Latest Legal updates

Latest Legal updates Pakistani Community - England & Scotland
پاکستانی کمیونٹی ۔ انگلینڈ & سکاٹ لینڈ

صبح بخیر  سکاٹ لینڈ  : آج کی بات ، ایک ایسا شخص جو پرندوں کے آرام کا خیال کرتے ہوئے اپنی چال کو آہستہ اور قدموں کی چاپ ک...
19/04/2024

صبح بخیر سکاٹ لینڈ :
آج کی بات ،
ایک ایسا شخص جو پرندوں کے آرام کا خیال کرتے ہوئے اپنی چال کو آہستہ اور قدموں کی چاپ کو خاموش کرلیتا ہے، وہ اپنی حرکات و سکنات سے نہ ہی کسی قسم کی کوئی آواز نکالتا ہے اور نہ پرندوں کو تنگ یا پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اتنی احتیاط اور اتنے اہتمام کرنے والا شخص پرندوں کا شکاری ہوسکتا ہے.
لوگوں کے ظاہری اہتمام اور رکھ رکھاؤ سے دھوکہ نہ کھائیں، ہوسکتا ہے آپ کا بہت زیادہ خیال رکھنے والا درحقیقت آپ کا جانی دشمن ہو.

11/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

عاق نامہ کی قانونی حیثیت ۔
"Deed Of Disheritance"

پاکستانی قانون (Pakistani Law)
سکاٹش قانون ( Scottish Law )
انگلش قانون ( English Law)

سکاٹش قانون :

سکاٹش قانون کہتا ہے کہ وارثان کو آٹومیٹک وراثت میں منقولہ جائیداد ( رقم وغیرہ ) کے حقوق مل جائیں گے ۔ ان حقوق کے حصول کے لئے انہیں شیرف کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یعنی سکاٹش قانون کے تحت یہ ایک تسلیم شدہ حق ہے
یہاں پر سکاٹش قانون پاکستانی قانون سے ایک قدم پیچھے ہے ۔ سکاٹش قانون کہتا ہے کہ وارثان کے حقوق صرف منقولہ جائیداد (Move able property ) پر ہی حاصل ہیں یعنی رقم ، زیورات ،گاڑی ۔ وارثان کو غیر منقولہ جائیداد ( Immovable property ) یعنی زمین ،پلاٹ ، مکان بارے وراثتی حقوق حاصل نہیں ہیں ۔ جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق اگرچہ والد یا والدہ نے اپنی زندگی میں عاق بھی کیا ہو تو انکی وفات کے بعد عاق شدہ اولاد کا وراثت کا حق منقولہ ( رقم ،گاڑی، زیورات ) و غیر منقولہ جائیداد ( زمین ،پلاٹ ،مکان ) دونوں پر ہی ہوتا ہے ۔

سکاٹش لا کمیشن نے سفارشات مرتب کی تھیں کہ Succession(Scotland) Act 1964 میں ترمیم کرکے منقولہ جائیداد ( رقم وغیرہ ) کے ساتھ ساتھ غیر منقولہ( زمین ، مکان، پلاٹ ) پر بھی متوفی کے عاق شدہ وارثان کا حق تسلیم کیا جاوے ۔ مگر سکاٹش گورنمنٹ نے پرانے قانون میں ترامیم کرکے
Succession (Scotland)Act 2016
مرتب کیا ۔کئی ترامیم کیں ، جیسے بیوہ کا حق ، وصیت کی موجودگی کی صورت میں وراثت اور وصیت کی غیر موجودگی کی صورت میں وراثت کا تعین ، طلاق کی صورت میں جائیداد کی تقسیم ، اچانک موت کی صورت میں تقسیم ، جہاں میاں بیوی اچانک یکے بعد دیگرے چل بسے ہوں اور وصیت نہ کی گئی ہو تو
Section 31 of the 1964
Act
کے تحت صورتحال کیا ہوگی ، اگر دونوں میاں بیوی کی بجائے صرف بطور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ہی رہ رہے ہوں اور اولاد پیدا ہو جائے وغیرہ وغیرہ ۔ مگر سکاٹش گورنمنٹ نے سکاٹش لا کمیشن کی ان سفارشات کو رد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ منقولہ جائیداد (رقم ) کے ساتھ ساتھ غیر منقولہ (زمین ) میں بھی وارثان کا حق تسلیم کیا جائے ۔ یہ معاملہ ابھی تک زیر غور ہے ۔

قاتل کے بارے میں سکاٹش قانون اور پاکستانی قانون ایک جیسے ہی ہیں ۔ سکاٹش قانون بھی قاتل کو وراثت میں حصہ دار نہیں سمجھتا اور Forfeiture Act 1982 کے تحت وہ شخص جس نے کسی کو قتل کیا ہو وہ مقتول کی جائیداد سے حصہ لینے کا حق دار نہیں رہتا ۔

انگلش قانون :

انگلینڈ ،ویلز اور آئرلینڈ میں سکاٹ لینڈ کی طرح وارثان آٹومیٹک منقولہ جائیداد کے حقدار نہیں بن جاتے بلکہ وارثان کو بذریعہ عدالت کلیم کرنا اور ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ بھی متوفی کی منقولہ جائیداد ( رقم ،گاڑی ،زیورات ) کے اپنے اپنے حصے کی حد تک حصہ دار ہیں ۔ سکاٹش قانون کے برعکس انگلش قانون کہتا ہے کہ والد /والدہ نے اپنے بیٹے /بیٹی کو اگر اپنی زندگی میں عاق کیا ہوا تھا تو انکی وفات کے بعد عاق شدہ اولاد آٹومیٹک وراثت میں حق دار نہیں بن جاتی بلکہ عدالت میں انہیں ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ اس وراثت کے حقدار ہیں ۔

11/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

عاق نامہ کی قانونی حیثیت ۔
"Deed Of Disheritance"

پاکستانی قانون (Pakistani Law)
سکاٹش قانون ( Scottish Law )
انگلش قانون ( English Law)

قانون کی نظر میں عاق نامے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ عاق نامہ یا کوئی بھی ایسا اعلان یا معاہدہ جس کے تحت کسی شرعی وارث کو اسکے حق سے محروم کیا جائے تو پاکستانی قانون کی نظر میں اسکی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ والد یا والدہ کی وفات کے بعد عاق کئے گئے بیٹے ، بیٹی کو وراثت میں اتنا ہی حصہ ملے گا جتنا باقی وارثان کو ۔ پاکستانی قانون کے مطابق شرعی وارثان کی فہرست میں بیوی ، بیٹا ، بیٹی آتے ہیں اور اگر کوئی شخص لاولد ہو یعنی اسکی کوئی اولاد نہیں ہے تو اسکی وفات کی صورت میں جائیداد میں سے بیوہ کا حصہ ملنے کے بعد اس متوفی بھائیوں کی طرف جائیداد جائے گی ۔ (یہ ایک طویل فہرست ہے کہ اگر بیوی فوت ہو اور خاوند بھی فوت شد ہے تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی وغیرہ وغیرہ )

