02/06/2025
وقف (ترمیمی) بل 2025 کے اثرات دو دھاری تلوار کی طرح ہیں، یہ بات پورا مسلم سماج سمجھتا ہے۔ بہار کے اقلیتی کمیشن کا جوش و خروش سماج کی فکرمندیوں سے زیادہ اقتدار کی چمک کی طرف جھکا ہوا ہے۔ یہ افسران نتیش جی کی "سوشاسن" گنگا میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں، جہاں سماج کی پریشانیاں ڈوب جاتی ہیں اور ان کی کرسیاں تیرتی رہتی ہیں۔ جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) اور سماج اسے مذہبی خودمختاری پر حملہ قرار دے رہے ہیں، وہیں یہ افسران "شمولیت" اور "ڈیجیٹائزیشن" کے گیت گا کر اپنی وفاداری کے عوض میں ملی ہڈی چاٹ رہے ہیں۔ جب سماج اپنی زمین اور خودمختاری کھونے کے خوف سے سڑکوں پر ہے، تب یہ افسران "شفافیت" (Transparency) کے نام پر اقتدار کے ساتھ ناچ رہے ہیں۔
کیا غلام رسول بلیاوی اور عمر نورانی بھول گئے کہ وقف کا مطلب مسلم سماج کے لیے عطیہ ہے، نہ کہ سرکار کی جیب بھرنے کا ہتھیار؟ جب سماج چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یہ بل ان کی خودمختاری پر ضرب ہے، تب "کمیشن کے سپاہی" بے شرموں کی طرح اپنے سماج کی خودمختاری کا سودا کر کے "کرسی" کی ملائی میں مست ہیں۔