Faisal TOOR

Faisal TOOR Faisal Toor is a SRA-Regulated Lawyer based in Slough, UK.

آپ کا دماغ ایک میدان ہے، اور دنیا کی امیر ترین کمپنیاں اس میدان پر قبضے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔تحریر شاہد سید ...
06/05/2026

آپ کا دماغ ایک میدان ہے، اور دنیا کی امیر ترین کمپنیاں اس میدان پر قبضے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔
تحریر شاہد سید مائنڈ ہیلر
جب جب آپ کچھ پڑھنا شروع کریں گے، یا کام کرنے لگیں گے درمیان میں فون چیک کرنے کا دل کرے گا۔ وہی لمحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے۔
ایک دن میرے پاس ایک کاروباری آدمی آیا وہ کرسی پر بیٹھا تو اس کا ہاتھ فوری طور پر جیب میں گیا فون نکالا، اسکرین دیکھی، واپس رکھا۔ پھر دو منٹ بعد دوبارہ وہی عمل دھرایا خود اسے پتہ نہیں تھا کہ وہ یہ کیوں کر رہا ہے۔
کہنے لگا شاہد صاحب میرا کسی کام میں فوکس نہیں ہے میں پہلے گھنٹوں بیٹھ کر حساب کتاب کر لیتا تھا بغیر اٹھے۔ مگر اب دس منٹ میں ذہن بھاگنے لگتا ہے۔ میں گاہکوں سے بات کر رہا ہوں۔دماغ کہیں اور ہے۔ قرآن کھولتا ہوں تین آیتیں پڑھ کر ذہن ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔ نماز میں کھڑا ہوں، دکان یاد آتی ہے۔ نیند میں بھی فکر ہے کہ صبح اٹھ کر پہلے واٹس ایپ چیک کروں گا۔
میں نے اسےکہا آپ کا مسئلہ توجہ کا نہیں آپ کے دماغ کا ڈوپامین سسٹم ہائی جیک ہو چکا ہے۔
وہ حیران ہوا۔

زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ڈوپامین خوشی کا کیمیکل ہے۔ یہ بالکل ادھوری بات ہے۔ ڈوپامین دراصل تلاش کا کیمیکل ہے۔ یہ خوشی نہیں دیتا بلکہ یہ خوشی ڈھونڈنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ وہ بے چینی پیدا کرتا ہے جو آپ کو اٹھاتی ہے، حرکت میں لاتی ہے، اگلی چیز کی طرف کھینچتی ہے۔ فطری جبلت میں یہ انسان کو خوراک ڈھونڈنے، پانی تلاش کرنے، محفوظ جگہ ڈھونڈنے پر مجبور کرتا ہے، یعنی ڈوپامین بقا کا انجن ہے۔
مگر آج یہی انجن انسٹاگرام کی اگلی پوسٹ، یوٹیوب کی اگلی ویڈیو، واٹس ایپ کا اگلا میسج، ٹک ٹاک کی اگلی ریل پر لگایا جا رہا ہے۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے یہ سب چیزیں اس انجن کو کنٹرول کرنے کے لیے اس طرح ڈیزائن کی گئی ہیں کہ یہ کبھی بند نہ ہو۔
مثال کے طور پر 2017 میں فیس بک کے پہلے صدر شان پارکر نے ایک انٹرویو میں کہا "ہم نے فیس بک بناتے وقت سوچا کہ انسانی نفسیات کی کمزوری کو کیسے استعمال کریں۔ ہمارا سوال تھا ہم آپ کا زیادہ سے زیادہ وقت اور توجہ کیسے لے سکتے ہیں؟ اس کا جواب تھا لائک اور کمنٹ کی صورت میں تھوڑی تھوڑی ڈوپامین ہٹس۔ ہم جانتے تھے یہ کیا کر رہا ہے مگر ہم نے پھر بھی کیا۔"
یہ کوئی سازشی تھیوری نہیں بلکہ یہ اس آدمی کے اپنے الفاظ ہیں جس نے فیس بک بنایا۔ گوگل کے سابق ڈیزائن ایتھیسٹ ٹرسٹن ہیرس نے نیٹ فلکس کی ڈاکیومنٹری "دی سوشل ڈائلیما" میں بتایا کہ سیلیکان ویلی میں سینکڑوں انجینیئر روزانہ اس ایک سوال پر کام کرتے ہیں کہ آج آپ کا فون آپ کی توجہ مزید کتنے منٹ لے سکتا ہے؟

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر اینا لیمکے جو اپنی کتاب "ڈوپامین نیشن" کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہوئیں، وہ کہتی ہیں کہ دماغ میں ڈوپامین ایک ترازو کی طرح کام کرتا ہے۔ جب کوئی لذت ملتی ہے، ترازو کا پلڑا خوشی کی طرف جھکتا ہے۔ مگر دماغ فوری طور پر توازن بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ترازو پھر سے تکلیف کی طرف جھکاتا ہے۔ یعنی ہر لذت کے بعد ایک چھوٹی سی اداسی، ایک چھوٹی سی بے چینی آتی ہے، اور یہ بے چینی آپ کو دوبارہ اسی لذت کی طرف دھکیلتی ہے۔
یہ لت کا سائیکل ہے۔ ہیروئن میں بھی یہی سائکل ہے اور انسٹاگرام میں بھی یہی ہے۔ فرق صرف شدت کا ہے، اصول ایک ہے۔