پاکستانی قانون کہتا ہے کہ وارثان کے حقوق منقولہ جائیداد( move able property ) یعنی رقم ،زیورات ،گاڑی اور غیر منقولہ جائیداد یعنی زمین ،پلاٹ ،مکان پر حاصل ہیں ۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے PLD 464 2013 میں قرار دیا ہے کہ عاق نامہ سے مراد یہ لیا جائیگا کہ والد یا والدہ اپنے عاق کئے گئے بیٹے ، بیٹی کے قول و فعل کے زمہ دار نہیں ہیں ۔ یعنی اگر بیٹا/بیٹی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے ہیں ، دھوکہ، فراڈ کرتے ہیں ، کسی کو قتل یا زخمی کرتے ہیں ، جھوٹ بول کر مفاد حاصل کرتے ہیں تو والد/والدہ ذمہ دار نہیں کیونکہ انہوں نے پہلے ہی انہی حرکات کی وجہ سے عاق کیا ہوتا ہے ۔
اعلی عدلیہ نے اپنے مختلف فیصلوں میں کہا ہے کہ اسلامی قانون میں شرعی وارث کو انکے حق سے محروم رکھنے کی گنجائش نہیں ہے ۔
صرف چند ایک صورتیں ہیں جن میں شرعی وارث کو جائیداد یا رقم میں حصہ نہیں ملتا ، وہ یہ ہیں ،
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 317 کے تحت اگر شرعی وارث اپنے والد یا والدہ کو قتل کر دے اس صورت میں قتل کرنے والا اپنے والدین کی وراثت میں حق دار نہ ہوگا ۔
اگر بیٹا یا بیٹی بہت نافرمان ہیں تو والد / والدہ اپنی زندگی میں ہی اپنی پوری جائیداد ، پوری رقم دوسرے بیٹے /بیٹی کے نام بذریعہ رجسٹری منتقل کرسکتے ہیں ۔ اور والد، والدہ اپنی زندگی میں کسی غیر وارث کو اپنی تمام جائیداد ، رقم گفٹ/ ہبہ کرسکتے ہیں ۔
بعض اوقات عاق نامہ کا غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے ۔ دشمن دار لوگ کسی کو باقاعدہ منصوبے کے تحت قتل کرنے سے پہلے اپنے اس بیٹے کو عاق کردیتے ہیں تاکہ پولیس اگر ان سے پوچھ گچھ کرے اور قتل کی سازش اور قتل میں مدد دینے کے جرم میں پوچھنے آئے تو وہ کہہ دیں کہ ہم نے تو اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے پہلے ہی عاق کیا ہوا ہے ہمیں کیا پتہ کہ وہ اب کہاں ہے یا بڑی رقم کے فراڈ سے پہلے بھی ایسا ہی کچھ حل نکال لیا جاتا ہے ۔
( جاری ہے )

10/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

عدلیہ آزاد ہے۔۔۔ یہ متحدہ برطانیہ ہے

میں ایک چھوٹے سے ذاتی تجربے سے بات شروع کرتا ہوں۔
یہ کوئی 12/13 سال پرانی بات ہے جب کہ میں اور میرے ساتھ کورن ٹمسن امیگریشن بیرسٹر( یہ Mr.Ian Mcdonald،کوئینز چیمبر یعنی ملکہ برطانیہ کے وکلاء کی ٹیم کے ممبر تھے کے شاگرد اور ڈیوٹی امیگریشن جج بھی تھے ) امیگریشن فرسٹ ٹائیر ٹربیونل مانچسٹر میں Mrs. Timpson امیگریشن جج کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔دوران کیس سماعت لیڈی جج صاحبہ نے ہم سے ایک پوائنٹ بارے پوچھا کہ آپ نے اپیل میں ایسا لکھا ہے اس کی اگر ہم مزید وضاحت کردیں۔ کورن ٹمسن نے مزید کچھ ڈاکومنٹس دینا چاہیے اور لمبی تفصیل بتانا چاہی تو لیڈی جج صاحبہ نے کہا کہ وہ گھر سے فائل پڑھ کر آئی ہیں بس اسی پوائنٹ کی ہی وضاحت کردیں۔ ہم نے ایسا کردیا۔پھر انہوں نے گورنمنٹ کے وکیل سے پوچھا آپ اس پوائنٹ کے خلاف کچھ کہنا چاہتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں نے فائل ٹھیک سے نہیں پڑھی اگر مجھے ایک موقع دے دیا جائے تو میں وضاحت کر سکتا ہوں۔ لیڈی جج صاحبہ نے غصے سے کہا کہ اگر میں فائل پڑھ کر آسکتی ہوں تو آپکو بھی اسی بات کی تنخواہ ملتی ہے۔ آپ کو میں دوسروں کا ٹائم ضائع کرنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ بھری عدالت میں ہی حکومت کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے ہماری اپیل منظور کر دی اور ساتھ ہی کہا کی میرا جی چاہتا ہے کہ سائل کا وقت ضائع کرنے پر حکومت کو جرمانہ بھی عائد کروں۔۔۔ لیڈی جج صاحبہ جانتی تھی کہ عدلیہ آزاد ہے اور وہ ایسا کر سکتی ہیں۔

موجودہ برسراقتدار ٹوری پارٹی اپنی حکومت کے آغاز سے ہی امیگرینٹس اور امیگریشن کو لیکر خاصی چلچلا کر رہی تھی۔ وزیراعظم ٹریسا مے نے سنہ 2012 میں اور پھر جون 2014 میں امیگریشن قوانین تبدیل کرکے امیگریشن کی ہسٹری بدل کے رکھ دی تھی۔ آئے روز غیر قانونی امیگرینٹس کی پکڑ دھکڑ، سڑکوں بازاروں میں ویزہ چیکنگ، غیر ملکییوں کی رہائش کے قوانین کی تبدیلی و جرمانے۔ غرض کی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک بہت بڑے بحری جہاز میں جو کہ بغیر انجن کے، بغیر چپووں کے ہو اس میں تمام غیر ملکییوں کو بٹھا کر کھلے سمندر میں چھوڑ آئے۔ پھر باری آتی ہے پریتی پٹیل کی . یہ ہوم سیکرٹری(وزیر داخلہ ) بنی۔ " امیگرینٹس کو نکالو " کی پالیسی کو آگے بڑھاتی ہے۔ کہتی تھی جو لوگ سیاسی پناہ کا کیس دائر کرتے ہیں وہ زیادہ تر بوگس ہوتے ہیں، ملک پر بوجھ ہیں۔ اس نے امیگریشن قانون کی ایک شق کہ " اگر کوئی شخص سیاسی پناہ کا کیس دائر کرتا ہے اور وہ ملک اسکو اپنے ملک نہ رکھنا چاہتا ہو اور اس شخص کو اسکے اصلی ملک نہ بھیجا جا سکتا ہو تو وہ ملک اسے کسی تیسرے محفوظ ملک میں بھیج سکتا ہے " کا سہارا لیکر افریقی ملک روانڈا سے بطور " تیسرا محفوظ ملک " معاہدہ کرتی ہے۔ دلیل یہ بھی دیتی ہے کی روانڈا کے کسی بھی ملک سے Extradition یعنی ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے لہذا کوئی بھی ملک روانڈا سے ان مطلوب لوگوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔ لہذا محفوظ ملک ہے۔ اس مد میں اس نے 140 ملین پاؤنڈ بھی روانڈا کو خوراک، رہائش، ٹریول اور سیکیورٹی کی مد میں ادا کئے۔وہاں شاندار اپارٹمنٹ بنائے گئے۔ پالیسیاں ترتیب دی جانے لگیں۔ پریتی پٹیل کے بعد نئی آنے والی ہوم سیکرٹری شویلا برینرمن، انڈین نژاد بھی اس مشن کو لیکر آگے آئیں۔عام غیر ملکی ان باتوں کو لیکر پریشانی کے عالم میں تھا۔ " اب تیرا کیا ہو گا کالیا " والا معاملہ بن چکا تھا۔ روز مرہ کی گفتگو میں یہی نئے امیگریشن کے قانون زیر بحث رہتے تھے۔ حکومت کو معلوم تھا کہ وکلاء کسی ایک نقطے کو پکڑ کر اس قانون کی دھجیاں بکھیر سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ مئی 2022 میں ایران، عراق، شام ،ویت نام، سوڈان اور البانیہ کے دس سیاسی پناہ گزینوں کے کیس خارج ہوئے اور حکومت نے انہیں روانڈا بھیجے جانے کی تیاری شروع کر دی ۔ ان لوگوں نے سیاسی پناہ کرنے والے لوگوں کی مدد کرنے والی NGO "اسائیلم ایڈ" سے مدد مانگی جس نے انکی ایما پر ستمبر 2022 میں ہائیکورٹ میں کیس بعنوان
AAA and other
Vs
The secretary of the state for the Home Office

