Sher Afzal Khan Fans

Sher Afzal Khan Fans Human Rights activist
Member National Assembly of Pakistan, Advocate Supreme Court of Pakistan, Former Judge:
(5)

03/06/2026

آج عدالت میں 26 نومبر کے مقام سے گرفتار افراد سے ملاقات ہوئی۔ ان میں 24 پولیس اہلکار اور ریسکیو 1122 کے اہلکار بھی شامل ہیں، جو گزشتہ دو سال سے اپنے ذاتی اخراجات پر عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ اب میں ان تمام افراد کا مقدمہ خود لڑوں گا اور ان شاء اللہ انہیں اس مقدمے سے بری کروں گا ، شیر افضل خان مروت

‏میرا ہمیشہ سے  واضح مؤقف ہے کہ عمران خان اور دیگر سیاسی کارکنوں و قیدیوں کی رہائی صرف بیانات، پریس کانفرنسوں یا مذاکرات...
02/06/2026

‏میرا ہمیشہ سے واضح مؤقف ہے کہ عمران خان اور دیگر سیاسی کارکنوں و قیدیوں کی رہائی صرف بیانات، پریس کانفرنسوں یا مذاکرات سے نہیں بلکہ ایک مؤثر، منظم اور پرامن عوامی احتجاجی تحریک سے ممکن ہے۔
‏جب تک عوام اپنے آئینی اور جمہوری حق کے لیے میدان میں نہیں نکلتے، سیاسی کارکنوں کی آواز دبانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی قوت ہی بڑے فیصلوں کا رخ بدلتی ہے۔

01/06/2026

‏میں نے ہمیشہ عمران خان صاحب کا احترام کیا، اُن کا دفاع کیا، مگر اس کے جواب میں مسلسل ٹرولنگ، تضحیک اور کردار کشی ملی۔
‏میں آج بھی نہیں چاہتا کہ معاملات اُس نہج تک پہنچیں جہاں واپسی کے راستے بند ہو جائیں۔ میں عمران خان کی جماعت کو نقصان پہنچانے کا خواہشمند نہیں، مگر مجھے مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ جب انسان خاموشی چھوڑ دے تو پھر بہت سے مقدس چہروں کے نقاب اترنے میں دیر نہیں لگتی، شیر افضل خان مروت

01/06/2026

ڈر کے آگے خاموشی ہوتی ہے، مگر بہادری کے آگے تاریخ لکھی جاتی ہے۔

خیبر پختون خواہ میں اس وقت وزارتوں کی دوڑیں لگی ہیں سب وزارتوں کے پیچھے ہیں مناسب اور اپنی خواہشات کے پیچھے عمران خان کی...
01/06/2026

خیبر پختون خواہ میں اس وقت وزارتوں کی دوڑیں لگی ہیں سب وزارتوں کے پیچھے ہیں مناسب اور اپنی خواہشات کے پیچھے عمران خان کی فکر کسی کو نہیں

شیر افضل خان مروت
Sher Afzal Khan Marwat

01/06/2026

"خیبرپختونخوا میں جو حالات ہیں،اور پارٹی جس زوال کا شکار ہے،یہ حقیقت میں
پارٹی ان غلط فیصلوں کی فصل کاٹ رہی ہے،جو انہوں نے کیے ہیں۔"
شیر افضل خان مروت

31/05/2026

❤️

31/05/2026

اسلام آباد : عوام کی شیر افضل خان مروت سے خوب محبت کا اظہار

31/05/2026

‏میرے عزیز تحریکِ انصاف کے کارکنو!

‏آج میں آپ سے کسی عہدے، منصب یا ذاتی مفاد کے لیے مخاطب نہیں ہوں۔ میں آپ سے اس جماعت کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے لاکھوں کارکنوں نے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں، مقدمات بھگتے، روزگار گنوائے، تشدد برداشت کیا اور اپنے قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی۔

‏میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔

‏کیا آپ نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ آخر تحریکِ انصاف کو اس حال تک کس نے پہنچایا؟

‏وہ جماعت جس نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں تمام تر دباؤ، گرفتاریوں، میڈیا بلیک آؤٹ اور رکاوٹوں کے باوجود ملک بھر میں عوامی مینڈیٹ حاصل کیا، وہ چند ہی مہینوں میں اس مقام تک کیسے پہنچ گئی کہ آج بڑھتے ہوئے جبر کے خلاف مؤثر احتجاج تک کرنے کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہے؟

‏میری رائے میں اس زوال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت کے معاملات آہستہ آہستہ منتخب قیادت اور کارکنوں کے ہاتھوں سے نکل کر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے گئے جو نہ عوام کے سامنے جوابدہ تھے اور نہ سیاسی جدوجہد کے میدان میں موجود تھے۔ اختلافِ رائے کو غداری قرار دیا گیا، سوال پوچھنے والوں کو سازشی کہا گیا اور ہر اُس شخص کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی جس نے پالیسیوں پر اختلاف کیا۔