مگر سب سے خطرناک بات کیا ہے؟ جب آپ بار بار اسی ڈوپامین ہٹ کو دہراتے ہیں تو دماغ رفتہ رفتہ ریسیپٹرز کو کم کر دیتا ہے۔ یعنی اب اتنی خوشی نہیں ملتی جتنی پہلے ملتی تھی۔ تو پھر آپ اور زیادہ ڈوز چاہتے ہیں۔ اور دماغ لذت کی حساسیت اور کم کر دیتا ہے۔ اور یہ وہ چکر ہے جس سے نکلنا مشکل ہے کیونکہ اس میں ارادے کا نہیں، بیالوجی کا کام ہے۔
دیکھیں جب ڈوپامین سسٹم اوور لوڈ ہوتا ہے تو پری فرنٹل کورٹیکس یعنی دماغ کا سوچنے، فیصلہ کرنے اور فوکس کرنے والا حصہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ وہ اپنا کنٹرول کم کرتا ہے نتیجے میں آپ کا دماغ لمبی سوچ نہیں سوچ سکتا وہ صرف اگلی ڈوپامین ہٹ چاہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ دس منٹ ٹک کر کتاب نہیں پڑھ سکتے مگر ریلز گھنٹوں دیکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ۔چند منٹوں کی نماز میں دھیان نہیں لگتا مگر یوٹیوب پر گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ یہ آپ کی کمزوری نہیں یہ ایک انجینئرڈ جال ہے۔

قرآن میں اللہ نے سورہ قیامہ کی آیت نمبر 2 میں نفسِ لوامہ کا ذکر کیا کہ یہ وہ نفس ہے جو خود کو ملامت کرتا ہے۔ اور سورہ یوسف کی آیت 53 میں نفسِ امارہ کا ذکر ہے یہ وہ نفس جو برائی پر ابھارتا ہے، جو لذت کی طرف بھاگتا ہے، جو فوری تسکین چاہتا ہے۔ یہ وہی پارٹ ہے جسے آج کی نیورو سائنس "ڈوپامین ڈریون لمبک سسٹم" کہتی ہے۔ یعنی نفسِ امارہ وہ حصہ ہے جو کہتا ہے ابھی، فوری، اور زیادہ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تم میں سے زیادہ طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑے بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو کرے۔" یہ حدیث آج کے حالات میں یہ کہہ رہی ہے اصل طاقت ڈوپامین کی لہر کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔

ڈاکٹر اینا لیمکے نے اپنے مریضوں کو ایک تجربہ کرایا ڈوپامین فاسٹنگ کے نام سے، اس میں چار ہفتے کے لیے وہ سب کچھ بندکیا جو ڈوپامین کی لہر کو مزید مستحکم بنانے میں مدد کرتا ہے جیسے سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز، فضول ویڈیوز، میٹھا، الکوحل۔ اس تجربے میں پہلے دو ہفتے تو مریض تڑپے بے چینی، اداسی، بوریت، غصہ۔ ایسا لگا جیسے زندگی بے رنگ ہو گئی۔ تیسرے ہفتے سے دماغ کے ریسیپٹرز واپس بننے لگے۔ چوتھے ہفتے لوگوں نے کہا انھیں پرندوں کی آواز میں خوشی ملنے لگی۔ بچے کے ہنسنے پر آنسو آئے۔ سادہ کھانا لذیذ لگا۔ کتاب میں دل لگا وغیرہ وغیرہ۔
یعنی دماغ نے اپنی فطری حساسیت واپس پا لی وہ حساسیت جو ڈوپامین کی بمباری نے چھین لی تھی۔
اور یہاں میں آپ کو ایک اور تحقیق بتاتا ہوں ایم آئی ٹی کے ڈاکٹر ایرل ملر نے ثابت کیا کہ انسانی دماغ بیک وقت دو کام نہیں کر سکتا یہ صرف بہت تیزی سے ایک سے دوسرے کام پر شفٹ نہیں ہو جاتا ہے۔ ہر بار جب آپ فون دیکھ کر واپس کام پر آتے ہیں تو دماغ کو دس سے پچیس منٹ لگتے ہیں پوری طرح واپس آنے میں۔ اب آپ خود سوچیں کہ دن میں پچاس بار فون دیکھتے ہیں تو حساب لگائیں آپ کا پورا دن کیسے کھو جاتا ہے۔

وہ کاروباری صاحب جو پہلے آئے تھے میں نے انہیں تیس دن کا ایک پروگرام دیا۔ انسٹاگرام اور یوٹیوب کو فون سے نکالنا، صبح اٹھ کر پہلا کام فون نہیں بلکہ پانی پینا اور دس گہرے سانس، ہر کام سے پہلے دو منٹ خاموشی، اور رات کو سونے سے ایک گھنٹہ پہلے اسکرین بند۔
پہلے ہفتے انہوں نے فون کیا، بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ بار بار فون اٹھانے کو جی چاہتا ہے۔ میں نے کہا یہ تکلیف علامت ہے کہ علاج شروع ہو گیا۔ تیسرے ہفتے انہوں نے بتایا کہ اپنے بیوی بچوں سے پہلی بار پوری طرح حاضر ہو کر گھنٹوں باتیں کیں فون جیب میں رہا۔ بیگم نے کہا بو، آج آپ واقعی بہت دنوں بعد مزا آیا جب ہم ساتھ تھے۔

دوسرا ایک انیس سال کا نوجوان تھا یونیورسٹی سٹوڈنٹ۔ کہتا تھاسرجی پڑھنے بیٹھتا ہوں تو دس منٹ میں فون اٹھا لیتا ہوں۔ امتحان سر پر ہے مگر کنٹرول نہیں ہوتا۔میں نے اسے ایک ہی تکنیک دی دو منٹ کا اصول۔ جب بھی فون اٹھانے کی خواہش ہو صرف دو منٹ رکو۔ بس دو منٹ۔ اگر پھر بھی دل کرے تو فون اٹھا لو۔ مگر ہرگز دو منٹ سے پہلے نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ڈوپامین کی لہر نوے سیکنڈ میں اپنے عروج پر آتی ہے اور پھر خود اترنا شروع ہو جاتی ہے اگر آپ نے اسے فیڈ نہیں کیا۔ یعنی صرف دو منٹ صبر کریں تو وہ لہر خود گزر جاتی ہے۔ اس نوجوان نے امتحان میں اچھے نمبر لیے اور میرے لیے اسپیشل ریواڑی کا ملتانی سوہن حلوے کا پارسل بھجوایا جا میں چار مختلف فلیور تھے۔ یہ ہوتی ہے محبت اور اصلی چاہت۔ 😉

اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا دماغ بھی آپ کے کنٹرولمیں رہے تو پہلا اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ اپنا صبح کا پہلا گھنٹہ فون سے آزاد رکھیں۔ کیونکہ صبح اٹھنے کے بعد پہلا گھنٹہ دماغ کی پوری دن کی فریکوئنسی سیٹ کرتا ہے۔ اگر پہلا کام فون اور سوشل میڈیا ہے تو دماغ پورا دن اسی فریکوئنسی پر چلتا ہے۔ اگر پہلا کام سانس، ذکر، یا خاموشی ہے تو دماغ پورا دن اس سکون پر چلتا ہے۔

دوسرا قدم یہ کہ "ڈوپامین ڈیٹاکس" کے دن رکھیں۔ ہفتے میں ایک دن یا مہینے میں دو ویک اینڈ جب سوشل میڈیا، ویڈیوز، اور فضول اسکرین ٹائم بالکل بند۔ پہلی بار بہت مشکل ہوگا اسی میں علاج ہے۔

تیسرا قدم فرکشن بڑھائیں۔ اگر شوشل میڈیا اور کام کے درمیان ایک چھوٹی سی رکاوٹ ڈال دیںں تو اس شوشل میڈیا دیکھنے کا امکان ڈرامائی طور پر کم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر انسٹاگرام فون سے نکالیں ڈیلیٹ نہیں کریں، بس فون سے ہٹائیں۔ اور صرف لیپ ٹاپ پر رکھیں۔ یہ چھوٹی سی رکاوٹ ستر فیصد استعمال کم کر دیتی ہے۔

چوتھا قدم فوکس کی مسلز مضبوط بنائیں۔ ڈاکٹر کال نیوپورٹ جو "ڈیپ ورک" کتاب کے مصنف کہتے ہیں کہ فوکس بھی ایک عضلہ کی طرح ہے کہ استعمال سے مضبوط ہوتا ہے، بے کاری سے کمزور۔ روزانہ پچیس منٹ کا "ڈیپ ورک سیشن" شروع کریں ایک کام، فون دور، نوٹیفکیشن بند، مکمل حاضری۔ ہر ہفتے پانچ منٹ بڑھائیں۔ تین ماہ میں آپ کا فوکس پہچاننے کے لائق نہ رہے گا۔

پانچواں قدم اپنے کام کو ڈوپامین کا متبادل بنائیں۔ یہ میری پریکٹس کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ جب ڈوپامین کی لہر آئے، فون اٹھانے کو دل کرے، اس لمحے پرسکون ہوکر تین گہرے سانس لیں اور وہ کریں جس کام کو کرنا ہے۔دل سے اور جسم سے کام کے دوران اچھا فیل کریں، انجواۓ منٹ کے ساتھ، چند بار میں ہی آپ کا ڈوپامین آپ کے کام کے ساتھ لنکڈ ہو جاۓ گا۔یہ فطری ڈوپامین ہے۔

حدیث مبارکہ ہے کہ (دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے)۔ یعنی یہاں فوری تسکین نہیں ملنی، یہاں صبر ہے، ضبط ہے، انتظار ہے۔ اور یہی صبر آپ کا دماغ بناتا ہے، آپ کی روح بناتا ہے، آپ کی زندگی بناتا ہے۔
کیونکہ ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں لذت ہر جگہ موجود ہے، فوری ہے، اور سستی ہے۔ مگر جو لوگ واقعی خوش ہیں وہ وہ ہیں جنہوں نے لذت کو انتظار کروانا سیکھا ہے اور جنہوں نے تکلیف سے بھاگنا چھوڑ دیا ہے۔

آپ بتائیں، آپ کے دن میں فون کتنی بار بے وجہ اٹھتا ہے؟ اور آخری بار آپ نے بغیر فون کے پوری طرح کسی کے ساتھ وقت گزارا کب تھا وہ؟ نیچے لکھیں یہ سوال خود ایک آئینہ ہے۔ شاہد سید

برطانیہ (UK) میں اگر آپ کسی پرتشدد جرم (violent crime) کا شکار ہو جائیں تو حکومت کی جانب سے ایک باقاعدہ اسکیم موجود ہے ج...
02/02/2026

برطانیہ (UK) میں اگر آپ کسی پرتشدد جرم (violent crime) کا شکار ہو جائیں تو حکومت کی جانب سے ایک باقاعدہ اسکیم موجود ہے جس کے تحت آپ مالی معاوضہ (compensation) کلیم کر سکتے ہیں۔ اس اسکیم کو Criminal Injuries Compensation Authority (CICA) کہا جاتا ہے۔ ذیل میں اس کی مکمل اور آسان تفصیل دی جا رہی ہے:

CICA کیا ہے؟

CICA برطانوی حکومت کا ایک ادارہ ہے جو اُن افراد کو مالی معاوضہ دیتا ہے جو:
• کسی پرتشدد جرم کا شکار ہوئے ہوں
• جیسے کہ:
• حملہ (Assault)
• چاقو یا تیز دھار ہتھیار سے زخمی ہونا
• فائر آرم انجری
• گھریلو تشدد (Domestic Violence)
• جنسی زیادتی یا ریپ
• شدید دھمکی جس سے جسمانی نقصان ہوا ہو

کتنی رقم کلیم کی جا سکتی ہے؟
• معاوضہ £1,000 سے شروع ہو کر £500,000 تک ہو سکتا ہے
• عام اور کم نوعیت کی چوٹوں میں اکثر £1,000 سے £5,000 تک کلیم مل جاتا ہے
• رقم کا انحصار ان چیزوں پر ہوتا ہے:
• چوٹ کی نوعیت
• چوٹ کی شدت
• مستقل نقصان (permanent injury)
• ذہنی صدمہ (mental trauma)

کلیم کرنے کے بنیادی اصول

آپ CICA سے کلیم تب کر سکتے ہیں اگر:
1. جرم UK میں ہوا ہو
2. آپ نے پولیس کو رپورٹ کی ہو
• جتنا جلدی رپورٹ کریں گے اتنا بہتر ہے
3. آپ خود اس جرم میں ملوث نہ ہوں
• مثلاً لڑائی شروع کرنے والے کو کلیم نہیں ملتا
4. آپ کا امیگریشن اسٹیٹس درست ہو
• Asylum seeker، refugee، یا legal resident
5. آپ نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہو

کلیم کرنے کی مدت (Time Limit)
• عام طور پر کلیم 2 سال کے اندر کرنا ہوتا ہے
• خاص حالات میں (جیسے بچوں کے کیس یا ذہنی بیماری) یہ مدت بڑھ بھی سکتی ہے

کلیم کیسے کیا جاتا ہے؟
1. CICA کی آن لائن درخواست دی جاتی ہے
2. پولیس رپورٹ نمبر فراہم کیا جاتا ہے
3. میڈیکل رپورٹس (GP یا ہسپتال) لگائی جاتی ہیں
4. CICA کیس کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے
5. فیصلہ آنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں

کن چیزوں کا معاوضہ مل سکتا ہے؟
• جسمانی چوٹ
• ذہنی صدمہ
• کمائی کا نقصان (loss of earnings)
• خصوصی دیکھ بھال کے اخراجات
• مستقبل کے علاج کے اخراجات

اہم باتیں
• یہ کلیم insurance نہیں بلکہ حکومتی مدد ہے
• وکیل رکھنا ضروری نہیں، لیکن مددگار ہو سکتا ہے
• غلط معلومات دینے پر کلیم رد ہو سکتا ہے

پرسنالٹی گرومنگ (Personality Grooming) کی 15 بے رحم اور تلخ حقیقتیں۔ اگر آپ اپنی شخصیت کو واقعی نکھارنا چاہتے ہیں، تو ان...
27/01/2026

پرسنالٹی گرومنگ (Personality Grooming) کی 15 بے رحم اور تلخ حقیقتیں۔

اگر آپ اپنی شخصیت کو واقعی نکھارنا چاہتے ہیں، تو ان میٹھی گولیوں کے بجائے ان کڑوی گولیوں کو نگل لیں۔

۱۔ بدبو دار وجود کی کوئی عزت نہیں
سب سے پہلے نہانا سیکھیں۔ مہنگے کپڑے اور گھڑی پہننے کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ کے منہ سے بدبو آ رہی ہے یا بغلوں سے پسینے کی بو اٹھ رہی ہے۔ لوگ آپ کے کردار تک پہنچنے سے پہلے آپ کی بو سے بھاگ جائیں گے۔ ڈیوڈرینٹ اور ماؤتھ واش آپشن نہیں، مجبوری ہیں۔

۲۔ خیمہ پہننا بند کریں (فٹنگ)
ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر آپ ”شریف“ نہیں، بلکہ ”لاپرواہ“ اور ”بے ڈھنگے“ لگتے ہیں۔ درزی کو کپڑا دیتے وقت اسے کہیں کہ کپڑے آپ کے جسم کے مطابق سیے، نہ کہ کسی ہینگر کے لیے۔ کپڑے سستے ہوں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر فٹنگ ٹھیک نہیں، تو آپ کی شخصیت صفر ہے۔

۳۔ ریڑھ کی ہڈی سیدھی رکھیں
کندھے جھکا کر اور پاؤں گھسیٹ کر چلنا بند کریں۔ یہ شکست خوردہ لوگوں کی نشانی ہے۔ سینہ تان کر، سر اٹھا کر اور نظریں ملا کر چلیں۔ آپ کی چال بتاتی ہے کہ آپ لیڈر ہیں یا فالوور۔

۴۔ منہ بند رکھیں (کم بولیں)
ہر موضوع پر رائے دینا ضروری نہیں ہوتا۔ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خاموش رہیں۔ زیادہ بولنے والا انسان اپنی عزت اور وقار کھو دیتا ہے۔ جب آپ کم بولتے ہیں، تو لوگ آپ کو سننے کے لیے ترستے ہیں۔ احمق بول کر اپنا بھرم کھول دیتا ہے۔

۵۔ گالی گلوچ، کمزور دماغ کی نشانی
بات بات پر گالی دینا ”کول“ نہیں، بلکہ ”ذہنی پسماندگی“ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے اور آپ جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ اپنی زبان کو لگام دیں، ورنہ لوگ آپ کو سڑک چھاپ سمجھیں گے۔

۶۔ روتی صورت مت بنائیں
دنیا کو آپ کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہر وقت اپنی مجبوریوں اور بیماریوں کا رونا رو کر ہمدردی سمیٹنا بند کریں۔ مظلومیت (Victim Mentality) آپ کی شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ مسکرائیں اور مسائل کا سامنا کریں۔

۷۔ کھانے کے آداب (جانور مت بنیں)
کھانا کھاتے وقت چبانے کی آواز نکالنا، منہ کھول کر کھانا یا پلیٹ میں پہاڑ بنا لینا بدتہذیبی کی انتہا ہے۔ اگر آپ ٹیبل مینرز نہیں جانتے، تو آپ کبھی بھی ایلیٹ کلاس یا پڑھے لکھے لوگوں میں نہیں بیٹھ سکتے۔

۸۔ موبائل کو جیب میں رکھیں
جب کسی سے بات کر رہے ہوں اور بار بار فون کی اسکرین دیکھیں، تو یہ اگلے بندے کی تذلیل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی توجہ کا دورانیہ (Attention Span) ایک مچھر جتنا ہے۔ جس سے مل رہے ہیں، اسے پوری توجہ دیں ورنہ مت ملیں۔

۹۔ جوتے آپ کی اوقات بتاتے ہیں
لوگ چہرہ بعد میں دیکھتے ہیں، جوتے پہلے دیکھتے ہیں۔ ہزاروں کا سوٹ پہن لیں لیکن اگر جوتے گندے یا پھٹے ہوئے ہیں، تو سارا تاثر برباد۔ جوتوں کی صفائی آپ کی باریک بینی کا ثبوت ہے۔

۱۰۔ ناخن تراشیں
بڑھے ہوئے اور میلے ناخن صرف بیماری نہیں پھیلاتے، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ ذاتی صفائی میں کتنے سست ہیں۔ یہ چھوٹی سی چیز آپ کی پوری گرومنگ پر پانی پھیر سکتی ہے۔