دائر کردیا۔ جسکی سماعت لارڈ جسٹس لوئیس اور مسٹر جسٹس سوئفٹ نے کی ۔جسکا فیصلہ اس پوائنٹ پر کہ " روانڈا کے کسی بھی ملک سے ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے " ان اسائیلم والوں کے خلاف آیا۔ اسکی اپیل سپریم کورٹ(کورٹ آف اپیل ) میں دائر کردی گئی. جسکی سماعت ماسٹر آف دی رول سر جیفری ووس اور لارڈ جسٹس انڈرہل، دی وائس پریذیڈنٹ آف دی کورٹ آف اپیل( سپریم کورٹ ) نے کی یہ سماعت 24 اپریل سے 27 اپریل 2023 تک مسلسل چار دن جاری رہی۔ اس میں وکلاء نے دیگر پوائنٹس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ حکومت کی روانڈا پالیسی یورپی ہیومن رائٹس کنونشن کے آرٹیکل 3 کی خلاف ورزی ہے۔ روانڈا میں بذات خود لاقانونیت ہے۔ وہاں قانون شکنی عام ہے ۔نیا جانے والا شخص وہاں خود کو غیر محفوظ تصور کرے گا۔اس کیس میں انسانیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات لگائیں کہ اس کیس میں UNHCR یعنی یونائٹڈ نیشن ہائی کمشنر فار ریفیوجی کو بھی خصوصی پارٹی بنا کر اسے اپنی سفارشات عدالت میں جمع کرانے کی اجازت دی گئی ۔ جس کی سفارشات سے اپیل کنندگان کے کیس میں مزید مضبوطی آئی۔
بروز جمعرات 29 جون 2023 کو معزز کورٹ آف اپیل(سپریم کورٹ ) نے حکومتی پالیسی برائے روانڈا اسائیلم سیکر کو روک دیا اور کہا اس پالیسی میں جب تک سقم دور نہیں کئے جاتے، اسائیلم سیکر روانڈا نہیں بھیجے جا سکتے اور یوں غیر ملکی لوگ جو پچھلے دو سال سے تناو کا شکار تھے پرسکون ہوگئے۔
معزز کورٹ آف اپیل نے اپنے فیصلے کے آخری پیراگراف میں یہ بھی کہا کہ ہم نے اسائیلم پالیسی کو روکا ہے حکومت برطانیہ اور روانڈا حکومت کے مابین جو بھی معاہدہ ہوا ہے اس فیصلے کا اس ہر اطلاق نہیں ہوگا، حکومت برطانیہ جانے اور روانڈا حکومت جانے۔البتہ برطانوی حکومت اپنی اسائیلم پالیسی درست کرے۔
سویلا بنرمین، ہوم سیکرٹری نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالت کے اس فیصلے نے انہیں مایوس کیا ہے۔حکومت عدالت کے اس فیصلے سے اختلاف کرتی ہے کیونکہ حکومت برطانیہ ہرروز 6 ملین پاؤنڈ اسائیلم سیکر کی رہائش کی مد میں ادا کر رہی ہے جو کہ ٹیکس پئیرز کی رقم ہے۔ اور بوگس اسائیلم سیکر پر نہیں خرچ ہونی چاہیے۔
ان مغربی ممالک میں نہ تو وکلاء کی جیت ہوتی ہے اور نہ ہی عدالتیں جیتتی ہیں۔بس ان دونوں کے ذریعے انسانیت کا بول بالا ہوتا ہے۔ایسا میں نے خود دیکھا ہے۔

09/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

" سریندر سنگھ کیس "

زندگی آپکی ماں جیسی نہیں ہے جو آپ سے غصے ہوگی لیکن پھر بھی رات کے کھانے پر آپکو بلا لے گی ۔ زندگی تلخ ہے۔آپکو مرتا ہوا چھوڑ دے گی۔ لہذا زندگی کے ساتھ باہمی جہد مسلسل بہت ضروری ہے۔ " باہمی " کا لفظ اس لئے کہ زندگی سے لڑنا نہیں ہے بلکہ اسے ساتھ لیکر حالات کا ٹھراو کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے اور اسی جدوجہد میں بعض اوقات آپکا اٹھایا ہوا معمولی سا قدم، معمولی سا اشارہ، معمولی سی حرکت آپکو آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
آیئے میں آپکو برطانیہ کی امیگریشن کی دنیا کے ایک کیس کا بتاتا ہوں جس نے سائل کی نیا تو پار لگائی ہی تھی ساتھ میں اسکے مدتوں بعد تک لوگ عدالتوں میں اس کیس کا حوالہ دیکر سرخرو ہوتے رہے۔
سریندر سنگھ کیس۔ جیسے ویزے کی کئی کیٹیگری ہوتی ہیں مثلا وزٹ ویزہ، سٹوڈنٹ ویزہ، ورک پرمٹ ویزہ اسی طرح اس کیس سے برطانیہ میں " سریندر سنگھ روٹ " Surrender Singh rout" ویزہ کیٹیگری متعارف ہوئی

The Queen
Vs
Immigration appeal tribunal and Surrender Singh, ex parte Secretary of state for Home Office
ڈاکٹ نمبر C-370/90

