ آفیسر یا عوامی نمائندے (ایم این اے، ایم پی اے یا بلدیاتی اداروں کے عہدیدار اور ارکان) سے کرانا ہو گی۔
• شناختی کارڈ کے لئے بچے کی موجودگی لازم ہے۔ بچے کی تصویر اور 10 سال سے زائد عمر بچوں کے فنگرپرنٹس بھی لئے جائیں گے

نوٹ: یونین کونسل میں کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ کی سہولت نہ ہونے پر یونین کونسل کا مینوئل پیدائش سرٹیفکیٹ یا سکول سرٹیفکیٹ قابل قبول ہو گا۔

درست رہنمائی سے فائدہ اٹھائیں – شناختی دستاویزات بآسانی بنوائیں
کسی بھی پریشانی کی صورت میں ہماری ہیلپ لائن پر کال کریں

ہیلپ لائن: 100-786-111-51-92+

موبائل ہیلپ لائن: 1777
ویب سائٹ:

NADRA has gained international recognition for its success in providing solutions for identification, e-governance and secure documents that deliver multiple goals of mitigating identity theft, safe-guarding the interests of our clients and facilitating the public. In-depth Research and Development....

Address

Abbottabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers Club of Abbottabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers Club of Abbottabad:

Share

Category