Ch Waqas Khalid

Ch Waqas Khalid Immigration Consultant at Sky Solicitors UK

15/08/2019
پاکستان کو قرضہ کی دلدل میں دھکیلنے والے اور سود در سود کہ گھن چکر میں پھنسا دینے والے آج کہتے ہیں کہ ڈیم چندے سے نہیں ب...
10/09/2018

پاکستان کو قرضہ کی دلدل میں دھکیلنے والے اور سود در سود کہ گھن چکر میں پھنسا دینے والے آج کہتے ہیں کہ ڈیم چندے سے نہیں بنتے۔ تو جناب اصل بات یہ ہے کہ ایشین ڈیولپمنٹ بنک۔ ورلڈ بنک۔ آئی ایم ایف یہ سب ادارے ہمیں ڈیم کہ لئیے قرضہ دینے کہ لئیے تیار نہیں۔ چائنہ کہتا ہے کہ اگر ہم سے ڈیم بنوانا ہے تو ڈیم کی ملکیت چائنہ کو دینی ہوگی۔ اب اقوام متحدہ کہ اداروں کہ مطابق پاکستان 2025 تک پانی کی شدید قلت کا شکار ہو جائے گا۔ تو اب اُسکا کیا حل ہو سکتا ہے سوائے اسکے کہ عوام سے عوام کی فلاح کہ منصوبہ کہ لئیے مدد مانگی جائے۔ پچھلے پچیس سے تیس سال تک آپ کی حکومت رہی ایک بھی ڈیم نہیں بنایا۔ اور اب ملکی بقا کہ ایک پراجیکٹ میں بجائے اسکے کہ دل و جان سے حصہ ڈالتے اُلٹا اُسے متنازعہ بنا رہے ہیں۔
وقاص خالد ایڈوکیٹ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کہ لئیے۔ اٹھارہ سے بیس ارب ڈالر رقم چاہییے۔   جو پاکستانی  روپوں میں چوبیس...
07/09/2018

ماہرین کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کہ لئیے۔ اٹھارہ سے بیس ارب ڈالر رقم چاہییے۔ جو پاکستانی روپوں میں چوبیس سو اسی ارب روپے بنتی ہے۔ اس ڈیم کی تکمیل میں کم از کم دس سے بارہ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔
پاکستان کی آبادی اٹھارہ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ اگر ہر شہری پندرہ سو روپیہ سالانہ ڈیم فنڈ میں دے تو یہ تقریباً سالانہ دو سو ساٹھ ارب روپے بنتے ہیں۔
اور اگر دس سال تک لگا تار یہ رقم وصول کی جائے تو ڈیم کی لاگت سے کہیں زیادہ رقم حاصل ہو سکتی ہے۔
وقاص خالد ایڈوکیٹ

پاکستان مسلم لیگ ن۔ تحریک انصاف۔ اور پیپلز پارٹی کے اندھے سپورٹروں سے پوچھنا تھا۔ کہ تینوں حکومتوں نے کتنے ڈیم بنائے ہیں...
30/05/2018

پاکستان مسلم لیگ ن۔ تحریک انصاف۔ اور پیپلز پارٹی کے اندھے سپورٹروں سے پوچھنا تھا۔ کہ تینوں حکومتوں نے کتنے ڈیم بنائے ہیں۔
یہ سب ہمیں اُس گھر میں قالین ڈال کر دے رہے ہیں جس کی چھت ہی نہیں ہے۔
ڈیم کو ووٹ دو۔ پانی کے ریزروائر کو ووٹ دو۔ اپنی اپنی پارٹیوں کا گریبان پکڑو۔ اُنھیں جھنجھوڑو نہیں تو پیاس سے سسک سسک کر مرنے کہ لئیے تیار ہو جاؤ۔