اہک انڈین نیشنل سریندر سنگھ 1982 میں برٹش سٹیزن سے برطانیہ میں شادی کرتا ہے۔کیونکہ بیوی برطانوی شہری تھی لہذا یورپی یونین ممبر ممالک کے یورپی یونین قانون کے آرٹیکل (1)3 کے تحت شہریوں کی ممبر ممالک میں فری موومنٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں میاں بیوی 1983 میں جرمنی شفٹ ہو جاتے ہیں اور وہاں 1986 تک جاب کرتے ہیں۔ اس قانون کے تحت یورپی شہری(برٹش بیوی ) اپنے ساتھ اپنے غیر یورپی فیملی ممبر(سریندر سنگھ )کو بھی ساتھ لے جا سکتے ہیں
1986 میں دونوں واپس برطانیہ آجاتے ہیں۔ بدقسمتی سے 1987 میں دونوں کے مابین طلاق ہو جاتی ہے۔ سریندر سنگھ، خاوند ، مروجہ قانون کے تحت ابھی برطانوی شہریت حاصل نہیں کرسکا تھا اور مدت پوری ہونے تک عارضی رہائشی ویزہ پر تھا لہذا برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ نے شادی ختم ہونے پر اسکا ویزہ کینسل کر دیا کہ جس بنیاد پر ویزہ ایشو کیا گیا تھا وہ بنیاد یعنی شادی ختم ہو گئی تھی اس بنا پر اسے برطانیہ چھوڑنے کا نوٹس جاری کردیا۔ سریندر سنگھ نے اپنے وکلاء کی مدد سے پہلے لوئر امیگریشن ٹرائیبیونل پھر اپر ٹرائیبیونل میں برطانیہ میں رہنے کے لئے پانچ سال جدوجہد کی بالآخر آخری چارہ جوئی کے طور پر 7 جولائی 1992 میں یورپین کورٹ آف جسٹس(جو کہ یورپی یونین ممبر ممالک کی سب سے بڑی عدالت ہے) لکسمبرگ میں کیس دائر کر دیا۔ یورپی یونین کورٹ آف جسٹس میں دائر کیس ایک مہنگی، طویل قانونی جنگ ہوتی ہے
وکلاء نے یورپی یونین کے اس قانون کے تحت کیس تیار کیا جسکے تحت " اگر یورپی یونین ممبر ممالک کے شہری کسی دوسری ممبر سٹیٹ میں کام کرنے یا پڑھائی کرنے جاتے ہیں اور انکے ساتھ انکے غیر یورپی فیملی ممبرز بھی جاتے ہیں تو ان غیر یورپی فیملی ممبرز کا بھی یہاں رہنے کا حق پیدا ہوجاتا ہے۔" یہی ایک پوائنٹ تھا جسکو اس کیس میں بنیاد بنایا گیا۔ اس وقت تک کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ کیس ایک لینڈ مارک ثابت ہو گا اور برطانیہ میں ویزہ کی نئی کیٹیگری بن جائے گا۔
طویل جدوجہد کے بعد فیصلہ سریندر سنگھ کے حق میں آیا اور اسے اپنے ذاتی حق جو کہ اس نے بطور خاوند یورپی شہری(بیوی )کے ساتھ جرمنی میں گزارا تھا اور واپس برطانیہ بھی بطور میاں بیوی ہی آئے تھے، طلاق کے باوجود اس بنا پر برطانیہ میں رہنے کا حق مل گیا۔
اس سریندر سنگھ روٹ ویزہ کیٹیگری کا لاکھوں لوگوں نے فائدہ حاصل کیا اور اس روٹ کو استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں قیام حاصل کیا۔
نوٹ: یہ ویزہ کیٹیگری 29 مارچ 2022 کو اس وجہ سے ختم ہو گئی کیونکہ برطانیہ اب یورپی یونین کا ممبر نہیں رہا اور اس پر یورپی یونین قوانین اب لاگو نہیں ہوتے اور برطانیہ یورپی یونین قوانین کا پابند نہیں ہے بلکہ اپنے لوکل امیگریشن قوانین کے تحت فیصلے کرے گا
(نشر مکرر )

09/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

جس طرح سریندر سنگھ کیس نے برطانوی امیگریشن کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا تھا بالکل اسی طرح دو اور کیسسز نے بھی برطانوی امیگریشن کی تاریخ میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ ان میں سے ایک جسے Zambrano Case ہے اور دوسرا Chikwamba Case ہے۔ Zambrano کیس بالکل سریندر سنگھ روٹ کی طرح برطانوی امیگریشن کی ایک الگ کیٹیگری بنی جس کے تحت ان گنت لوگوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ مگر ان دونوں کیسسز کو ڈسکس کرنے سے پہلے میں ایک اور کیس کا تذکرہ کرتا ہوں جس میں ایک پاکستانی خاتون نے اوپر دیئے گئے دونوں کیسسز کو بطور ریفرنس استعمال کرکے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
کہتے ہیں یہ اہم نہیں ہے کہ آپکے پاس ہتھیار ہے۔ اہم یہ ہے کہ اسکو کب اور کس طرح استعمال کرنا ہے۔ بالکل ایسا ہی اس پاکستانی خاتون کے کیس میں ہوا۔ جب میں یہ کیس سٹڈی کر رہا تھا تو خاتون کی طرف سے دائر اپیل کے ابتدائی مندرجات پڑھ کر ہی میں اس نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ کیس کی کامیابی کے چانسز بہت کم ہیں ۔ کیس کا رزلٹ بتانے کی بجائے اسکی تفصیل بتاتا ہوں۔

Younas (Section 176 B(6)(b)[2020]UKUT129

ایک پاکستانی خاتون مسز یونس جب دبئی سے انگلینڈ وزٹ ویزہ پر سنہ 2020 میں اپنے والد کے ہمراہ آئی تو وہ اس وقت اپنی پریگننسی کے 30 ویں ہفتے میں تھی۔وزٹ ویزہ مسز یونس کو دبئی سے برطانوی ایمبیسی نے 6 مہینے کے لئے جاری کیا تھا۔ وزٹ ویزہ کی درخواست دیتے وقت مسز یونس نے برطانوی ایمبیسی کو بتایا تھا کہ وہ برطانیہ میں موجود اپنے خاوند سے صرف کچھ عرصہ کے لئے ملنے جا رہی ہے اسکا وہاں مستقل قیام کا ارادہ نہیں ہے اور وہ واپس آجائیں گی اور یہ کہ اسکا خاوند برطانیہ میں کارپٹ فٹر ہے اور اسکی سالانہ آمدنی 19200£ ہے جسکی وجہ سے ہم برطانوی سسٹم پر بوجھ نہیں بنیں گے۔
مسز یونس اپنے انگلینڈ قیام کے دوران مقامی ہسپتال میں بچے کی ڈلیوری کے لئے ایڈمٹ ہو جاتی ہیں جہاں اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔ اسکے بعد اس نے اپنے امیگریشن لائر کے ذریعے برطانوی ہوم آفس میں اپنے وزٹ ویزہ کو رہائشی ویزے میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست دائر کر دی اور وجہ یہ لکھی کی کیونکہ بچے کی پیدائش ہوئی ہے لہذا ماں اس حالت میں ابھی سفر کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اور کیونکہ بچی کا باپ بھی برطانیہ کا شہری و رہائشی ہے اس لئے فیملی کا جدا ہونا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگا۔ لہذا انہیں اس ملک مستقل رہنے کی اجازت دی جائے۔
آپکو بتاتا چلوں کہ وزٹ ویزہ کو کسی اور ویزہ کیٹیگری میں منتقل ہونے کی درخواست بہت ہی کم صورت میں اپروو ہوتی ہے بلکہ ناممکن ہی سمجھیں تاوقتیکہ بہت ہی مضبوط، جینوئین کیس ہو۔ کسی بھی ملک کی ویزہ اتھارٹی اس ٹرانسفر درخواست کو سخت ناپسندیدگی سے دیکھتی ہے کہ درخواست دہندہ جھوٹ اور دھوکہ سے وزٹ ویزہ پر یہ بیان حلفی دے کر آیا کی ویزہ کی معیاد ختم ہونے سے پہلے واپس آجائیگا۔ اس کیس میں ہوم آفس مسز یونس کی برطانیہ آمد کے بعد ویزہ کی تبدیلی کی درخواست کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا کہ جھوٹ بول کر مستقل رہنے کے لئے برطانیہ آئی ہے ۔ (ایک اور ایشو کا اس تحریر کے آخر میں ذکر کروں گا )
( اکثر پاکستانی اپنے بچے کی ان مغربی ممالک میں پیدائش کے لئے ایسا حربہ آزماتے ہیں اور بچے کی ڈلیوری کے قریب قریب ان ممالک کا وزٹ کرتے ہیں تاکہ بچے کی پیدائش کو جواز بنا کر اس ملک میں مستقل رہنے کی درخواست دے سکیں ۔ کینیڈا میں اگر بچہ پیدا ہو تو قطع نظر اسکے والدین کینیڈین نیشنل ہیں یا نہیں، بچہ پیدا ہوتے ہی کینیڈین نیشنل بن جاتا ہے اور اس بنیاد پر والدین بھی رہائش اختیار کر لیتے ہیں مگر دیگر یورپی ممالک میں ایسا قانون زرا مختلف اور سخت ہے )
برطانوی ہوم آفس نے مسز یونس کی درخواست انہی باتوں پرمسترد کردی کہ دبئی میں درخواست دیتے وقت کچھ اور بیان کیا گیا تھا۔ مسز یونس نے اپنے امیگریشن لائر کے ذریعہ ہوم آفس کے اس فیصلے کے خلاف امیگریشن ٹرائیبیونل میں اپیل دائر کر دی۔ اور اپنی اپیل میں مشہور زمانہ لینڈ مارک Chikwamba کیس اور Zambrano کیس کا بطور خاص حوالہ دیکر دادرسی مانگی گئی۔

