23/06/2026
درخواست یکطرفہ کارروائی ختم کرنے کے لیے حدودِ وقت (limitation) 30 دن نہیں بلکہ 3 سال ہے (آرٹیکل 181 کے تحت)۔
عدالت عالیہ کا تجزیہ:
1. آرڈر IX، رول 7 کی تشریح:
· اس رول کے تحت اگر کوئی مدعا علیہ (جس کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہو چکی ہو) بعد میں آ کر معقول وجہ پیش کرے تو عدالت اسے جرمانے یا دیگر شرائط پر مقدمے میں شامل ہونے کی اجازت دے سکتی ہے۔
· اس رول میں کوئی خاص مدتِ حد (limitation period) مقرر نہیں ہے۔
2. حدودِ وقت کا قانون:
· سپریم کورٹ کے فیصلے محمد یوسف بھنڈی بمقابلہ ایم/سی اے جی ای اینڈ سنز (PLD 2024 SC 864) کے مطابق، آرڈر IX، رول 7 کے تحت درخواست کے لیے آرٹیکل 181 (جو 3 سال کی مدت دیتا ہے) لاگو ہوتا ہے، نہ کہ 30 دن۔
· لہٰذا نظرثانی عدالت کا 30 دن کا قیاس غلط تھا۔
3. یکطرفہ کارروائی بمقابلہ یکطرفہ فیصلہ (decree):
· موجودہ کیس میں یکطرفہ فیصلہ نہیں ہوا تھا، صرف کارروائی یکطرفہ تھی۔
· سپریم کورٹ کے فیصلے پولیس ڈیپارٹمنٹ بمقابلہ جاوید اسرار (1992 SCMR 1009) کے مطابق، جس شخص کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہو، وہ عدالت سے باہر نہیں ہو جاتا اور بعد میں بھی مقدمے میں شامل ہو سکتا ہے۔
4. نظرثانی کا دائرہ کار (Revisional jurisdiction):
· نظرثانی عدالت صرف اس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب کوئی قانونی غلطی، نااہلی، یا عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز ہو۔
· یہاں ٹرائل کورٹ نے اپنے اختیار کا صحیح استعمال کیا تھا، اور نظرثانی عدالت نے بغیر کسی بنیاد کے مداخلت کی۔