اپنے پسندیدہ اُمیدوار کو ووٹ دیں۔دیکھیں اگلا وزیر اعظم کون بنتا ہے۔
13/04/2018

اپنے پسندیدہ اُمیدوار کو ووٹ دیں۔
دیکھیں اگلا وزیر اعظم کون بنتا ہے۔

07/04/2018

وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ کچھ بھی ناگزیر نہیں ہوتا۔ زندگی اپنا راستہ خود بناتی جاتی ہے۔ زندگی کسی بھی انتہا کا نام نہیں۔ بلکہ زندگی تو معتدل مزاجی کا نام ہے۔ زندگی جئیں نا کہ گزاریں۔ جب اچھا وقت سدا نہیں رہا تو برا بھی نہیں رہے۔ وقت گزر جائے گا۔ یاد رہے گا تو آپکا رویہ ۔
تو دنیا کو ہمیشہ اچھی یادیں دیں۔ نہ آپ دنیا کہ لئے ہیں۔ نہ دنیا آپ کے لئئے۔

وقاص خالد ایڈوکیٹ۔

01/04/2018

ملالہ کی مخالفت یا حمایت کن بنیادوں پر کرنی چاہییے ہماری قوم ان بنیادی وجوہات کے ادراک سے ہی محروم ہے۔
کسی کی مخالفت میں یا حمایت میں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہییے کہ انسانیت شرما جائے۔
ہم جو اُسے مغربی ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ شاید ایسا ہی ہو۔ لیکن کیا وہ ہی ایک ایجنٹ ہے۔ جناب ہمارے ہر ادارے اور سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جو اپنی خدمات دینے کے لئیے تیار رہتے ہیں۔ ملالہ بھی شاید اُن میں سے ہی ایک ہو۔
اس لئیے ٹھنڈ رکھیں اور تعلیم عام کریں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو سوچنا سکھا دیں۔ ملالہ سمیت تمام مغربی آلہ کار خود ہی اپنی اہمیت کھو دیں گے۔

27/03/2018

ہمارا قومی مزاج ایسا ہے کہ جو بھی ہماری بھلائی کی بات کرتا ہے وہ ہمیں دشمن لگنے لگتا ہے۔ اور جو ہمارا نقصان چاہتا ہے اُسے ہم داماد جتنا پروٹوکول دیتے ہیں۔
اس ملک میں آبی وسائل کمی کا شکار ہیں۔ لیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ اسکا ذمہ دار سیاستدان اور جنرل دونوں ہیں۔
ماحولیاتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ درخت بے دردی سے کاٹے جارہے ہیں لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کنکریٹ کے شہر آباد کر رہے ہیں۔ لیکن سانس لینے کے لئیے ہوا اور پینے کے لیے پانی دونوں کمیاب ہوتے جا رہے ہیں۔

واٹرریزروائر بناؤ۔
درخت لگاؤ۔ ملک بچاو۔

وقاص خالد ایڈوکیٹ

25/03/2018

میں نے فخریہ انداز میں بابا جی سے کہا کہ میرے پاس اچھا بینک بیلنس ہے، دو گاڑیاں ہیں، بچے انگریزی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ عزت، مرتبہ، ذہنی سکون، الغرض دنیا کی ہر آسائش مجھے میسر ہے۔*

*بابا نے نظر بھر کر مجھے دیکھا اور بولے: معلوم ہے یہ کرم اس لیے ہوا کہ تو نے اللہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔*

*میں نے وضاحت چاہی۔ بابا کہنے لگے کہ میری اماں نے ایک اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے سے خصوصی محبت* تھی۔

اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کر مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں، ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کر مستیوں میں لگ جاتا۔
*میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے، بغیر محنت کئے، اسے اماں دانے ڈال دیتی ہیں*۔
ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ حسب معمول *اماں آئیں اور دانوں کی بک بھر کر مرغے کی طرف بڑھیں۔ اماں نے جیسے ہی مٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔*

اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئیں اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا کبھی بائیں، کبھی شمال تو کبھی جنوب۔ سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کر دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اس کا پیٹ بھی نہیں بھرا۔

بابا نے کچھ توقف کے بعد پوچھا، بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟

*میں نے فٹ سے جواب دیا: نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا نہ ذلیل ہوتا*۔ بابا نے کہا: بالکل ٹھیک۔

*یاد رکھنا اگر اللہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے تو اللہ تمھارا رزق مشکل کردے گا؛ اور اس اصیل ککڑ* کی طرح مارے مارے پھرو گے۔

*تو نے اللہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑدیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔ بابا عجیب سی ترنگ میں بولے، ’’پیسہ، عزت، شہرت، آسودگی حاصل کرنے اور دکھوں سے نجات کا آسان راستہ سن لے:*

*اللہ کے بندوں سے محبت کرنے والا، ان کی تعریف کرنے والا، ان سے مسکرا کر بات کرنے والا اور دوسروں کو معاف کرنے والا کبھی مفلس نہیں رہتا۔ آزما کر دیکھ لو۔ تو بندوں کی محبت کے ساتھ ساتھ شکر کے آنسو بھی اپنی منزل میں شامل کرکے امر ہو جائے گا۔‘‘*

یہ کہہ کر بابا برق رفتاری سے مین گیٹ سے باہر نکل گئے… اور میں سر جھکائے زاروقطار رو رہا تھا

*اور دل ہی دل میں رب العزت کا شکر ادا کر رہا تھا کہ بابا نے مجھے کامیابی کا راز بتا دیا تھا۔*

*اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے*

کاپی شدہ تحریر

اکیسویں صدی پانی کی صدی ہو گی۔ پوری دنیا پانی کی کمی کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ اس صدی میں قومیں تیل نہیں بلکہ پانی پر جنگی...
24/03/2018

اکیسویں صدی پانی کی صدی ہو گی۔ پوری دنیا پانی کی کمی کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ اس صدی میں قومیں تیل نہیں بلکہ پانی پر جنگیں لڑیں گی۔
ساؤتھ افریقہ کا شہر کیپ ٹاون پانی کی شدید کمی کا شکار ہے اور آہستہ آہستہ یہ صورتحال دنیا کے ہر اُس ملک اور شہر جائے گی جہاں منصوبہ بندی کی شدید کمی ہے۔
ہمارے ملک پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں آتا ہے جہاں پانی کی شدید کمی ہو سکتی ہے۔
اس ساری صورتحال کہ تین ہی حل ہیں۔

※ پانی کو سمجھداری اور کفایت شعاری سے استعمال کیا جائے۔ اور پانی کی بچت کرنے کے لئیے ماڈرن طریقے اپنائے جائیں۔

※پانی سٹور کرنے کے ریزروائر یعنی ڈیم ہنگامی بنیادوں پر بنائے جائیں۔ اور اس میں چھوٹے اور بڑے تمام ڈیم شامل کیے جائیں۔

※ درخت روئے زمین کے ایکو سسٹم کو برقرار اور بیلنس رکھنے میں اہم کردار کرتے ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر شجر کاری کی جائے۔ اور ماحول دوست اور مقامی ماحول سے آہنگ درخت اُگائے جائیں۔
درخت بڑے شہروں میں بھی اُگائے جائی اور نئے جنگلات لگائے جائیں۔ تاکہ بارشوں کا نظام بحال کیا جا سکے۔

شئیر کریں اور اس کمپین کا حصہ بنیں۔
جتنا آپ شئیر کریں گے اُتنے میں درخت لگاؤں گا۔

درخت لگاؤ ملک بچاو۔
وقاص خالدایڈوکیٹ۔

12/02/2018

اختلاف چاہے نظریاتی ہو یا ذاتی۔ ذندوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ مرنے والے کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اب عاصمہ جہانگیر کو معاف کریں۔ اور انکا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

14/01/2018

Male kids who have been KIDNAPPED, R***D and MURDERED , were they wearing provoking dresses too?

Address

169 High Road, London
Ilford
IG11DG

Telephone

+447554715617

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Waqas Khalid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ch Waqas Khalid:

Share