ٹرائیبیونل میں جج صاحب نے مسز یونس کے دلائل سننے کے بعد اس سے کہا کہ وہ پاکستان واپس چلی جائے اور دوبارہ رہائشی ویزہ کی درخواست کے ذریعے برطانیہ آجائے۔ اس دوران اسکی بیٹی برطانیہ میں ا پنے والد کے پاس رہے گی جوکہ قانونی طور پر اسکا گارڈین بھی ہے اور بائیو لاجیکل باپ بھی۔
مسز یونس نے کہا کہ پاکستان میں اسکا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔ والدہ فوت ہوچکی ہے ۔پاکستان میں رہنے کے لئے انتظامات نہیں ہیں۔
جج صاحب نے کہا کہ دبئی میں درخواست دائر کرتے وقت اس نے لکھا ہے کہ پاکستان میں رشتہ دار موجود ہیں اور اسکے پاکستانی شناختی کارڈ پر پاکستان کی مستقل رہائش کا ایڈریس بھی موجود ہے۔ مسز یونس نے کہا کہ اسے پتہ نہیں تھا کہ اسکا رشتہ دار فوت ہو چکا ہے اب معلوم ہوا ہے اور شناختی کارڈ کا ایڈریس کسی رشتہ دار کے گھر کا ایڈریس ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈ بناتے وقت مستقل پتہ لکھنا ضروری ہوتا ہے اس لئے وہ ایڈریس لکھا تھا اب معلوم ہوا ہے کہ وہ رشتہ دار بھی وہاں نہیں ہے ۔ اگر میں پاکستان واپس جاتی ہوں تو ویزہ پراسس میں لمبا عرصہ لگتا ہے اور اس دوران ہماری فیملی کے درمیان لمبی جدائی آسکتی ہے اور اسکے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ مگر امیگریشن لوئر ٹرائیبیونل نے اپیل نامنظور کرتے ہوئے خارج کر دی
مسز یونس نے امیگریشن اپر ٹرائیبیونل میں لوئر ٹرائیبیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔ اس کیس کی سماعت جج صاحبان جناب The Honourable Mr.Justice Lane. P
اور President Upper tribunal Mr.Hansen
اور Upper tribunal judge Sheridan نے کی۔

تمام دلائل سننے کے بعد اپر ٹرائیبیونل کے جناب جج صاحبان نے اپنا فیصلہ سنایا کہ درخواست دہندہ اپنے موقف میں غیر دیانت دار ثابت ہوئی ہے۔ اس نے ویزہ کی درخواست میں بتایا تھا کہ اسکے خاوند کی تنخواہ سالانہ 19200£ ہے اور اب عدالت میں کہہ رہی ہے کہ وہ ویکلی 250 پونڈ کماتا ہے۔ جس پر مسز یونس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسکے لائر نے ہندسوں کی غلطی کرکے یہ انکم غلط لکھ دی تھی۔
جج صاحبان نے آخر میں کہا کہ کسی کو بھی امیگریشن قانون سے کھیلنے اور غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر یہ اپیل منظور کرلی گئی تو عوام کا عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ جائیگا اور مسز یونس سے کہا کہ وہ واپس جائے اور دوبارہ درخواست دائر کرکے برطانیہ آسکتی ہے۔ اپیل نامنظور کرتے ہوئے خارج کر دی۔

(برطانیہ میں سنہ 2012 تک اپنی بیوی یا خاوند پاکستان یا کسی بھی ملک سے برطانیہ لانے کے لئے ایک خاص انکم کی لمٹ نہیں تھی۔بس اتنا تھا کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ اسکی اتنی انکم ضرور ہے جس سے گھر کا نظام اچھا چل سکتا ہے اسکی بیوی/ خاوند کا ویزہ لگ جاتا تھا مگر جولائی 2012 میں ڈیوڈ کیمرون ' اس وقت کے برطانوی وزیراعظم نے امیگریشن قانون میں بہت سخت تبدیلیاں کی تھیں جس میں دوسرے ملک میں موجود بیوی/خاوند کو سپانسر کرنے کے لئے انکم کی شرط 18600£ سالانہ کردی تھی جو کہ بہت بڑی رقم تو نہیں تھی مگر ٹیکس کے معاملات اور دیگر سوشل ویلفیئر کی رقم/بینفٹ(گورنمنٹ کی امدادی رقم برائے مستحق ) لینے والوں کے لئے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی کہ اگر وہ 18600£ کی انکم شو کرتے تو سوشل ویلفیئر کی رقم/بینفٹ سے محروم ہوجاتے اور اگر انکم شو نہ کرتے تو بیوی سے۔

09/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

من بندہِ آزادم عشق است امامِ من
عشق است امامِ من، عقل است غلامِ من

مانسہرہ سے اوپر مقامی زبان میں کہلائ جانے والی بٹراسی یعنی کئی کلومیٹر لمبی زگ زیگ پہاڑی کو عبور کریں تو یکدم بالا کوٹ کا مختصر سا شہر آجاتا ہے۔ پھر دوسری قابل زکر شے دریائے کنہار ہے جسکا شرلاٹے بھرتا پانی بالا کوٹ سے ہوتا ہوا وادی نیلم کی طرف اک ہجوم بے کراں کی مانند بس دوڑتا جاتا نظر آتا ہے۔ بالا کوٹ سے لیکر ناران، کاغان، شوگران، بٹہ کنڈی۔۔بابوسر ٹاپ تک پھر یہی ایک واحد ساتھی ' دریائے کنہار آپکے ساتھ ساتھ آپ کی تنہائیوں کا رازداں ہوتا ہے