‏28 فروری 2024 تک نہ یہ صورتحال تھی اور نہ یہ لوگ میدان میں تھے۔ اس وقت کارکن متحرک تھے، قیادت متحرک تھی اور جماعت مسلسل آگے بڑھ رہی تھی۔ مگر اس کے بعد پارٹی کے معاملات پر خان صاحب کی بہنوں، خصوصاً علیمہ خان، اور بیرون ملک بیٹھے چند یوٹیوبرز کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فیصلہ سازی محدود ہوتی گئی اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرایا جانے لگا۔

‏اگر یہ راستہ درست تھا تو پھر کامیابی کہاں ہے؟

‏اگر فیصلے درست تھے تو جماعت مضبوط کیوں نہ ہوئی؟

‏اگر حکمتِ عملی درست تھی تو آج احتجاجی سیاست مفلوج کیوں ہے؟

‏انتخابات کے صرف سترہ دن بعد مجھے فوکل پرسن اور ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

‏اس کے بعد صرف ایک ماہ میں مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔

‏میرے چھوٹے بھائی کو خیبرپختونخوا کابینہ سے صرف ایک ماہ اور بارہ دن بعد فارغ کر دیا گیا۔ میڈیا میں اس کے خلاف کرپشن کے الزامات کی مہم چلائی گئی لیکن آج تک قوم کو کوئی قابلِ اعتبار ثبوت نہیں دکھایا جا سکا۔

‏انتخابات کے تیس دن بعد مجھے سینئر نائب صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

‏صرف اکتالیس دن بعد وہ نامزدگی واپس لے لی گئی جو خود عمران خان صاحب نے مجھے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے دی تھی۔

‏پھر مجھے دوسری مرتبہ پارٹی سے نکالا گیا۔

‏بعد ازاں جب میری ملاقات عمران خان صاحب سے ہوئی تو نہ صرف یہ فیصلہ واپس لیا گیا بلکہ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

‏میں نے سمجھا کہ شاید اب معاملات درست سمت میں چل پڑیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

‏صرف بارہ دن بعد مجھے سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے بھی نکال دیا گیا اور اسی دوران بعض یوٹیوبرز نے میرے خلاف منظم کردار کشی کی مہم شروع کر دی۔

‏میں اسلام آباد میں جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کی قیادت کر رہا تھا۔ لیکن مجھے دور دراز علاقوں میں بھیج دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں قیادت دوسروں کے سپرد کی گئی۔ میڈیا مسلسل میرے خلاف مہم چلاتا رہا اور میں مسلسل عمران خان صاحب کے حق میں آواز بلند کرتا رہا، یہاں تک کہ مجھے تیسری مرتبہ بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔

‏میں آج تک پوچھتا ہوں کہ تینوں مرتبہ میرے خلاف الزام کیا تھا؟

‏کون سا شوکاز نوٹس؟

‏کون سی انکوائری؟

‏کون سا ثبوت؟

‏اصل مسئلہ صرف یہ تھا کہ بعض لوگوں نے عمران خان صاحب کو یہ باور کرا دیا تھا کہ احتجاجی تحریکوں کی کامیابی کا کریڈٹ مروت لے رہا ہے اور اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

‏ایک مرتبہ عمران خان صاحب نے مجھ سے کہا:

‏"مروت! تمہارا عروج غیر معمولی رفتار سے ہوا ہے۔"

‏میں نے جواب دیا:

‏"خان صاحب! ان آزمائشی دنوں میں اگر کوئی بھی شخص آسان راستے کی بجائے مشکل راستہ اختیار کرتا تو وہ بھی یہی مقام حاصل کر سکتا تھا۔"

‏دوسروں نے سہولت کا راستہ چنا، میں نے مشکل راستہ چنا۔

‏دوسروں نے خاموشی اختیار کی، میں نے سڑکوں کا راستہ اختیار کیا۔

‏دوسروں نے محفوظ مقامات تلاش کیے، میں کارکنوں کے درمیان کھڑا رہا۔

‏آج بھی بعض کارکن یہ کہتے ہیں کہ میری شناخت تحریکِ انصاف نے بنائی۔

‏میں اس سوچ سے اختلاف کرتا ہوں۔

‏تحریکِ انصاف نے مجھے پلیٹ فارم ضرور دیا، لیکن شناخت اللہ تعالیٰ کے فضل، میری جدوجہد، میری حکمتِ عملی، میری جرات اور ان مشکل ترین دنوں میں اختیار کیے گئے راستے سے بنی۔

‏اگر مئی 2023 کے بعد میں میدان میں نہ نکلتا، اگر ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں، جلسوں، جلوسوں اور ورکرز کنونشنز میں شریک نہ ہوتا، تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔

‏تاہم میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ میں نے اکیلے کیا۔

‏اگر مئی 2023 کے بعد تحریکِ انصاف زندہ رہی تو اس کا کریڈٹ کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان لاکھوں کارکنوں کو جاتا ہے جنہوں نے ہر مشکل برداشت کی۔

‏یہ کامیابی ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کی بھی تھی جنہوں نے مشکل حالات میں پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔

‏بیرسٹر گوہر خان، عمر ایوب خان، علی امین خان گنڈاپور، علی محمد خان، جنید اکبر خان، عاطف خان، شہرام خان ترکئی، اسد قیصر، بابر سلیم سواتی، صاحبزادہ شفقات اللہ، شاندانہ گلزار خان، باجوڑ باغی، سینیٹر خرم ذیشان، شہریار آفریدی، خیبرپختونخوا کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، بلوچستان کی قیادت، سندھ کی قیادت اور ہزاروں کارکن اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ہم نے انتہائی مشکل حالات میں تحریک کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔

‏اکتوبر 2024 میں عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا کہ احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کے لیے ایک پروٹیسٹ کمیٹی قائم کی جائے جس کی سربراہی میں کروں گا۔

‏میں نے یہ اعلان اڈیالہ جیل کے باہر کیا۔

‏مگر صرف دو دن بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

‏مجھے بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے عمران خان صاحب کو یہ باور کرایا کہ اگر احتجاجی تحریک کی قیادت مروت کرے گا تو اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔

‏میں دوبارہ عمران خان صاحب کے پاس گیا اور عرض کیا کہ جماعت کو ایک منظم احتجاجی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

‏میں نے دوبارہ کوشش کی۔

‏پھر ایک اور ملاقات کی درخواست کی۔

‏مگر بالآخر وہ وقت بھی آیا جب میرے لیے ملاقات کے دروازے بند ہوتے گئے۔

‏نومبر 2024 میری ان سے آخری ملاقات تھی۔

‏فروری 2025 میں مجھے دوبارہ پارٹی سے نکال دیا گیا۔

‏اس کے بعد یوٹیوبرز کی ایک مستقل مہم شروع ہوئی تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ مروت غلط تھا اور باقی سب درست تھے۔

‏میں آج کارکنوں سے پوچھتا ہوں:

‏اگر وہ سب درست تھے تو کامیابی کہاں ہے؟

‏اگر حکمتِ عملی درست تھی تو نتائج کہاں ہیں؟

‏اگر فیصلہ سازی درست تھی تو جماعت اس حال تک کیوں پہنچی؟

‏اگر سب کچھ بہترین تھا تو آج احتجاجی سیاست کیوں مفلوج ہے؟

‏جنید اکبر کے ساتھ گلگت میں پیش آنے والے واقعات اور اسد قیصر کے راستے میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں اس زوال کی تازہ مثالیں ہیں۔

‏میں آج بھی یہ کہتا ہوں کہ اگر مقصد دولت، وزارت یا اقتدار ہوتا تو میرے لیے مواقع کی کمی نہیں تھی۔

‏میں آسان راستہ اختیار کر سکتا تھا۔

‏مگر میں نے ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔

‏آج میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے اپنی آخری اپیل کر رہا ہوں۔

‏اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ جماعت کو متحد کرنا ہے، اس کی سمت درست کرنی ہے، اس کی تنظیمِ نو کرنی ہے اور اپنے قید رہنماؤں کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک چلانی ہے تو مجھے صرف تین ماہ کے لیے جماعت کی تنظیمی کمان دے دیں۔

‏صرف تین ماہ۔

‏میں وعدہ کرتا ہوں کہ جماعت کو متحد، متحرک اور منظم کر کے دکھاؤں گا۔

‏اپنے قید قائدین کی رہائی کے لیے ایک حقیقی عوامی تحریک منظم کر کے دکھاؤں گا۔

‏اس کے بعد میں خود مستقل طور پر جماعت سے علیحدہ ہو جاؤں گا کیونکہ موجودہ ماحول، سازشوں، کردار کشی، جھوٹ، بہتان، یوٹیوبر کلچر اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست سے مجھے شدید نفرت ہے۔

‏یہ میری کارکنوں سے آخری اپیل ہے۔

‏آنکھیں کھولیں۔

‏حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔

‏محض مقبولیت کافی نہیں ہوتی۔ اگر مقبولیت ہی سب کچھ ہوتی تو عمران خان صاحب گزشتہ تین برس سے جیل میں نہ ہوتے۔

‏سیاسی جماعتیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ تنظیم، اتحاد، مشاورت، برداشت اور درست حکمتِ عملی سے زندہ رہتی ہیں۔

‏اگر آپ نے وقت کی نبض نہ پہچانی، اگر آپ نے اختلافِ رائے کو غداری سمجھنے کی روش ترک نہ کی اور اگر آپ نے جماعت کو چند غیر منتخب اثرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو آنے والے چھ ماہ جماعت کے لیے انتہائی بھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔

‏میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔

‏اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

‏اور اگر میری یہ آخری فریاد بھی سنی نہ گئی تو پھر تحریکِ انصاف کے مستقبل پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے:

‏إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

Address

72 Wilbraham Street
Preston
PR15NN

Telephone

+447868175277

Website

http://www.marwatlawattorneys.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sher Afzal Khan Fans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sher Afzal Khan Fans:

Share