۱۱۔ ”میں“ سے باہر نکلیں
گفتگو میں ہر وقت ”میں نے یہ کیا، میں وہ ہوں“ کرنا بند کریں۔ نرگسیت (Narcissism) دوسروں کو آپ سے دور کر دیتی ہے۔ دوسروں کی بات سنیں اور ان میں دلچسپی لیں۔ خود پرستی کا بت توڑ دیں۔

۱۲۔ توند کم کریں
باہر نکلا ہوا پیٹ دولت کی نہیں، بیماری اور بے ضبطگی کی نشانی ہے۔ اگر آپ اپنے جسم کو کنٹرول نہیں کر سکتے، تو آپ زندگی میں کچھ کنٹرول نہیں کر سکتے۔ فٹنس صرف صحت نہیں، بلکہ ایک ”اسٹیٹمنٹ“ ہے کہ آپ محنتی ہیں۔

۱۳۔ وعدہ خلافی چھوڑ دیں
اگر آپ وقت پر نہیں پہنچ سکتے، تو آپ کی زبان کی کوئی قیمت نہیں۔ ”ٹریفک جام تھا“ کا بہانہ بنانا بند کریں۔ وقت کی پابندی نہ کرنا دراصل دوسروں کے وقت کی چوری ہے۔

۱۴۔ مطالعہ کریں، ورنہ دماغ سکڑ جائے گا
اگر آپ کے پاس ڈگری کے علاوہ کوئی علم نہیں، تو آپ ایک بورنگ انسان ہیں۔ حالات حاضرہ، تاریخ اور نفسیات پڑھیں۔ خالی دماغ کے ساتھ اچھی ڈریسنگ بھی آپ کو صرف ایک ”پتلا“ بناتی ہے۔

۱۵۔ ”ناں“ کہنا سیکھیں
ہر کسی کے لیے دستیاب رہنا بند کریں۔ جو ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ آخر میں خود ذلیل ہوتا ہے۔ اپنی حدود (Boundaries) مقرر کریں اور فضول کاموں کو سختی سے ”ناں“ کہیں۔

شخصیت بازار سے خریدی گئی کریموں سے نہیں، بلکہ ڈسپلن، صفائی اور شعور سے بنتی ہے۔ شیشے میں دیکھیں اور خود کو ٹھیک کریں، اس سے پہلے کہ دنیا آپ کو مسترد کر دے۔

فزکس کا ایک قانون ہے جسے ہم "ایسکیپ ولاسٹی" کہتے ہیں جب کسی راکٹ کو زمین سے خلا میں بھیجنا ہوتا ہے تو اسے 11.2 کلومیٹر ف...
21/01/2026

فزکس کا ایک قانون ہے جسے ہم "ایسکیپ ولاسٹی" کہتے ہیں جب کسی راکٹ کو زمین سے خلا میں بھیجنا ہوتا ہے تو اسے 11.2 کلومیٹر فی سیکنڈ کی دھماکہ خیز رفتار کی ضرورت ہوتی ہے اگر رفتار ذرا بھی کم ہو جائے تو زمین کی کشش ثقل اسے پیچھے کھینچ لے گی اور راکٹ زمین پر گر جائے گا۔ غربت کا مسئلہ بھی بالکل اسی کشش ثقل جیسا ہے یہ صرف پیسے کی کمی نہیں ہے بلکہ یہ ایک غیر مرئی مقناطیسی قوت ہے جو آپ کو آپ کے ماحول، آپ کی عادات اور آپ کے سماجی دائرے کی صورت میں مسلسل نیچے کی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ غربت میں پیدا ہونے والے کسی کے لیے امیر ہونا صرف "محنت" کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ "لڑائی" ہے کیونکہ وہ فطرت کے ایک بہت بڑے نظام کے خلاف تیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خلا میں جانے والے راکٹ کو زمین کی فضا سے نکلنے کے لیے صرف ابتدائی چند منٹوں میں اپنے کل ایندھن کا 80 سے 90 فیصد جلانا پڑتا ہے۔ ایک منٹ کے لیے سوچیں کہ سفر کے پہلے حصے میں 90 فیصد توانائی صرف زمین کی گرفت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے صرف ہوتی ہے جبکہ باقی سفر صرف 10 فیصد ایندھن پر مکمل ہوتا ہے کیونکہ وہاں رگڑ اور مزاحمت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مالی آزادی حاصل کرنے کے لیے آپ کو اپنی زندگی کی 90 فیصد محنت، قربانی اور ہنر کو ابتدائی سالوں میں لگانا ہوگا۔

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں عام ملازمتیں یا چھوٹی چھوٹی کوششیں کام نہیں آتیں، یہاں آپ کو "راکٹ" بننا پڑتا ہے جس کے پیچھے ایک بہت بڑا ایندھن ہوتا ہے۔

زیادہ تر لوگ اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ وہ کوشش نہیں کرتے بلکہ اس لیے کہ وہ کشش ثقل کو توڑنے کے لیے درکار قوت کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آہستہ چلنے سے وہ غربت سے نکل جائیں گے، حالانکہ کشش ثقل سے نکلنے کے لیے آپ کو چلنا نہیں "اڑنا" پڑتا ہے آپ کو ایک ہی وقت میں بہت سے ہنر سیکھنے ہوں گے، اپنی نیند قربان کرنی ہوگی، فضول خرچی اور منفی دوستوں کو کم کرنا ہوگا۔ یہ مرحلہ انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ آپ کا پورا ماحول آپ کو پیچھے کھینچ رہا ہے بل، قرض، مہنگائی اور خاندانی ذمہ داریاں یہ سب زنجیریں ہیں جو آپ کو زمین سے باندھ کر رکھنا چاہتی ہیں۔

لیکن اس کہانی کا دوسرا رخ بہت خوبصورت ہے۔ جیسے ہی کوئی راکٹ زمین کے مدار سے نکلتا ہے اسے حرکت کرنے کے لیے ایندھن کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ خلا میں سکون سے تیرتا ہے۔ اسے "مومینٹم" کہتے ہیں۔ یہ بھی امیر ہونے کا راز ہے پہلا کروڑ کمانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پہاڑ کھودنا، لیکن دوسرا کروڑ کمانا ہوا میں سانس لینے جتنا آسان ہے۔ جب آپ کے اثاثے بن جاتے ہیں، پیسہ خود بخود پیسے کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں آپ "مالی کشش ثقل" سے آزاد ہیں اس لیے اگر آپ آج شدید تناؤ اور مشکلات میں ہیں تو خوش رہیں، کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ابھی بھی "لانچنگ پیڈ" پر ہیں اور کشش ثقل سے لڑ رہے ہیں۔ بس ایندھن ختم نہ ہونے دیں کیونکہ ایک بار مدار کو توڑ دیں تو ساری کائنات آپ کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!


ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب کی ایک پوسٹ کا مشینی ترجمہ قرآنی فتوحات میں سے ایک فتح:میں اللہ کے نام "الوہّاب" کو پڑھتا تھا تو ا...
21/01/2026

ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب کی ایک پوسٹ کا مشینی ترجمہ

قرآنی فتوحات میں سے ایک فتح:
میں اللہ کے نام "الوہّاب" کو پڑھتا تھا تو اکثر سرسری طور پر گزر جاتا تھا، یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید یہ "الرازق" یا "الکریم" ہی کا مترادف ہے۔
یہاں تک کہ کتابِ الٰہی میں نور کے کچھ باریک دھاگوں نے مجھے ایک ایسی تدبری سفر پر ڈال دیا جس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا، میرے تصورِ بادشاہی، رحمت، اولاد بلکہ اپنے وجود کے بارے میں سوچ کو ازسرِنو ترتیب دے دیا۔
میری یہ سفر ایک سوال سے شروع ہوئی:
جو ہم کماتے ہیں اور جو ہمیں عطا کیا جاتا ہے، ان دونوں میں اصل فرق کیا ہے؟
اور یہ عظیم نام، الوہّاب، انسانی بے بسی اور اسباب کے ختم ہو جانے کے مواقع کے ساتھ ہی کیوں جڑا ہوا ہے؟
یہیں سے تدبر کا دروازہ کھلا، اور میں اس مربوط قرآنی دھاگے کو تھامنے لگا۔
سب سے پہلا مقام جس نے مجھے ٹھہرنے پر مجبور کیا، سورۃ ص میں یہ پرجلال نسبت تھی:
﴿أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾
میں نے سوچا: یہاں "العزیز" کیوں؟
تب دل نے عقل سے پہلے یہ بات قبول کر لی کہ عطا کرنا اقتدار چاہتا ہے۔
جو خود عاجز ہو، وہ کسی کو کیا دے گا؟
لیکن اصل حیرت تو تب ہوئی جب اسی سورت میں سلیمان علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایسا اقتدار مانگ رہے ہیں جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے، اور اس دعا میں خاص طور پر یہی نام لے رہے ہیں:
﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾
یہیں مجھے پہلا سرا ملا:
الوہّاب وہ ہے جو وہ عطا کرتا ہے جو انسان کے تصور سے بھی آگے ہو،
چاہے کچھ اسباب موجود ہوں یا زمین کے تمام قوانین جواب دے چکے ہوں۔
سلیمانؑ نے رزق میں اضافہ نہیں مانگا، بلکہ معمول سے ہٹ کر اقتدار مانگا، ہوا اور شیاطین پر تسلط مانگا۔
اور اس ناممکن دعا کی کنجی تھا: الوہّاب۔
پھر یہ دھاگا مجھے انبیاء کے گھروں تک لے گیا، جہاں میں نے دیکھا کہ انسانی رشتوں میں سب سے نازک اور قیمتی رشتہ، یعنی اولاد، سراسر ایک الٰہی عطیہ ہے۔
میں نے ابراہیمؑ کو بڑھاپے میں یہ کہتے سنا:
﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ﴾
"بڑھاپے میں"
جب جوانی ڈھل چکی تھی اور اسباب سوکھ چکے تھے،
تب الوہّاب نے اعلان کیا کہ اس کی عطا نہ عمر کی پابند ہے اور نہ حیاتیاتی قوانین کی۔
یہی منظر زکریاؑ کے ساتھ دہرایا گیا، اور پھر ابراہیمؑ کے بارے میں فرمایا:
﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾
یہاں میں نے جانا کہ اولاد محض حیاتیاتی نتیجہ نہیں،
بلکہ ایک ربانی ہدیہ ہے،
جو ناامیدی کی انتہا سے بھی پھوٹ سکتا ہے،
تاکہ انسان اپنے علم اور طب پر گھمنڈ نہ کرے۔
پھر یہ قرآنی دھاگا مجھے نصرت اور رفاقت تک لے گیا۔
موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا گیا:
﴿وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا﴾
یہاں میں ٹھٹھک گیا۔
یہاں تک کہ نیک ساتھی، مضبوط بازو، اور مشکل وقت کا سہارا بھی اللہ کی عطا ہے۔
تب میری نظر اپنے دوستوں اور بھائیوں پر بدل گئی۔
اب وہ محض سماجی اتفاق نہیں رہے،
بلکہ وہ ہبات بن گئے جو الوہّاب نے میرے لیے چن لیں۔
پھر یہ سفر مجھے اس سے بھی بلند مقام تک لے گیا:
عقل، فہم اور نورِ حکمت۔
موسیٰؑ کہتے ہیں:
﴿فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
سمجھ اور بصیرت،
یہ محض موروثی ذہانت نہیں،
نہ صرف مطالعے کا نتیجہ،
بلکہ ایک نور ہے جو اللہ جس کے دل میں چاہے ڈال دیتا ہے۔
اسی لیے اہلِ علم یہ دعا کرتے ہیں:
﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا… وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾
کیونکہ ہدایت خریدی نہیں جا سکتی،
اور اس پر قائم رہنا ہماری مہارت نہیں،
بلکہ اس کی مسلسل عطا ہے۔
سورۃ الشورٰی میں یہ اصول اور واضح ہو گیا:
﴿يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾
یہ لفظ "یَهَبُ"
انسان سے اختیار کا وہم چھین لیتا ہے۔
اولاد ہماری ملکیت نہیں،
بلکہ ایک امانت ہے،
جس پر فخر نہیں، شکر واجب ہے۔
اسی طرح عباد الرحمن کی دعا میں بھی:
﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ﴾
کیونکہ جتنا بھی انسان کوشش کرے،
دلوں کی اصلاح اس کے ہاتھ میں نہیں،
یہ بھی الوہّاب کی عطا ہے۔
اس قرآنی تدبر نے میری نظر بدل دی۔
میں نے جانا کہ الوہّاب
وہ ہے جو مانگے بغیر دیتا ہے،
بلا معاوضہ نوازتا ہے،
اور بلا غرض عطا کرتا ہے۔
وہ انہیں بھی دیتا ہے جو اس سے امید نہیں رکھتے،
تو جو اس سے امید رکھے، اس کا کیا حال ہوگا؟
اب ناامیدی کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔
کیونکہ جس رب نے یحییٰؑ کو بڑھاپے اور بانجھ پن میں عطا کیا،
وہ آج بھی وہی ہے۔
میں نے سیکھ لیا کہ اللہ سے اپنے عمل کے سہارے نہیں،
اپنے فقر کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔
اور اس سفر کے اختتام پر میرا دل گواہی دیتا ہے
کہ میرے سینے کی ہر سانس،
میرے ذہن کی ہر چمک،
میرے دل کا ہر سکون
اس کے نام الوہّاب کا فیضان ہے۔
اے اللہ!
اگر میں اپنے عمل کے سبب مانگنے کے لائق نہیں،
تو تو اپنے جود کے سبب دینے کے لائق ہے۔
ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما،
ہمارے معاملات سنوار دے،
اور ہمیں اپنی بے شمار نعمتوں کا شکر گزار بنا۔
اور درود و سلام ہو محمد ﷺ پر،
جو ہدایت کے امین ہیں۔