میں نے شہر بالا کوٹ کو حضرت سید احمد شہید کے حوالے سے جانا تھا جنکا رنجیت سنگھ کی فوج کے ساتھ معرکہ تاریخ کا حصہ ہے۔ آٹھویں کلاس کی معاشرتی علوم کی کتاب میں اس واقعہ کا ذکر پڑھ رکھا تھا
میں نے دریائے کنہار کے کنارے کھڑے ہو کر دھوپ سے بچنے کے لئے آنکھوں کے گرد دونوں ہاتھوں سے شیڈ بنا کر مزار ڈھونڈنا چاہا، سوچا یہیں قریب کنارے پر بہت بڑا مزار ہوگا، واضح نظر آجائیگا ۔ مکتبہ سیاح لائبریری سے ان علاقوں کے بارے میں لی گئی معلوماتی کتاب میں تو یہی لکھا تھا کہ مزار دریا کنارے واقع ہے۔

" سرکاراں دریا کا تندخو پانی کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ کنارے سے ہٹ جاو ' یہ نہ ہو میں اکیلا ہی لائلپور واپس جاؤں " یہ عبیداللہ تھا۔

نامعلوم سے کنارے پر تنہا، چھوٹا سا ویران مزار ۔۔۔ ہم دونوں کے آجانے سے چند لمحوں کے لئے اسکی رونق بحال ہوگئی۔

آنسو نما جھیل،۔۔کاغان سے اوپر پگڈنڈیوں پر ھائکنگ کرتے مشہور قصبہ مہانڈری پر چند لمحوں کے لئے سستانے کے لئے رکے اور پھر براستہ وادئ منورگلی مکڑا پہاڑ کی طرف رواں دواں تھے کہ میں نے ایک ایسی جھیل دیکھی جسکی ہیئت ایک قطرے کی مانند تھی۔ مجھے لگا ایک بہت ہی بڑی جسامت کا قطرہ زمین پر آن پڑا ہے۔ فورن معلوماتی کتاب سے رجوع کیا۔۔ یہ " آنسو جھیل " تھی۔ نام کی وجہ تسمیہ سمجھ میں آنے والی تھی۔۔۔ لاجیکل۔
یہ جھیل درمیان سے برف سے جمی رہتی ہے جس سے یہ کسی آنکھ کی پتلی سے نکلنے والے آنسو جیسی لگتی ہے تاہم یہاں جانے کے خواہش مند افراد کے لیے اس تک رسائی زیادہ آسان نہیں کیونکہ ایک تو یہاں آنے کا بہترین موسم مئی سے اکتوبر ہے اور پھر وہاں رہائش کے لیے کوئی ہوٹل وغیرہ موجود نہیں اور کیمپنگ کرنا پڑتی ہے مگر درجۂ حرارت میں اچانک کمی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

پیالہ نما جھیل ۔۔۔ ناران کے ویسٹرن موٹل میں یہ ہماری پہلی صبح تھی۔ میں نے اور عبیداللہ نے آج طلوع شمس یعنی سورج نکلنے کا نظارہ کرنا تھا ، یخ بستہ صبح کے چار بجے تھے جب ہم دونوں دریائے کنہار کنارے ایستادہ معمولی سے پہاڑی تودے پر کنگڑے بیٹھے سورج چچا کا استقبال کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔۔ پاکستان الپائن کلب کے سیاحتی بروشر میں لکھا تھا کہ سیاح اگر کسی طور یہاں تک پہنچ جائیں تو یہ ایڈونچر ضرور کریں یعنی گولڈن سورج کو افق سے ابھرتا دیکھنا۔۔۔ ہم کسی نہ کسی طور یہاں پہنچ بھی گئے تھے اور اب الپائن کلب کا کہا مان کر ایسا کر بھی رہے تھے۔
گولڈن سورج کا نظارہ سکاٹ لینڈ میں رہتے ہوئے میں نے بارہا کیا ہے، ، سینکڑوں نہیں ہزاروں مرتبہ مگر پاکستان میں رہتے ہوئے ایسا وقوعہ پہلی مرتبہ ہونے جا رہا تھا۔۔۔ سو ہوگیا
اب باری جھیل سیف الملوک کی تھی مگر ناشتے کے بعد۔
ناران شہر سے نو کلومیٹر دور اور وادی کاغان کے انتہائی شمالی سرے پر سطح سمندر سے 10578 فٹ بلندی پر واقع جھیل سیف الملوک تین اطراف سے برفیلی چوٹیوں میں گھری ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جھیل تین لاکھ سال پہلے اس وقت وجود میں آئی جب وادی کاغان کا تمام علاقہ برف سے ڈھکا ہوا تھا اور ایک بہت بڑے برفانی تودے نے ٹوٹ کر اس دریا کے پانی کو روک لیا جو جھیل کے عین وسط سے گزر رہا تھا۔ پیالہ نما جھیل سیف الملوک کی لمبائی 1420 فٹ، چوڑائی 450 فٹ اور اوسط گہرائی 50 فٹ کے لگ بھگ ہے۔ اس کے عین عقب میں ملکہ پربت، برفانی لبادہ اوڑھے اپنی خوبصورتی اور جوبن کا نظارہ کرا رہی ہے۔ 17390 فٹ بلند اس پہاڑ کو آج تک کوئی سر نہیں کر سکا۔

اوپر سب کچھ 90 کی دہائی کے وسط کی داستانیں ہیں

اور اب 21ویں صدی کا عروج ہے۔ جب میں نے انگلی نما جھیل کو جاننا چاہا. میں جھیل ونڈرمیر Windermere Lake کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔انگلستان۔۔۔ڈسٹرکٹ کمبریا۔۔۔The Lake District...جھیلوں کی سرزمین ۔۔۔ ویسے تو اس جھیل کے علاوہ اس لیک ڈسٹرکٹ میں اور بھی مشہور جھیلیں ہیں جیسا کہ جھیل گراسمیر ۔مشہور زمانہ انگلش شاعر ولیم وارڈزورتھ کی رہتل جھیل گراسمیر جہاں اس نے اپنی زندگی کے14 سال گزارے۔ یہ وہی شاعر ہے جسکی مشہور نظم " کنول کا پھول " The Daffodils " میٹرک کے نصاب میں پڑھی تھی یعنی میں اس جھیل کو۔۔۔ اس شاعر کو ۔۔۔اس علاقے کو پاکستان میں رہتے ہوئے غائبانہ جانتا تھا۔ تب سکول کے دنوں میں میری شناسائی جھیل سے تقریبن نہ ہونے کے برابر تھی کہ جھیل کیسی ہوتی ہوگی۔میں نے فقط منچھر جھیل دور سے دیکھ رکھی تھی جب بذریعہ ٹرین ریل گاڑی سے کراچی جائیں تو راستے میں دور سے نظر آتی ہے۔ میں تب چھوٹا سا تھا ، شائد ساتویں آٹھویں کلاس میں ، اپنے والد گرامی کے ساتھ کراچی بذریعہ ٹرین جا رہا تھا تو جب ٹرین منچھر جھیل کے پاس سے گزری ' والد صاحب نے انگلی کے اشارے سے مجھے بتایا کہ دیکھو دیکھو وہ منچھر جھیل ہے ۔ ایک بڑے تالاب کی مانند دووور تک پھیلا پانی کا ٹکڑا نظر آیا ۔ جھیل بارے میرا علم بس اتنا ہی تھا۔ میں تصور میں ولیم وارڈزورتھ کو دیکھا کرتا اور منچھر جھیل کو ذہن میں لا کر سوچتا کہ ولیم کیسے جھیل کے پانی سے باتیں کرتا ہو گا۔ اور درختوں ' پھولوں سے کیسے باتیں کرتا ہوگا مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کیونکہ منچھر جھیل کے ارد گرد سبزے کی بجائے چٹیل میدان تھا ۔درخت ، سرسبز جڑی بوٹیاں و پھول وغیرہ بالکل ناپید و نایاب تھے اور نظم میں جھیل کو لیکر سبزے اور ہریالی کا جابجا تذکرہ ۔
" 1802 میں جب شاعر اپنے بھائی کی وفات کے بعد اکیلا رہ گیا تھا تو وہ اسکے فراق میں جب جھیل اور اس میں اگے کنول کے پھول اور اس گراسمیر کے علاقے میں اگنے والے قدرتی درختوں سے باتیں کرتا تھا تو یہ مشہور زمانہ نظم وجود میں آئی۔"

