Apka Wakeel

Apka Wakeel Our team of experienced lawyers is committed to deliver personalized service.

"ApkaWakeel.pk is a leading law firm in Pakistan, dedicated to providing expert legal guidance and representation to individuals, businesses, and organizations.

03/06/2026

عدالتی نمائندگی کا حق: وکیل کا کلرک مقدمے کی پیروی کا مجاز کیوں نہیں؟ ⚖️

قانونی نظام اور لاہورہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز (Lahore High Court Rules & Orders) کے مطابق، عدالتِ عالیہ یا ماتحت عدالتوں میں کسی بھی سائل کی طرف سے بحث کرنے، شواہد ریکارڈ کرانے یا باقاعدہ مقدمے کی پیروی (Pleading & Arguing) کا حق صرف اور صرف ایک لائسنس یافتہ وکیل (Enrolled Advocate) کو حاصل ہوتا ہے۔ ایک رجسٹرڈ کلرک یا منشی کا کردار صرف قانونی دستاویزات جمع کرانے، حاضری لگوانے، یا اگلی تاریخ (Next Date) معلوم کرنے تک محدود ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کے مطابق، وکیل کی عدم موجودگی میں کلرک کا عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر مقدمے کی باقاعدہ پیروی کرنا عدالتی تقدس اور ضابطے کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔

Right of Audience in Court: Why an Advocate’s Clerk Cannot Plead a Case ⚖️

Under the Legal Practitioners and Bar Councils Act and the High Court Rules & Orders, the right of audience and pleading before a court of law is strictly reserved for enrolled Advocates. An advocate’s clerk or Munshi is registered solely to assist in clerical duties—such as filing petitions, obtaining certified copies, or checking cause lists. A clerk holds no legal authority to argue a case, present cross-examinations, or formally represent a client during a trial. The judiciary strictly discourages clerks from addressing the rostrum on merits, as it undermines the professional standards of the legal system and the sanctity of the court.

لاہور ہائیکورٹ کے ایک نائب قاصد نے ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہلکار نوکری سے برخواست کروا کے جیل بھجوا  دیے ۔۔۔۔ کچھ روز ق...
03/06/2026

لاہور ہائیکورٹ کے ایک نائب قاصد نے ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہلکار نوکری سے برخواست کروا کے جیل بھجوا دیے ۔۔۔۔ کچھ روز قبل پیش آیا سبق آموز واقعہ ۔۔۔پنجاب پولیس نے نائب قاصد کے گھر پر ریڈ کیوں کیا ؟ اس کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی ۔ دو روز قبل سماعت پر متعلقہ ڈی پی او عدالت عالیہ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس پر لاہور ہائیکورٹ نے ریجنل پولیس آفیسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا۔عدالت نے ریجنل پولیس آفیسر سے استفسار کیا کہ کیا قانون کے مطابق پنجاب پولیس لاہور ہائی کورٹ کے اہلکار کے گھر پر ریڈ کر سکتی ہے اور اسے گرفتار کر سکتی ہے۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج ہو جائے تو اس صورت میں پنجاب پولیس ہائی کورٹ ملازم کے گھر پر ریڈ نہیں کر سکتی اور نہ ہی گرفتار کر سکتی ہے۔قانونی طور پر رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے اجازت لینے کے بعد اہلکار کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا رجسٹرار صاحب سے اجازت لی گئی تھی۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ رجسٹرار صاحب سے اجازت نہیں لی گئی تھی پولیس نے جان بوجھ کر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا پولیس کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ریجنل پولیس آفیسر ایک رپورٹ لے کر آئے ہیں جس میں اس معاملے میں ملوث پانچ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے فارٖغ کر دیا گیا ہے جس میں ایک ایس ایچ او۔ ایک اے ایس ائی اور تین کانسٹیبل شامل ہیں ان تمام لوگوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔انکوائری کے دوران پانچ پولیس اہلکار ملوث پائے گئے جس پر مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے اور تمام اہلکاروں کو گرفتار کر کے جوڈیشل جیل بھیج دیا گیا ہے۔عدالت عالیہ نے مزید پوچھا کہ نائب قاصد کے گھر سے پولیس نے جو سامان اٹھایا ہے وہ کہاں ہے۔جس پر متعلقہ ریجنل پولیس آفیسر نے روسٹرم پر آ کر بتایا کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ڈ۔کیتی ک مقدمہ الگ سے درج کیاگیا ہے اور تمام سامان اور نقد رقم آج متعلقہ نمبردار کی موجودگی میں پہنچ جائے گی۔پولیس اہلکاروں کو ڈ۔کیتی کے مقدمے میں ریمانڈ پر لانا ہے لہذا وقت دیا جائے کہ میرٹ پر تفتیش کر کے پولیس اہلکاروں کو سزا دی جائے گی ۔لاہور ہائیکورٹ نے ریجنل پولیس آفیسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مورخہ 29 جون 2026 کو دفعہ 173 کی مکمل کاروائی رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے ۔

