30/04/2026
پی ٹی ایم رہنماؤں نور اللہ ترین اور حنیف پشتین کے ریاستی خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی پر صوبائی حکومت ، وزیر اعلی اور اعلیٰ عدلیہ کا رویہ قابلِ مذمت ہے۔ جبری گمشدگیاں خلافِ قانون، اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کے برابر ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما نور اللہ ترین اور حنیف پشتین کی جبری گمشدگی کو پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ آج بھی پی ٹی ایم کے رہنما ریاستی اذیت خانوں میں قید ریاستی اذیتیں سہہ رہے ہیں۔
پی ٹی ایم رہنما حنیف پشتین اور نور اللہ ترین کو پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے جرگے سے واپسی کے دوران ریاستی خفیہ اداروں نے سرعام سینکڑوں افراد کی موجودگی میں غیر قانونی طور پر اغوا کیا ، ان کے ساتھ دیگر پانچ ساتھیوں کو بھی اغوا کیا، ان پانچ ساتھیوں کو کئی ماہ بعد بازیاب کرایا گیا، مگر نور اللہ ترین اور حنیف پشتین کو آج تک لاپتہ رکھا جا رہا ہے۔ آج بھی ریاستی اذیت خانوں میں قید ہیں اور ریاستی ظلم و جبر سہہ رہے ہیں۔
قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ انصاف فراہم کرنے والے صوبے کی اعلیٰ عدلیہ نے اس اغوا اور جبری گمشدگی کے کیس کو کئی ماہ سماعت کے بعد اغوا کار ریاستی خفیہ اداروں کے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے کیس کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے حوالے کر دیا۔ اس جے آئی ٹی میں انہی خفیہ اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں جنہوں نے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو سرعام اغوا کر کے لاپتہ کر دیا۔ جے آئی ٹی میں گواہان کے بار بار پیش ہونے کے باوجود، خفیہ اداروں کے نمائندوں کے عدم تعاون کی وجہ سے نہ تو رہنماؤں کو بازیاب کروایا جا سکا ہے اور نہ ہی اغوا میں ملوث افسران و اہلکاروں کا تعین کیا جا سکا ہے اور نہ ہی ان اغوا کاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کا پی ٹی ایم کے رہنماؤں کی جبری گمشدگی پر خاموشی، اغوا کاروں کے خلاف مقدمہ نہ درج کرنا، اور وزیراعلیٰ کا غیر سنجیدہ رویہ بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ آج بھی ہزاروں کی تعداد میں پشتون اور بلوچ نوجوان ریاستی خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہیں اور اذیت خانوں میں قید ہیں۔ جبری گمشدگیوں میں سنگین اضافہ اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی انسانی حقوق کے تمام اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔
نور اللہ ترین اور حنیف پشتین سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
پشتون تحفظ موومنٹ مرکزی اعلامیہ
PTM NEWS.