علامہ اقبال نے اپنی بیاض میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ورڈز ورتھ نے اُنہیں زمانۂ طالب علمی میں دہریت سے محفوظ رکھا۔ مناظرِ فطرت کی عکاسی میں اقبال اور ورڈورتھ میں کافی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

ونڈرمیر جھیل اتنی بڑی ہے کہ انگلینڈ کی سب سے بڑی جھیل کہلاتی ہے۔اسکی ہیئت شہادت کی انگلی کو بس ذرا سا موڑ لیں تو پوری انگلی میں خم آ جاتا یے بس اسکی ایسی ہیئت ہے۔
اس میں لاتعداد سیاحتی کروز، چھوٹی بڑی کشتیاں اور لکڑی کے بنے مکانات تیرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لکڑی کے تیرتے مکانات مقامی باشندوں کے نہیں ہیں بلکہ دوسرے علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے ھالیڈے گزارنے کے لئے لے رکھے ہیں۔ آپ کو اس کی نسبت سے ایک دلچسپ بات بتادیتا ہوں، ایک زمانے میں جب کشمیر پر ڈوگرہ راج تھا یعنی مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی 1927 میں کشمیر سٹیٹ نے ایک قانون پاس کیا تھا کہ کوئی بھی بلڈنگ اگر زمین پر تعمیر ہوگی اس پر بھاری ٹیکس عائد ہوگا۔ یہ اس لئے کہ نئی ہونے والی تعمیرات سے وادی کی خوبصورتی متاثر نہ ہو ۔ اس قانون میں ایک سقم تھا جسکا فائدہ گورا صاحب لوگوں نے بھرپور اٹھایا کہ اس قانون میں پانی میں ہونے والی تعمیرات کا کہیں زکر نہیں تھا۔ گورا صاحب نے ڈل جھیل کے اندر لکڑی سے بنے تیرتے گھر تعمیر کئے اور موج کی اور ان مکانات کے مالکانہ حقوق اپنے نام کرائے کیونکہ سٹیٹ لا پانی پر کھڑی بلڈنگ بارے خاموش تھا۔ آج بھی اسی دور کے بنے ہوئے لکڑی کے گھر ڈل جھیل کشمیر میں تیرتے نظر آتے ہیں۔

جب ان جھیلوں زدہ علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ آپ ازمنہ قدیم کے کسی دور میں گھوم پھر رہے ہیں۔ماحول بڑا ہی رومان پرور ہے ' خوابیدہ کر دینے والہ اک عجیب سا طلسم ہے جو آپ سے آپ کی مرضی نہیں پوچھتا آپکو شاعر بنا دیتا ہے اور آپ اپنے ذہن کی ٹکسال سے، دماغ کی بھٹی سے نئے نکور الفاظ باہر لا نکالتے ہیں اور یہی الفاظ پھر شعر کہلاتے ہیں۔
جب میں لیک ڈسٹرکٹ جانے کی تیاری کر رہا تھا تو ذہن میں ونڈرمیر جھیل کا ایک خاکہ بنا ہوا تھا کہ یہ انگلینڈ کی سب سے بڑی جھیل ہے اور بڑے لمبے طول و عرض پر پھیلی ہوگی، تا حد نظر پانی ہی پانی نظر آتا ہوگا۔ میرے ذہن میں ایرانی صوبہ جیلان میں واقع دنیا کی سب سے بڑی جھیل کیسپین کا منظر ذہن میں گھوم رہا تھا جو دلنشیں کوہ البرز کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی آذربائیجان، کازکستان، ترکمانستان اور روس تک پھیلی ہوئی ہے ۔ مجھے لگا جھیل ونڈرمیر بھی بالکل اتنی بڑی نہ سہی پر کچھ اسی طرح کی ہوگی مگر وہاں پہنچنے پر اور اسے دیکھ کر مجھے تقریبن مایوسی سی ہوئی۔جس شخص کے ہمسائے میں سکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی لوخ لومنڈ بہتی ہو وہ شائد ہی کسی اور بڑی جھیل سے متاثر ہو۔ مگر پھر بھی کہوں گا یہاں کا وزٹ ضرور کرنا چاہیے۔( یہ صرف میری ذاتی محسوسات ہیں کیونکہ میں نے Lock Lomomd اور Lock Katrine اور Loch Nubnaig دیکھ رکھی ہیں جنکی خوبصورتی کی مثال اک زمانہ دیتا ہے۔ نئے آنے والوں کو ضرور ضرور ونڈرمیر جھیل آنا چاہیے )
جیسے دنیا بھر کے سیاح جب سکاٹ لینڈ آتے ہیں ۔۔۔اور آجکل سکاٹ لینڈ میں ہر طرف ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بھرمار ہے ' موسم گرما شروع ہے۔۔۔ تو انکی ٹاپ لسٹ ترجیح لوخ لومنڈ ہوتی ہے بالکل اسی طرح سیاحوں کی انگلینڈ یاترا کے دوران ونڈرمیر جھیل ٹاپ لسٹ ترجیح ہوتی ہے ۔ ایک طویل عرصے بعد ۔۔۔ ایک دہائی بعد اس جھیل کی باری آئی ہے۔سینکڑوں مرتبہ انگلینڈ جاتے ہوئے موٹروے پر جلی حروف میں " لیک ڈسٹرکٹ " لکھا نظر آتا تھا ' دل مچلتا تھا ' ارادہ بنتا تھا مگر پھر وہی کام کاج کی بھول بھلیاں۔۔۔ دیر سے ہی سہی مگر آخر کار یہ منزل بھی سر ہوئی۔

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری مجھے نصاب کی کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا جو ...
08/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

