10/10/2025
پاکستانی خاتون کی افغانی مرد سے شادی پر، کیا اس کے خاوند کو پاکستان اوریجن کارڈ اور ان کے بچوں کو شہریت ملے گی یا نہیں ، اس قضیے پر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ !
اس کیس میں مدعیہ کی طرف سے آئین و قانون کے شریک بانی ذوالقرنین القرنی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پیش ہوئے۔
کیس کے مختصر حقائق:
پاکستانی شہری خاتون (مدعیہ) نے ایک افغان شہری مرد سے شادی کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے نادرہ کو رجوع کرتے ہوئے اس کے خاوند کے حق میں پی او سی( Pakistani origin Card) کارڈ /شہریت کی استدعا کی، لیکن نادرہ نے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔ جس کی وجہ انہیں پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا ۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ایک پاکستانی خاتون کے افغانی شوہر کو پی او سی کارڈ جاری کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
عدالت نے اس سوال کے جواب کے لیے اپنے فیصلہ (Mst. Naureen Masood etc Vs
Government of Pakistan throush Secretarr. Ministry
of Interior. Islamabad etc) کی
طرف رجوع کیا۔
2024 KPLJ 303
✍️
🔗 https://wa.me/923149001117
Saeed Ahmad Khan
Advocate High Court, Peshawar
📞 0314-9001117
جس کے اہم درجات درج زیل ہیں۔
1.عدالت نے واضح کیا کہ اگر شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو تو ان کے بچوں کی رجسٹریشن میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔ صرف یہ ضروری ہے کہ پاکستانی شریکِ حیات پہلے نادرا میں اپنا ازدواجی اسٹیٹس درست کروائے۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن کے اس عمل کو آسان، تیز اور بغیر کسی غیرضروری مشکل کے کیا جائے۔
2. پاکستانی شہریت کے معاملے پر عدالت نے کہا کہ درخواست گزار باقاعدہ طریقے سے وزارتِ داخلہ( نادرا) کو اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ اگر میاں بیوی میں سے ایک پاکستانی اور دوسرا غیرملکی ہو تو درست ویزا یا پاسپورٹ دکھانا لازمی نہیں ہوگا۔ تاہم نادرا اضافی ثبوت مانگ سکتا ہے اور اطمینان کے بعد POC جاری کرے گا۔ اگر درخواست نامکمل ہو تو نادرا وجہ بتاتے ہوئے تحریری طور پر آگاہ کرے گا۔
عدالت نے اوپر زکر شدہ فیصلہ پر انحصار کرتے ہوئے یہ حکم دیا کہ مدعی اپنے پی او سی کارڈ کے اجراء کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرے اور اور حکام کو سختی سے اسے ڈیپورٹ کرنے سے روک بھی دیا۔۔