16/09/2026
https://youtu.be/zTJfpRDKxes
صحیح بخاری، حدیث 4655 اور صحیح مسلم، حدیث 1347 میں اس کا ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو لوگوں کا امیر بنا کر حج کے لیے بھیجا۔
بعد میں حضرت علیؓ کو سورۂ براءت کی ابتدائی آیات لے کر بھیجا گیا تاکہ وہ اہلِ مکہ کو اعلان سنائیں۔ حضرت ابوبکرؓ حج کے امیر ہی رہے۔
صحیح بخاری 4416 اور صحیح مسلم 2404 میں ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا:
"کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی؟"
یہ واقعہ غزوۂ تبوک کے موقع پر تھا، جب حضرت علیؓ کو مدینہ میں نبی ﷺ کا نائب چھوڑا گیا۔
"رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت عمرؓ کو دیا۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ آگے بڑھے جو ان کے ساتھ گئے۔ وہ اہلِ خیبر سے مقابل ہوئے، پھر عمرؓ اور ان کے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے۔"
Musnad Ahmad 23031 Status: Saheeh
شعیب الأرناؤوط: روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
اس روایت کی سند ہے: محمد بن جعفر وروح → عوف → ميمون أبو عبد الله → عبد الله بن بريدة → بريدة الأسلميؓ
Sunan Nisai Al Kubra 8403 Status: Saheeh
پہلے ابوبکرؓ جھنڈا لے کر گئے اور واپس آئے، پھر عمرؓ جھنڈا لے کر گئے اور واپس آئے، لیکن فتح نہ ہوئی۔
Musnad Ahmad 22993 Status: Saheeh
حکم: شعیب الأرناؤوط کے مطابق صحیح، وإسناده قوي۔
سند کا خلاصہ: زید بن حباب → حسین بن واقد → عبداللہ بن بریدہ → بریدہؓ
غزوہ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے
👈ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور
👈اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول بھی اسے عزیز رکھتے ہیں ۔ ....
👈حضور ﷺ نے دریافت فرمایا ، علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔
👈آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ ۔ جب وہ لائے گئے تو حضور ﷺ نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور ان کے لیے دعا کی ۔ اس دعا کی برکت سے ان کی آنکھیں اتنی اچھی ہو گئیں جیسے پہلے کوئی بیماری ہی نہیں تھی ۔
👈حضرت علی رضی اللہ عنہ نے علم سنبھال کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں ان سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ ہمارے ہی جیسے نہ ہو جائیں ۔ .....
Sahih Bukhari 4210 Status: صحیح
RA RA RAصحیح بخاری، حدیث 4655 اور صحیح مسلم، ح...