مجھے نصاب کی کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید پختہ ہوتا گیا۔روایتی رسالے، کہانیاں، عمران سیریز، چھن چھنگلو من منگلو، عنبر ناگ ماریا، ٹارزن، روزنامہ جنگ کا ہفتہ وار میگزین، نونہال، نوائے وقت کا رسالہ پھول۔۔۔ سب دنوں میں چٹ کر جاتا تھا ۔مختصرن یہ کہ 1992 کا دور تھا جب کتابیں پڑھنے کا شوق جنون میں بدل گیا۔ بات لٹریچر سے ہوتی ہوئی مختلف ممالک اور اقوام اور انقلابات کی تاریخ و ادب تک آن پہنچی تھی۔ ببلوگرافی، آٹوبائیوگرافی تک رسائی جاری تھی۔ اس وقت لائلپور میں سرکاری لائبریری فقط میونسپل لائبریری نڑوالہ چوک جو کہ دھوبی گھاٹ گراونڈ کے وسط میں انگریز حکمرانوں نے عام پبلک کے لئے بنائی تھی اور ہمارے وقت کے حکمرانوں نے باقاعدہ منصوبے سے مسمار کردی تھی کہ دھوبی گھاٹ گراونڈ میں جب سیاسی جلسے کرتے ہیں تو اس لائبریری کی عمارت رکاوٹ بنتی ہے۔ اور کرونییشن لائبریری ضلع کونسل (جو اب علامہ اقبال لائبریری کہلاتی ہے ) ہی دستیاب تھیں مگر وہاں کام کی کتابیں ناپید۔ پرائیویٹ دو لائبریری مقبول عام تھیں۔ ماہی لائبریری اور طارق آباد کی مکتبہ سیاح لائبریری۔ مکتبہ سیاح لائبریری آج بھی قائم و دائم ہے۔یہ واحد لائبریری تھی جہاں ہر موضوع پر کتابیں ارزاں کرائے پر دستیاب تھیں۔ عرفان صاحب اور ان کے والد صدیقی صاحب وقت کے ولی تھے۔۔ عاشق علم۔ فقط پچاس پیسے کرائے میں ایک کتاب جتنے دن چاہیے رکھیں۔ مجھے میری منزل مل چکی تھی۔ ہزاروں کتابیں پڑھ ڈالیں۔( انکے پاس میری کتب بینی کا ریکارڈ آج بھی رجسٹر اندراج کتب میں موجود ہے۔)( میں نے قانون کی ڈگری کے دوران انٹرنیشنل لا اور پھر پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان کی تیاری بھی اسی لائبریری سے کتابیں لیکر کی تھی )
اسی زمانے میں میں نے ایک کتاب پڑھی تھی انقلاب اور جنگیں، اس میں" پھولوں کی جنگ" بارے پڑھا تھا کہ کیسے دو ریاستوں میں طویل جنگ لڑی گئی۔ میں سمجھ نہ سکا تھا اس جنگ کو پھولوں کی جنگ کیوں کہا گیا۔ میں خیال کیا کرتا تھا کہ شائد پھولوں کے باغات کا تنازعہ ہوگا یا جیسا کہ برصغیر میں آزادی کی جنگ کے وقت پنجاب میں " روٹی تحریک " اور صوبہ سرحد میں "رومال تحریک " چلی تھی جس میں لوگ برٹش سامراج سے چوری چھپے روٹی یا رومال آگے فرد در فرد منتقل کرتے اور وصول کرنے والا اس روٹی یا رومال کو اگلے فرد کے حوالے کر دیتا ۔ یہ ایک طرح کا بغاوت کا پیغام ہوتا تھا اس وقت ۔ ان تحریکوں نے اگرچہ بہت کم وقت کے لئے ہی سہی مگر شہرت حاصل کی تھی ، اسی طرح پھولوں کے ذریعے پیغام رسانی کا معاملہ ہو گا لیکن جب میں انگلینڈ آیا ، لنکاشائر کاوئنٹی میں ایک عرصہ گزارا تو اس بات کا بھی پتہ چل گیا کہ کیوں اس جنگ کو پھولوں کی جنگ کہا گیا۔۔۔ آپ کو بھی بتائے دیتا ہوں کہ گیان بانٹنے سے بندہ گیانی گیانی سا لگنے لگ جاتا ہے۔۔
22 مئی 1455 سے شروع ہو کر 16 جون 1487 یعنی 32 سال 3 مہینے اور 4 دن تک چلنے والی جنگ جسے گلاب کے پھولوں کی جنگ کہا جاتا ہے دو خاندانوں کے درمیان اقتدار کے حصول کے لئے لڑی جانے والی ایسی جنگ ہے جو بعد میں یورپ کی مشہور" سو سالہ جنگ " کی بنیاد ثابت ہوئیں۔ یہ دو خاندان لنکاسٹر اور یارک تھے۔ یارک شائر کے بادشاہ رچرڈ (King Richard of York) اور لنکاسٹر کے حکمران ہنری ششم ( Henry V1) کے درمیان لڑی جانے والی جنگ۔ جنگ۔ یاد رہے کہ لنکاسٹر قبیلے کا قومی نشان سرخ گلاب اور یارک قبیلے کا قومی نشان سفید گلاب تھا۔ ہنری ششم اپنے وقت کا ایک کمزور حکمران تھا، روایتی نااہل حکمرانوں کی طرح۔ یارک قبیلے کے حکمران رچرڈ نے لنکاسٹر کو کمزور کاوئنٹی سمجھتے ہونے اس پر چڑھائی کر دی تاکہ اس کاوئنٹی کو بھی اپنے زیر تسلط لایا جاسکے۔ یہ جنگ انگلینڈ، ویلز، آئرلینڈ اور فرانس کے علاقے کالئس (Calais) تک پھیلی ہوئی تھی۔ پہلے پہل یارک قبیلہ حسب توقع کامیابی حاصل کرتا رہا۔ اسی دوران لنکاسٹر میں حکمرانی رچرڈ خاندان سے ٹیوڈور خاندان کے پاس آجاتی ہے اور ٹیوڈور ایک مضبوط حکمران کے طور پر ابھرتا ہے اور فیصلہ کن جنگ کرکے کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔ اب سفید گلاب کو سرخ گلاب کے اندر مدغم کرکے لنکاسٹر کے نئے قومی نشان کو متعارف کرواتا ہے جسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یارک کاوئنٹی لنکاسٹر کاوئنٹی کا حصہ ہے۔ ( بالکل اسی طرح جیسے آپ اگر متحدہ برطانیہ کا جھنڈا دیکھیں تو انگلینڈ کا جھنڈا سرخ کراس تھا جب سکاٹ لینڈ کو ایک معاہدے کے تحت اپنے زیرنگین کرلیا تو سکاٹ لینڈ کے جھنڈے کو اپنے جھنڈے میں مدغم کرلیا کی سکاٹ لینڈ اب انگلینڈ کا حصہ ہے اور یوں یہ جھنڈا یونین جیک، یونائٹڈ کنگڈم بن گیا )
زیرنظر میری تصویر کے عین عقب میں بورڈ پر پھول کی تصویر ہے۔ یہی دراصل گلاب کے دو پھول ہیں، سرخ اور سفید۔ جب لنکاسٹر نے جنگ جیت لی تو اپنے سرخ گلاب میں سفید گلاب کو بھی سمو لیا کہ یارک کاوئنٹی بھی اب ہماری ہوئی۔

(مزید سمجھنے میں آسانی چاہتے ہیں تو اپنے برصغیر کے رجواڑوں(کاوئنٹی ) اور راجوں مہاراجوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کو دیکھیں، وہ بھی اسی طرح ایک دوسرے پر قبضہ کرنے کے لئے جنگ کرتے رہتے تھے )
(نشر مکرر )

Address

Manchester

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 12am
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Latest Legal updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share