02/06/2026

مقدماتِ قتل میں حالات و واقعات پر مبنی شہادت (Circumstantial Evidence) کا معیارِ ثبوت ⚖️

سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے متعدد فیصلوں کے مطابق، جب کسی فوجداری مقدمے (خصوصاً زیرِ دفعہ 302 ت پ) کی بنیاد محض حالات و واقعات پر مبنی شہادت پر ہو، تو استغاثہ (Prosecution) پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے شواہد کی ایک ایسی غیر مبہم اور مکمل زنجیر عدالت میں پیش کرے جس میں ملزم کی بے گناہی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
اگر مقدمے میں:
1️⃣ ملزم کو مقتول کے کھانے یا چائے میں زہر ملاتے ہوئے کسی نے نہ دیکھا ہو (کوئی چشم دید گواہ نہ ہو)۔
2️⃣ وہ زہر آلود کھانا، چائے یا بسکٹ کہاں سے خریدے گئے، اس کا کوئی سراغ یا شہادت موجود نہ ہو۔
تو ایسی صورت میں محض شک یا مفروضے کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ فوجداری قانون کا یہ بنیادی اصول ہے کہ "خواہ سو گناہگار چھوٹ جائیں، ایک بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہئے"۔ شواہد کی اس کمی کے باعث عدالتیں ملزم کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) دیتے ہوئے عزت کے ساتھ بری کرنے کا حکم دیتی ہیں۔

Standard of Proof in Cases of Poisoning & Circumstantial Evidence u/s 302 PPC ⚖️

In criminal jurisprudence, when a murder case filed under Section 302 PPC relies entirely on circumstantial evidence, the prosecution is legally bound to establish an unbroken chain of events. According to the settled principles of the Supreme Court of Pakistan, if there is a single link missing in that chain, the entire benefit goes to the accused.
Where the prosecution fails to produce:
1️⃣ Direct evidence or an eyewitness who saw the accused mixing poison in the food or tea.
2️⃣ Any corroborative evidence to prove the source or purchase of the contaminated food/biscuits.
The law dictates that suspicion, no matter how strong, cannot take the place of absolute proof. In the absence of an unbroken chain connecting the accused to the crime, the court must extend the Benefit of Doubt to the accused, leading to a clean acquittal (Bari).

02/06/2026

Assalam o Alaikum 💐

Disputed signatures or seals are proved in court under Article 84 of the Qanun-e-Shahadat. If the court suspects the genuineness of handwriting or signature, or if a party raises objections, the court may direct the person to write on plain paper and compare it with the disputed signature through an expert. If the signature is found forged, the court can sentence the person who submitted the documents under the Pakistan Penal Code.

01/06/2026

قوانین کی تشریح کا اصول: ایک کا واضح ذکر دوسروں کے اخراج کی دلیل ہے ⚖️

عدالتوں میں قوانین یا تحریری معاہدات (Written Contracts) کی تعبیر کرتے وقت لاطینی اصول "Expressio Unius Est Exclusio Alterius" کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس اصول کے مطابق، جہاں قانون ساز ادارہ یا معاہدہ کرنے والے فریقین کسی فہرست میں مخصوص ناموں یا اشیاء کا صریح ذکر کر دیں، تو مروجہ قانونی تشریح کے تحت دیگر تمام غیر مذکورہ اشیاء خود بخود خارج تصور کی جاتی ہیں۔ عدالتیں قانون میں اپنی طرف سے ایسے الفاظ شامل نہیں کر سکتیں جنہیں مقننہ نے جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہو۔ یہ اصول قانونی مسودات (Legal Drafting) میں الفاظ کے درست اور نپے تلے استعمال کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

The Doctrine of Implied Exclusion: "Expressio Unius Est Exclusio Alterius" ⚖️

In the interpretation of statutes and legal instruments, the maxim "Expressio unius est exclusio alterius"—the express mention of one thing excludes all others—plays a pivotal role. When a legislative body or contracting parties explicitly list specific items, conditions, or remedies in a provision, it is legally presumed that any item omitted was intentionally excluded. Courts are bound to respect the plain language of the text and cannot extend the scope of a specific list to include omitted terms by implication. This underscores the necessity of meticulous precision in legal drafting.

01/06/2026

Assalam o Alaikum 💐

A grandmother can also approach the court for custody and visitation rights of her grandchildren.

Address

Office No. 309, Atif & Basharat Heights, 13 Fane Road Near Lahore High Court, Lahore
Imbulgoda

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923322220242

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apka Wakeel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Apka Wakeel:

Share