31/10/2023
دیر آید درست آید!
موجودہ صورتحال پر آخرکار شیخ کمال الدین صاحب کا مؤقف آہی گیا۔
شیخ صاحب نے ان گھٹیا، بے ضمیر، بے شرم اور خبیث ذہنیت رکھنے والے امت کے نام نہاد بہی خواہ اور سو کالڈ موحدین کو خوب ڈانٹ پلا کر آئینہ دکھایا ہے جو ایران ایران کی رٹ لگا کر امت کو حما۔۔۔س سے متنفر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شیخ صاحب نے بنیادی شرعی اور مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے ایران کی سپورٹ کی بنیاد پر جو لوگ حما//س کو نشانہ بناتے ہیں انہیں یہ بات سمجھ لینے چاہیے کہ یہ نری جہالت اور منافقت ہے۔ کیونکہ بنیادی مسئلہ یہاں پر آکوپیشن کا ہے جس کے خلاف مزاحمت فلس- طینیوں کا بنیادی حق ہے۔ اس کیلئے انہیں کہیں سے بھی اور کسی سے بھی سپورٹ ملے انہیں لینی چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے۔کیونکہ موجودہ پاور کوریڈورز میں تمام طاقتیں یہی کچھ کر رہی ہیں۔ لہذا کسی بھی سپورٹنگ ایکٹر کی وجہ سے مسئلہ کی بنیادی نوعیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ نہ اس سے غاصب کا سٹیٹس تبدیل ہوگا اور نہ مغلوب و مظلوم کا!
انہوں نے سوالیہ انداز میں فرمایا کہ کل اگر امریکہ کی سپورٹ سوویت یونین کے اتحاد کو افغان میں توڑنے کیلئے جائز تھی اور تمام علماء اور دانشور اس پر متفق تھے اور ہیں اور آج ایران کی حمایت یافتہ ح/م/اس کیسے غلط ہوگئی؟!؟ ظاہر ہے بڑی طاقتوں کی حمایت ہمیشہ مفاد پر مبنی ہوتی ہے لیکن اس سے مسئلے کی بنیادی حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی!!
انہوں نے سعودی ریال خوروں کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ انہیں شرم آنی چاہیے کہ ایک تو دور سے تماشائی بنے بیٹھو دوسرا ح-م-ا-س و ایران کے خلاف نریٹیو بلڈنگ کرو!!
ایک اور پہلو کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہی حمایت سعودی حکومت کرتی تو کیا پھر سب کچھ جائز تھا؟! یعنی کیا یہ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حق ہمیشہ سعودی حکومت کی طرف ہے؟!
آخری بات ذہن نشین کر لیجئے کہ اردوغان سمیت جتنے بھی اہم مسلم رہنما ہیں، مذکورہ بالا مسئلے کو لیکر اگر یہ لوگ سٹیٹس کو جوں کا توں رکھنے پر ہی راضی ہوگئے اور زبانی جمع خرچ سے بڑھ کر مظلوموں کی حمایت کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا تو ان سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جائے گا!!