🥀 _*والدین*_دُنیا کے سب سے بڑے اور ایماندار انویسٹر آپ کے والدین ہیں یہ ایسے انویسٹر ہیں جو اپنے بچوں پر تین طرح کا سرما...
08/01/2026

🥀 _*والدین*_

دُنیا کے سب سے بڑے اور ایماندار انویسٹر آپ کے والدین ہیں یہ ایسے انویسٹر ہیں جو اپنے بچوں پر تین طرح کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں مال و دولت وقت (اپنی ساری عمر) اپنی جوانی/عمر (خوبصورتی حسن و جمال اپنی طاقت)
اور یہ (والدین) ایسے انویسٹر (سرمایہ) کار ہیں کہ اپنا وقت عمر پیسہ اور اپنی سوچ و فکر سب قربان کرتے ہیں وہ بھی بنا کسی لالچ کے انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جس پر وہ انویسٹ کر رہے ہیں کیا وہ اُنہیں آگے جاکر کوئی فائدہ پہنچا پائے گا کہ نہیں بنا کسی فکر و فائدے کے وہ اپنے بچوں پر انویسٹ کیے جاتے ہیں کیے جاتے ہیں اور کیے ہی جاتے ہیں مگر آخر جب وہ زندگی کی بھاگ دوڑ اور آپ کی خواہشات کے محلوں کو تعمیر کر کے اپنی عمر کی اُس منزل پر آ پہنچے ہیں جہاں پر وہ اپنی ساری مضبوطی آپ پر قربان کر کے خود کمزور پڑ جاتے ہیں بس پھر وہی سے اُن کے دل میں ایک عاجزانہ سی خواہش جنم لیتی ہے اور وہ خواہش پتا ہے کیا ہے؟
کہ جس طرح ہم نے اپنے بچوں کے کمزور اور لڑکھڑاتے قدموں کو مضبوطی بخشی اُن کا ہاتھ تھام کر اُنہیں چلنا سکھایا اُنہیں پیار و محبت اور شفقت سے پالا بالکل اُسی طرح ہمارے بچے بھی ہمارا سہارا بنیں

*والدین کی عاجزانہ خواہشات:* ہم چلنا بھول گئے ہیں ہمیں چلنا سکھائیں ہم کھانا بھول گئے ہیں ہمیں کھانا کھلائیں ہم جینا بھول گئے ہیں ہمیں جینا سکھائیں ہم ہنسنا بھول گئے ہیں ہمیں ہنسنا سکھائیں
اگر خالص مُحبت سیکھنی ہے نا تو اپنے والدین سے سیکھیں ایک نگاہ اُن کی طرف اٹھا کر تو دیکھیں آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کو بناتے بناتے اُنہوں نے خود کو خاک کر لیا ہے اور بدلے میں آپ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں اِسی کو کہتے ہیں سچی مُحبت کہ خود کو فنا کرکے اپنی محبوب چیز کو زندہ رکھنا اور زندگی سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کرنا بنا کسی پرافٹ کے لالچ کے

*خدارا اپنے والدین کی قدر و قیمت کو پہچانیں*
اُن کی قدر کریں اُن سے محبت کریں اُنہیں اپنا وقت کہ جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے اُنہیں دیں اُن کے بار بار سوال کرنے یا پوچھنے کی عادت سے اُکتائیں مت یہ اُن کا حق ہے اور آپ کا فرض کہ وہ آپ کی زندگی اور ذات کے ہر پہلو سے باخبر رہیں اور آپ کو غلط راستے پر جانے سے روکیں اپنے والدین کی روک ٹوک کو بُرا نہ جانیں بلکہ ایک نعمت سمجھیں کیوں کہ وہ آپ کو اُن کو ٹھوکروں اور بُرے تجربات سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں کہ جن سے وہ خود گزر چکے ہیں لہٰذا جیسے وہ بچپن میں آپ کے دس بار سوال کرنے پر بنا کسی شکن کے مسکرا کر جواب دیتے تھے بالکل اُسی طرح آپ کا بھی یہ امتحان اور فرض ہے کہ بنا کسی شکن کے مسکرا کر اُن کے سو بار پوچھنے پر مسکرا کر جواب دیجیے جب بھی دُعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں سب سے پہلے اپنے والدین کے حق میں دُعا کریں ان شاءاللّٰہ آپ کی سب دعائیں قبول فرمائی جائیں گے
اگر آپ کے والدین حیات ہیں تب بھی اور اگر وفات پا چکے ہیں تب بھی اُن کے حق میں یہ دُعا ضرور کیا کریں
*اَللّٰھُمَّ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا*
(الإسراء:24)
*اپنے والدین کے ساتھ حکمِ الہٰی کے مطابق پیش آئیں:*
*ترجمہ:* اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت نرم بات کہنا اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا
(الإسراء: 23، 24)
اللّٰہ پاک ہمیں ہمارے والدین سے مُحبت کرنے والا اور فرمانبردار بنائے *(آمین)*

Happy New Year everyone. We hope 2026 is as special as you.
01/01/2026

Happy New Year everyone. We hope 2026 is as special as you.

غربت کی  15 حیران کرنے والی وجوہات۔ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام...
08/12/2025

غربت کی 15 حیران کرنے والی وجوہات۔

ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔

۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔

۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔

۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔

۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔

۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔

۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔

۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔

۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

۱۰۔ ادھار پر عیاشی
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔

۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔

۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔

۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔

۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔

اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔

سب سے بہترین بنیں، مگر عاجزی اختیار کریں​ایک باپ اپنے بیٹے کا جیکٹ سیدھا کرنے کے لیے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکتا ہے۔ ...
12/10/2025

سب سے بہترین بنیں، مگر عاجزی اختیار کریں
​ایک باپ اپنے بیٹے کا جیکٹ سیدھا کرنے کے لیے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکتا ہے۔ باہر سے یہ ایک معمولی سا عمل لگتا ہے، لیکن اس لمحے کے اندر ایک ایسا سبق پوشیدہ ہے جو کوئی نصابی کتاب کبھی نہیں سکھا سکتی۔ جب وہ بٹن ٹھیک کر رہا ہوتا ہے، تو سرگوشی میں کہتا ہے:
"بیٹا، زندگی میں تمہیں ہمیشہ سب سے بہترین بننے کی کوشش کرنی چاہیے، مگر کبھی بھی یہ یقین نہ کرو کہ تم سب سے بہترین ہو۔"
​لڑکا تجسس سے اسے دیکھتا ہے لیکن پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ باپ اپنی بات جاری رکھتا ہے:
"سب سے بہترین ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم سب کو ہرا دو—اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اُس شخص سے بہتر بنو جو تم کل تھے۔ اس کا مطلب ہے غلطیوں سے سیکھنا، نظم و ضبط کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہونا، اور جب تم یہ سوچتے ہو کہ تمہیں پہلے ہی بہت کچھ معلوم ہے، تب بھی مزید ترقی کرنا۔ یہ یقین کرنا کہ تم سب سے بہترین ہو، ایک مختلف چیز ہے—یہ وہ وقت ہوتا ہے جب غرور قابو پا لیتا ہے، اور غرور اُن دروازوں کو بند کر دیتا ہے جنہیں عاجزی نے کھولنا تھا۔"
​اُسے اپنی غلطیاں یاد آتی ہیں—وہ وقت جب وہ سمجھتا تھا کہ اُس کے پاس تمام جوابات ہیں، وہ دوست جو اُس نے اس لیے کھو دیا کہ اُس نے بات نہیں سنی، وہ کاروباری سودا جو اس لیے ناکام ہوا کیونکہ اُس کا خیال تھا کہ کوئی اسے کچھ نہیں سکھا سکتا۔ ہر ناکامی نے اُسے ایک ہی بات سکھائی: عاجزی وہ دروازے کھولتی ہے جنہیں تکبر ہمیشہ زور سے بند کر دیتا ہے۔
​"یہ دنیا تمہارا امتحان لے گی،" وہ کہتا ہے۔ "ہمیشہ کوئی نہ کوئی تم سے زیادہ مضبوط، زیادہ ذہین، یا زیادہ وسائل والا ہو گا۔ اور یہ ٹھیک ہے—کیونکہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر کسی میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔"
​وہ اپنے بیٹے کی ٹائی سیدھی کرتا ہے، مسکراتا ہے، اور مزید کہتا ہے:
"سخت محنت کرو۔ اپنے خوف سے بڑے خواب دیکھو۔ ہر روز خود کو آگے بڑھاؤ۔ لیکن جب تعریفیں ہوں، تو یہ بات یاد رکھنا: حقیقی عظمت اُس پہچان میں نہیں ہے۔ یہ اس بات میں ہے کہ تم راستے میں لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔ عاجزی ہی سچے عظیم لوگوں کی پہچان ہے۔"
​لڑکا خاموشی سے سر ہلاتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ ابھی سب کچھ نہ سمجھ پائے، لیکن اس کے اندر ایک چنگاری روشن ہوتی ہے—اُن سچائیوں میں سے ایک جو وقت کے ساتھ بڑھتی ہے یہاں تک کہ وہ تمہاری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔
​کیونکہ "سب سے بہترین ہونا" کوئی ٹرافی، یا کوئی اعزاز، یا کسی پہاڑ کی چوٹی نہیں ہے۔ سب سے بہترین ہونا ایک سفر ہے: جب تم گرتے ہو تو کھڑے ہونا، احترام دکھانا، شکر ادا کرنا، اور کبھی بھی غرور کو تمہیں یہ بھولنے نہ دینا کہ ہم سب ابھی بھی سیکھ رہے ہیں۔
​اور آخر میں، کامیابی کا اصل پیمانہ وہ تعریف نہیں جو تمہیں ملتی ہے—بلکہ یہ ہے کہ جب زندگی تمہیں بالکل عروج پر لے جائے تب بھی تم اپنے دل کو عاجز رکھتے ہو۔

Address

Baylis House
Slough
SL13PB

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm

Telephone

+923357885543

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faisal TOOR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Faisal TOOR:

Share